کشمیر میں برتن سازی:ہنــــر، روزگــــــار اور معــــــــاشی امـــــکانــــات


جمیل انصاری

کشمیرجو اپنی خوبصورتی، ثقافت اور دستکاریوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہاں کے باشندوں کی صدیوں پرانی روایات میں ایک نمایاں مقام برتن سازی کو حاصل ہے۔ وادی کشمیر میں برتن سازی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ اس فن کے ذریعے نہ صرف گھریلو ضروریات پوری ہوتی ہیں بلکہ اس نے ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے بھی کھول رکھے ہیں۔ برتن سازی کے مختلف پہلوؤں میں مٹی کے برتن، تانبے کے برتن، پیتل اور المونیم کے برتن شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت کاپر ویئر یعنی تانبے کے برتنوں کو حاصل ہے، جو کشمیری گھروں، شادیوں، اور مذہبی تقریبات میں ایک لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
کشمیر میں برتن سازی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ روایات کے مطابق اس پیشے کا آغاز وادی میں بدھ مت کے عہد سے ہوا، جب مقامی کاریگروں نے مٹی اور دھاتوں سے گھریلو استعمال کے برتن بنانا شروع کئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ہنر زیادہ منظم شکل اختیار کرتا گیا اور تانبے کے برتنوں نے خاص مقام حاصل کیا۔ سری نگر کے علاقے زینہ کدل، زڈی بل، نوہٹہ اور رعناواری آج بھی تانبے کے برتن بنانے کے مراکز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہاں کے ہنر مند کاریگر ہاتھ کے اوزاروں سے برتنوں پر خوبصورت نقوش کندہ کرتے ہیں، جنہیں’’Naqashi’‘یا’’Engraving‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ کاریگری اس قدر نفیس اور باریک ہوتی ہے کہ ایک ماہر دستکار کو ایک بڑے برتن پر نقش و نگار بنانے میں کئی دن یا کبھی ہفتے لگ جاتے ہیں۔
برتن سازی کا کاروبار کشمیر کی معیشت کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ نہ صرف مقامی منڈیوں میں فروخت کے لئے بلکہ ملکی و غیر ملکی خریداروں کے لئے بھی کشش رکھتا ہے۔ خاص طور پر تانبے کے برتنوں کی مانگ خلیجی ممالک، یورپ اور جنوبی ایشیائی ممالک میں بہت زیادہ ہے۔ ان برتنوں میں سماوار، تشت، لوٹا، سُری، پلیٹیں، پیالے اور چائے کے برتن شامل ہیں۔ آج کے جدید دور میں جہاں اسٹیل اور پلاسٹک نے گھریلو استعمال کی دنیا میں جگہ بنائی ہے، وہاں کشمیری تانبے کے برتن اپنی خوبصورتی اور روایتی وقار کے باعث آج بھی اپنی پہچان قائم رکھے ہوئے ہیں۔
یہ صنعت وادی میں ہزاروں خاندانوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہے۔ کاریگر، نقاش، ڈیزائنر، دکاندار، پالش کرنے والے، حتیٰ کہ خام مال سپلائی کرنے والے ، سب اس زنجیر کا حصہ ہیں۔ بہت سے نوجوان اس فن کو جدید ڈیزائننگ کے ساتھ جوڑ کر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرونی دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ ای کامرس کی ترقی نے اس صنعت کو نئی زندگی بخشی ہے۔ آج کشمیری برتن نہ صرف سیاحوں کی پسندیدہ خریداری ہیں بلکہ عالمی سطح پر(کشمیر فرام کاپر وائر ہینڈی کرافٹڈ)’’ Handcrafted Copperware from Kashmir ‘‘کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
برتن سازی کی اہمیت صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری ثقافت اور شناخت کا بھی حصہ ہے۔ کشمیر کی شادیوں میں دلہن کو تحفے کے طور پر تانبے کے برتن دینا ایک پرانی روایت ہے جو آج بھی برقرار ہے۔ ان برتنوں پر بنے نقوش اکثر کشمیری تہذیب، پھولوں، اور قدرتی مناظر کی عکاسی کرتے ہیں، جو وادی کے حسن کا عکس پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی تقریبات میں بھی انہی برتنوں کا استعمال روایت اور تقدس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جہاں تک برتن سازی کے کاروبار کی موجودہ صورتِ حال کا تعلق ہے، تو اس صنعت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بجلی کے غیر یقینی حالات، جدید مشینری کی کمی اور نوجوان نسل کا دوسرے پیشوں کی طرف رجحان اس صنعت کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، جو کاریگر آج بھی اپنے فن سے جڑے ہوئے ہیں وہ اپنی محنت اور ہنر کے ذریعے اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس صنعت کو فروغ دینے کے لیے مناسب پالیسی بنائیں، کاریگروں کو جدید تربیت، مالی مدد، اور بین الاقوامی سطح پر مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کریں، تو یہ شعبہ وادی کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
برتن سازی کے امپورٹ ایکسپورٹ کے حوالے سے بھی بڑی گنجائش موجود ہے۔ کشمیر میں تیار ہونے والے ہاتھ کے بنے برتنوں کی بین الاقوامی منڈی میں مانگ بڑھ رہی ہے، خاص طور پر وہ ممالک جہاں لوگ روایتی دستکاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، مقامی سطح پر باہر سے آنے والے سستے اسٹیل اور المونیم کے برتنوں نے مقامی مارکیٹ میں مقابلہ سخت کر دیا ہے۔ اگر حکومت برآمدات کے لیے سہولتیں بڑھائے، درآمد شدہ اشیاء پر مناسب محصولات عائد کرے اور مقامی کاریگروں کی مصنوعات کی بین الاقوامی تشہیر کرے تو برتن سازی نہ صرف خود کفیل ہو سکتی ہے بلکہ زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیر کی برتن سازی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی ثقافت ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے اور بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف روزگار فراہم کرتی ہے بلکہ وادی کی شناخت، جمالیات اور تاریخی ورثے کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ اگر اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو یہ کشمیری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے ، ایک ایسا ہنر جو ماضی کی شان، حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید بن کر وادی کے ہر کونے میں روشنی بکھیر سکتا ہے۔
٭٭

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

اسلامک گلوبل اسکول کے زیرِ اہتمام انٹر اسکول سائیکلنگ چیمپئن شپ 2026 منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 6 جون: اسلامک گلوبل اسکول (IGS)...

تازہ ترین خبریں

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ممتا کی ’تنہا‘ ہونے کی تیاری؟

  (حافظ)افتخاراحمدقادری بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران...

اسلامک گلوبل اسکول کے زیرِ اہتمام انٹر اسکول سائیکلنگ چیمپئن شپ 2026 منعقد

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر، 6 جون: اسلامک گلوبل اسکول (IGS)...

کشمیر میں برتن سازی:ہنــــر، روزگــــــار اور معــــــــاشی امـــــکانــــات


جمیل انصاری

کشمیرجو اپنی خوبصورتی، ثقافت اور دستکاریوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، یہاں کے باشندوں کی صدیوں پرانی روایات میں ایک نمایاں مقام برتن سازی کو حاصل ہے۔ وادی کشمیر میں برتن سازی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ یہ ایک تہذیبی ورثہ ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے۔ اس فن کے ذریعے نہ صرف گھریلو ضروریات پوری ہوتی ہیں بلکہ اس نے ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار کے دروازے بھی کھول رکھے ہیں۔ برتن سازی کے مختلف پہلوؤں میں مٹی کے برتن، تانبے کے برتن، پیتل اور المونیم کے برتن شامل ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ شہرت کاپر ویئر یعنی تانبے کے برتنوں کو حاصل ہے، جو کشمیری گھروں، شادیوں، اور مذہبی تقریبات میں ایک لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
کشمیر میں برتن سازی کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ روایات کے مطابق اس پیشے کا آغاز وادی میں بدھ مت کے عہد سے ہوا، جب مقامی کاریگروں نے مٹی اور دھاتوں سے گھریلو استعمال کے برتن بنانا شروع کئے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ ہنر زیادہ منظم شکل اختیار کرتا گیا اور تانبے کے برتنوں نے خاص مقام حاصل کیا۔ سری نگر کے علاقے زینہ کدل، زڈی بل، نوہٹہ اور رعناواری آج بھی تانبے کے برتن بنانے کے مراکز کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ یہاں کے ہنر مند کاریگر ہاتھ کے اوزاروں سے برتنوں پر خوبصورت نقوش کندہ کرتے ہیں، جنہیں’’Naqashi’‘یا’’Engraving‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ کاریگری اس قدر نفیس اور باریک ہوتی ہے کہ ایک ماہر دستکار کو ایک بڑے برتن پر نقش و نگار بنانے میں کئی دن یا کبھی ہفتے لگ جاتے ہیں۔
برتن سازی کا کاروبار کشمیر کی معیشت کا ایک اہم جزو ہے۔ یہ نہ صرف مقامی منڈیوں میں فروخت کے لئے بلکہ ملکی و غیر ملکی خریداروں کے لئے بھی کشش رکھتا ہے۔ خاص طور پر تانبے کے برتنوں کی مانگ خلیجی ممالک، یورپ اور جنوبی ایشیائی ممالک میں بہت زیادہ ہے۔ ان برتنوں میں سماوار، تشت، لوٹا، سُری، پلیٹیں، پیالے اور چائے کے برتن شامل ہیں۔ آج کے جدید دور میں جہاں اسٹیل اور پلاسٹک نے گھریلو استعمال کی دنیا میں جگہ بنائی ہے، وہاں کشمیری تانبے کے برتن اپنی خوبصورتی اور روایتی وقار کے باعث آج بھی اپنی پہچان قائم رکھے ہوئے ہیں۔
یہ صنعت وادی میں ہزاروں خاندانوں کے لئے روزگار کا ذریعہ ہے۔ کاریگر، نقاش، ڈیزائنر، دکاندار، پالش کرنے والے، حتیٰ کہ خام مال سپلائی کرنے والے ، سب اس زنجیر کا حصہ ہیں۔ بہت سے نوجوان اس فن کو جدید ڈیزائننگ کے ساتھ جوڑ کر آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بیرونی دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔ ای کامرس کی ترقی نے اس صنعت کو نئی زندگی بخشی ہے۔ آج کشمیری برتن نہ صرف سیاحوں کی پسندیدہ خریداری ہیں بلکہ عالمی سطح پر(کشمیر فرام کاپر وائر ہینڈی کرافٹڈ)’’ Handcrafted Copperware from Kashmir ‘‘کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔
برتن سازی کی اہمیت صرف معیشت تک محدود نہیں بلکہ یہ ہماری ثقافت اور شناخت کا بھی حصہ ہے۔ کشمیر کی شادیوں میں دلہن کو تحفے کے طور پر تانبے کے برتن دینا ایک پرانی روایت ہے جو آج بھی برقرار ہے۔ ان برتنوں پر بنے نقوش اکثر کشمیری تہذیب، پھولوں، اور قدرتی مناظر کی عکاسی کرتے ہیں، جو وادی کے حسن کا عکس پیش کرتے ہیں۔ اسی طرح مذہبی تقریبات میں بھی انہی برتنوں کا استعمال روایت اور تقدس کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
جہاں تک برتن سازی کے کاروبار کی موجودہ صورتِ حال کا تعلق ہے، تو اس صنعت کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بجلی کے غیر یقینی حالات، جدید مشینری کی کمی اور نوجوان نسل کا دوسرے پیشوں کی طرف رجحان اس صنعت کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اس کے باوجود، جو کاریگر آج بھی اپنے فن سے جڑے ہوئے ہیں وہ اپنی محنت اور ہنر کے ذریعے اسے زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے اس صنعت کو فروغ دینے کے لیے مناسب پالیسی بنائیں، کاریگروں کو جدید تربیت، مالی مدد، اور بین الاقوامی سطح پر مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کریں، تو یہ شعبہ وادی کی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
برتن سازی کے امپورٹ ایکسپورٹ کے حوالے سے بھی بڑی گنجائش موجود ہے۔ کشمیر میں تیار ہونے والے ہاتھ کے بنے برتنوں کی بین الاقوامی منڈی میں مانگ بڑھ رہی ہے، خاص طور پر وہ ممالک جہاں لوگ روایتی دستکاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس، مقامی سطح پر باہر سے آنے والے سستے اسٹیل اور المونیم کے برتنوں نے مقامی مارکیٹ میں مقابلہ سخت کر دیا ہے۔ اگر حکومت برآمدات کے لیے سہولتیں بڑھائے، درآمد شدہ اشیاء پر مناسب محصولات عائد کرے اور مقامی کاریگروں کی مصنوعات کی بین الاقوامی تشہیر کرے تو برتن سازی نہ صرف خود کفیل ہو سکتی ہے بلکہ زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیر کی برتن سازی صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جیتی جاگتی ثقافت ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلنے اور بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ صنعت نہ صرف روزگار فراہم کرتی ہے بلکہ وادی کی شناخت، جمالیات اور تاریخی ورثے کی نمائندگی بھی کرتی ہے۔ اگر اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو یہ کشمیری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے ، ایک ایسا ہنر جو ماضی کی شان، حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید بن کر وادی کے ہر کونے میں روشنی بکھیر سکتا ہے۔
٭٭

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں