سراج نقوی
گزشتہ جمعرات کو ناگپور میں وجے دشمی کی تقریب میںتقریر کرتے ہوئے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے کئی اہم مسائل پر اظہار خیال کیا،لیکن اس کے باوجود ان کی تقریر کا بڑا حصہ کسی نہ کسی طرح ہندوتوسے متعلق آر ایس ایس کے نظریات کے ارد گرد ہی رہا،اور وہ اس بہانے ہندو سماج کو متحد کرنے کا پیغام ہی دیتے رہے۔حالانکہ ایک محب وطن تنظیم ہونے کے مدعی آر ایس ایس کے لیڈر کواس اہم موقع کا استعمال ملک کے تمام لوگوں کو متحد کرنے اور کشیدہ حالات کو بہتر بنانے کے لیے کرنا چاہیے تھا،لیکن سنگھ پریوار بظاہر کچھ بھی کہے،ا س کا اصل ایجنڈہ سخت گیر ہندو لابی کو ملک کی مذہبی اقلیتوں اور دلت و پسماندہ سماج کے خلاف متحد کرنے تک ہی محدود ہے۔اپنے اس خطاب میں بھی موہن بھاگوت خود کو سخت گیر ہندوتو کے دائرے سے باہر نہیں نکال سکے۔یہ الگ بات کہ سنگھ کے بنیادی نظریے سے الگ اس موقع پر انھوں نے مہاتما گاندھی کی ملک و قوم کے لیے خدمات کا بھی ذکر کیا۔اس لیے کہ وجے دشمی اور مہاتما گاندھی کا یوم پیدائش یعنی دو اکتوبر ایک ہی دن تھا۔
گاندھی جی کے بارے میں انھوں نے کہا کہ انھوں نے فرقہ پرستی کے خلاف سماج کی حفاظت کی۔ بھاگوت کی یہ بات درست ہے ،لیکن اس کے باوجود جب خودسنگھ کے پروردہ عناصر اور فرقہ پرست تنظیمیںمسلمانوں کو نشانہ بنا کر تشد دکرتی ہیں تو بھاگوت یا سنگھ کا کوئی لیڈر اس کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولتا۔کیا اسے سنگھ کے قول و فعل میں تضاد سمجھا جائے؟ اس لیے کہ مہاتما گاندھی نے تو ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کو ملک کی سلامتی کے لیے لازمی قرار دیا اور اس کے لیے کام کرتے رہے۔انھوں نے بار بار اپنی تقریر اور تحریروں میں مذہبی ہم آہنگی کی وکالت کی جبکہ سنگھ کی پالیسیوں اور ایجنڈے میں صرف ہندو مفادات کو ہی اہمیت دی جاتی ہے۔1940میں جب ملک میں ہندو مسلم کشیدگی عروج پر تھی تو اسے ختم کرنے کے لیے وہ خود میدان عمل میں آئے اور متاثرہ علاقوں کا دورہ تک کیا۔نواکھلی اور بہار کے فسادات(1946-47)میں انھوں نے خود ان مقامات پر جاکر فریقین کو امن برقرار رکھنے کی تلقین کی۔تقسیم وطن کے انتہائی کشیدہ حالات میں بھی انھوں نے ہندوستان میں رک جانے والے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائی۔حالانکہ یہ وہ وقت تھا کہ جب اچھے اچھے سیکولرسٹوں کا سیکولرزم ڈگمگانے لگا تھا۔انھوں نے اس موقع پر ’ہندو سماج‘ کو متحد کرنے کا نعرہ دیکر مشتعل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان سے اپیل کی کہ وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے تحفظ کے لیے آگے آئیں،اور فسادات سے دور رہیں،لیکن اس کے برخلاف سنگھی عناصر فساد میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں سب سے آگے رہتے ہیں۔دلّی میں انھوں نے فسادات بند کرانے کے لیے بھوک ہڑتال تک کی۔کیا سنگھ کی قیادت نے کبھی اس طرح کا عمل اختیار کرکے فسادات ختم کرنے کے لیے کوشش کی؟حد تو یہ ہے کہ وجے دشمی کے مذکورہ پروگرام میں بھاگوت نے گاندھی جی کی تعریف کرنے کے باوجود ان کے قاتل ناتھو رام گوڈسے پر تنقید سے گریز کیا۔
لیکن بھاگوت کی تقریر کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ انھوں نے اس موقع پر ہندو سماج کو متحد رہنے کی تلقین کی،اور کہا کہ ہندو سماج کو ذمہ دار اور جواب دہ بننا ہوگا۔انھوں نے صاف لفظوں میںیہ بھی کہا کہ اہمیں ہندو راشٹر بنانا ہوگا۔بھاگوت کا کہنا تھا کہ ’’مضبوط ہندو تحفظ کی گارنٹی ہے۔جو دیگر مذاہب نے نہیں دیا وہ ہندو نے دیاہے۔‘‘بھاگوت کا یہ موقف سنگھ کے دیرینہ موقف کے عین مطابق ہے۔
ہندوستان جیسے کثیر مذاہب رکھنے والے ملک میں جب دیگر مذاہب کے ماننے والے شہریوں کے مفادات اور ان کی سلامتی کو نظر انداز کرکے صرف ہندو سماج کی بات کی جائیگی تو اس کا مطلب صاف ہے کہ موہن بھاگوت یا آر ایس ایس اس سماج کو باقی مذہبی گروپوں یا دلت و پسماندہ طاقتوں کے خلاف کھڑا کرنا چاہتے ہیں۔انھیں ہندو سماج کی فکر تو ہے لیکن اس مسلم سماج کے لیے ان کے دل میں کوئی جگہ نہیں کہ جس کے لیے مہاتما گاندھی نے بھوک ہڑتالیںکیں،سخت گیر عناصر کے سامنے سینہ سپر ہوگئے ۔حتیٰ کہ گوڈسے نے مسلمانوں کے تئیں ان کے نرم رویے اور ان کے تحفظ کے جذبے سے ناراض ہو کر ان کوقتل کر دیا،لیکن آج مودی کے دور اقتدارمیں گوڈسے کے مجسمے لگانے،اس کا ’مہیما منڈن‘کرنے اور اسے ہندوئوں کا ہیرو بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن سنگھ کی قیادت ا ن کو ششوں پر لب سی لیتی ہے۔مسلمانوں پر اجتماعی تشدد،ان کے گھروں کو معمولی جرم نہیں بلکہ صرف الزامات کی بنیاد پر بلڈوزروں کے ذریعہ مسمار کر دیا جاتا ہے۔ان کی مساجد کو توڑا جاتا ہے،ان کے عائلی قوانین کو ختم کرنے کی سازشیں کرکے انھیں دوئم درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی جاتی ہے،انھیں غیر ملکی،بنگلہ دیشی اور نہ جانے کیا کیاکہا جاتا ہے ۔ایک بزدل وزیر اعلیٰ اقتدار کے زعم میں انھیں ’سبق سکھانے‘’جہنم بھیجنے‘ اور ان کی نسلوں تک کو نتائج بھگتنے کی دھمکیاں کسی سڑک چھاپ غنڈے کی طرح دیتا ہے لیکن سنگھ کی قیادت ایسی تمام باتوں پر م خاموشی اختیار کر لیتی ہے۔اگر مہاتما گاندھی آج زندہ ہوتے تو کیا اسی طرح مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں یا پھر دلتوں و پسماندہ طبقات کے مفادات کو پامال کیا جا سکتا تھا جیسے اب کیا جا رہا ہے؟
بھاگوت کی زیر بحث تقریر میں گاندھی کا ذکر جس طرح کیا گیا وہ دراصل لوگوں کو صرف گمراہ کرنے کے لیے تھا۔جب بھاگوت یہ کہہ رہے تھے کہ ’’گاندھی جی نے ’سمپردائے واد کے خلاف سماج کی حفاظت کی۔‘‘تو وہ دراصل یہ ثابت کرنا چاہ رہے تھے کہ گاندھی جی کی لڑائی صرف ہندوئوں کے ’سمپردائے‘کو ختم کرنے تک محدود تھی،جبکہ یہ ایک انتہائی گمراہ کن نظریہ ہے اور گاندھی جی کو سخت گیر ہندو ثابت کرنے کی بالواسطہ کوشش کے مترادف ہے۔بھاگوت چاہتے ہیں کہ ہندو سماج متحدرہے، لیکن اس اتحاد کا مقصد ملک کی تعمیر و ترقی کو رفتار دینا نہیں بلکہ ملک پر ہندوتووادی طاقتوں کے تسلط کو مضبوط کرنا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو بھاگوت پورے ہندوستانی سماج کو متحد کرنے کی بات کرتے ۔لیکن ایسا کہنے میں سنگھ کے ہندوتواد کے نظریے کا کیا ہوتا ،جو ہندوستان کو صر ف اپنی جاگیر سمجھتا ہے اور مذہبی اقلیتوں کو دو نمبر کا شہری بنا کر ا نھیں قومی دھارے سے دور رکھنے کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ حالانکہ بھاگوت نے اپنی تقریر میںیہ بھی کہا کہ ہندئوں کو ذمہ دار اور جوابدہ بننا ہوگا،لیکن اگر مودی حکومت کی تقریباً 11سال کی سرگرمیوں اور اس سے پہلے بطور گجرات کے وزیر اعلیٰ ان کی کارکردگی پر نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جائیگا کہ آر ایس ایس کے اس سپوت نے اپنی پالیسیوں اور عمل میں سنگھ کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ہی کام کیا ہے۔ملک کا موجودہ ماحول اس کا ثبوت ہے۔جب بھگوت یہ کہتے ہیں کہ مضبوط ہندو ہی تحفظ کی گارنٹی ہے تو اس کا مطلب مسلمانوں یا عیسائیوں کا تحفظ نہیں بلکہ صرف ہندوئوں اور اس میں بھی صرف چند طبقات کا تحفظ ہی ہوتا ہے۔بھاگوت کا یہ دعویٰ بھی تاریخی حقائق سے فرار اور ان کے احساسِ کمتری کی دلیل ہے کہ ’’جو دوسرے مذہب نے نہیں دیا وہ ہندو مذہب نے دیا۔‘‘ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اس ملک کے لیے گراں قدر خدمات کا کوئی منکر نہیں ہو سکتا،لیکن یہ مان لینا کہ دیگر مذاہب کے ہندوستانیوں نے ملک کے لیے کچھ نہیں کیا، یہ آر ایس ایس کا نظریہ یا جھوٹا پروپگندہ تو ہو سکتا ہے ،حقیقت سے اس کا کوئی واسطہ نہیں۔اس طرح کا موازنہ غیر ذمہ دارانہ اور باقی ہندوستانیوں کی خدمات اور ملک کے لیے دی گئی قربانیوں پر خاک ڈالنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں۔اپنی تقریر میں بھاگوت نے سری لنکا،بنگلا دیش اورنیپال کے حالیہ تشدد کا بھی ذکر کیا ،اور اس بات پر زور دیا کہ جمہوری طریقوں سے ہی تبدیلی آتی ہے۔اس ضمن میں انھوں نے ڈاکٹر امبیڈکر کا بھی حوالہ دیا۔لیکن یہ موقف بھی سنگھ سربراہ کے حقیقی موقف سے متصادم نظر آتا ہے،اس لیے کہ یہاں تو جمہوریت کو ووٹ چوری کے سہارے ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، اور حکومت کے مخالفین کے پر امن جمہوری مظاہروں پر بھی انھیں حکومت دشمن نہیں بلکہ ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔لداخ کے پر امن عوامی مظاہروں میں سرگرم شخصیت سونم وانگچک کی سنگین دفعات کے تحت گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت کو اپنے خلاف پر امن طور پر ہونے والے مظاہرے بھی برداشت نہیں۔خیر ہر آمر حکمراں بنیادی طور پر بزدل ہوتا ہے اور مخالفت سے خوفزدہ رہتاہے۔ لیکن بھاگوت نے جو مشورہ وجے دشمی کے پروگرام میں اپنے عوام کو دیا کیا انھیں یہ مشورہ وزیر اعظم کو نہیں دینا چاہیے تھا؟ اسی طرح انھیں ہندو اتحاد کی بجائے کیا ملک کے تمام لوگوں کے درمیان اتحاد کی بات نہیں کرنی چاہیے تھی؟اس لیے کہ اس اتحاد کی ضرورت صرف ہندوئوں کو نہیں بلکہ پورے ملک کو ہے اور موجودہ حکمراں اس اتحاد کو اپنے اقتدار کی راہ کا کانٹا سمجھتے ہیں۔


