
محمد یاسین بٹ
سابق سرپنچ
مانسبل جھیل، جو وادی کشمیر کی سب سے گہری جھیل ہے، اس وقت سنگین ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات بے قابو آلودگی، تجاوزات اور انتظامی غفلت ہیں۔ صفاپورہ، ضلع گاندربل کے قصبے میں واقع یہ جھیل سرینگر سے تقریباً 32 کلومیٹر کی دوری پر ہے اور طویل عرصے سے کشمیر کی قدرتی خوبصورتی کا ایک نگینہ رہی ہے۔ جھیل کے اطراف جروکبل، کونڈبل اور گاندربل کے گاؤں آباد ہیں۔ یہ جھیل اپنے نیناپھول (کمل) اور ملکہ نورجہاں کے تعمیر کردہ مغل دور کے جروکا باغ کے لیے مشہور ہے۔
مگر موجودہ حالات اس کے برعکس ہیں۔ بغیر صاف کیے گئے گندے پانی کا اخراج، گھریلو کوڑا کرکٹ، کھاد کا بہاؤ، کان کنی کی سرگرمیاں، غیر قانونی تجاوزات اور بے دریغ کچرے کی ڈمپنگ نے جھیل کو خطرناک حد تک آلودہ کر دیا ہے۔ خاص طور پر کونڈبل کے علاقے میں صورتِ حال بدترین ہے جہاں چونا پتھر کے بھٹّے اور کانیں براہِ راست آلودہ مادہ جھیل میں چھوڑتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک یہ بھٹّے جھیل کے کنارے سے منتقل نہیں کیے جاتے، آلودگی پر مؤثر قابو ممکن نہیں۔
تشویش کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس وقت جھیل کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر تعینات نہیں ہے، حالانکہ یہ وزیرِ اعلیٰ کے حلقے میں واقع ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افسر کی عدم موجودگی اور باقاعدہ دیکھ ریکھ نہ ہونے کی وجہ سے آلودگی پھیلانے والے عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے جس سے جھیل کا ماحولیاتی نظام تیزی سے تباہ ہو رہا ہے۔ گزرتے برسوں میں یہ جھیل "ایوٹرافک” (غیر متوازن طور پر گھاس اور جڑی بوٹیوں سے بھری) ہو گئی ہے، خاص طور پر گرمیوں کے سیاحتی موسم میں اس کی حالت زیادہ خراب نظر آتی ہے۔ نائٹروجن اور فاسفورس کی زیادتی، جو انسانی بستیوں، ڈٹرجنٹ اور زرعی سرگرمیوں سے جھیل میں شامل ہوتی ہے، صورتِ حال کو مزید بگاڑ رہی ہے۔ اس سے نہ صرف پانی کے معیار پر بُرا اثر پڑا ہے بلکہ آبی حیات بھی خطرے میں ہے۔ ندرُو (کمل کا ڈنٹھل) اب ناپید ہونے کے قریب ہے، ایک مچھلی کی قسم مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور گہرے پانی کی تہہ میں آکسیجن ناپید ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کو غیر ذمہ دار انسانی رویّے نے مزید بڑھایا ہے، جن میں کچرا پھینکنا اور مقامی لوگوں میں جھیل کو بچانے کی اجتماعی ذمہ داری کا فقدان شامل ہے۔ ایک ماہرِ ماحولیات کے مطابق مانسبل کی حالت تشویشناک ہے، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ہم اس جھیل کو ہمیشہ کے لیے کھو دیں گے۔ عوام اور ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری اقدامات کیے جائیں جن میں جھیل کے لیے چیف ایگزیکٹو آفیسر کی تقرری، سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام، زرعی رساؤ پر قابو، کونڈبل کے چونا پتھر کے بھٹّوں کی منتقلی اور باقاعدہ نگرانی شامل ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ حکومت اور عوام دونوں کو ذمہ داری کے ساتھ جھیل کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے آگے آنا ہوگا۔ اگر بروقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو مانسبل نہ صرف اپنی ماحولیاتی اور سیاحتی اہمیت کھو بیٹھے گی بلکہ اس کی تاریخی اور ثقافتی پہچان بھی ختم ہو جائے گی۔ کبھی "شہری وادی جھیل” اور مغل شان و شوکت کی علامت کہلانے والی یہ جھیل اب ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر ہے۔
٭٭٭٭


