علیحدگی پسند رہنما، ماہر تعلیم اور کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین پروفیسر عبدالغنی بٹ بدھ کی شام شمالی کشمیر کے سوپور میں اپنے گھر پر انتقال کر گئے۔ اُن کی عمر 89 برس تھی۔
1935 میں سوپور میں پیدا ہونے والے بٹ نے سری نگر کے سری پرتاپ کالج سے فارسی، معاشیات اور سیاسیات کی تعلیم حاصل کی اور بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارسی اور قانون میں پوسٹ گریجویشن کیا۔
اپنی خطابت، بذلہ سنجی اور فلسفیانہ گہرائی کی بدولت وہ کشمیری سیاست کی ایک نہایت معتبر آواز رہے۔ اُن کی تقاریر میں سیاسی تجزیے کے ساتھ تاریخی، تہذیبی اور فلسفیانہ حوالہ جات شامل ہوتے تھے، جو انہیں دوسرے رہنماؤں سے منفرد بناتے تھے۔ وہ اپنی صاف گوئی کے لیے بھی جانے جاتے تھے اور اکثر ایسے حساس موضوعات پر بھی لب کشائی کرتے جو دوسرے نظر انداز کر دیتے تھے۔
سیاست میں آنے سے پہلے انہوں نے 22 برس تک فارسی پڑھایا۔ 1986 میں انہوں نے مسلم متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی اور بعد میں 1993 میں حریت کانفرنس کے چیئرمین بنے، جو مختلف علیحدگی پسند جماعتوں کا اتحاد تھا۔ بابری مسجد اور جموں کے واقعات کے پس منظر میں انہیں جگموہن کی قیادت والی ریاستی حکومت نے برطرف کیا۔
وہ طویل عرصے تک میر واعظ عمر فاروق کی قیادت والے حریت دھڑے سے وابستہ رہے اور اُن چند رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے ابتدائی 2000 کی دہائی میں براہِ راست بھارتی حکومت سے مذاکرات کیے۔ جنوری 2004 میں وہ میر واعظ اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ دہلی میں اُس وقت کے نائب وزیر اعظم ایل کے ایڈوانی سے ملے اور بعد میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی سے بھی ملاقات کی۔ وہ اُن حریت وفود کا حصہ بھی رہے جو 2005 اور 2006 میں وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملے۔
کشمیری سیاست کے وسیع تناظر میں پروفیسر عبدالغنی بٹ صرف ایک سیاست دان ہی نہیں بلکہ استاد، فلسفی اور مقرر کے طور پر بھی یاد رکھے جائیں گے، جنہوں نے فکر و عمل کو یکجا کر کے ایک منفرد شناخت قائم کی۔
اُن کے انتقال کے بعد سیاسی حلقوں سے تعزیت کے پیغامات کا سلسلہ شروع ہوا۔ میر واعظ عمر فاروق نے اُن کی موت کو ’’ایک بڑا ذاتی نقصان‘‘ قرار دیا۔
سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ’ایکس‘ پر لکھا: ’’ہماری سیاسی نظریات میں زمین آسمان کا فرق تھا لیکن میں ہمیشہ انہیں ایک مہذب شخص کے طور پر یاد رکھوں گا… اُن میں یہ جرات تھی کہ جب لوگ تشدد کو واحد راستہ سمجھتے تھے تو وہ مکالمے کی وکالت کرتے تھے۔‘‘


