حضرت بل کی تاریخ، عقیدت اور حالیہ تنازعہ

رشید پروین
سوپور، کشمیر

امیر صادق خان کے اس باغ کی تقدیر میں آنے والے ہزاروں برسوں تک لاکھوں اور کروڑوں فرزندانِ توحید کی سجدہ گاہ ہونا قرار پا چکا تھا، اور ایسا ہی ہوا۔ یہی باغِ صادق آباد آپ کا اور ہمارا حضرت بل ہے۔
لفظ "حضرت بل”، فارسی لفظ "حضرت” اور کشمیری لفظ "بل” کا امتزاج ہے، جس کا مطلب "احترام یا بلند مقام والی جگہ” بنتا ہے۔ جس کے لیے ہماری محبتیں اور عقیدتیں بھی اسی طرح کی ہیں جس طرح ’’یثرب‘‘ تمام دنیا کے فرزندانِ توحید کے لیے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہے۔ اور اس والہانہ عقیدت، احترام، محبت، عشق، اضطراب اور تڑپ کا اظہار کر پانا صرف جامعیؔ ہی کا خاصا تھا، جب بے اختیار عشق و مستی میں ڈوب کر اپنی آہ و فغاں کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا ہے:
’’یارسول ﷺ ابطحی باب السلام، روضۂ ات، کعبہء من، قبلہء من، دین من، ایمانِ من‘‘۔
درگاہ حضرت بل کے متعلق پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہر کشمیری مسلمان، زن و مرد، بچے بوڑھے، حضرت بل درگاہ میں موجود ’’موئے مقدس‘‘ رسولِ پاک ﷺ سے اسی طرح کے جذبات، احساسات اور کیفیات کے حامل ہیں، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے الفاظ اور ہماری زباں اس عقیدت کے اظہار میں ناکام ہی رہتی ہے۔
3 ستمبر 2025سے اسی درگاہ عالیہ سے متعلق کشمیر میں پھر ایک بار تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے اور تشویش کا ماخذ وہ ایمبل بنا جو درخشاں اندرابی جی نے کہیں یہاں نصب کیا تھا، جس پر ہندوستان کا قومی نشان بھی ہے۔ درخشاں اندرابی اوقاف کی سربراہی کر رہی ہیں اور ان کی زیرِ قیادت شاید درگاہ عالیہ کی تزئین اور آرائش کا کچھ کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان صاحبہ نے اپنی عقل کے مطابق اس تختی کو کہیں نصب کیا۔
پچھلے جمعہ کو جہاں لاکھوں زائرین حضرت بل میں دیدار سے حسبِ معمول مشرف ہوئے، وہیں ایک عوامی جمِ غفیر نے اس بورڈ کے نصب ہونے پر نہ صرف ناراضگی کا اظہار کیا بلکہ ہجوم نے مشتعل ہو کر اس تختی کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مندروں، مسجدوں، آستانوں اور گردواروں یا مختصر طور پر مختلف عبادت گاہوں پر ایسی تختیاں لگائی جانی چاہئیں؟
کئی تاریخوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ 1634 میں شہنشاہ شاہجہاں کشمیر تشریف لائے تو ایک بار یہاں باغِ صادق خان میں تجدیدِ وضو کیا، نماز ادا کی اور سلام کے بعد ہی صادق خان کو سامنے بٹھا کر کہا: ’’صادق! یہ باغ عیش و عشرت اور تفریح کی جگہ نہیں، یہ آئندہ ہمیشہ کے لیے آنے والے کروڑوں مسلمانوں کی سجدہ گاہ بنے گی، عزت والی، احترام والی اور عقیدت والی جگہ‘‘۔
اور ٹھیک اس پیش گوئی کے 67 برس بعد خواجہ نورالدین عشائی نے اس موئے شریف کو بیجاپور سے اس وقت کے ایک لاکھ روپیہ کے عوض میں حاصل کیا۔ لیکن بڑی جلدی اس بات کی بھنک مغل شہنشاہ اورنگ زیب کو ملی، جنہوں نے بڑی تیزی سے احکامات صادر کر کے نورالدین عشائی کو گرفتار کروایا اور جیل میں ڈال دیا۔ موئے شریف کو اورنگ زیب نے احترام اور محبت کے ساتھ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ میں رکھوایا۔
بہت جلدی اورنگ زیب کو اس بات کا احساس ہوا، یا القا ہوا، یا سوچ و فکر کرنے کے بعد لگا کہ اس کا یہ فیصلہ صحیح نہیں اور فوراً اس فیصلے کو بدل کر نورالدین عشائی کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔ لیکن احکامات جیل تک پہنچنے کے دوران ہی نورالدین انتقال کر گئے تھے۔ یہ 1700 تھی۔ اس لیے اورنگ زیب نے موئے شریف اور نورالدین عشائی کی نعش دونوں کو احترام کے ساتھ کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت پیدا ہوا جب27 اکتوبر 1963 کو اچانک یہ خبر جنگل کی آگ بن کر پھیل گئی کہ موئے مقدس کو اپنی جگہ سے کسی نے اٹھا لیا ہے، یعنی چوری ہوگیا ہے۔ آخر4 جنوری 1964کو ریڈیو کشمیر سے موئے شریف کی بازیافت کا اعلان پراسرار طریقے سے ہوا۔
حضرت بل کی تعمیرِ نو، جو آج بہت ہی خوبصورت اسلامی فنِ تعمیر کا نمونہ ہے، 1968 میں شروع ہوئی اور 1979 میں شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی میں مکمل ہوئی۔
کشمیر کو یہ بے پایاں فیض اور شرف، موئے پاک کی دین ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

حضرت بل کی تاریخ، عقیدت اور حالیہ تنازعہ

رشید پروین
سوپور، کشمیر

امیر صادق خان کے اس باغ کی تقدیر میں آنے والے ہزاروں برسوں تک لاکھوں اور کروڑوں فرزندانِ توحید کی سجدہ گاہ ہونا قرار پا چکا تھا، اور ایسا ہی ہوا۔ یہی باغِ صادق آباد آپ کا اور ہمارا حضرت بل ہے۔
لفظ "حضرت بل”، فارسی لفظ "حضرت” اور کشمیری لفظ "بل” کا امتزاج ہے، جس کا مطلب "احترام یا بلند مقام والی جگہ” بنتا ہے۔ جس کے لیے ہماری محبتیں اور عقیدتیں بھی اسی طرح کی ہیں جس طرح ’’یثرب‘‘ تمام دنیا کے فرزندانِ توحید کے لیے آنکھوں کا نور اور دل کا سرور ہے۔ اور اس والہانہ عقیدت، احترام، محبت، عشق، اضطراب اور تڑپ کا اظہار کر پانا صرف جامعیؔ ہی کا خاصا تھا، جب بے اختیار عشق و مستی میں ڈوب کر اپنی آہ و فغاں کے ساتھ اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا ہے:
’’یارسول ﷺ ابطحی باب السلام، روضۂ ات، کعبہء من، قبلہء من، دین من، ایمانِ من‘‘۔
درگاہ حضرت بل کے متعلق پورے اعتماد کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہر کشمیری مسلمان، زن و مرد، بچے بوڑھے، حضرت بل درگاہ میں موجود ’’موئے مقدس‘‘ رسولِ پاک ﷺ سے اسی طرح کے جذبات، احساسات اور کیفیات کے حامل ہیں، بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے الفاظ اور ہماری زباں اس عقیدت کے اظہار میں ناکام ہی رہتی ہے۔
3 ستمبر 2025سے اسی درگاہ عالیہ سے متعلق کشمیر میں پھر ایک بار تشویش کی لہر دوڑ رہی ہے اور تشویش کا ماخذ وہ ایمبل بنا جو درخشاں اندرابی جی نے کہیں یہاں نصب کیا تھا، جس پر ہندوستان کا قومی نشان بھی ہے۔ درخشاں اندرابی اوقاف کی سربراہی کر رہی ہیں اور ان کی زیرِ قیادت شاید درگاہ عالیہ کی تزئین اور آرائش کا کچھ کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ ان صاحبہ نے اپنی عقل کے مطابق اس تختی کو کہیں نصب کیا۔
پچھلے جمعہ کو جہاں لاکھوں زائرین حضرت بل میں دیدار سے حسبِ معمول مشرف ہوئے، وہیں ایک عوامی جمِ غفیر نے اس بورڈ کے نصب ہونے پر نہ صرف ناراضگی کا اظہار کیا بلکہ ہجوم نے مشتعل ہو کر اس تختی کو اکھاڑ پھینکنے کی کوشش کی۔ سب سے پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مندروں، مسجدوں، آستانوں اور گردواروں یا مختصر طور پر مختلف عبادت گاہوں پر ایسی تختیاں لگائی جانی چاہئیں؟
کئی تاریخوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ 1634 میں شہنشاہ شاہجہاں کشمیر تشریف لائے تو ایک بار یہاں باغِ صادق خان میں تجدیدِ وضو کیا، نماز ادا کی اور سلام کے بعد ہی صادق خان کو سامنے بٹھا کر کہا: ’’صادق! یہ باغ عیش و عشرت اور تفریح کی جگہ نہیں، یہ آئندہ ہمیشہ کے لیے آنے والے کروڑوں مسلمانوں کی سجدہ گاہ بنے گی، عزت والی، احترام والی اور عقیدت والی جگہ‘‘۔
اور ٹھیک اس پیش گوئی کے 67 برس بعد خواجہ نورالدین عشائی نے اس موئے شریف کو بیجاپور سے اس وقت کے ایک لاکھ روپیہ کے عوض میں حاصل کیا۔ لیکن بڑی جلدی اس بات کی بھنک مغل شہنشاہ اورنگ زیب کو ملی، جنہوں نے بڑی تیزی سے احکامات صادر کر کے نورالدین عشائی کو گرفتار کروایا اور جیل میں ڈال دیا۔ موئے شریف کو اورنگ زیب نے احترام اور محبت کے ساتھ خواجہ معین الدین چشتیؒ کی درگاہ میں رکھوایا۔
بہت جلدی اورنگ زیب کو اس بات کا احساس ہوا، یا القا ہوا، یا سوچ و فکر کرنے کے بعد لگا کہ اس کا یہ فیصلہ صحیح نہیں اور فوراً اس فیصلے کو بدل کر نورالدین عشائی کی رہائی کے احکامات صادر کئے۔ لیکن احکامات جیل تک پہنچنے کے دوران ہی نورالدین انتقال کر گئے تھے۔ یہ 1700 تھی۔ اس لیے اورنگ زیب نے موئے شریف اور نورالدین عشائی کی نعش دونوں کو احترام کے ساتھ کشمیر بھیجنے کا فیصلہ کیا۔
کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اس وقت پیدا ہوا جب27 اکتوبر 1963 کو اچانک یہ خبر جنگل کی آگ بن کر پھیل گئی کہ موئے مقدس کو اپنی جگہ سے کسی نے اٹھا لیا ہے، یعنی چوری ہوگیا ہے۔ آخر4 جنوری 1964کو ریڈیو کشمیر سے موئے شریف کی بازیافت کا اعلان پراسرار طریقے سے ہوا۔
حضرت بل کی تعمیرِ نو، جو آج بہت ہی خوبصورت اسلامی فنِ تعمیر کا نمونہ ہے، 1968 میں شروع ہوئی اور 1979 میں شیخ محمد عبداللہ کی سربراہی میں مکمل ہوئی۔
کشمیر کو یہ بے پایاں فیض اور شرف، موئے پاک کی دین ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں