’ڈاکٹر حیات سندی ‘ حیاتیاتی ٹیکنالوجی ماہر اور طبّی سائنس داں !

ڈاکٹر جی ایم پٹیل

حیات بنت سلیمان بن حسن سندی سعودی عرب کی شوریٰ کونسل ‘ اقوام متحدہ سائنسی مشاورتی بورڈ کی رکن ‘ سعودی عرب میں اسلامی ترقیاتی بینک ’حیاتیاتی تکنکی ماہر ‘ طبی سائنس داں ‘ یونیسکو کے غیر سگالی سفیر ‘ سائنس کے ’’ i2 ‘‘ گروپ جدید بصری تجزیہ کے حل میں عالمی رہنما ‘ تجزیہ کارواں اور تفتیش کاروں کو دریافت و تخلیق کا عملی ‘ قابل عمل ا نٹیلی جنس ‘ جرائم ، د ہشت گردی ، جنگ اور دھوکا دہی سمیت تمام خطرات سے نمٹنے کی سربراہ ‘ِ انسی ٹیوٹ برائے تخیل اور رسائی کی بانی ‘ اور اختراع کی صدر مشیر ہیں۔ ۲۰۱۴ میں آپ نے نوجوانوں میں جدت طرازی اور کاروبار کی حوصلہ افزائی کے لئے ا پنے فعال کے اعتراف میں ’’ سول سوسائٹی میں لیڈر شپ ‘‘ کے لئے ’’ کلنٹن گلوبل سٹیزن ایوارڈ ‘‘ حاصل کیا ۔ قریب ۴۰ سالوں سے ترقی پذیر ممالک میں سائنس کی ترقی کے لئے ’’ ورلڈ آف سائنسز ( TWAS عالمی کچھ انتہائی پسماندہ ممالک میں اہم سائنس صلاحیت کو فروغ دینے میں ایک اہم قوت ہے۔ ۲۰۱۹ میں ’’ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز میں ( TWAS ) نے غیر معمولی طور پر ڈاکٹر حیات سندی کو آپکی کامیابیوں کے اعتراف میں ’’ TWAS ‘‘ میڈل لیکچرز ‘‘ میں سے ایک، نوازہ اور ایک خاتون سائنس داں کے طور پر ترقی پذیر دنیا کی خدمت میں جدت طرازی کرنے اور سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ان کے اہم متاثر کن کردار کے اعتراف میں TWAS ‘ اعزاز عطا کیا گیا۔یہ غیر معمولی تاریخی بات ہے کہ TWAS کسی غیر TWAS ممبر کو میڈل دیا گیا ہے ۔
’’ COVID 19 ‘‘ کی وبا کے دور ان ڈاکٹر حیات نے کئی عالمی صحت کے شراکت دار ‘‘ کے معاون کام کیا ۔آئی ایس ڈی بی‘ کے رکن ممالک میں پیداوری صلاحیت کا فائدہ اُٹھاتی ہوئیں اسکی تعمیر کے ذریعے ’ COVID 19 ‘ تشخیص کی عالمی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لئے اختراعی حل تیا ر کیا جا سکے اس مقصد سے طبی صحت کی ضروری سامان میں مقامی پیداوار صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے مقامی اختراعات سے فائدہ اٹھایا ۔
آپ سعودی عرب کی مشاورتی اسمبلی کی پہلی خواتین اراکن میں سے ایک ہیں۔آ پ’ عربین بزنس ‘دنیا کی ۱۹ ویں اور ۹ویں سب سے با اثر عرب خاتون کے طور
سرِ فہرست ر ہیں ۔آپ حیاتیاتی نظاموں اور حیاتیات کے عمل کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملاکر مختلف مصنوعات ا ور عمل تیار کرنے میںمہارت رکھتی ہیں۔اس میں ادویات ،خوراک ،زراعت ماحولیاتی بہتری جیسے شعے شامل ہیں۔ڈاکٹر حیات نے کم اور درمیانی آمدنی والی ممالک میں چھاتی اور سروائیکل کینسر سے خواتین کی جان بچانے کے لئے ’آئی ایس ڈی بی‘ اور ’ بین الاقوامی جوہر توانائی ایجنسی ‘ کے معاون مشترکہ اقدام میں اپنی تمام تر جدوجہد میں کامیاب رہیں۔ڈاکٹر حیات کو ترقی پذیر ممالک میں کاروبار ی جدت طرازی کے بارے میں آپ کے جذبے اور بصیرت کی وجہ سے ’بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس‘ کے ذریعہ اکثر مبصر کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔
حیات سندی ۶ نومبر ۱۹۶۷ کو سعودی عرب میں پیدا ہوئیں۔آپ حیاتیاتی ٹیکنالوجی ماہر اور طبّی سائنس داں ہیں ۔ نقطہ ٔ نگہداشت طبی جانچ ‘ اور حیاتیاتی ٹیکنا لوجی ،حیاتیات پر انجینئر نگ تکنکی اُ صولوں کا اطلاق اور ایجادکی طاقت پر بے حد اہم کردار نبھایا ہے آپ کو عربین کاروبار ، تجارت نے دنیا کی ۹ ۱ ویں با اثر عرب خاتون کا درجہ عطا ہے اور ۲۰۱۸ میں ’بی بی سی ‘کی معروف عالمی ۱۰۰ خواتین میں شامل رہیں۔
ایک اہم بات حیات سندی جو ایک پابند روایتی مسلم ہیں ، حجاب اور اسکارف باقاعدگی سے پہننے کے عمل کو برقرار رکھا ہے اور حالانکہ اپنے مذہبی اور ثقافتی عقائد کو ترک کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا لیکن آپ اپنے نظر یہ پہ قائم رہیں پابند رہیں پُر عزم رہیں کہ کسی شخص کے مذہب ،رنگ یا جنس کا سائنسی تعاون پر کوئی اثر قطعی نہیں ہونا چاہئے ۔ حیات سند کا تعلق مکہ مکرمہ ،سعودی عرب سے ہے جہاں خواتین کو طویل عرصے سے مردوں کی طرح تعلیم رسائی حاصل نہیں تھی ۔ جب حیات کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ کے بعد آپ نے کہا ’’ میں جب کیمبرج آئی تو مجھے ایک مشہور مقامی سائنسداں نے صاف صاف بتا دیا میں کہ ’ ’تم ناکام ہو جاؤگی!‘‘ کیوں کہ میں ایک خاتون ہوںاور مذہب سائنس کے ساتھ نہیں چلتا ‘‘ ۔ان کی اس للکار کو میں نے قبول کیا۔ میں دنیا کی خواتین سائنسدانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ ’بے شک ہم مسلم خواتین کو پدرانہ نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے بلکہ ہمیں اس پست ہمتی کے پُل کو عبور کرنا انتہائی ضروری ہے ۔میں چاہتی ہوں کہ خواتین اپنے آپ پر یقین رکھیں اور ساری دنیا کو واضح کر یں کہ گر مصمم ارادہ کر لیں اوراپنے خوابوں کی تعبیر میں خود کو جھونک دیں اور جان توڑ م محنت کرین ‘‘۔ لیکن ایک خوش آئند بات یہ ہے گزشتہ چند دہائیوں میں مردوں کی اس دقیانوسی اور پدرانہ سوچ میں بہتری آئی ہے۔
تاہم آپ ایسے گھرانے میں پلی بڑھیں جہاں آپکی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپکے والدین نے تعاون دیا، تعلیم حاصل کر نے کا حوصلہ دیا ۔ سعودی عرب میں پرورش پانے کے باوجود آپ نے خود اعتمادی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ، آپ کی ثقافت ، آپ کا خاندان اور آپ کے عقیدے نے اس ابتدائی بنیاد میںآپکا ساتھ دیا
انگریزی سیکھنے کے لئے جب یونیورسٹی جانے ارادے سے نقل مکانی کا فیصلہ کرنا پڑا اور ۱۹۹۱ میں آپ نے اپنے خاندان کو قائل کروا لیا کہ آپ برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں۔آپ کے محترم والد صاحب نے حیات کو اعلیٰ تعلم حاصل کرنے کا بلند حوصلہ عطا کیا۔ جہا ں ایک سال انگریزی سیکھا اور A درجہ کی تعلیم حاصل کیا اور ’’ college london King’s ُ ‘ کے تحت انڈر گریجویٹ کے لئے کام کرنا قبول کر لیا ۔جہاں ۱۹۹۵ میں ’’ علم الادویہ ، فنِ عطاری ‘‘ میں ڈگری کے ساتھ گریجویشن مکمل کر لیا ۔کالج میں تعلیم حاصل کرتی ہوئیں ’’ سریع الحسا س ( Allergy‘‘ پر اپنے انڈر گریجویٹ ’’ Prncess Annes Award ‘‘ اس اعزاز سے نوایں گئیں۔ حیات نے ’’ میسا چوسٹس انسی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی MIT ‘ اور ’ ہارورڈ یونیوسٹی ‘ سے تعلم حاصل کی ۔۲۰۰۱ میں’ کیمبرج یونیورسٹی‘ سے حیاتیاتی صنعت و حرفت میں ’’پی ایچ ڈی‘‘ کی اور بعد ازاں ’ خلیج فارس ‘ سے ’’ڈاکٹریت حاصل کرنے والی پہلی عرب خاتون بن گئیں‘‘۔یہ ان اولین طریقوں میں سے ایک تھا جو آپ نے مشرق وسطیٰ میںجن خواتین کے لئے رکاوٹوں کو ختم کرنے کا آغاز کیا۔
۲۰۰۷ میں ’’ Diagnosis for All ‘‘ نامی ایک غیر منافع بخش امراض کی تشخیص کے لئے ایک مرکز قائم کیا اور کم لاگت والے آلات بنانے میں مدد کی جنہیں
ترقی پذیر ممالک میں امراض کی تشخیص استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ایک ’’ حیاتیاتی کیمیا آلۂ حسی ‘‘ ایجاد کیا جس میں مطّا طیٔ تحقیقات شامل ہیں۔
مقناطیسی گو نج امیجنگ , MRI ‘ دونوں امراض کی تشخیص کی جلد اور سائٹ پر تشخیص کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
۲۰۱۰ میں حیات السندی ‘SRH ‘ شہزادہ خالد بن فیصل السعود کی طرف عطا سائنسی اختراع کے لئے ’’مکہ المکرمہ‘‘ انعام کی فاتح رہیں۔ آپ کو ’’ جغرافیائی کھوج تنظیم نے ۲۰۱۱ کی ابھرتی ہوئی محقق کا خطاب بھی عطا کیا۔۲۰۱۱ میں ایک تنظیم ( i2institute ) کی بنیاد رکھی جو نوجوان نسلوں میں سائنس کی تعلیم اور اخترا کی حوصلہ افزائی کے لئے کوشاں ہے۔ ۲۰۱۲ میں ’ ارینا بوکو وا ، اقوام متحدہ کی تعلیمی اور ثقافتی تنظیم ( UNESCO) کی ڈائریکٹر جنرل نے حیات کو بطور غیر سگالی سفیر ‘
منتخب کیا گیا تاکہ ’ STEM ‘ کے شعبوں میں تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاسکے خاص طور پر نوجوان خواتین میں ۔ یونیسکو کی ایک ’ خبری اشاعیہ ‘ کے مطابق حیات کو مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے سائنسدانوں ،تکنکی ماہرین اور انجینئرنگ کے لئے کاروباری اور سماجی اختراع کا ایک ماحولیاتی نظام بنانے میں کے لئے ،نوجوانوں کو اختراعی کاروں کے قریب لانے کی آپکی ان کوششوں اور تنظیم کے نظریات اور مقاصد کے لئے آپکی لگن کے اعترط میں منتخب کیا گیا تھا ۔
آپ ’ News week ‘ کی ان ۱۵۰ خواتین کی فہرست میں بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سال دنیا کو اپنی کھوج، اپنی خدمات اور خواتین کی فٖلاح سے ہلا کر رکھ دیا
۲۰۱۳ میں ڈاکٹریت کی ڈگری حاصل کرنے بعد صرف تیس سال کی عمر میں حیات ، ’ شوریٰ کونسل‘ میں منتخب ہونے والی پہلی تیس خواتین میںسے ایک بن گئیں جو کہ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین مشاورتی ادارہ ہے، سعودی عر ب کے سفارت خانے کے مطابق اس کونسل کا بنیادی کام ’’ سعودی عرب کے لئے اہم مسائل پر بادشاہ کو مشورہ دینا ہے۔۲۰۱۳ ء ہی میں آپ پہلی خاتون سائنس داں بن گئیں جنہیں یونیسکو غیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا،جس نے سائنس اور سماجی اثرات کے انضمام کو فروغ دیا مزید برآں آپ نے کام ’ ایوانِ عام ‘ میں پیش کیں۔
۲۴ ۔۲۳ ستمبر ۲۰۱۴ کو منعقد اقدام میں والی پہل ، سندی کو شہری معاشرہ میں ’’ رہنمائی ‘‘ کے لئے اعزاز عطا کیا گیا۔
۲۰۱۸ میں ISDB کے ۵۰۰ ملین ڈالر کا عطیا ’ ٹرانسفارم فنڈ ‘ شروع کیا ، تاکہ جدت پسندوں کو جدت کی طاقت کے ذریعے ترقیاتی چیلنجوں کا حل تلاش کرنے میں
مدد ملی جو ترقی پذیر دنیا کے لئے اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل مرکز ہے۔۲۰۱۸ میں حیات السندی نے ’’ISDB سے ۵۵۰ ڈالر کی مالیت کا ٹرانسفارم فنڈ جاری کیا۔ فنڈ
جدت کی طاقت کے ذریعے ترقیاتی مستقلات کا حل تلاش کرنے میں اختراع کاروں کی مدد کرتا ہے۔یہ ترقی پذیر دنیا کے لئے اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل مرکز ہے۔
۲۰۱۹ میں یونیسکوکے ڈائریکٹر جنرل نے ’ لڑکیوں اور خواتین‘ کی تعلیم کے لئے ’ یونیسکو انعام کی ’’پانچ رکنی بین الاقوامی جیوری‘‘ میں تقرری جسے عوامی جمہوریہ چین کی
حکومت نے مالی امداد فراہم کی۔۲۰۲۰ میں G.20 ہیلتھ اینڈ ڈیولوپ منٹ کے لئے عالمی سفیر کے طور پر ، G20 ہیلتھ اینڈ ڈیولوپ منٹ کے کنوینر اور خود مختار پائیداری اور ترقی کے ایگزیکٹو چیئرمن کے طور پر مقرر کیا۔۲۰۲۰ میں ’’ شریعت کے مطابق مالیات ’’ (IFN ‘‘ کے مشزوراتی کمیٹی کی رکن کے طور پر تقرری ہوئی۔
۲۰۲۳ میں نیو نہم کالج ،یونیورسٹی آف کیمبرج کے اعزازی ممتاز رفاقت رکن مقرر ہوئیں۔
حیات السندی ہارورڈ یونیورسٹی میں ’’ سیاح عالم ‘‘ ملاقاتی اسکالر ہیں۔اسطرح آپ اکثر جدہ ، سعودی عرب ،بوسٹن ، کیمریج ،میسا چوسٹس کے درمیان سفر کرتی رہتی ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک لیبارٹری کے کام نے آپ کو چار دیگر سائنسدانو ں کے ساتھ ایک دستاویزی فلم میں موقعہ دیا گیا جس کی مدد سے ریاستہائے متحدہ کے صدرکے ایگزیکٹیو آفس نے نوجوانوں میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دیا ۔اپنی سائنسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ متعدد تقریبات میں حصہ لیتی ہیں جن کا مقصد خواتین اور لڑکیوں میں سائنس کے بارے میں شعور پیدا کرناہے،خاص طور سے سعودی عرب اور بالعموم مسلم دنیا میں۔آپ دماغی نقل مکانی میں خوب دلچسپی رکھتی ہیں اور جدہ اقتصادی مجلس جہاں معاشی بحث و مباحثہ میں مدعو مقرر ہیں ’
حیات السندی کا تین کمپنیوں کو شروع کرنے میں بڑا اثر و رسوخ تھا یا تو آپ بطور شریک بانی یا بانی FDA امراض تشخیص ،جس کا مقصد کم قیمت والے تشخیصی آلات بنانا
جو ترقی پذیرممالک میں امراض کی تشخیص کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔’’ Sonoptix ، i 2 ‘ اور انسی ٹیوٹ برائے ٹخیل اور آسانی جو نوجوان نسلوں میں سائنس کی تعلیم اور اختراع کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا کاروبار ی فلسفہ سادہ ہے۔ ’’ ایک حقیقی سائنسداں کو دنیا میں ہر ایک تک پہنچنے کے لئے سستی و آسان حل پر توجہ دینی چاہئے‘‘ ۔
ڈاکٹر حیات سائنس کی تحقیقی تعلیم کی ترقی کے ایک لئے کام کر رہی ہیں۔خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی نوجوان خواتین میں اور ترقی پذیر خطوں میں حیاتیاتی صنف و حرفت میںخود کو جھونک دیا ہے۔ترقی پزیر خطوں کے لوگوں کو صحت کی دیکھ بال کے مناسب وسائل اور تکنکی تک کم رسائی حاصل ہوتی ہے۔حیاتیاتی صنف و حرفت میں جدید سائنس اور اس کے پسَ منظر کو استعمال کرتے ہوئے’ نیشنل قومی جغرافیائی محقق‘ ڈاکٹر حیات السند ساری دنیا میں اس فعل اور دیگر مسائل کو تبدیل کرنے لئے اپنی جدو جہد کو برقرار رکھا ہے۔
افی الحال حیات سعودی عرب اسلامی بینک ( ISDB) میں اسلامی ترقیاتی بینک کے کے سائنس ،ٹیکنالوجی اور اختراع کے صدر کے سینئر مشیر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ۱اکتوبر ۲۰۱۲ کو یونیسکو کی سربرا ہ ’ ارینا بوکووا‘ نے مشرق وسطیٰ میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے۔ خصوصی طور سے ’’ خواتین ‘‘ کے لئے آپ کی کوششوں کے لئے ’’ غیر سگالی سفیر ‘‘ کے طور پر مقرر کیا۔آپ ’ News week ‘ کی ان ۱۵۰ خواتین کی فہرست میں بھی شامل رہیں جنہوں نے اس سال دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
جنوری ۲۰۱۳ میں سندی نے سعودی عرب کی مشاورتی کونسل میں خدمات انجام دینے کے لئے خواتین کے پہلے گروپ کا حصہ بن گئیں اور پھر نئی بنیاد ڈالیمشیر کے طور پر کام انجام دیتی ہوئیں ہر روز نوجوان عرب خواتین کے لئے با اختیار بنانے کے لئے کام بخونی انجام دے رہی ہیں۔آپ دنیا کے سب سے ترقیاتی چیلینجوں کو حل کرنے کے لئے سائنس ،تکنکی اور اخترائی کی طاقت پر یقین رکھتی ہیں۔
سعودی با پردہ سائنس داں حیات سندی کامیابیوں کے لئے اعزاز یہ ظاہرکرتے ہیں کی آپ سعودی عرب میں مسلم خواتین سے جڑے ہوئے دقیانسی تصورات کو چیلنج کرنے میں کامیاب رہیں۔ تشخیص اور بایو ٹینالو جی میں آپ کی بین الا قوامی سطح پر تسلیم شدہ تحقیق نے آپ کو سستی دوائی کے وکیل اور ایک ذمہ دار مخیر حضرات کے طور پر ایک مثبت شہرت حاصل کی ہے۔کیمبریج یونیورسٹی کے بائیو ٹکنالوجی پروگرام میں قبول ہونے والی پہلی سعودی خاتون کے طور پر آپ تمام کے لئے تشخٰصی کی مشترکہ بنیاد رکھیں۔جس سے کم لاگت والے پورٹیبل طبی آلات ، محروم ، ناپید معاشرہ ،برادری کے لئے تیار کی گئیں۔ مشرقی وسطیٰ میں ’’ STEM‘‘ کی تعلیم کی مجاہد، ایک بہادر اور ذہین سائنس داں نے اپنی تاحیات خدمات ، ان تمام کے صحت کی دیکھ بھال کے لئے قابل رسائی بنانے کے لئے وقف کر نے کا عہد لیا ہے ۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

’ڈاکٹر حیات سندی ‘ حیاتیاتی ٹیکنالوجی ماہر اور طبّی سائنس داں !

ڈاکٹر جی ایم پٹیل

حیات بنت سلیمان بن حسن سندی سعودی عرب کی شوریٰ کونسل ‘ اقوام متحدہ سائنسی مشاورتی بورڈ کی رکن ‘ سعودی عرب میں اسلامی ترقیاتی بینک ’حیاتیاتی تکنکی ماہر ‘ طبی سائنس داں ‘ یونیسکو کے غیر سگالی سفیر ‘ سائنس کے ’’ i2 ‘‘ گروپ جدید بصری تجزیہ کے حل میں عالمی رہنما ‘ تجزیہ کارواں اور تفتیش کاروں کو دریافت و تخلیق کا عملی ‘ قابل عمل ا نٹیلی جنس ‘ جرائم ، د ہشت گردی ، جنگ اور دھوکا دہی سمیت تمام خطرات سے نمٹنے کی سربراہ ‘ِ انسی ٹیوٹ برائے تخیل اور رسائی کی بانی ‘ اور اختراع کی صدر مشیر ہیں۔ ۲۰۱۴ میں آپ نے نوجوانوں میں جدت طرازی اور کاروبار کی حوصلہ افزائی کے لئے ا پنے فعال کے اعتراف میں ’’ سول سوسائٹی میں لیڈر شپ ‘‘ کے لئے ’’ کلنٹن گلوبل سٹیزن ایوارڈ ‘‘ حاصل کیا ۔ قریب ۴۰ سالوں سے ترقی پذیر ممالک میں سائنس کی ترقی کے لئے ’’ ورلڈ آف سائنسز ( TWAS عالمی کچھ انتہائی پسماندہ ممالک میں اہم سائنس صلاحیت کو فروغ دینے میں ایک اہم قوت ہے۔ ۲۰۱۹ میں ’’ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز میں ( TWAS ) نے غیر معمولی طور پر ڈاکٹر حیات سندی کو آپکی کامیابیوں کے اعتراف میں ’’ TWAS ‘‘ میڈل لیکچرز ‘‘ میں سے ایک، نوازہ اور ایک خاتون سائنس داں کے طور پر ترقی پذیر دنیا کی خدمت میں جدت طرازی کرنے اور سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے ان کے اہم متاثر کن کردار کے اعتراف میں TWAS ‘ اعزاز عطا کیا گیا۔یہ غیر معمولی تاریخی بات ہے کہ TWAS کسی غیر TWAS ممبر کو میڈل دیا گیا ہے ۔
’’ COVID 19 ‘‘ کی وبا کے دور ان ڈاکٹر حیات نے کئی عالمی صحت کے شراکت دار ‘‘ کے معاون کام کیا ۔آئی ایس ڈی بی‘ کے رکن ممالک میں پیداوری صلاحیت کا فائدہ اُٹھاتی ہوئیں اسکی تعمیر کے ذریعے ’ COVID 19 ‘ تشخیص کی عالمی فراہمی کو مضبوط بنانے کے لئے اختراعی حل تیا ر کیا جا سکے اس مقصد سے طبی صحت کی ضروری سامان میں مقامی پیداوار صلاحیت کو بہتر بنانے کے لئے مقامی اختراعات سے فائدہ اٹھایا ۔
آپ سعودی عرب کی مشاورتی اسمبلی کی پہلی خواتین اراکن میں سے ایک ہیں۔آ پ’ عربین بزنس ‘دنیا کی ۱۹ ویں اور ۹ویں سب سے با اثر عرب خاتون کے طور
سرِ فہرست ر ہیں ۔آپ حیاتیاتی نظاموں اور حیاتیات کے عمل کو ٹیکنالوجی کے ساتھ ملاکر مختلف مصنوعات ا ور عمل تیار کرنے میںمہارت رکھتی ہیں۔اس میں ادویات ،خوراک ،زراعت ماحولیاتی بہتری جیسے شعے شامل ہیں۔ڈاکٹر حیات نے کم اور درمیانی آمدنی والی ممالک میں چھاتی اور سروائیکل کینسر سے خواتین کی جان بچانے کے لئے ’آئی ایس ڈی بی‘ اور ’ بین الاقوامی جوہر توانائی ایجنسی ‘ کے معاون مشترکہ اقدام میں اپنی تمام تر جدوجہد میں کامیاب رہیں۔ڈاکٹر حیات کو ترقی پذیر ممالک میں کاروبار ی جدت طرازی کے بارے میں آپ کے جذبے اور بصیرت کی وجہ سے ’بین الاقوامی میڈیا آؤٹ لیٹس‘ کے ذریعہ اکثر مبصر کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔
حیات سندی ۶ نومبر ۱۹۶۷ کو سعودی عرب میں پیدا ہوئیں۔آپ حیاتیاتی ٹیکنالوجی ماہر اور طبّی سائنس داں ہیں ۔ نقطہ ٔ نگہداشت طبی جانچ ‘ اور حیاتیاتی ٹیکنا لوجی ،حیاتیات پر انجینئر نگ تکنکی اُ صولوں کا اطلاق اور ایجادکی طاقت پر بے حد اہم کردار نبھایا ہے آپ کو عربین کاروبار ، تجارت نے دنیا کی ۹ ۱ ویں با اثر عرب خاتون کا درجہ عطا ہے اور ۲۰۱۸ میں ’بی بی سی ‘کی معروف عالمی ۱۰۰ خواتین میں شامل رہیں۔
ایک اہم بات حیات سندی جو ایک پابند روایتی مسلم ہیں ، حجاب اور اسکارف باقاعدگی سے پہننے کے عمل کو برقرار رکھا ہے اور حالانکہ اپنے مذہبی اور ثقافتی عقائد کو ترک کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا لیکن آپ اپنے نظر یہ پہ قائم رہیں پابند رہیں پُر عزم رہیں کہ کسی شخص کے مذہب ،رنگ یا جنس کا سائنسی تعاون پر کوئی اثر قطعی نہیں ہونا چاہئے ۔ حیات سند کا تعلق مکہ مکرمہ ،سعودی عرب سے ہے جہاں خواتین کو طویل عرصے سے مردوں کی طرح تعلیم رسائی حاصل نہیں تھی ۔ جب حیات کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ کے بعد آپ نے کہا ’’ میں جب کیمبرج آئی تو مجھے ایک مشہور مقامی سائنسداں نے صاف صاف بتا دیا میں کہ ’ ’تم ناکام ہو جاؤگی!‘‘ کیوں کہ میں ایک خاتون ہوںاور مذہب سائنس کے ساتھ نہیں چلتا ‘‘ ۔ان کی اس للکار کو میں نے قبول کیا۔ میں دنیا کی خواتین سائنسدانوں کو بتانا چاہتی ہوں کہ ’بے شک ہم مسلم خواتین کو پدرانہ نظام کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہئے بلکہ ہمیں اس پست ہمتی کے پُل کو عبور کرنا انتہائی ضروری ہے ۔میں چاہتی ہوں کہ خواتین اپنے آپ پر یقین رکھیں اور ساری دنیا کو واضح کر یں کہ گر مصمم ارادہ کر لیں اوراپنے خوابوں کی تعبیر میں خود کو جھونک دیں اور جان توڑ م محنت کرین ‘‘۔ لیکن ایک خوش آئند بات یہ ہے گزشتہ چند دہائیوں میں مردوں کی اس دقیانوسی اور پدرانہ سوچ میں بہتری آئی ہے۔
تاہم آپ ایسے گھرانے میں پلی بڑھیں جہاں آپکی اعلیٰ تعلیم کے لئے آپکے والدین نے تعاون دیا، تعلیم حاصل کر نے کا حوصلہ دیا ۔ سعودی عرب میں پرورش پانے کے باوجود آپ نے خود اعتمادی کی ایک مضبوط بنیاد رکھی ، آپ کی ثقافت ، آپ کا خاندان اور آپ کے عقیدے نے اس ابتدائی بنیاد میںآپکا ساتھ دیا
انگریزی سیکھنے کے لئے جب یونیورسٹی جانے ارادے سے نقل مکانی کا فیصلہ کرنا پڑا اور ۱۹۹۱ میں آپ نے اپنے خاندان کو قائل کروا لیا کہ آپ برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیں۔آپ کے محترم والد صاحب نے حیات کو اعلیٰ تعلم حاصل کرنے کا بلند حوصلہ عطا کیا۔ جہا ں ایک سال انگریزی سیکھا اور A درجہ کی تعلیم حاصل کیا اور ’’ college london King’s ُ ‘ کے تحت انڈر گریجویٹ کے لئے کام کرنا قبول کر لیا ۔جہاں ۱۹۹۵ میں ’’ علم الادویہ ، فنِ عطاری ‘‘ میں ڈگری کے ساتھ گریجویشن مکمل کر لیا ۔کالج میں تعلیم حاصل کرتی ہوئیں ’’ سریع الحسا س ( Allergy‘‘ پر اپنے انڈر گریجویٹ ’’ Prncess Annes Award ‘‘ اس اعزاز سے نوایں گئیں۔ حیات نے ’’ میسا چوسٹس انسی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی MIT ‘ اور ’ ہارورڈ یونیوسٹی ‘ سے تعلم حاصل کی ۔۲۰۰۱ میں’ کیمبرج یونیورسٹی‘ سے حیاتیاتی صنعت و حرفت میں ’’پی ایچ ڈی‘‘ کی اور بعد ازاں ’ خلیج فارس ‘ سے ’’ڈاکٹریت حاصل کرنے والی پہلی عرب خاتون بن گئیں‘‘۔یہ ان اولین طریقوں میں سے ایک تھا جو آپ نے مشرق وسطیٰ میںجن خواتین کے لئے رکاوٹوں کو ختم کرنے کا آغاز کیا۔
۲۰۰۷ میں ’’ Diagnosis for All ‘‘ نامی ایک غیر منافع بخش امراض کی تشخیص کے لئے ایک مرکز قائم کیا اور کم لاگت والے آلات بنانے میں مدد کی جنہیں
ترقی پذیر ممالک میں امراض کی تشخیص استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ایک ’’ حیاتیاتی کیمیا آلۂ حسی ‘‘ ایجاد کیا جس میں مطّا طیٔ تحقیقات شامل ہیں۔
مقناطیسی گو نج امیجنگ , MRI ‘ دونوں امراض کی تشخیص کی جلد اور سائٹ پر تشخیص کرنے میں مدد کرتے ہیں۔
۲۰۱۰ میں حیات السندی ‘SRH ‘ شہزادہ خالد بن فیصل السعود کی طرف عطا سائنسی اختراع کے لئے ’’مکہ المکرمہ‘‘ انعام کی فاتح رہیں۔ آپ کو ’’ جغرافیائی کھوج تنظیم نے ۲۰۱۱ کی ابھرتی ہوئی محقق کا خطاب بھی عطا کیا۔۲۰۱۱ میں ایک تنظیم ( i2institute ) کی بنیاد رکھی جو نوجوان نسلوں میں سائنس کی تعلیم اور اخترا کی حوصلہ افزائی کے لئے کوشاں ہے۔ ۲۰۱۲ میں ’ ارینا بوکو وا ، اقوام متحدہ کی تعلیمی اور ثقافتی تنظیم ( UNESCO) کی ڈائریکٹر جنرل نے حیات کو بطور غیر سگالی سفیر ‘
منتخب کیا گیا تاکہ ’ STEM ‘ کے شعبوں میں تعلیم کی حوصلہ افزائی کی جاسکے خاص طور پر نوجوان خواتین میں ۔ یونیسکو کی ایک ’ خبری اشاعیہ ‘ کے مطابق حیات کو مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے سائنسدانوں ،تکنکی ماہرین اور انجینئرنگ کے لئے کاروباری اور سماجی اختراع کا ایک ماحولیاتی نظام بنانے میں کے لئے ،نوجوانوں کو اختراعی کاروں کے قریب لانے کی آپکی ان کوششوں اور تنظیم کے نظریات اور مقاصد کے لئے آپکی لگن کے اعترط میں منتخب کیا گیا تھا ۔
آپ ’ News week ‘ کی ان ۱۵۰ خواتین کی فہرست میں بھی شامل ہیں جنہوں نے اس سال دنیا کو اپنی کھوج، اپنی خدمات اور خواتین کی فٖلاح سے ہلا کر رکھ دیا
۲۰۱۳ میں ڈاکٹریت کی ڈگری حاصل کرنے بعد صرف تیس سال کی عمر میں حیات ، ’ شوریٰ کونسل‘ میں منتخب ہونے والی پہلی تیس خواتین میںسے ایک بن گئیں جو کہ سعودی عرب کا اعلیٰ ترین مشاورتی ادارہ ہے، سعودی عر ب کے سفارت خانے کے مطابق اس کونسل کا بنیادی کام ’’ سعودی عرب کے لئے اہم مسائل پر بادشاہ کو مشورہ دینا ہے۔۲۰۱۳ ء ہی میں آپ پہلی خاتون سائنس داں بن گئیں جنہیں یونیسکو غیر سگالی سفیر مقرر کیا گیا،جس نے سائنس اور سماجی اثرات کے انضمام کو فروغ دیا مزید برآں آپ نے کام ’ ایوانِ عام ‘ میں پیش کیں۔
۲۴ ۔۲۳ ستمبر ۲۰۱۴ کو منعقد اقدام میں والی پہل ، سندی کو شہری معاشرہ میں ’’ رہنمائی ‘‘ کے لئے اعزاز عطا کیا گیا۔
۲۰۱۸ میں ISDB کے ۵۰۰ ملین ڈالر کا عطیا ’ ٹرانسفارم فنڈ ‘ شروع کیا ، تاکہ جدت پسندوں کو جدت کی طاقت کے ذریعے ترقیاتی چیلنجوں کا حل تلاش کرنے میں
مدد ملی جو ترقی پذیر دنیا کے لئے اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل مرکز ہے۔۲۰۱۸ میں حیات السندی نے ’’ISDB سے ۵۵۰ ڈالر کی مالیت کا ٹرانسفارم فنڈ جاری کیا۔ فنڈ
جدت کی طاقت کے ذریعے ترقیاتی مستقلات کا حل تلاش کرنے میں اختراع کاروں کی مدد کرتا ہے۔یہ ترقی پذیر دنیا کے لئے اپنی نوعیت کا پہلا ڈیجیٹل مرکز ہے۔
۲۰۱۹ میں یونیسکوکے ڈائریکٹر جنرل نے ’ لڑکیوں اور خواتین‘ کی تعلیم کے لئے ’ یونیسکو انعام کی ’’پانچ رکنی بین الاقوامی جیوری‘‘ میں تقرری جسے عوامی جمہوریہ چین کی
حکومت نے مالی امداد فراہم کی۔۲۰۲۰ میں G.20 ہیلتھ اینڈ ڈیولوپ منٹ کے لئے عالمی سفیر کے طور پر ، G20 ہیلتھ اینڈ ڈیولوپ منٹ کے کنوینر اور خود مختار پائیداری اور ترقی کے ایگزیکٹو چیئرمن کے طور پر مقرر کیا۔۲۰۲۰ میں ’’ شریعت کے مطابق مالیات ’’ (IFN ‘‘ کے مشزوراتی کمیٹی کی رکن کے طور پر تقرری ہوئی۔
۲۰۲۳ میں نیو نہم کالج ،یونیورسٹی آف کیمبرج کے اعزازی ممتاز رفاقت رکن مقرر ہوئیں۔
حیات السندی ہارورڈ یونیورسٹی میں ’’ سیاح عالم ‘‘ ملاقاتی اسکالر ہیں۔اسطرح آپ اکثر جدہ ، سعودی عرب ،بوسٹن ، کیمریج ،میسا چوسٹس کے درمیان سفر کرتی رہتی ہیں۔ہارورڈ یونیورسٹی میں ایک لیبارٹری کے کام نے آپ کو چار دیگر سائنسدانو ں کے ساتھ ایک دستاویزی فلم میں موقعہ دیا گیا جس کی مدد سے ریاستہائے متحدہ کے صدرکے ایگزیکٹیو آفس نے نوجوانوں میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دیا ۔اپنی سائنسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ متعدد تقریبات میں حصہ لیتی ہیں جن کا مقصد خواتین اور لڑکیوں میں سائنس کے بارے میں شعور پیدا کرناہے،خاص طور سے سعودی عرب اور بالعموم مسلم دنیا میں۔آپ دماغی نقل مکانی میں خوب دلچسپی رکھتی ہیں اور جدہ اقتصادی مجلس جہاں معاشی بحث و مباحثہ میں مدعو مقرر ہیں ’
حیات السندی کا تین کمپنیوں کو شروع کرنے میں بڑا اثر و رسوخ تھا یا تو آپ بطور شریک بانی یا بانی FDA امراض تشخیص ،جس کا مقصد کم قیمت والے تشخیصی آلات بنانا
جو ترقی پذیرممالک میں امراض کی تشخیص کے لئے استعمال کئے جاسکتے ہیں۔’’ Sonoptix ، i 2 ‘ اور انسی ٹیوٹ برائے ٹخیل اور آسانی جو نوجوان نسلوں میں سائنس کی تعلیم اور اختراع کو فروغ دیتا ہے۔ اس کا کاروبار ی فلسفہ سادہ ہے۔ ’’ ایک حقیقی سائنسداں کو دنیا میں ہر ایک تک پہنچنے کے لئے سستی و آسان حل پر توجہ دینی چاہئے‘‘ ۔
ڈاکٹر حیات سائنس کی تحقیقی تعلیم کی ترقی کے ایک لئے کام کر رہی ہیں۔خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی نوجوان خواتین میں اور ترقی پذیر خطوں میں حیاتیاتی صنف و حرفت میںخود کو جھونک دیا ہے۔ترقی پزیر خطوں کے لوگوں کو صحت کی دیکھ بال کے مناسب وسائل اور تکنکی تک کم رسائی حاصل ہوتی ہے۔حیاتیاتی صنف و حرفت میں جدید سائنس اور اس کے پسَ منظر کو استعمال کرتے ہوئے’ نیشنل قومی جغرافیائی محقق‘ ڈاکٹر حیات السند ساری دنیا میں اس فعل اور دیگر مسائل کو تبدیل کرنے لئے اپنی جدو جہد کو برقرار رکھا ہے۔
افی الحال حیات سعودی عرب اسلامی بینک ( ISDB) میں اسلامی ترقیاتی بینک کے کے سائنس ،ٹیکنالوجی اور اختراع کے صدر کے سینئر مشیر کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ ۱اکتوبر ۲۰۱۲ کو یونیسکو کی سربرا ہ ’ ارینا بوکووا‘ نے مشرق وسطیٰ میں سائنس کی تعلیم کو فروغ دینے۔ خصوصی طور سے ’’ خواتین ‘‘ کے لئے آپ کی کوششوں کے لئے ’’ غیر سگالی سفیر ‘‘ کے طور پر مقرر کیا۔آپ ’ News week ‘ کی ان ۱۵۰ خواتین کی فہرست میں بھی شامل رہیں جنہوں نے اس سال دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔
جنوری ۲۰۱۳ میں سندی نے سعودی عرب کی مشاورتی کونسل میں خدمات انجام دینے کے لئے خواتین کے پہلے گروپ کا حصہ بن گئیں اور پھر نئی بنیاد ڈالیمشیر کے طور پر کام انجام دیتی ہوئیں ہر روز نوجوان عرب خواتین کے لئے با اختیار بنانے کے لئے کام بخونی انجام دے رہی ہیں۔آپ دنیا کے سب سے ترقیاتی چیلینجوں کو حل کرنے کے لئے سائنس ،تکنکی اور اخترائی کی طاقت پر یقین رکھتی ہیں۔
سعودی با پردہ سائنس داں حیات سندی کامیابیوں کے لئے اعزاز یہ ظاہرکرتے ہیں کی آپ سعودی عرب میں مسلم خواتین سے جڑے ہوئے دقیانسی تصورات کو چیلنج کرنے میں کامیاب رہیں۔ تشخیص اور بایو ٹینالو جی میں آپ کی بین الا قوامی سطح پر تسلیم شدہ تحقیق نے آپ کو سستی دوائی کے وکیل اور ایک ذمہ دار مخیر حضرات کے طور پر ایک مثبت شہرت حاصل کی ہے۔کیمبریج یونیورسٹی کے بائیو ٹکنالوجی پروگرام میں قبول ہونے والی پہلی سعودی خاتون کے طور پر آپ تمام کے لئے تشخٰصی کی مشترکہ بنیاد رکھیں۔جس سے کم لاگت والے پورٹیبل طبی آلات ، محروم ، ناپید معاشرہ ،برادری کے لئے تیار کی گئیں۔ مشرقی وسطیٰ میں ’’ STEM‘‘ کی تعلیم کی مجاہد، ایک بہادر اور ذہین سائنس داں نے اپنی تاحیات خدمات ، ان تمام کے صحت کی دیکھ بھال کے لئے قابل رسائی بنانے کے لئے وقف کر نے کا عہد لیا ہے ۔
٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں