TRAI کو انٹرنیٹ معطلی پر نوٹس لینا چاہیے

جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوںسے انٹرنیٹ کی معطلی سنگین مسئلے کو بے نقاب کر دیا ہے، جس ماضی میں عوام کو بھگتنا پڑ رہا تھا۔۔ قدرتی آفات میں احتیاط اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ضروری ہے، مگر وادی میں معمول بنا لیا گیا ہے کہ ہر ہنگامی صورتحال میں سب سے پہلے انٹرنیٹ بندہوجاتا ہے۔ اس کے نتائج محض تکلیف دہ نہیں بلکہ معیشت کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔اس بار میڈیا انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ اخبارات کی طباعت رک گئی، قارئین اطلاعات سے محروم رہے، آن لائن سروسز، ای۔کامرس، بینکاری اور چھوٹے بڑے کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو گئے۔ اربوں روپے کمانے والی کمپنیوں کی یہ بے عملی اور غیر سنجیدگی انتہائی افسوسناک ہے کہ وہ بحران کے وقت عوام کو سہولت دینے کے بجائے ان کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہیں۔
ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) اب مزید خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ ضروری ہے کہ سروس پران کمپنیوں کو جوابدہ بنایا جائے اور ان سے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور پائیداری یقینی کرائی جائے۔ بلاامتیاز بندش کے بجائے جدید اور متوازن نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے رابطے کے حق کو بھی محفوظ رکھے۔
کشمیر کی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، ایسے میں بار بار کی یہ ضرب ناقابل برداشت ہے۔ اگر حکومت اور ریگولیٹری ادارے واقعی ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں تو پھر کشمیری عوام کو بھی بحران کے وقت سب سے پہلے ان کے ’’ڈیجیٹل حقوق‘‘ مہیا کرنے ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

تازہ ترین خبریں

ماتمِ خاموشی !

    ریاض فردوسی رات اپنی تمام تر سیاہی سمیت شہر کے...

SKUAST-K کو AI پر مبنی سویا بین تحقیق کے لئے ہند۔امریکہ مشترکہ تحقیقی گرانٹ

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز...

سرینگر کے 7910 گھرانے پی ایم سوریہ گھر اسکیم سے مستفید

جنگ نیوز سرینگر/ ڈپٹی کمشنر سرینگر اکشے لبرو نے لال...

روشنائی سے روشنی تک: اردو صحافت کا تہذیبی سفر

  محمد عامر مصباحی کہا جاتا ہے کہ اردو زبان اپنے...

TRAI کو انٹرنیٹ معطلی پر نوٹس لینا چاہیے

جموں و کشمیر میں حالیہ بارشوںسے انٹرنیٹ کی معطلی سنگین مسئلے کو بے نقاب کر دیا ہے، جس ماضی میں عوام کو بھگتنا پڑ رہا تھا۔۔ قدرتی آفات میں احتیاط اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ضروری ہے، مگر وادی میں معمول بنا لیا گیا ہے کہ ہر ہنگامی صورتحال میں سب سے پہلے انٹرنیٹ بندہوجاتا ہے۔ اس کے نتائج محض تکلیف دہ نہیں بلکہ معیشت کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں۔اس بار میڈیا انڈسٹری سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ اخبارات کی طباعت رک گئی، قارئین اطلاعات سے محروم رہے، آن لائن سروسز، ای۔کامرس، بینکاری اور چھوٹے بڑے کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو گئے۔ اربوں روپے کمانے والی کمپنیوں کی یہ بے عملی اور غیر سنجیدگی انتہائی افسوسناک ہے کہ وہ بحران کے وقت عوام کو سہولت دینے کے بجائے ان کو اندھیرے میں دھکیل دیتی ہیں۔
ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی آف انڈیا (TRAI) اب مزید خاموش تماشائی نہیں رہ سکتی۔ ضروری ہے کہ سروس پران کمپنیوں کو جوابدہ بنایا جائے اور ان سے انفراسٹرکچر کی مضبوطی اور پائیداری یقینی کرائی جائے۔ بلاامتیاز بندش کے بجائے جدید اور متوازن نظام تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے رابطے کے حق کو بھی محفوظ رکھے۔
کشمیر کی معیشت پہلے ہی نازک حالت میں ہے، ایسے میں بار بار کی یہ ضرب ناقابل برداشت ہے۔ اگر حکومت اور ریگولیٹری ادارے واقعی ’’ڈیجیٹل انڈیا‘‘ کے نعرے پر یقین رکھتے ہیں تو پھر کشمیری عوام کو بھی بحران کے وقت سب سے پہلے ان کے ’’ڈیجیٹل حقوق‘‘ مہیا کرنے ہوں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں