اپنی علمی روایت سے جڑنے کا طریقہ

توصیف احمد وانی
ڈائریکٹر سید حسن منطقی اکیڈمی اونتی پورہ کشمیر

آج مبادیاتِ مغربیت کے درس میں ایک سوال آیا کہ ہم اپنی علمی روایت سے کیسے جڑ سکتے ہیں؟ یہ سوال ہمارے تہذیبی وجود کا سوال ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مغربی علمی روایت ہم میں سرایت کی ہوئی ہے، ان کے اصطلاحات اور فکری سانچے ہماری زبان، نصاب اور سوچ پر اس حد تک غالب ہو گئے ہیں کہ وہ ہماری روزمرہ گفتگو کا فطری حصہ بن چکے ہیں۔ فلسفہ پڑھیں تو ontology، epistemology اور ethics جیسے الفاظ فوراً ذہن کو کھل جاتے ہیں۔ سیاسیات میں sovereignty، liberalism اور nation-state ہمیں فطری لگتے ہیں۔ سماجیات میں individualism، social contract یا modernity کا حوالہ دینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب اسلامی علمی روایت کی بات آتی ہے تو ہماری آنکھوں میں شناسائی دکھائی ہی نہیں دیتی، اسلامی علمی روایت کی تاریخ اس کا ذوق اس کا فریم ورک سب ہمارے لیے بیگانے ہیں، اسلامی علمی روایات کی بنیادی اصطلاحات جیسے جمہور، مجتہد، نص، قطعی الدلالہ ، قطعی الثبوت وغیرہ ہمارے تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔
یہ فرق محض الفاظ کا نہیں بلکہ فکری رشتے کا ہے۔ اصطلاحات وہ سانچہ ہے جو تصورات و افکار کو علم میں ڈھالتی۔ جب یہ اصطلاحات ہماری گفتگو اور ذہنی سانچوں سے نکل جائیں، تو علم کی عمارت اپنی بنیاد سے کٹ جاتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں نصوص کی فہم کو بہتر طور پر سمجھنے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے جب علون و فنون کی تدوین ہونے لگی تو تین بنیادی علمی شاخیں وجود میں آئیں علم الکلام (ایمان اور عقائد کی فکری توضیح)، علم الفقہ (اسلام کے عملی نظام کی تشکیل)، اور علم الاحسان ، تزکیہ یا تصوف (روحانی و اخلاقی تربیت)۔ یہ تقسیم حدیثِ جبریل پر مبنی ہے، جس نے اسلام، ایمان اور احسان کو دین کے تین لازمی اجزاء قرار دیا۔ ان ہی ستونوں سے اصول تفسیر، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، اصول تصوف، سیرت ، تاریخ ، علم اسماء الرجال ، علل الحدیث اور منطق جیسے علوم پھوٹے۔ اب جب یہ علوم و فنون اور ان کے اصطلاحات ہماری علمی زندگی سے غائب ہو گئی ہیں اور اس کی جگہ مغربی علوم اور مغربی اصطلاحات نے لے لی ہے تو ہم اپنے صدیوں کے فکری ورثے سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمیں اپنی کتابیں "غیرضروری” اور "پیچیدہ” معلوم ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان مغربی علمی روایت میں آسانی سے داخل ہو جاتا ہے مگر اپنی روایت سے دور رہتا ہے۔ ایک طالب علم مغربی فلسفہ کی اصطلاحات سیکھ کر کانٹ یا ہیگل پر گفتگو کر لیتا ہے، مگر امام محمد ، امام رازی وغیرہ کے استدلالات کو اصطلاحاتی سطح پر بھی نہیں سمجھ پاتا۔ سماجی علوم کا محقق ڈرک ہائم یا فوکو کے نظریات کا حوالہ دے سکتا ہے، مگر اسلامی معاشرت کے اصول بیان کرنے کے لیے اس کے پاس امام غزالی و امام سرخسی کی کتابوں کا پتا تک نہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ مغرب کے فکری سانچوں سے بات کرتا ہے اور اسلام کی تشریح کرنے میں بھی انہی سانچوں کا سہارا لیتا ہے۔
روز مرہ کی کئی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ مثلاً، ایک تعلیم یافتہ نوجوان جدید معاشرتی انصاف (social justice) پر گھنٹوں بحث کر سکتا ہے، لیکن جب حقوق العباد کے فقہی اصولوں کا ذکر آتا ہے تو وہ انہیں ایک پرانا قانونی نظام سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ یا پھر کوئی طالب علم مغرب کے human rights discourse پر عبور رکھتا ہے، مگر اسلامی علم الکلام میں موجود عبدیت اور خیر و شر کے اصولوں کو بنیاد بنا کر گفتگو نہیں کر پاتا۔ اسی طرح عادت و اطوار اور اخلاقیات پر تنقید کے لیے مغربی نفسیات یا فلسفے کے حوالے دیتا ہے، مگر احسان، تزکیہ اور تصوف کے اسلامی ڈھانچے سے وہ رشتہ نہیں جوڑ پاتا جس نے صدیوں تک روحانیت کو متوازن رکھا۔
اس خلا کو پر کرنے کے لیے چند عملی اقدامات ضروری ہیں۔
اوّل یہ کہ اسلامی علوم فنون کی بنیادی اصطلاحات (خاص کر علم کلام ، اصول فقہ، اصول حدیث اور تصوف کی بنیادی اصطلاحات)سے مانوس ہونا۔ جب ہم عبدیت، خیر و شر، احسان، اجتہاد یا کسب جیسے الفاظ کو سمجھ کر اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں گے، تو یہ اصطلاحات ہمارے فکری سانچوں کو بدل دیں گی اور اسلامی علمی روایت ہمارے لیے جیتی جاگتی ہو جائے گی۔
دوسرے اپنی علمی نشستوں، نصاب اور فکری مباحث میں اسلامی روایت ریفرینس پوائنٹ ہو اور معیار تنقید ہو ۔ مغربی افکار کا تجزیہ و تنقید انہیں اسلامی اصولوں کے تناظر میں ہونی چاہیے تاکہ ہم مغرب کے سانچوں کے بجائے اپنی علمی روایت کے زاویے سے بات کر سکیں۔
اور ہم ایسی بنیادی کتابوں سے آشنائی پیدا کریں جو ہماری علمی اصطلاحات اور تاریخ کو مرتب انداز میں پیش کرتی ہیں۔ مثلاً، کشاف فی اصطلاحات الفنون ، کشف الظنون، تاریخ تراث عربی وغیرہ جیسی کتب نہ صرف مختلف علوم کی اصطلاحات کی وضاحت کرتی ہیں بلکہ ان کے تاریخی اور فکری پس منظر کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ ان کتابوں کے مطالعے سے ہمیں اپنی علمی روایت کی فکری زبان اور اس کے معانی کا شعور حاصل ہوتا ہے، جو ہمیں اس روایت سے حقیقی طور پر جوڑتا ہے۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

اپنی علمی روایت سے جڑنے کا طریقہ

توصیف احمد وانی
ڈائریکٹر سید حسن منطقی اکیڈمی اونتی پورہ کشمیر

آج مبادیاتِ مغربیت کے درس میں ایک سوال آیا کہ ہم اپنی علمی روایت سے کیسے جڑ سکتے ہیں؟ یہ سوال ہمارے تہذیبی وجود کا سوال ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں مغربی علمی روایت ہم میں سرایت کی ہوئی ہے، ان کے اصطلاحات اور فکری سانچے ہماری زبان، نصاب اور سوچ پر اس حد تک غالب ہو گئے ہیں کہ وہ ہماری روزمرہ گفتگو کا فطری حصہ بن چکے ہیں۔ فلسفہ پڑھیں تو ontology، epistemology اور ethics جیسے الفاظ فوراً ذہن کو کھل جاتے ہیں۔ سیاسیات میں sovereignty، liberalism اور nation-state ہمیں فطری لگتے ہیں۔ سماجیات میں individualism، social contract یا modernity کا حوالہ دینا آسان محسوس ہوتا ہے۔ لیکن جب اسلامی علمی روایت کی بات آتی ہے تو ہماری آنکھوں میں شناسائی دکھائی ہی نہیں دیتی، اسلامی علمی روایت کی تاریخ اس کا ذوق اس کا فریم ورک سب ہمارے لیے بیگانے ہیں، اسلامی علمی روایات کی بنیادی اصطلاحات جیسے جمہور، مجتہد، نص، قطعی الدلالہ ، قطعی الثبوت وغیرہ ہمارے تعلیم یافتہ افراد کے لیے بھی بوجھ محسوس ہوتے ہیں۔
یہ فرق محض الفاظ کا نہیں بلکہ فکری رشتے کا ہے۔ اصطلاحات وہ سانچہ ہے جو تصورات و افکار کو علم میں ڈھالتی۔ جب یہ اصطلاحات ہماری گفتگو اور ذہنی سانچوں سے نکل جائیں، تو علم کی عمارت اپنی بنیاد سے کٹ جاتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں نصوص کی فہم کو بہتر طور پر سمجھنے اور اسے محفوظ رکھنے کے لیے جب علون و فنون کی تدوین ہونے لگی تو تین بنیادی علمی شاخیں وجود میں آئیں علم الکلام (ایمان اور عقائد کی فکری توضیح)، علم الفقہ (اسلام کے عملی نظام کی تشکیل)، اور علم الاحسان ، تزکیہ یا تصوف (روحانی و اخلاقی تربیت)۔ یہ تقسیم حدیثِ جبریل پر مبنی ہے، جس نے اسلام، ایمان اور احسان کو دین کے تین لازمی اجزاء قرار دیا۔ ان ہی ستونوں سے اصول تفسیر، اصولِ فقہ، اصولِ حدیث، اصول تصوف، سیرت ، تاریخ ، علم اسماء الرجال ، علل الحدیث اور منطق جیسے علوم پھوٹے۔ اب جب یہ علوم و فنون اور ان کے اصطلاحات ہماری علمی زندگی سے غائب ہو گئی ہیں اور اس کی جگہ مغربی علوم اور مغربی اصطلاحات نے لے لی ہے تو ہم اپنے صدیوں کے فکری ورثے سے محروم ہو چکے ہیں اور ہمیں اپنی کتابیں "غیرضروری” اور "پیچیدہ” معلوم ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کا مسلمان مغربی علمی روایت میں آسانی سے داخل ہو جاتا ہے مگر اپنی روایت سے دور رہتا ہے۔ ایک طالب علم مغربی فلسفہ کی اصطلاحات سیکھ کر کانٹ یا ہیگل پر گفتگو کر لیتا ہے، مگر امام محمد ، امام رازی وغیرہ کے استدلالات کو اصطلاحاتی سطح پر بھی نہیں سمجھ پاتا۔ سماجی علوم کا محقق ڈرک ہائم یا فوکو کے نظریات کا حوالہ دے سکتا ہے، مگر اسلامی معاشرت کے اصول بیان کرنے کے لیے اس کے پاس امام غزالی و امام سرخسی کی کتابوں کا پتا تک نہیں ۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ مغرب کے فکری سانچوں سے بات کرتا ہے اور اسلام کی تشریح کرنے میں بھی انہی سانچوں کا سہارا لیتا ہے۔
روز مرہ کی کئی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔ مثلاً، ایک تعلیم یافتہ نوجوان جدید معاشرتی انصاف (social justice) پر گھنٹوں بحث کر سکتا ہے، لیکن جب حقوق العباد کے فقہی اصولوں کا ذکر آتا ہے تو وہ انہیں ایک پرانا قانونی نظام سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ یا پھر کوئی طالب علم مغرب کے human rights discourse پر عبور رکھتا ہے، مگر اسلامی علم الکلام میں موجود عبدیت اور خیر و شر کے اصولوں کو بنیاد بنا کر گفتگو نہیں کر پاتا۔ اسی طرح عادت و اطوار اور اخلاقیات پر تنقید کے لیے مغربی نفسیات یا فلسفے کے حوالے دیتا ہے، مگر احسان، تزکیہ اور تصوف کے اسلامی ڈھانچے سے وہ رشتہ نہیں جوڑ پاتا جس نے صدیوں تک روحانیت کو متوازن رکھا۔
اس خلا کو پر کرنے کے لیے چند عملی اقدامات ضروری ہیں۔
اوّل یہ کہ اسلامی علوم فنون کی بنیادی اصطلاحات (خاص کر علم کلام ، اصول فقہ، اصول حدیث اور تصوف کی بنیادی اصطلاحات)سے مانوس ہونا۔ جب ہم عبدیت، خیر و شر، احسان، اجتہاد یا کسب جیسے الفاظ کو سمجھ کر اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں گے، تو یہ اصطلاحات ہمارے فکری سانچوں کو بدل دیں گی اور اسلامی علمی روایت ہمارے لیے جیتی جاگتی ہو جائے گی۔
دوسرے اپنی علمی نشستوں، نصاب اور فکری مباحث میں اسلامی روایت ریفرینس پوائنٹ ہو اور معیار تنقید ہو ۔ مغربی افکار کا تجزیہ و تنقید انہیں اسلامی اصولوں کے تناظر میں ہونی چاہیے تاکہ ہم مغرب کے سانچوں کے بجائے اپنی علمی روایت کے زاویے سے بات کر سکیں۔
اور ہم ایسی بنیادی کتابوں سے آشنائی پیدا کریں جو ہماری علمی اصطلاحات اور تاریخ کو مرتب انداز میں پیش کرتی ہیں۔ مثلاً، کشاف فی اصطلاحات الفنون ، کشف الظنون، تاریخ تراث عربی وغیرہ جیسی کتب نہ صرف مختلف علوم کی اصطلاحات کی وضاحت کرتی ہیں بلکہ ان کے تاریخی اور فکری پس منظر کو بھی محفوظ رکھتی ہیں۔ ان کتابوں کے مطالعے سے ہمیں اپنی علمی روایت کی فکری زبان اور اس کے معانی کا شعور حاصل ہوتا ہے، جو ہمیں اس روایت سے حقیقی طور پر جوڑتا ہے۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں