آج 7 ستمبر 2025 کوکشمیر کے اُس مہیب اور ہولناک سیلاب کو گیارہ برس گزر گئے ہیں جس نے 2014 میں لاکھوں انسانوں کو بے گھر اور ہزاروں بستیاں ویران کر دی تھیں۔ دریائے جہلم کی طغیانی نے سری نگر سمیت وادی کے بیشتر حصوں کو ڈبو دیا تھا۔ وہ منظر آج بھی کشمیری سماج کی اجتماعی یادداشت میں ایک زخم کی طرح تازہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سانحے سے کیا سیکھا؟ اور کیا واقعی اس دوران کوئی اصلاحی قدم اٹھایا گیا؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ گیارہ برس گزرنے کے باوجود ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ حکومتیں بدلیں، منصوبے بنے، کاغذوں پر نقشے تیار ہوئے، لیکن عملی میدان میں دریائے جہلم اور اس کے معاون نالوں کی ڈریجنگ آج بھی خواب ہی بنی ہوئی ہے۔ نالہ مرگ بل اور دیگر فلوڈ اسپِل چینلز جنہیں 2014 کے بعد فوری طور پر فعال کیا جانا چاہیے تھا، آج بھی مٹی، کچرے اور تجاوزات سے اَٹے پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی بارشوں میں بھی شہر کے کئی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں اور لوگ خوف و اندیشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجا طور پر سوال اٹھایا ہے کہ پی ڈی پی قیادت والی حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومتیں آخر کیوں کوئی بنیادی قدم نہ اٹھا سکیں۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمیں اس بات کی چھان بین کرنی چاہیے کہ سیلاب مینجمنٹ کے لیے جو خطیر فنڈز آئے وہ کہاں گئے اور کن جیبوں میں سما گئے۔ عوامی تاثر یہی ہے کہ یہ رقم یا تو غیر شفاف طریقے سے استعمال ہوئی یا پھر سیاست اور بدانتظامی کی نذر ہو گئی۔
یہ المیہ صرف فنڈز کے غائب ہونے کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے ٹوٹنے کا بھی ہے۔ جب لاکھوں لوگ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھیں کہ ایک تباہ کن سانحہ گزرنے کے بعد بھی ادارے خوابِ غفلت میں ہیں تو ان کے ذہنوں میں فطری طور پر یہ احساس جنم لیتا ہے کہ ان کی زندگی اور مستقبل کسی کو عزیز نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو خوف کے سائے میں اسکول بھیجتے ہیں، دکاندار ہر برسات میں کاروبار ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں اور بیماریاں نالوں کے گندے پانی کے ساتھ گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں۔
٭٭٭
تباہ کن سیلاب کے 11 سال
تباہ کن سیلاب کے 11 سال
آج 7 ستمبر 2025 کوکشمیر کے اُس مہیب اور ہولناک سیلاب کو گیارہ برس گزر گئے ہیں جس نے 2014 میں لاکھوں انسانوں کو بے گھر اور ہزاروں بستیاں ویران کر دی تھیں۔ دریائے جہلم کی طغیانی نے سری نگر سمیت وادی کے بیشتر حصوں کو ڈبو دیا تھا۔ وہ منظر آج بھی کشمیری سماج کی اجتماعی یادداشت میں ایک زخم کی طرح تازہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سانحے سے کیا سیکھا؟ اور کیا واقعی اس دوران کوئی اصلاحی قدم اٹھایا گیا؟ تلخ حقیقت یہ ہے کہ گیارہ برس گزرنے کے باوجود ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔ حکومتیں بدلیں، منصوبے بنے، کاغذوں پر نقشے تیار ہوئے، لیکن عملی میدان میں دریائے جہلم اور اس کے معاون نالوں کی ڈریجنگ آج بھی خواب ہی بنی ہوئی ہے۔ نالہ مرگ بل اور دیگر فلوڈ اسپِل چینلز جنہیں 2014 کے بعد فوری طور پر فعال کیا جانا چاہیے تھا، آج بھی مٹی، کچرے اور تجاوزات سے اَٹے پڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معمولی بارشوں میں بھی شہر کے کئی علاقے زیرِ آب آ جاتے ہیں اور لوگ خوف و اندیشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجا طور پر سوال اٹھایا ہے کہ پی ڈی پی قیادت والی حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومتیں آخر کیوں کوئی بنیادی قدم نہ اٹھا سکیں۔ ان کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمیں اس بات کی چھان بین کرنی چاہیے کہ سیلاب مینجمنٹ کے لیے جو خطیر فنڈز آئے وہ کہاں گئے اور کن جیبوں میں سما گئے۔ عوامی تاثر یہی ہے کہ یہ رقم یا تو غیر شفاف طریقے سے استعمال ہوئی یا پھر سیاست اور بدانتظامی کی نذر ہو گئی۔
یہ المیہ صرف فنڈز کے غائب ہونے کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے ٹوٹنے کا بھی ہے۔ جب لاکھوں لوگ اپنی آنکھوں سے یہ دیکھیں کہ ایک تباہ کن سانحہ گزرنے کے بعد بھی ادارے خوابِ غفلت میں ہیں تو ان کے ذہنوں میں فطری طور پر یہ احساس جنم لیتا ہے کہ ان کی زندگی اور مستقبل کسی کو عزیز نہیں۔ والدین اپنے بچوں کو خوف کے سائے میں اسکول بھیجتے ہیں، دکاندار ہر برسات میں کاروبار ڈوبنے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں اور بیماریاں نالوں کے گندے پانی کے ساتھ گھروں میں داخل ہو جاتی ہیں۔
٭٭٭


