جمیل انصاری
ہر سال 10 اکتوبر کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ ذہنی صحت‘‘ منایا جاتا ہے تاکہ ذہنی امراض، ان کے اثرات اور ان کے علاج کی ضرورت کے بارے میں شعور پیدا کیا جا سکے۔ ذہنی صحت کسی بھی فرد کی مکمل صحت کا بنیادی جز ہے، کیونکہ انسان کی جسمانی، جذباتی اور سماجی کارکردگی اسی پر منحصر ہوتی ہے۔ جموں و کشمیر جیسے خطے میں، جہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے عدمِ استحکام، تناو، بے یقینی اور معاشی دبائو نے عام زندگی پر گہرے اثرات ڈالے ہیں، ذہنی صحت کا مسئلہ نہ صرف ایک طبی بلکہ ایک سماجی، ثقافتی اور انسانی بحران کی شکل اختیار کرچکا ہے۔
ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ کشمیری سماج میں ذہنی دباؤ، بے خوابی، ڈپریشن، اینگزائٹی اور پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ برسوں سے جاری سیاسی حالات، تشویشناک سماجی تبدیلیاں، نوجوانوں میں روزگار کے مواقعوں کی کمی، تعلیمی دباؤ اور خاندانی نظام پر بوجھ نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ سری نگر کے انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (IMHANS) کی رپورٹوں کے مطابق وادی میں ہر عمر کے افراد، خاص طور پر نوجوان طبقہ اور خواتین، ذہنی دبائو سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ بعض مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر دس میں سے کم از کم تین افراد کسی نہ کسی نوعیت کے ذہنی مسئلے سے دوچار ہیں مگر معاشرتی بدنامی (اسٹگما) اور لاعلمی کی وجہ سے بیشتر لوگ علاج نہیں کرواتے۔
ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماری کو اکثر کمزوری یا شرمندگی سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث متاثرہ افراد خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں اور مدد طلب کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ یہی رویہ انہیں خاموشی سے اذیت میں مبتلا رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذہنی صحت کو جسمانی صحت کی طرح اہم سمجھا جائے اور عوامی سطح پر اس بارے میں بیداری مہمات چلائی جائیں۔ جموں و کشمیر میں ذہنی صحت کے ماہرین کی کمی، مناسب کونسلنگ مراکز کی عدم دستیابی اور دیہی علاقوں میں نفسیاتی خدمات کا فقدان صورتحال کو مزید تشویشناک بناتا ہے۔ سرکاری سطح پر اگرچہ کچھ پروگرام شروع کئے بھی گئے ہیں، جیسے ’’منودرپن‘‘ اور ’’نیشنل مینٹل ہیلتھ پروگرام‘‘، مگر ان کی رسائی اکثر شہروں تک محدود رہتی ہے۔ ضرورت ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور دیہی کمیونٹی سینٹروں میں ذہنی صحت کے لیے باقاعدہ کونسلنگ سیل قائم کئے جائیں تاکہ نوجوان نسل میں ذہنی دباؤ کی ابتدا ہی میں شناخت اور رہنمائی ہو سکے۔ مذہبی و سماجی رہنما بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ لوگوں کا ان پر اعتماد زیادہ ہوتا ہے۔ اگر خطے میں امن، تعلیمی ترقی، روزگار کے مواقع اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جائے تو یہ خود ذہنی صحت میں بہتری کا باعث بنے گا۔ میڈیا اور صحافت کو بھی چاہیے کہ وہ ذہنی امراض کے موضوع کو ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں۔ ذہنی صحت کوئی انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے سماج کی مجموعی خوشحالی کا پیمانہ ہے۔
اگر ہم ایک پرامن، متوازن اور مثبت سماج چاہتے ہیں تو ہمیں ذہنی صحت کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا۔ عالمی یومِ ذہنی صحت ہمیں یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ ذہنی تندرستی کے بغیر کوئی معاشرہ مکمل طور پر صحت مند نہیں ہوسکتا۔ جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں جہاں امید اور حوصلہ دونوں کو بار بار آزمایا گیا ہے، اب وقت آچکا ہے کہ ذہنی صحت کو انسانی حقوق کے ایک بنیادی جز کے طور پر تسلیم کیا جائے اور ہر سطح پر اس کے لیے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ ایک پُرامن، مضبوط اور ذہنی طور پر متوازن سماج کی تشکیل ممکن ہوسکے۔
ززز


