ہند میں بیداری کی لہر ؟


محمد امین اللہ

مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریزوں نے ہندو فرقہ پرستوں سے مل کر بر صغیر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے انگریزی زبان کو مسلط کیا ۔ مسلمانوں کی تعلیم گاہوں کو برباد کیا ۔ مساجد سے منسلک جو بڑی بڑی جائدادیں وقف کی صورت میں تھیں جس سے طلباء اساتذہ اور آس پاس کی دیہاتوں کے لوگ مستفیض ہوتے تھے ان کو قومی تحویل میں لیا جس کی وجہ سے علماء اور اساتذہ معاشی تنگدستی میں مبتلا ہو گئے ۔ مسلمانوں کی کثیر آبادیوں میں ہندو جاگیرداروں کو مسلط کیا ۔ گویا مسلمان ہر اعتبار سے کسم پرشی کا شکار ہو گئے ۔ تنگ آ کر مسلمانوں میں مختلف تحریکیں پیدا ہوئیں ۔ ریشمی رومال ، کی تحریک جس کے آشکار ہو جانے کے بعد ہزاروں علماء شہید کیئے گئے ۔ سب سے زیادہ دور ابتلاء 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد شروع ہوا جس میں دہلی کے اندر انگریزوں نے تین دنوں تک قتل عام کیا ۔ دہلی سے لیکر سونی پت تک GT روڈ کے دونوں اطراف کے درختوں پر مسلمانوں کی لاشوں کو لٹکا دیا گیا ۔ اس کے باوجود مسلمانان ہند انگریزوں کے خلاف مختلف ناموں سے تحریک چلاتے رہے ۔ اک وقت آیا کہ ہندوؤں نے بھی برطانوی سرکار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آزادی کی تحریک شروع کی جس میں مسلمان بھی ان کی سیاسی جماعت گانگریس میں شامل ہوئے مگر جلد ہی مسلمان قیادت بھانپ گئی کہ کانگریس آزادی کے بعد مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق نہیں دے گی ۔ پھر کیا تھا 1906 میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا جس کی قیادت جب قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں میں آئی تو پاکستان معجزانہ طور پر دو سامراج انگریز اور برہمن کے جبڑے سے نکال کر پاکستان بنا ڈالا جس کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دینی پڑی ۔
پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں کی اک بڑی تعداد ہندستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی جن کی آج آبادی تیس کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔ مگر بھارت کا مسلمان 1947 سے لے کر اب تک ہندو فسطائیت اور جبر کا شکار ہے اور ہندوستان میں تیسرے درجے کی حیثیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ بھارت کی متعصب اور اکھنڈ بھارت کا نظریہ رکھنے والی ہندو قیادت نے پاکستان کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت کا ارتکاب اور سازشیں کرتا رہا ہے ۔ 1948 میں آدھے کشمیر پر قبضہ کرنے اور 1971 میں بنگلہ دیش بنانے میں بنیادی کردار ادا کرنے کے بعد اب تک بھارت اور پاکستان میں چار جنگیں ہو چکی ہیں ۔
مودی حکومت کی حکومت تو سوتے جاگتے پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دیکھتی رہتی ہے ۔
77 سال گذر جانے کے باوجود ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کرنے کا کہا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے گھر واپسی کے نام پر سرکاری سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اب تک ہزاروں مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کی جان و مال کو تباہ و برباد کیا گیا اور وہ سلسلہ گئو رکھشا کے نام پر جاری ہے ۔ اجتماعی تشدد کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔ خوش حال مسلم علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر کیا جا رہا ہے ۔ معتبر مسلمان لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلوں میں ہی ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے لئے نئے نئے شہریت کے قوانین بنائے جا رہےہیں ۔ بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کے بعد سیکڑوں مساجد کو مندر بنائے کی سازشیں زور شور سے جاری ہیں ۔ وقف بل کے ذریعے مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے کوشش ہو رہی ہے ۔ مسجدوں سے آذان دینے پر پابندی اور کھلی جگہوں پر عیدین کی نمازوں پر پابندی لگانی جا چکی ہے ۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ 12 ربیع الاول کے موقع پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کے لئے کانپور میں لگائے گئے بینر اور پوسٹر پر 25 مسلمانوں پر FIR درج کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں جذبہ شہادت اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا جذبہ بیدار ہوا ہے کہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں ہے ۔ اسی جذبے کے تناظر میں یہ کالم ضبط تحریر ہے ۔
تقسیم ہند کے وقت جو فسادات ہوئے اس کا سلسلہ تو آج تک جاری ہے ۔ مگر 1971 سے پہلے تک مسلمانانِ ہند کی ہجرت کا سلسلہ 1950 کے فسادات میں بھی ہوا جس میں سب سے زیادہ کلکتہ میں 10 محرم الحرام کے دن ہونے والے فساد میں مسلمانوں کی شہادتیں ہوئیں ۔ اس کے بعد 1964 میں بھی حضرت بل کے درگاہ سے جب موئے مبارک کی چوری ہوئی تو پورے ملک میں خوفناک فسادات ہوئے ان فسادات میں بھی کلکتہ سب سے زیادہ متاثر ہوا اور کلکتے سے اک قابلِ ذکر لوگوں کی مشرقی پاکستان میں ہجرت ہوئی ۔ یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا ۔ مگر 1971 کے بعد مسلمانانِ ہند نے پاکستان کی جانب دیکھنا اور امید لگانا چھوڑ دیا ۔
سقوط ڈھاکہ صرف پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے کرب و الم نہیں تھا بلکہ پوری مسلم دنیا سکتے میں تھی کیونکہ کہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں مسلمان فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تھے ۔ اس کا سب سے زیادہ اثرات مسلمانان ہند پڑا جیسے لگا کہ ان کا اب دنیا میں اللّٰہ کے سوا کوئی نہیں بھارت کے ہندو قوم پرستوں نے تو مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا اندرا گاندھی درگا ماں کے روپ میں پیش کی جانے لگی ۔ مسلمانوں پر سرکاری نوکریوں کو شجر ممنوعہ بنادیا گیا ۔ کاروبار ، تعلیم حاصل کرنے کے تمام دروازے مسدود کر دیئے گئے اور جہاں جہاں مسلمان اپنی محنتوں سے خوش حال ہو رہے تھے وہاں فسادات کے ذریعے ان کو تباہ کر دیا گیا ۔ سب سے زیادہ مسلمانان ہند کو اس وقت گزند پہنچی جب بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 میں راجیو گاندھی کی نام نہاد سیکولر حکومت میں بھارتی جنتا پارٹی کے دہشت گردوں نے پولیس اور انتظامیہ کی سر پرستی میں شہید کر دیا ۔ پورے ملک میں مسلمانوں میں احتجاج شروع ہوا مگر ریاستی سرپرستی میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ ہندوتوا کے علمبرداروں کے لئے کامیابی کے دروازے کھل گئے مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ بن گیا اور گودھرا اسٹیشن پر ریل گاڑی کی خود ساختہ آتش زنی کا بہانہ بنا کر پورے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جس میں بیسٹ بیکری حادثہ سب سے زیادہ الم ناک تھا جس سیکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ۔ اسی دن سے یہ گجرات کا قصائی ہندوتوا کی علمبرداروں کے آنکھوں کا تارا بن چکا ہے جو گزشتہ 16 سالوں سے بھارت کا وزیراعظم ہے اور مسلمانوں سے جینے کا تمام شہری حقوق سلب کر رہا ہے جس کو بھارت کے آئین نے دیا ہے ۔ پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں کو آتنک وادی کے نام پر ماورائے عدالت ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ گائے رکھشا کے نام پر اجتماعی تشدد کا نشانہ بنا کر مسلمانوں کو قتل کرنا عام بات ہے ۔ شہریت کا قانون ، یکساں سول کوڈ ، تین طلاق کا قانون ، وقف بل اور تجاوزات کے نام پر مساجد ، مزارات اور خوشحال مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا ماورائے آئین اقدامات کیئے جا رہے ہیں ۔ شہریت کے قوانین کو ختم کرنے کے لئے شاہین باغ میں خواتین کا ایک طویل دھرنے نے مسلمانوں کے اندر جس بیداری کو پیدا کیا ہے اس کا اظہار وقتاً فوقتاً شدت سے جاری ہے ۔ حالانکہ خواتین کے دھرنے کو ختم کرنے کے لئے دہلی میں اک بھیانک مسلم کش فسادات پولیس کی سرپرستی میں کیا گیا جس کی آڈیو ویڈیو دنیا نے دیکھا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء وطالبات پر پولیس اور بھارتی جنتا پارٹی کے غنڈوں کی مشترکہ دہشت گردی بھی یو ٹیوب پر موجود ہے ۔ مسلمانان ہند میں بیداری کی وجہ سے مسلسل تحریکیں پیدا ہو رہی ہے ۔ حالیہ دنوں میں بارہ ربیع الاول کو کانپور میں I love Muhammad کا پوسٹر اور بینر لگانے کی پاداش میں 25 سے زائد مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد آج بھارت کے کونے کونے میں بڑے بڑے احتجاجی جلوس میں مرد و خواتین کی شرکت نے مودی سرکار کو ششدر کر دیا ہے ۔ لوگ گرفتاری دینے کی بات تو دور کی بات ہے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر شہید ہوئے کو تیار ہیں۔ اب وقف بل کے خلاف تین اکتوبر کو علماء کی جانب سے پورے ملک میں ہڑتال بلائ گئ ہے۔ مسلمان نوجوانوں میں تعلیمی رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں لڑکیوں کی بھی خاصی تعداد شامل ہے اور مقابلوں کے امتحانات پاس کر رہے ہیں ۔
یہ وہ عوامل ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ۔ مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے ۔
بھارت میں ہندوتوا کی پھیلائی ہوئی نفرت نے تمام دیگر اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی موجودہ حالات سے آزادی حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نعرہ لگ رہا ہے ک
ہم کیا چاہتے ہیں آزادی ۔
ہم لے کر رہیں گے آزادی ۔
اس تمام تر صورت حال میں مسلمانوں کی بقا اور آئندہ نسلوں کا وقار I love Muhammad کے ساتھ ساتھ
We Will must follow the ideology of Muhammad (SAW) ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر لازمی عمل کریں گے
پھر دیکھنا بھارت میں کیسی جادوئی ہوا چلتی ہے ۔
آئینہ یہ کہتا ہے مجھ سے سنو ۔
اپنے کردار کو تو بنا آئینہ ۔
پہلے خود دیکھ لے پھر دیکھا آئنہ ۔
بھارت شروع سے ہی برہمن سامراج کے پائے استبداد کے نیچے پستا رہا ہے اور خود ہندوؤں کی اکثریت برہمن اور راجپوتوں کے ظلم اور جبر کا شکار رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آدی واسیوں کی اکثریت نکسل وادیوں کے ساتھ ہے اور مسلح جدو جہد کر رہی ہے ۔ بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اور استحصالی نظام کی وجہ سے پنجاب میں خالصتان تحریک ، کے علاوہ آسام ، منی پور ، تری پورہ ، ناگالینڈ ، ہماچل پردیش میں علیحدگی کی تحریکیں شروع ہو گئی ہیں ۔ ایسے میں بھارت کی سب سے بڑی اقلیت جو مسلمانوں کی ہے اگر وہ بیدار ہو جائے اور مجموعی اعتبار سے وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے لگے۔ ان کا مشترک سیاسی جماعت بن جائے ، یہ فروعی اور مسلکی اختلافات کو بھلا کر متحدہ جدو جہد کریں تو بہت جلد مسلمان سیاسی ، سماجی ، معاشی اور تعلیمی میدان میں بھارت کی رہنما طبقے کی حیثیت اختیار کر جائیں گے ۔ جو دیگر اقوام کو اسلام کے دائرے میں لاتی ہے وہ قرآنی تعلیمات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہے۔ اگر مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنا لیں تو ہندوستان کی پجھڑی ہوئی ذاتیں تیزی کے ساتھ اسلام قبول کر لیں گی ۔ پھر مسلمان سیاسی اعتبار سے بھارت پر حکمرانی کرنے کے اہل ہو جائیں گے ۔ جس کا واویلا بھارتی جنتا پارٹی مسلسل کر رہی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی تبدیلئ مذہب اور کثرت پیدائش سے بڑھ رہی ہے ۔ تندیلئ مذہب کو روکنے کے لئے تو مودی سرکار قانون سازی بھی کر رہی ہے ۔ اور لو جہاد کے جھوٹے الزامات کے تحت مسلمانوں پر تشدد بھی کیا جا رہا ہے ۔ ان تمام ہتھ کنڈوں کے باوجود بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے ۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کی دعوت کو عام کیا جائے اور ممبر و محراب کے ذریعے علماء اور خطبہ حضرات اصلاح معاشرہ اور تعمیر سیرت وکردار کی مہم چلائیں ۔
صبح تازہ کی کرنوں کو آنے تو دو
غم کے ماروں کی دنیا بدل جائے گی ۔
دین احمد کے لنگر کو تھامے گا جو۔
اس کی کشتی بھنور سے نکل جائے گی ۔
یہ شرعت پذیر تبدیلوں کا زمانہ ہے فرد واحد اپنی محارتوں کے ذریعے بڑی بڑی ریاستوں کو جھکا سکتا ہے ۔
اے ابرود گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کو ۔
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا ۔
اس درخشاں ماضی کو یاد کریں اور حوصلے و کردار سے پھر ایک بار فاتح ہندوستان بن جائیں ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

ہند میں بیداری کی لہر ؟


محمد امین اللہ

مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد انگریزوں نے ہندو فرقہ پرستوں سے مل کر بر صغیر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا شروع کر دیا ۔ سب سے پہلے انہوں نے انگریزی زبان کو مسلط کیا ۔ مسلمانوں کی تعلیم گاہوں کو برباد کیا ۔ مساجد سے منسلک جو بڑی بڑی جائدادیں وقف کی صورت میں تھیں جس سے طلباء اساتذہ اور آس پاس کی دیہاتوں کے لوگ مستفیض ہوتے تھے ان کو قومی تحویل میں لیا جس کی وجہ سے علماء اور اساتذہ معاشی تنگدستی میں مبتلا ہو گئے ۔ مسلمانوں کی کثیر آبادیوں میں ہندو جاگیرداروں کو مسلط کیا ۔ گویا مسلمان ہر اعتبار سے کسم پرشی کا شکار ہو گئے ۔ تنگ آ کر مسلمانوں میں مختلف تحریکیں پیدا ہوئیں ۔ ریشمی رومال ، کی تحریک جس کے آشکار ہو جانے کے بعد ہزاروں علماء شہید کیئے گئے ۔ سب سے زیادہ دور ابتلاء 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد شروع ہوا جس میں دہلی کے اندر انگریزوں نے تین دنوں تک قتل عام کیا ۔ دہلی سے لیکر سونی پت تک GT روڈ کے دونوں اطراف کے درختوں پر مسلمانوں کی لاشوں کو لٹکا دیا گیا ۔ اس کے باوجود مسلمانان ہند انگریزوں کے خلاف مختلف ناموں سے تحریک چلاتے رہے ۔ اک وقت آیا کہ ہندوؤں نے بھی برطانوی سرکار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے آزادی کی تحریک شروع کی جس میں مسلمان بھی ان کی سیاسی جماعت گانگریس میں شامل ہوئے مگر جلد ہی مسلمان قیادت بھانپ گئی کہ کانگریس آزادی کے بعد مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق نہیں دے گی ۔ پھر کیا تھا 1906 میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا جس کی قیادت جب قائد اعظم محمد علی جناح کے ہاتھوں میں آئی تو پاکستان معجزانہ طور پر دو سامراج انگریز اور برہمن کے جبڑے سے نکال کر پاکستان بنا ڈالا جس کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی دینی پڑی ۔
پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں کی اک بڑی تعداد ہندستان میں ہی رہنے کو ترجیح دی جن کی آج آبادی تیس کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے جو دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔ مگر بھارت کا مسلمان 1947 سے لے کر اب تک ہندو فسطائیت اور جبر کا شکار ہے اور ہندوستان میں تیسرے درجے کی حیثیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے ۔ بھارت کی متعصب اور اکھنڈ بھارت کا نظریہ رکھنے والی ہندو قیادت نے پاکستان کے وجود کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کے خلاف مسلسل جارحیت کا ارتکاب اور سازشیں کرتا رہا ہے ۔ 1948 میں آدھے کشمیر پر قبضہ کرنے اور 1971 میں بنگلہ دیش بنانے میں بنیادی کردار ادا کرنے کے بعد اب تک بھارت اور پاکستان میں چار جنگیں ہو چکی ہیں ۔
مودی حکومت کی حکومت تو سوتے جاگتے پاکستان کو ختم کرنے کا خواب دیکھتی رہتی ہے ۔
77 سال گذر جانے کے باوجود ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کرنے کا کہا جاتا ہے ۔ مسلمانوں کو ہندو بنانے کے لئے گھر واپسی کے نام پر سرکاری سطح پر مہم چلائی جا رہی ہے ۔ اب تک ہزاروں مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کی جان و مال کو تباہ و برباد کیا گیا اور وہ سلسلہ گئو رکھشا کے نام پر جاری ہے ۔ اجتماعی تشدد کے ذریعے مسلمان نوجوانوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔ خوش حال مسلم علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں کو بلڈوزر کیا جا رہا ہے ۔ معتبر مسلمان لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیلوں میں ہی ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے لئے نئے نئے شہریت کے قوانین بنائے جا رہےہیں ۔ بابری مسجد کے انہدام اور رام مندر کی تعمیر کے بعد سیکڑوں مساجد کو مندر بنائے کی سازشیں زور شور سے جاری ہیں ۔ وقف بل کے ذریعے مسلمانوں کی وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنے کے کوشش ہو رہی ہے ۔ مسجدوں سے آذان دینے پر پابندی اور کھلی جگہوں پر عیدین کی نمازوں پر پابندی لگانی جا چکی ہے ۔ حد تو یہ ہو گئی ہے کہ 12 ربیع الاول کے موقع پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کے اظہار کے لئے کانپور میں لگائے گئے بینر اور پوسٹر پر 25 مسلمانوں پر FIR درج کرکے گرفتار کر لیا گیا ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں جذبہ شہادت اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا جذبہ بیدار ہوا ہے کہ اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں ہے ۔ اسی جذبے کے تناظر میں یہ کالم ضبط تحریر ہے ۔
تقسیم ہند کے وقت جو فسادات ہوئے اس کا سلسلہ تو آج تک جاری ہے ۔ مگر 1971 سے پہلے تک مسلمانانِ ہند کی ہجرت کا سلسلہ 1950 کے فسادات میں بھی ہوا جس میں سب سے زیادہ کلکتہ میں 10 محرم الحرام کے دن ہونے والے فساد میں مسلمانوں کی شہادتیں ہوئیں ۔ اس کے بعد 1964 میں بھی حضرت بل کے درگاہ سے جب موئے مبارک کی چوری ہوئی تو پورے ملک میں خوفناک فسادات ہوئے ان فسادات میں بھی کلکتہ سب سے زیادہ متاثر ہوا اور کلکتے سے اک قابلِ ذکر لوگوں کی مشرقی پاکستان میں ہجرت ہوئی ۔ یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً جاری رہا ۔ مگر 1971 کے بعد مسلمانانِ ہند نے پاکستان کی جانب دیکھنا اور امید لگانا چھوڑ دیا ۔
سقوط ڈھاکہ صرف پاکستان اور اہل پاکستان کے لئے کرب و الم نہیں تھا بلکہ پوری مسلم دنیا سکتے میں تھی کیونکہ کہ تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں مسلمان فوجیوں نے ہتھیار ڈالے تھے ۔ اس کا سب سے زیادہ اثرات مسلمانان ہند پڑا جیسے لگا کہ ان کا اب دنیا میں اللّٰہ کے سوا کوئی نہیں بھارت کے ہندو قوم پرستوں نے تو مسلمانوں کا جینا دوبھر کردیا اندرا گاندھی درگا ماں کے روپ میں پیش کی جانے لگی ۔ مسلمانوں پر سرکاری نوکریوں کو شجر ممنوعہ بنادیا گیا ۔ کاروبار ، تعلیم حاصل کرنے کے تمام دروازے مسدود کر دیئے گئے اور جہاں جہاں مسلمان اپنی محنتوں سے خوش حال ہو رہے تھے وہاں فسادات کے ذریعے ان کو تباہ کر دیا گیا ۔ سب سے زیادہ مسلمانان ہند کو اس وقت گزند پہنچی جب بابری مسجد کو 6 دسمبر 1992 میں راجیو گاندھی کی نام نہاد سیکولر حکومت میں بھارتی جنتا پارٹی کے دہشت گردوں نے پولیس اور انتظامیہ کی سر پرستی میں شہید کر دیا ۔ پورے ملک میں مسلمانوں میں احتجاج شروع ہوا مگر ریاستی سرپرستی میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا ۔ ہندوتوا کے علمبرداروں کے لئے کامیابی کے دروازے کھل گئے مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ بن گیا اور گودھرا اسٹیشن پر ریل گاڑی کی خود ساختہ آتش زنی کا بہانہ بنا کر پورے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا جس میں بیسٹ بیکری حادثہ سب سے زیادہ الم ناک تھا جس سیکڑوں مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا ۔ اسی دن سے یہ گجرات کا قصائی ہندوتوا کی علمبرداروں کے آنکھوں کا تارا بن چکا ہے جو گزشتہ 16 سالوں سے بھارت کا وزیراعظم ہے اور مسلمانوں سے جینے کا تمام شہری حقوق سلب کر رہا ہے جس کو بھارت کے آئین نے دیا ہے ۔ پڑھے لکھے مسلمان نوجوانوں کو آتنک وادی کے نام پر ماورائے عدالت ہلاک کیا جا رہا ہے ۔ گائے رکھشا کے نام پر اجتماعی تشدد کا نشانہ بنا کر مسلمانوں کو قتل کرنا عام بات ہے ۔ شہریت کا قانون ، یکساں سول کوڈ ، تین طلاق کا قانون ، وقف بل اور تجاوزات کے نام پر مساجد ، مزارات اور خوشحال مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا ماورائے آئین اقدامات کیئے جا رہے ہیں ۔ شہریت کے قوانین کو ختم کرنے کے لئے شاہین باغ میں خواتین کا ایک طویل دھرنے نے مسلمانوں کے اندر جس بیداری کو پیدا کیا ہے اس کا اظہار وقتاً فوقتاً شدت سے جاری ہے ۔ حالانکہ خواتین کے دھرنے کو ختم کرنے کے لئے دہلی میں اک بھیانک مسلم کش فسادات پولیس کی سرپرستی میں کیا گیا جس کی آڈیو ویڈیو دنیا نے دیکھا ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء وطالبات پر پولیس اور بھارتی جنتا پارٹی کے غنڈوں کی مشترکہ دہشت گردی بھی یو ٹیوب پر موجود ہے ۔ مسلمانان ہند میں بیداری کی وجہ سے مسلسل تحریکیں پیدا ہو رہی ہے ۔ حالیہ دنوں میں بارہ ربیع الاول کو کانپور میں I love Muhammad کا پوسٹر اور بینر لگانے کی پاداش میں 25 سے زائد مسلمان نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد آج بھارت کے کونے کونے میں بڑے بڑے احتجاجی جلوس میں مرد و خواتین کی شرکت نے مودی سرکار کو ششدر کر دیا ہے ۔ لوگ گرفتاری دینے کی بات تو دور کی بات ہے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر شہید ہوئے کو تیار ہیں۔ اب وقف بل کے خلاف تین اکتوبر کو علماء کی جانب سے پورے ملک میں ہڑتال بلائ گئ ہے۔ مسلمان نوجوانوں میں تعلیمی رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس میں لڑکیوں کی بھی خاصی تعداد شامل ہے اور مقابلوں کے امتحانات پاس کر رہے ہیں ۔
یہ وہ عوامل ہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ ۔ مسلماں کو مسلماں کر دیا طوفان مغرب نے ۔
بھارت میں ہندوتوا کی پھیلائی ہوئی نفرت نے تمام دیگر اقلیتوں اور نچلی ذات کے ہندوؤں کو بھی موجودہ حالات سے آزادی حاصل کرنے پر مجبور کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نعرہ لگ رہا ہے ک
ہم کیا چاہتے ہیں آزادی ۔
ہم لے کر رہیں گے آزادی ۔
اس تمام تر صورت حال میں مسلمانوں کی بقا اور آئندہ نسلوں کا وقار I love Muhammad کے ساتھ ساتھ
We Will must follow the ideology of Muhammad (SAW) ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر لازمی عمل کریں گے
پھر دیکھنا بھارت میں کیسی جادوئی ہوا چلتی ہے ۔
آئینہ یہ کہتا ہے مجھ سے سنو ۔
اپنے کردار کو تو بنا آئینہ ۔
پہلے خود دیکھ لے پھر دیکھا آئنہ ۔
بھارت شروع سے ہی برہمن سامراج کے پائے استبداد کے نیچے پستا رہا ہے اور خود ہندوؤں کی اکثریت برہمن اور راجپوتوں کے ظلم اور جبر کا شکار رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آدی واسیوں کی اکثریت نکسل وادیوں کے ساتھ ہے اور مسلح جدو جہد کر رہی ہے ۔ بھارت کی توسیع پسندانہ عزائم کی وجہ سے اور استحصالی نظام کی وجہ سے پنجاب میں خالصتان تحریک ، کے علاوہ آسام ، منی پور ، تری پورہ ، ناگالینڈ ، ہماچل پردیش میں علیحدگی کی تحریکیں شروع ہو گئی ہیں ۔ ایسے میں بھارت کی سب سے بڑی اقلیت جو مسلمانوں کی ہے اگر وہ بیدار ہو جائے اور مجموعی اعتبار سے وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے لگے۔ ان کا مشترک سیاسی جماعت بن جائے ، یہ فروعی اور مسلکی اختلافات کو بھلا کر متحدہ جدو جہد کریں تو بہت جلد مسلمان سیاسی ، سماجی ، معاشی اور تعلیمی میدان میں بھارت کی رہنما طبقے کی حیثیت اختیار کر جائیں گے ۔ جو دیگر اقوام کو اسلام کے دائرے میں لاتی ہے وہ قرآنی تعلیمات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہے۔ اگر مسلمان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنا لیں تو ہندوستان کی پجھڑی ہوئی ذاتیں تیزی کے ساتھ اسلام قبول کر لیں گی ۔ پھر مسلمان سیاسی اعتبار سے بھارت پر حکمرانی کرنے کے اہل ہو جائیں گے ۔ جس کا واویلا بھارتی جنتا پارٹی مسلسل کر رہی ہے کہ مسلمانوں کی آبادی تبدیلئ مذہب اور کثرت پیدائش سے بڑھ رہی ہے ۔ تندیلئ مذہب کو روکنے کے لئے تو مودی سرکار قانون سازی بھی کر رہی ہے ۔ اور لو جہاد کے جھوٹے الزامات کے تحت مسلمانوں پر تشدد بھی کیا جا رہا ہے ۔ ان تمام ہتھ کنڈوں کے باوجود بھارت میں مسلمانوں کا مستقبل روشن ہے ۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اسلام کی دعوت کو عام کیا جائے اور ممبر و محراب کے ذریعے علماء اور خطبہ حضرات اصلاح معاشرہ اور تعمیر سیرت وکردار کی مہم چلائیں ۔
صبح تازہ کی کرنوں کو آنے تو دو
غم کے ماروں کی دنیا بدل جائے گی ۔
دین احمد کے لنگر کو تھامے گا جو۔
اس کی کشتی بھنور سے نکل جائے گی ۔
یہ شرعت پذیر تبدیلوں کا زمانہ ہے فرد واحد اپنی محارتوں کے ذریعے بڑی بڑی ریاستوں کو جھکا سکتا ہے ۔
اے ابرود گنگا وہ دن ہیں یاد تجھ کو ۔
اترا تیرے کنارے جب کارواں ہمارا ۔
اس درخشاں ماضی کو یاد کریں اور حوصلے و کردار سے پھر ایک بار فاتح ہندوستان بن جائیں ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں