عطیقہ بانو کشمیری تہذیب و ثقافت کی امین

امتیاز احمد بٹ

کشمیر کی وادی اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ہمیشہ ایسے چراغ پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے علم، خدمت اور ثقافت کے ذریعے اس خطے کو روشن کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں سے ایک نام عطیقہ بانو (بہن جی) کا ہے، جنہیں ان کی علمی، سماجی اور ثقافتی خدمات کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 1940ء میں سوپور کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والی بہن جی نے اپنے والد کے انتقال کے بعد والدہ کی سرپرستی میں پرورش پائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کم عمری ہی میں، یعنی 1958ء میں تدریس کے شعبے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پھر اپنی انتھک محنت، خلوص اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک ایک زینہ طے کرتے ہوئے اسکول انسپکٹر، چیف ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، جوائنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن اور آخرکار ڈائریکٹر لائبریریز اینڈ ریسرچ جموں و کشمیر کے منصب تک پہنچیں۔ ان کی سرکاری خدمات کے دوران تعلیمی اداروں میں اصلاحات آئیں اور خاص طور پر خواتین اور پسماندہ طبقے کے لیے تعلیم کے نئے دروازے کھلے۔
بہن جی کی زندگی کا ایک بڑا کارنامہ 1973ء میں ’’مجلس النساء‘‘ کے نام سے ایک Organisation کی بنیاد رکھنا تھا۔ اس Organisation کا مقصد خواتین کو مالی اور سماجی طور پر خود مختار بنانا ہی نہیں بلکہ یتیم اور غریب بچوں کو بھی سہارا دینا تھا۔ اس کے تحت خواتین کو سلائی، کڑھائی، اور اسلامی و دنیاوی علوم کی تعلیم فراہم کی گئی، تاکہ وہ باوقار اور خود مختار زندگی گزار سکیں۔ اسی چھتری کے نیچے کئی ادارے قائم کیے گئے جن میں بی۔ایڈ کالج، ہائی اسکولز، مکتبہ تعلیم القرآن، بیگم یاسین لائبریری سوپور، کشمیر اسٹڈیز سنٹر سوپور اور کیلی گرافی و گرافک ڈیزائن سنٹر سوپور وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ادارے آج بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ بہن جی نے خواتین اور یتیم و غریب بچوں کے لیے کس طرح تعلیم، تربیت اور خود انحصاری کے نئے راستے کھولے۔
تاہم ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو ان کا ثقافتی ورثہ محفوظ کرنے کا خواب تھا، جسے انہوں نے 2002ء میں ’’میراث محل‘‘ کے قیام سے حقیقت کا روپ دیا۔ یہ جموں و کشمیر کا پہلا اور واحد نجی ثقافتی میوزیم ہے، جس میں کشمیری تہذیب و ثقافت کی جھلک ہر گوشے میں نظر آتی ہے۔ یہاں نادر نوادرات، تاریخی سکے، قیمتی مخطوطات، کشمیری دستکاری کے نمونے، خطاطی کے شاہکار، روایتی لباس اور گھریلو اشیاء وغیرہ محفوظ ہیں، جو ہماری روزمرہ زندگی اور تہذیبی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ میراث محل آج بھی آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ بہن جی نے اپنے وطن اور ثقافت سے کس قدر محبت کی اور کس طرح اس ورثے کو آنے والے زمانوں کے لیے زندہ رکھا۔ ان کا یہ خواب صرف ایک عمارت یا میوزیم نہیں بلکہ کشمیری شناخت کا عکاس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تا حیات ’’ادبی مرکز کمراز‘‘ کی نائب صدر رہیں اور زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہیں۔
4 اکتوبر 2017ء کو بہن جی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی قائم کردہ ادارے اور ’’میراث محل‘‘ آج بھی ان کے خوابوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی خدمات کشمیری سماج کے ہر طبقے کے لیے ایک مثال ہیں اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔
روشنی بانٹ کے وہ خود اجالا ہو گئیں
وقت کے اندھیروں میں قندیل جلا گئیں
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

عطیقہ بانو کشمیری تہذیب و ثقافت کی امین

امتیاز احمد بٹ

کشمیر کی وادی اپنی فطری خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ہمیشہ ایسے چراغ پیدا کرتی رہی ہے جنہوں نے علم، خدمت اور ثقافت کے ذریعے اس خطے کو روشن کیا۔ انہی درخشاں ناموں میں سے ایک نام عطیقہ بانو (بہن جی) کا ہے، جنہیں ان کی علمی، سماجی اور ثقافتی خدمات کے باعث ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ 1940ء میں سوپور کے ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں پیدا ہونے والی بہن جی نے اپنے والد کے انتقال کے بعد والدہ کی سرپرستی میں پرورش پائی اور اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے کم عمری ہی میں، یعنی 1958ء میں تدریس کے شعبے سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور پھر اپنی انتھک محنت، خلوص اور صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک ایک زینہ طے کرتے ہوئے اسکول انسپکٹر، چیف ایجوکیشن آفیسر، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، جوائنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن اور آخرکار ڈائریکٹر لائبریریز اینڈ ریسرچ جموں و کشمیر کے منصب تک پہنچیں۔ ان کی سرکاری خدمات کے دوران تعلیمی اداروں میں اصلاحات آئیں اور خاص طور پر خواتین اور پسماندہ طبقے کے لیے تعلیم کے نئے دروازے کھلے۔
بہن جی کی زندگی کا ایک بڑا کارنامہ 1973ء میں ’’مجلس النساء‘‘ کے نام سے ایک Organisation کی بنیاد رکھنا تھا۔ اس Organisation کا مقصد خواتین کو مالی اور سماجی طور پر خود مختار بنانا ہی نہیں بلکہ یتیم اور غریب بچوں کو بھی سہارا دینا تھا۔ اس کے تحت خواتین کو سلائی، کڑھائی، اور اسلامی و دنیاوی علوم کی تعلیم فراہم کی گئی، تاکہ وہ باوقار اور خود مختار زندگی گزار سکیں۔ اسی چھتری کے نیچے کئی ادارے قائم کیے گئے جن میں بی۔ایڈ کالج، ہائی اسکولز، مکتبہ تعلیم القرآن، بیگم یاسین لائبریری سوپور، کشمیر اسٹڈیز سنٹر سوپور اور کیلی گرافی و گرافک ڈیزائن سنٹر سوپور وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ادارے آج بھی اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ بہن جی نے خواتین اور یتیم و غریب بچوں کے لیے کس طرح تعلیم، تربیت اور خود انحصاری کے نئے راستے کھولے۔
تاہم ان کی خدمات کا سب سے روشن پہلو ان کا ثقافتی ورثہ محفوظ کرنے کا خواب تھا، جسے انہوں نے 2002ء میں ’’میراث محل‘‘ کے قیام سے حقیقت کا روپ دیا۔ یہ جموں و کشمیر کا پہلا اور واحد نجی ثقافتی میوزیم ہے، جس میں کشمیری تہذیب و ثقافت کی جھلک ہر گوشے میں نظر آتی ہے۔ یہاں نادر نوادرات، تاریخی سکے، قیمتی مخطوطات، کشمیری دستکاری کے نمونے، خطاطی کے شاہکار، روایتی لباس اور گھریلو اشیاء وغیرہ محفوظ ہیں، جو ہماری روزمرہ زندگی اور تہذیبی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔ میراث محل آج بھی آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ بہن جی نے اپنے وطن اور ثقافت سے کس قدر محبت کی اور کس طرح اس ورثے کو آنے والے زمانوں کے لیے زندہ رکھا۔ ان کا یہ خواب صرف ایک عمارت یا میوزیم نہیں بلکہ کشمیری شناخت کا عکاس ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ تا حیات ’’ادبی مرکز کمراز‘‘ کی نائب صدر رہیں اور زبان و ادب کے فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد کرتی رہیں۔
4 اکتوبر 2017ء کو بہن جی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، مگر ان کی قائم کردہ ادارے اور ’’میراث محل‘‘ آج بھی ان کے خوابوں کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی خدمات کشمیری سماج کے ہر طبقے کے لیے ایک مثال ہیں اور ان کا کردار آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین۔
روشنی بانٹ کے وہ خود اجالا ہو گئیں
وقت کے اندھیروں میں قندیل جلا گئیں
٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں