خود کفالت سے سماجی انصاف تک

وزیراعظم نریندر مودی جس ’’آتم نربھر بھارت‘‘ (خود کفیل ہندوستان) کا تصور پیش کر رہے ہیں، وہ محض معاشی خودمختاری کی پکار نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت وژن ہے۔ اس کے مرکز میں ایک طرف ’’سودیشی‘‘ (خودی ساختہ پیداوار) کا وقار ہے تو دوسری جانب ’’انتھیو دَی‘‘ (سماج کے آخری فرد کی فلاح) کا فلسفہ۔ یہ دونوں پہلو مہاتما گاندھی کے ’’سودیشی اپناؤ‘‘ اور پنڈت دین دیال اُپادھیائے کے افکار سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ وژن صرف بڑے صنعتی اداروں اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اس کا ہدف عام شہری کی فلاح، سماجی انصاف اور مساوی مواقع بھی ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جو پالیسی اصلاحات اور فلاحی اسکیمیں نافذ ہوئیں، وہ اس سوچ کا ثبوت ہیں۔
جی ایس ٹی اور ٹیکس اصلاحات نے برسوں کی پیچیدہ نظام کو آسان بنا کر عام لوگوں کو راحت دی، جبکہ ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے تحت ملک نے دنیا میں ایک پیداواری مرکز کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ موبائل انڈسٹری اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ حب ہے۔
دفاعی صنعت میں بھارت نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ کبھی دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کنندہ ملک اب 21 ہزار کروڑ کے دفاعی برآمدات کرنے لگا ہے۔ ’’تیجس‘‘ طیارہ، ’’آکاش‘‘ میزائل اور ’’پنکا‘‘ راکٹ لانچر بھارتی صلاحیت کے مظاہر ہیں۔ کوچی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا مقامی طیارہ بردار بحری جہاز INS وِکرانت اس خود اعتمادی کی علامت ہے۔
پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم، عالمی معیار کے سخت معیارات اور ’’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘‘ جیسی کوششیں مقامی صنعت و ہنر کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنا رہی ہیں۔
تاہم آتم نربھر بھارت کا اصل مقصود ’’انتھیو دَی‘‘ ہے۔ جن دھن یوجنا سے کروڑوں بینک کھاتے، اجولا یوجنا سے خواتین کو گیس کنکشن، اور پی ایم سوانِدھی کے ذریعے ریہڑی و پٹری والوں کو بلاسود قرض دینا اسی فکر کا مظہر ہے۔ دیہی علاقوں میں ’’گتی شکتی‘‘ اسکیم نے ترقی کے دروازے کھولے ہیں۔
عالمی سطح پر بھارت اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے۔ 2022-23 میں 451 ارب ڈالر کی برآمدات، فارما سیکٹر میں دنیا کے سب سے بڑے جینرک دوا ساز کی حیثیت، اور اسٹارٹ اَپ انڈیا کے تحت تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اَپ اکو سسٹم بھارت کی نئی شناخت ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا اور UPI نے اس قوت کو مزید تقویت دی ہے۔
خلاصہ یہ کہ آتم نربھر بھارت صرف معاشی آزادی نہیں بلکہ سماجی انصاف، مقامی صلاحیتوں کے احیاء اور عالمی مسابقت کے امتزاج کا نام ہے۔ ’’میک اِن انڈیا‘‘ سے لے کر INS وکرانت تک اور ’’جن دھن‘‘ سے لے کر ’’اجولا‘‘ تک کی یہ سفر کہانی بھارت کو انحصار سے بااختیاری اور کمزوری سے خود اعتمادی کی طرف لے جا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خود کفالت سے سماجی انصاف تک

وزیراعظم نریندر مودی جس ’’آتم نربھر بھارت‘‘ (خود کفیل ہندوستان) کا تصور پیش کر رہے ہیں، وہ محض معاشی خودمختاری کی پکار نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت وژن ہے۔ اس کے مرکز میں ایک طرف ’’سودیشی‘‘ (خودی ساختہ پیداوار) کا وقار ہے تو دوسری جانب ’’انتھیو دَی‘‘ (سماج کے آخری فرد کی فلاح) کا فلسفہ۔ یہ دونوں پہلو مہاتما گاندھی کے ’’سودیشی اپناؤ‘‘ اور پنڈت دین دیال اُپادھیائے کے افکار سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ وژن صرف بڑے صنعتی اداروں اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود نہیں بلکہ اس کا ہدف عام شہری کی فلاح، سماجی انصاف اور مساوی مواقع بھی ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جو پالیسی اصلاحات اور فلاحی اسکیمیں نافذ ہوئیں، وہ اس سوچ کا ثبوت ہیں۔
جی ایس ٹی اور ٹیکس اصلاحات نے برسوں کی پیچیدہ نظام کو آسان بنا کر عام لوگوں کو راحت دی، جبکہ ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ ’’میک اِن انڈیا‘‘ کے تحت ملک نے دنیا میں ایک پیداواری مرکز کے طور پر اپنی پہچان بنائی۔ موبائل انڈسٹری اس کی نمایاں مثال ہے، جہاں آج بھارت دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ حب ہے۔
دفاعی صنعت میں بھارت نے غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔ کبھی دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کنندہ ملک اب 21 ہزار کروڑ کے دفاعی برآمدات کرنے لگا ہے۔ ’’تیجس‘‘ طیارہ، ’’آکاش‘‘ میزائل اور ’’پنکا‘‘ راکٹ لانچر بھارتی صلاحیت کے مظاہر ہیں۔ کوچی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا مقامی طیارہ بردار بحری جہاز INS وِکرانت اس خود اعتمادی کی علامت ہے۔
پیداواری صلاحیت بڑھانے کے لیے پروڈکشن لنکڈ انسینٹو اسکیم، عالمی معیار کے سخت معیارات اور ’’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘‘ جیسی کوششیں مقامی صنعت و ہنر کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنا رہی ہیں۔
تاہم آتم نربھر بھارت کا اصل مقصود ’’انتھیو دَی‘‘ ہے۔ جن دھن یوجنا سے کروڑوں بینک کھاتے، اجولا یوجنا سے خواتین کو گیس کنکشن، اور پی ایم سوانِدھی کے ذریعے ریہڑی و پٹری والوں کو بلاسود قرض دینا اسی فکر کا مظہر ہے۔ دیہی علاقوں میں ’’گتی شکتی‘‘ اسکیم نے ترقی کے دروازے کھولے ہیں۔
عالمی سطح پر بھارت اپنی موجودگی مستحکم کر رہا ہے۔ 2022-23 میں 451 ارب ڈالر کی برآمدات، فارما سیکٹر میں دنیا کے سب سے بڑے جینرک دوا ساز کی حیثیت، اور اسٹارٹ اَپ انڈیا کے تحت تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اَپ اکو سسٹم بھارت کی نئی شناخت ہے۔ ڈیجیٹل انڈیا اور UPI نے اس قوت کو مزید تقویت دی ہے۔
خلاصہ یہ کہ آتم نربھر بھارت صرف معاشی آزادی نہیں بلکہ سماجی انصاف، مقامی صلاحیتوں کے احیاء اور عالمی مسابقت کے امتزاج کا نام ہے۔ ’’میک اِن انڈیا‘‘ سے لے کر INS وکرانت تک اور ’’جن دھن‘‘ سے لے کر ’’اجولا‘‘ تک کی یہ سفر کہانی بھارت کو انحصار سے بااختیاری اور کمزوری سے خود اعتمادی کی طرف لے جا رہی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں