مخلص یا منافق؟ دو رُخے کردار کا المیہ

 

ڈاکٹر طارق گیلانی
سرینگر، کشمیر

آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے: "لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کے دو چہرے ہوں، جو کبھی ایک گروہ کے پاس آئے تو ایک چہرہ لے کر آئے اور جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو دوسرا چہرہ لے کر جائے۔” یہ حدیث ہمارے لئے نہ صرف ایک گہری نصیحت ہے بلکہ سماج کی اصلاح اور انسانی کردار کی حقیقت کو بے نقاب کرنے والی روشنی بھی ہے۔
اب اگر ہم سوچیں کہ کسی راستے پر چلتے ہوئے اچانک ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایسا انسان آجائے جس کی گردن پر واقعی دو چہرے ہوں، تو اس منظر سے دل و دماغ پر کیسا اثر پڑے گا؟ یقیناً ایسی ہولناک کیفیت پیدا ہوگی جس کا صرف تصور ہی بدن میں کپکپی دوڑا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا فرمایا ہے، چنانچہ جب کسی کے چہرے پر غیر معمولی اور خوفناک کیفیت دکھائی دے تو اسے دیکھ کر طبیعت میں ہراس اور اضطراب پیدا ہونا فطری بات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں کوئی انسان دو چہرے والا ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے، مگر یہ دو چہرے جسمانی شکل میں نہیں بلکہ باطن اور کردار کی صورت میں موجود ہوتے ہیں-
انسان کا ایک چہرہ وہ ہوتا ہے جو سب کے سامنے آتا ہے، جو لوگ دیکھتے ہیں، جسے وہ ظاہری شکل اور شخصیت سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا چہرہ بھی ہوتا ہے جو چھپا ہوا ہوتا ہے، جسے وہ دوسروں کے سامنے نہیں لاتا، صرف موقع اور مفاد کے وقت اس کا استعمال کرتا ہے۔ یہ پوشیدہ چہرہ ہی دراصل انسان کے اصل باطن کی نشاندہی کرتا ہے۔یوں تو بظاہر بعض افراد نہایت نیکوکار، شریف اور متقی نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتار اور انداز دیکھ کر ہر کوئی دھوکہ کھا سکتا ہے کہ یہ دیانت دار اور صالح شخص ہیں۔ لیکن جب ان کے باطنی چہرے کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو وہ ایک شیطان صفت، مکار اور دھوکے باز کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس طرح کا تضاد انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
ایک آدمی محض اپنے چہرے کی سادگی اور بناوٹ سے معصوم اور کمزور نظر آ سکتا ہے، گویا کوئی مسکین شخصیت ہو۔ لیکن اس کے دوسرے چہرے کی حقیقت کبھی جھوٹ بولنے والے، منافق، دھوکہ دینے والے یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے والے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ سماج کے لئے یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے کہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں دو انتہاؤں پر چلے، ایک چہرہ لوگوں کو دکھاکر ہمدردی سمیٹے اور دوسرا چہرہ چھپاکر انہی لوگوں سے خیانت کرے۔ ایسا شخص کبھی بھی اچھے انسان کہلانے کے قابل نہیں ہوسکتا۔
دو چہروں والا انسان کبھی دوستوں میں دوستی کا دم بھرتا ہے لیکن حقیقت میں دشمنوں کے ساتھ جا ملتا ہے، کبھی خاندان میں محبت کا اظہار کرکے بعد میں دھوکہ دیتا ہے، کبھی قوم کے سامنے ایمان داری کا نقاب پہنتا ہے لیکن قوم کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہاں تک کہ ملکی سطح پر بھی ایسے دو روخی افراد اپنی زمین کو دھوکہ دے کر دشمن قوم کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زبان میں انہیں "ڈبل کراس ایجنٹ” کہا جاتا ہے، جو بیک وقت اپنے ملک کے ساتھ بھی جاسوسی کرتا ہے اور دوسرے ملک کے لئے بھی۔ ڈبل کراس کا مطلب ہی یہی ہے کہ اعتماد توڑ کر دو طرفہ بازی کھیلنا اور سب کو دھوکہ دینا۔
سوال یہ ہے کہ اگر سماج میں ایسے لوگ ہوں جو ہر وقت دو رخوں کی سیاست کرتے رہیں، تو اس سماج کو نقصان کے کتنے در کھل سکتے ہیں؟ یقیناً گھر ہو یا خاندان، قبیلہ ہو یا پورا ملک، ایسے لوگوں کے رہنے سے سکونِ قلب ختم ہوجاتا ہے اور بداعتمادی، بے چینی اور وابستگی کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کے قول و فعل میں منافقت اور تضاد پیدا ہو، وہاں اعتبار اور اخوت باقی نہیں رہ سکتی۔مذہب اور اخلاق دونوں ایسے رویے کو کبھی برداشت نہیں کرتے۔ دینِ اسلام تو انسان کو سیدھے راستے پر چلنے اور اپنے قول و فعل کو یکساں رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں منافقت کو کھلم کھلا بُرا عمل قرار دیا گیا ہے۔
دو چہروں والا شخص دراصل شیطانی طاقتوں کے تسلط میں آچکا ہوتا ہے۔ وہ شیطان کا غلام اور اس کے وسوسوں کا اسیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ سماج کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔دو چہرے والا انسان دراصل "منافق” کہلاتا ہے، جو نہ اِدھر ہے اور نہ اُدھر۔ ایک لمحے میں وہ کسی کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے اور دوسرے لمحے اس کی دشمنی میں شریک ہوجاتا ہے۔ منافقت کی یہی صفت اصل خطرہ ہے۔ انسانی برادری کو اس خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے تاکہ ہم ایسے لوگوں کے مکروہ چہروں کو پہچان سکیں اور خود بھی اس روش سے محفوظ رہیں۔
یہی اصل پیغام ہے کہ آدمی کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا کردار ہے، اور کردار کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ وہ ایک ہو، شفاف ہو اور تضاد سے پاک ہو۔ دو چہروں کا مالک کبھی صاف دل اور سچائی پر چلنے والا بن ہی نہیں سکتا۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی اور سماج سے اس دو رخے رجحان کو نکال پھینکیں اور صداقت و دیانت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

تازہ ترین خبریں

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

مخلص یا منافق؟ دو رُخے کردار کا المیہ

 

ڈاکٹر طارق گیلانی
سرینگر، کشمیر

آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مشہور حدیث ہے: "لوگوں میں سب سے برا وہ ہے جس کے دو چہرے ہوں، جو کبھی ایک گروہ کے پاس آئے تو ایک چہرہ لے کر آئے اور جب دوسرے گروہ کے پاس جائے تو دوسرا چہرہ لے کر جائے۔” یہ حدیث ہمارے لئے نہ صرف ایک گہری نصیحت ہے بلکہ سماج کی اصلاح اور انسانی کردار کی حقیقت کو بے نقاب کرنے والی روشنی بھی ہے۔
اب اگر ہم سوچیں کہ کسی راستے پر چلتے ہوئے اچانک ہماری آنکھوں کے سامنے ایک ایسا انسان آجائے جس کی گردن پر واقعی دو چہرے ہوں، تو اس منظر سے دل و دماغ پر کیسا اثر پڑے گا؟ یقیناً ایسی ہولناک کیفیت پیدا ہوگی جس کا صرف تصور ہی بدن میں کپکپی دوڑا دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا فرمایا ہے، چنانچہ جب کسی کے چہرے پر غیر معمولی اور خوفناک کیفیت دکھائی دے تو اسے دیکھ کر طبیعت میں ہراس اور اضطراب پیدا ہونا فطری بات ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حقیقت میں کوئی انسان دو چہرے والا ہوسکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں! ایسا ہوتا ہے، مگر یہ دو چہرے جسمانی شکل میں نہیں بلکہ باطن اور کردار کی صورت میں موجود ہوتے ہیں-
انسان کا ایک چہرہ وہ ہوتا ہے جو سب کے سامنے آتا ہے، جو لوگ دیکھتے ہیں، جسے وہ ظاہری شکل اور شخصیت سمجھ لیتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک دوسرا چہرہ بھی ہوتا ہے جو چھپا ہوا ہوتا ہے، جسے وہ دوسروں کے سامنے نہیں لاتا، صرف موقع اور مفاد کے وقت اس کا استعمال کرتا ہے۔ یہ پوشیدہ چہرہ ہی دراصل انسان کے اصل باطن کی نشاندہی کرتا ہے۔یوں تو بظاہر بعض افراد نہایت نیکوکار، شریف اور متقی نظر آتے ہیں۔ ان کی گفتار اور انداز دیکھ کر ہر کوئی دھوکہ کھا سکتا ہے کہ یہ دیانت دار اور صالح شخص ہیں۔ لیکن جب ان کے باطنی چہرے کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو وہ ایک شیطان صفت، مکار اور دھوکے باز کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اس طرح کا تضاد انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہوتا ہے۔
ایک آدمی محض اپنے چہرے کی سادگی اور بناوٹ سے معصوم اور کمزور نظر آ سکتا ہے، گویا کوئی مسکین شخصیت ہو۔ لیکن اس کے دوسرے چہرے کی حقیقت کبھی جھوٹ بولنے والے، منافق، دھوکہ دینے والے یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے والے کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ سماج کے لئے یہ بالکل ناقابلِ قبول ہے کہ کوئی شخص ایک ہی وقت میں دو انتہاؤں پر چلے، ایک چہرہ لوگوں کو دکھاکر ہمدردی سمیٹے اور دوسرا چہرہ چھپاکر انہی لوگوں سے خیانت کرے۔ ایسا شخص کبھی بھی اچھے انسان کہلانے کے قابل نہیں ہوسکتا۔
دو چہروں والا انسان کبھی دوستوں میں دوستی کا دم بھرتا ہے لیکن حقیقت میں دشمنوں کے ساتھ جا ملتا ہے، کبھی خاندان میں محبت کا اظہار کرکے بعد میں دھوکہ دیتا ہے، کبھی قوم کے سامنے ایمان داری کا نقاب پہنتا ہے لیکن قوم کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یہاں تک کہ ملکی سطح پر بھی ایسے دو روخی افراد اپنی زمین کو دھوکہ دے کر دشمن قوم کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ زبان میں انہیں "ڈبل کراس ایجنٹ” کہا جاتا ہے، جو بیک وقت اپنے ملک کے ساتھ بھی جاسوسی کرتا ہے اور دوسرے ملک کے لئے بھی۔ ڈبل کراس کا مطلب ہی یہی ہے کہ اعتماد توڑ کر دو طرفہ بازی کھیلنا اور سب کو دھوکہ دینا۔
سوال یہ ہے کہ اگر سماج میں ایسے لوگ ہوں جو ہر وقت دو رخوں کی سیاست کرتے رہیں، تو اس سماج کو نقصان کے کتنے در کھل سکتے ہیں؟ یقیناً گھر ہو یا خاندان، قبیلہ ہو یا پورا ملک، ایسے لوگوں کے رہنے سے سکونِ قلب ختم ہوجاتا ہے اور بداعتمادی، بے چینی اور وابستگی کا رشتہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ کیونکہ جہاں انسان کے قول و فعل میں منافقت اور تضاد پیدا ہو، وہاں اعتبار اور اخوت باقی نہیں رہ سکتی۔مذہب اور اخلاق دونوں ایسے رویے کو کبھی برداشت نہیں کرتے۔ دینِ اسلام تو انسان کو سیدھے راستے پر چلنے اور اپنے قول و فعل کو یکساں رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن و حدیث میں منافقت کو کھلم کھلا بُرا عمل قرار دیا گیا ہے۔
دو چہروں والا شخص دراصل شیطانی طاقتوں کے تسلط میں آچکا ہوتا ہے۔ وہ شیطان کا غلام اور اس کے وسوسوں کا اسیر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ سماج کو سب سے زیادہ نقصان پہنچاتے ہیں۔دو چہرے والا انسان دراصل "منافق” کہلاتا ہے، جو نہ اِدھر ہے اور نہ اُدھر۔ ایک لمحے میں وہ کسی کے ساتھ دوستی کا دم بھرتا ہے اور دوسرے لمحے اس کی دشمنی میں شریک ہوجاتا ہے۔ منافقت کی یہی صفت اصل خطرہ ہے۔ انسانی برادری کو اس خطرے سے آگاہ کیا گیا ہے تاکہ ہم ایسے لوگوں کے مکروہ چہروں کو پہچان سکیں اور خود بھی اس روش سے محفوظ رہیں۔
یہی اصل پیغام ہے کہ آدمی کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کا کردار ہے، اور کردار کا سب سے بڑا حسن یہ ہے کہ وہ ایک ہو، شفاف ہو اور تضاد سے پاک ہو۔ دو چہروں کا مالک کبھی صاف دل اور سچائی پر چلنے والا بن ہی نہیں سکتا۔ اس لئے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی اور سماج سے اس دو رخے رجحان کو نکال پھینکیں اور صداقت و دیانت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں