فلسطین قضیہ میں عالم اسلام کی بے رُخی

جاوید جمال الدین

فلسطین کا قضیہ گزشتہ ڈھائی برس سے سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ مگر اس پورے تنازع میں عالمِ اسلام کی بے رُخی صاف نظر آتی ہے اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کی پراسرار خاموشی حالات کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ تاہم ایسے کڑے وقت میں بھی یورپ کے مثبت اقدامات اُمید کی کرن دکھا رہے ہیں۔ انہی اقدامات کے باعث قطر اور سعودی عرب نے بھی غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔ آگے چل کر یورپ کے کئی اہم فیصلوں کا ذکر کیا جائے گا۔
اس دوران ایک خوش آئند خبر یہ بھی ملی کہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کے جامع معاہدے پر اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ترک نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس نے کہا کہ انہوں نے 18 اگست کو ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر غزہ کا انتظام چلانے کے لیے آزاد قومی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے اور اب وہ اسرائیل کے جواب کی منتظر ہیں۔ حماس نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے جامع معاہدے کے لیے تیار ہیں، جس کے تحت تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔
اس منصوبے میں غزہ میں جاری نسل کشی کو ختم کرنا، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، امداد کی فراہمی کے لیے سرحدی راستے کھولنا اور تعمیرِ نو کا آغاز بھی شامل ہے۔ دراصل ٹیکنوکریٹ حکومت کی تجویز اس سوال کا جواب بھی ہے جو اسرائیلی حکام اکثر دہراتے رہے ہیں کہ ’’غزہ میں حکمرانی کون کرے گا؟‘‘ اور جسے وہ اپنی قتل و غارت کے جواز کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو—جن کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے—جزوی معاہدے کے بجائے ایک جامع معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ میں موجود تمام اسرائیلی فوجیوں کو واپس بلایا جانا چاہیے۔
گزشتہ دسمبر قاہرہ مذاکرات میں حماس اور فتح اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ غزہ کے معاملات چلانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے، تاہم فلسطینی اتھارٹی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ حکمرانی کی ذمہ داری اسی کے پاس ہونی چاہیے۔
غزہ میں جاری قتل عام نے پورے خطے کو کھنڈرات میں بدل دیا ہے۔ تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، بیشتر آبادی بے گھر ہو گئی ہے اور علاقہ قحط کے دہانے پر ہے۔
دوسری طرف اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں سے باز نہیں آ رہا۔ امریکی پشت پناہی بھی اسے حاصل ہے۔ تازہ حملوں میں مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے نصیرات پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس میں سات فلسطینی شہید ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔ اسی طرح امداد کے منتظر افراد پر بھی فائرنگ کی گئی۔ صرف تین دنوں میں 250 سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
غزہ شہر کے 40 فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل نے وحشیانہ بمباری مزید بڑھا دی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملوں میں 53 افراد شہید ہوئے۔
امریکہ نہ صرف اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی تین فلسطینی تنظیموں پر پابندیاں بھی عائد کر چکا ہے، حالانکہ انہی تنظیموں نے بین الاقوامی عدالت سے اسرائیلی مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت نے بعد میں نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔
اس دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کو ’’دنیا کا ظالم ترین شخص‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ فلسطین کے ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ انہوں نے مسلم دنیا کو اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا اور کہا کہ ظلم و ناانصافی کے باوجود مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک تقریباً 21 ہزار فلسطینی بچے مستقل طور پر معذور ہو چکے ہیں اور 40 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ یہ صرف بمباری کا نتیجہ نہیں بلکہ بھوک، قحط اور دواؤں کی کمی نے بھی صورتحال کو بدترین بنا دیا ہے۔
دریں اثنا یورپ میں فلسطین کے حق میں کئی مثبت پیش رفتیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کئی یورپی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فن لینڈ نے دو ریاستی حل کے حوالے سے سعودی-فرانسیسی مشاورت میں شمولیت اختیار کی ہے اور فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا ہے۔
اسی طرح بیلجیم نے فلسطینی ریاست کی مشروط شناخت، آبادکاروں پر دباؤ، اور اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر پابندیاں سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطین کی تعمیرِ نو اور جمہوری اداروں کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ سب اقدامات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اگرچہ عالمِ اسلام خاموش ہے، مگر دنیا کے دیگر خطوں سے فلسطین کے حق میں اُٹھنے والی آوازیں ایک نئی اُمید کی کرن ثابت ہو سکتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

فلسطین قضیہ میں عالم اسلام کی بے رُخی

جاوید جمال الدین

فلسطین کا قضیہ گزشتہ ڈھائی برس سے سنگین نوعیت اختیار کر چکا ہے۔ مگر اس پورے تنازع میں عالمِ اسلام کی بے رُخی صاف نظر آتی ہے اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کی پراسرار خاموشی حالات کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔ تاہم ایسے کڑے وقت میں بھی یورپ کے مثبت اقدامات اُمید کی کرن دکھا رہے ہیں۔ انہی اقدامات کے باعث قطر اور سعودی عرب نے بھی غزہ سے فلسطینیوں کے جبری انخلا کے خلاف سخت موقف اپنایا ہے۔ آگے چل کر یورپ کے کئی اہم فیصلوں کا ذکر کیا جائے گا۔
اس دوران ایک خوش آئند خبر یہ بھی ملی کہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ کے جامع معاہدے پر اپنی آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ترک نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق حماس نے کہا کہ انہوں نے 18 اگست کو ثالثوں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر غزہ کا انتظام چلانے کے لیے آزاد قومی ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے اور اب وہ اسرائیل کے جواب کی منتظر ہیں۔ حماس نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے جامع معاہدے کے لیے تیار ہیں، جس کے تحت تمام اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بدلے اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔
اس منصوبے میں غزہ میں جاری نسل کشی کو ختم کرنا، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا، امداد کی فراہمی کے لیے سرحدی راستے کھولنا اور تعمیرِ نو کا آغاز بھی شامل ہے۔ دراصل ٹیکنوکریٹ حکومت کی تجویز اس سوال کا جواب بھی ہے جو اسرائیلی حکام اکثر دہراتے رہے ہیں کہ ’’غزہ میں حکمرانی کون کرے گا؟‘‘ اور جسے وہ اپنی قتل و غارت کے جواز کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو—جن کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے—جزوی معاہدے کے بجائے ایک جامع معاہدے پر زور دے رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ غزہ میں موجود تمام اسرائیلی فوجیوں کو واپس بلایا جانا چاہیے۔
گزشتہ دسمبر قاہرہ مذاکرات میں حماس اور فتح اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ غزہ کے معاملات چلانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی جائے، تاہم فلسطینی اتھارٹی نے اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اصرار کیا کہ حکمرانی کی ذمہ داری اسی کے پاس ہونی چاہیے۔
غزہ میں جاری قتل عام نے پورے خطے کو کھنڈرات میں بدل دیا ہے۔ تقریباً دو سال سے جاری اسرائیلی جارحیت میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، بیشتر آبادی بے گھر ہو گئی ہے اور علاقہ قحط کے دہانے پر ہے۔
دوسری طرف اسرائیل اپنی فوجی کارروائیوں سے باز نہیں آ رہا۔ امریکی پشت پناہی بھی اسے حاصل ہے۔ تازہ حملوں میں مزید 70 سے زائد فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیل نے نصیرات پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی جس میں سات فلسطینی شہید ہوئے، جن میں تین بچے بھی شامل تھے۔ اسی طرح امداد کے منتظر افراد پر بھی فائرنگ کی گئی۔ صرف تین دنوں میں 250 سے زائد فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گئے۔
غزہ شہر کے 40 فیصد حصے پر قبضے کا دعویٰ کرتے ہوئے اسرائیل نے وحشیانہ بمباری مزید بڑھا دی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق جمعرات کو ہونے والے حملوں میں 53 افراد شہید ہوئے۔
امریکہ نہ صرف اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی تین فلسطینی تنظیموں پر پابندیاں بھی عائد کر چکا ہے، حالانکہ انہی تنظیموں نے بین الاقوامی عدالت سے اسرائیلی مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت نے بعد میں نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔
اس دوران ترکیہ کے صدر رجب طیب اردغان نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم کو ’’دنیا کا ظالم ترین شخص‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ فلسطین کے ظلم پر خاموش نہیں بیٹھے گا۔ انہوں نے مسلم دنیا کو اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا اور کہا کہ ظلم و ناانصافی کے باوجود مایوس نہیں ہونا چاہیے۔
اقوام متحدہ کی ایک کمیٹی کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک تقریباً 21 ہزار فلسطینی بچے مستقل طور پر معذور ہو چکے ہیں اور 40 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ یہ صرف بمباری کا نتیجہ نہیں بلکہ بھوک، قحط اور دواؤں کی کمی نے بھی صورتحال کو بدترین بنا دیا ہے۔
دریں اثنا یورپ میں فلسطین کے حق میں کئی مثبت پیش رفتیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ کئی یورپی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فن لینڈ نے دو ریاستی حل کے حوالے سے سعودی-فرانسیسی مشاورت میں شمولیت اختیار کی ہے اور فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کیا ہے۔
اسی طرح بیلجیم نے فلسطینی ریاست کی مشروط شناخت، آبادکاروں پر دباؤ، اور اسرائیل کو اسلحے کی فروخت پر پابندیاں سخت کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ فلسطین کی تعمیرِ نو اور جمہوری اداروں کی حمایت میں اپنا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یہ سب اقدامات اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اگرچہ عالمِ اسلام خاموش ہے، مگر دنیا کے دیگر خطوں سے فلسطین کے حق میں اُٹھنے والی آوازیں ایک نئی اُمید کی کرن ثابت ہو سکتی ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں