سعودی مفتی اعظم، قدامت پسند عالم دین الشیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ انتقال کرگئے

جنگ نیوز ڈیسک

ریاض/سعودی عرب کے سب سے بڑے مذہبی رہنما، مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ منگل کو انتقال کر گئے۔ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک مملکت کے اعلیٰ ترین مذہبی منصب پر فائز رہے۔ ان کی وفات سعودی عرب میں ایک دور کے اختتام کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
شیخ عبدالعزیز کو 1999 میں "ہیئت کبار العلماء” کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جو سرکاری ادارہ مذہبی فتاویٰ جاری کرتا تھا۔
شاہی دیوان نے ان کی وفات کی تصدیق کی تاہم عمر یا وجۂ موت نہیں بتائی۔ وہ غالباً 80 برس کے لگ بھگ تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ ریاض میں ولی عہد محمد بن سلمان نے ادا کی۔ نئے مفتی کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔
شیخ عبدالعزیز وہ شخصیت تھے جو مملکت کے اس دینی رجحان کا حصہ رہے جسے ناقدین "وہابیت” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں مفتی رہے جس میں زبردست تبدیلیاں آئیں، جن میں 11 ستمبر 2001 کے حملے بھی شامل ہیں جنہوں نے سعودی عرب کے اندر سخت احتسابی عمل کو جنم دیا۔
سعودی مصلح اور سابق مبلغ منصور النقیضان نے کہا: "ان کی موت بڑے وہابی علما کے آخری باب کا اختتام ہے۔ وہ 25 برس تک مفتیٔ اعظم رہے اور11/9 کے بعد آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔”
شیخ عبدالعزیز سخت قدامت پسند تشریحات کے قائل تھے۔ 2004 میں انہوں نے جدہ کے ایک معاشی فورم میں مردوں اور بے نقاب خواتین کے اختلاط پر شدید تنقید کی تھی۔ ان کے فتاویٰ میں شطرنج کو "شیطان کا عمل” اور ٹوئٹر کو "شر و فساد” کا ذریعہ قرار دینا بھی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے 2005 میں جبری شادیوں کے خلاف فتویٰ دیا اور 2018 میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کی تائید کی۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب میں بڑی سماجی تبدیلیاں آئیں: 2016 میں مذہبی پولیس کے اختیارات ختم، 2018 میں خواتین کے ڈرائیونگ پر پابندی ہٹائی گئی، اور 2019 میں مملکت کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھولا گیا۔ لیکن ساتھ ہی سیاسی آزادیوں کو بھی محدود کر دیا گیا اور کئی قدامت پسند علما کو گرفتار کیا گیا۔
1940 کی دہائی میں پیدا ہونے والے شیخ عبدالعزیز کم عمری میں نابینا ہو گئے تھے اور 14 برس کی عمر تک قرآن حفظ کر لیا تھا۔ انہوں نے تدریس، تحقیق اور خطابت میں خدمات انجام دیں اور مفتی کے طور پر ریڈیو پر ایک مقبول پروگرام بھی چلایا، جہاں براہِ راست لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے۔
ان کے شاگردوں اور ساتھیوں نے سوشل میڈیا پر ان کی علمی اور اخلاقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ پروفیسر محمد العزام نے لکھا: "وہ اپنی پوری زندگی ایمان، اخلاق، نیکی اور علم حاصل کرنے کی لگن میں ممتاز رہے۔”
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں سعودی مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ کی نمازِ جنازہ ادا کی، جن کے انتقال کا اعلان اسی روز شاہی دیوان نے کیا تھا۔
نمازِ جنازہ کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان اور مرحوم کے صاحبزادوں نے شہزادگان اور علمائے کرام سے تعزیت وصول کی۔
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے حکم دیا کہ غائبانہ نمازِ جنازہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، مدینہ منورہ کی مسجد نبوی اور مملکت کی تمام مساجد میں ادا کی جائے۔
شاہی دیوان کے مطابق ان کے انتقال سے مملکت اور عالمِ اسلام نے ایک ممتاز عالمِ دین کو کھو دیا ہے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کے اہل خانہ، سعودی عوام اور عالمِ اسلام سے تعزیت کا اظہار کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

سعودی مفتی اعظم، قدامت پسند عالم دین الشیخ عبدالعزیز بن عبد اللہ انتقال کرگئے

جنگ نیوز ڈیسک

ریاض/سعودی عرب کے سب سے بڑے مذہبی رہنما، مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ منگل کو انتقال کر گئے۔ وہ دو دہائیوں سے زائد عرصہ تک مملکت کے اعلیٰ ترین مذہبی منصب پر فائز رہے۔ ان کی وفات سعودی عرب میں ایک دور کے اختتام کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔
شیخ عبدالعزیز کو 1999 میں "ہیئت کبار العلماء” کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا، جو سرکاری ادارہ مذہبی فتاویٰ جاری کرتا تھا۔
شاہی دیوان نے ان کی وفات کی تصدیق کی تاہم عمر یا وجۂ موت نہیں بتائی۔ وہ غالباً 80 برس کے لگ بھگ تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ ریاض میں ولی عہد محمد بن سلمان نے ادا کی۔ نئے مفتی کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا ہے۔
شیخ عبدالعزیز وہ شخصیت تھے جو مملکت کے اس دینی رجحان کا حصہ رہے جسے ناقدین "وہابیت” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے دور میں مفتی رہے جس میں زبردست تبدیلیاں آئیں، جن میں 11 ستمبر 2001 کے حملے بھی شامل ہیں جنہوں نے سعودی عرب کے اندر سخت احتسابی عمل کو جنم دیا۔
سعودی مصلح اور سابق مبلغ منصور النقیضان نے کہا: "ان کی موت بڑے وہابی علما کے آخری باب کا اختتام ہے۔ وہ 25 برس تک مفتیٔ اعظم رہے اور11/9 کے بعد آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔”
شیخ عبدالعزیز سخت قدامت پسند تشریحات کے قائل تھے۔ 2004 میں انہوں نے جدہ کے ایک معاشی فورم میں مردوں اور بے نقاب خواتین کے اختلاط پر شدید تنقید کی تھی۔ ان کے فتاویٰ میں شطرنج کو "شیطان کا عمل” اور ٹوئٹر کو "شر و فساد” کا ذریعہ قرار دینا بھی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے 2005 میں جبری شادیوں کے خلاف فتویٰ دیا اور 2018 میں خواتین کو گاڑی چلانے کی اجازت کی تائید کی۔
شہزادہ محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کے بعد سعودی عرب میں بڑی سماجی تبدیلیاں آئیں: 2016 میں مذہبی پولیس کے اختیارات ختم، 2018 میں خواتین کے ڈرائیونگ پر پابندی ہٹائی گئی، اور 2019 میں مملکت کو غیر ملکی سیاحوں کے لیے کھولا گیا۔ لیکن ساتھ ہی سیاسی آزادیوں کو بھی محدود کر دیا گیا اور کئی قدامت پسند علما کو گرفتار کیا گیا۔
1940 کی دہائی میں پیدا ہونے والے شیخ عبدالعزیز کم عمری میں نابینا ہو گئے تھے اور 14 برس کی عمر تک قرآن حفظ کر لیا تھا۔ انہوں نے تدریس، تحقیق اور خطابت میں خدمات انجام دیں اور مفتی کے طور پر ریڈیو پر ایک مقبول پروگرام بھی چلایا، جہاں براہِ راست لوگوں کے سوالات کے جوابات دیتے تھے۔
ان کے شاگردوں اور ساتھیوں نے سوشل میڈیا پر ان کی علمی اور اخلاقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ پروفیسر محمد العزام نے لکھا: "وہ اپنی پوری زندگی ایمان، اخلاق، نیکی اور علم حاصل کرنے کی لگن میں ممتاز رہے۔”
سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں سعودی مفتیٔ اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ بن محمد آل الشیخ کی نمازِ جنازہ ادا کی، جن کے انتقال کا اعلان اسی روز شاہی دیوان نے کیا تھا۔
نمازِ جنازہ کے بعد ولی عہد محمد بن سلمان اور مرحوم کے صاحبزادوں نے شہزادگان اور علمائے کرام سے تعزیت وصول کی۔
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے حکم دیا کہ غائبانہ نمازِ جنازہ مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام، مدینہ منورہ کی مسجد نبوی اور مملکت کی تمام مساجد میں ادا کی جائے۔
شاہی دیوان کے مطابق ان کے انتقال سے مملکت اور عالمِ اسلام نے ایک ممتاز عالمِ دین کو کھو دیا ہے جنہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان نے ان کے اہل خانہ، سعودی عوام اور عالمِ اسلام سے تعزیت کا اظہار کیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں