
بلال بشیر بٹ
کہانیوں، یادوں دانشمندانہ گفتگوسے بھری ایک شام اُس وقت دیکھنے کو ملی جب معروف اداکارہ اور اب مصنفہ ھما قریشی نے اپنی کتاب زیبا: این ایکسیڈینٹل سپر ہیرو Zeba-An Accidental SuperHero پر ایک دلچسپ نشست میں سامعین سے گفتگو کی۔ یہ سیشن انڈین چیمبر آف کامرس کے صد سالہ ریٹریٹ کے دوران منعقد ہوا۔
نشست کا آغازمیں انڈین چیمبر آف کامرس سے وابستہ خالد وانی نےہما قریشی کی ہمت اور تخلیقی سفر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قریشی نے ہمیشہ روایت شکن کردار ادا کیے ہیں۔چاہے وہ گینگز آف وسے پور سے ان کا یادگار بالی ووڈ ڈیبیو ہو، یا ہالی ووڈ میں زیک سنائیڈر کی فلم آرمی آف دی ڈیڈ میں جلوہ گر ہونا، یا اب بطور مصنفہ ایک نئے روپ میں سامنے آنا۔
قریشی جو بار بار سری نگر کو اپنا "آبائی شہر” قرار دیتی رہیں، بچپن کی یادوں میں کھو گئیں۔ انھوں نے بتایا کہ کس طرح خاندانی محفلوں میں ڈرامائی کھیل کے دوران وہ اکثر ہدایتکارہ کا کردار ادا کرتی تھیں۔ یہ تخلیقی شوق بعد میں فلمی دنیا تک پہنچا۔ گینگز آف وسے پور کی شوٹنگ کے سخت اور غیر پرکشش لمحات یاد کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا یہ فلم ایک دن دی گارڈین کی سو سب سے اثر انگیز فلموں کی فہرست میں شامل ہوگی۔
تاہم شام کا اصل موضوع زیبا رہی۔ یہ ناول، جو قریشی نے عالمی وبا کے دوران ’’بے چینی اور بیزاری‘‘ میں لکھنا شروع کیا، ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جو بظاہر ایک Misfit ہے لیکن بالآخر اپنی طاقت کو پہچانتی ہے۔ ابتدا میں یہ محض دس صفحات پر مشتمل ایک ٹی وی سیریز کا خاکہ تھا جو رفتہ رفتہ ایک مکمل ناول بن گیا، جس میں تخیل، صبر آزمایی اور قریشی کی اپنی زندگی کے کئی اشارے چھپے ہوئے ہیں۔
نشست میں موجود اہلِ خانہ نے بھی سوالات اور دلچسپ واقعات کے ذریعے محفل کو مزید ذاتی اور پرخلوص بنا دیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کردار "زیبا” کہاں سے آیا، تو قریشی نے اعتراف کیا کہ انہیں ہمیشہ حرف "Z” سے دلچسپی رہی ہے، اور بچپن میں دی ماسک آف زورو دیکھنے کا اثر بھی اس میں شامل ہے۔ مگر اس سے آگے ان کا مقصد ایک ایسی ہیروئن تخلیق کرنا تھا جو ان ہی کی طرح اور ان جیسی کئی خواتین کی طرح پہلے Misfit نظر آتی ہے مگر اپنی انفرادیت ہی میں طاقت ڈھونڈ لیتی ہے۔
گفتگو بار بار کشمیری خواتین پر آتی رہی۔ قریشی نے کہا: "میں نے کبھی کسی کشمیری عورت کو کمزور نہیں پایا۔ کبھی یہ طاقت صبر میں چھپی ہوتی ہے، کبھی خاموشی میں۔ ان کے مختلف رنگ ہیں، مگر ان سب میں ایک گہری قوت ہے۔ یہ میری کہانیوں پر بھی اثر انداز ہوئی ہے۔”
سامعین میں موجود تاجروں اور سول سوسائٹی کی شخصیات نے قریشی کی باتوں کو کشمیر کی ان خواتین سے جوڑ کر دیکھا جو آج وادی میں کاروبار اور اسٹارٹ اپس کی قیادت کر رہی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ زیبا کو اسکرین پر دیکھنا چاہتی ہیں تو فوراً بول اٹھیں: "ان شاء اللہ”اور ہنستے ہوئے کہا کہ شاید خود بھی اس میں اداکاری کریں۔ اپنے بھائی ساقب سلیم کے ساتھ پروڈکشن کمپنی قائم کرنے کے بعد انھوں نے عندیہ دیا کہ زیبا اس کے منصوبوں کا حصہ بن سکتی ہے۔

نشست کے اختتام پر کتاب کی دستخط شدہ کاپیاں تقسیم کی گئیں اور ماحول ہنسی مذاق اور خاندانی دلچسپیوں میں ڈھل گیا۔ لیکن شام کا بنیادی پیغام یہ رہا: کہانی چاہے اسکرین پر ہو یا صفحے پر، اس میں انسان کو جینے کا حوصلہ دینے، ہمت جگانے اور خود کو نیا روپ دینے کی طاقت ہوتی ہے۔
سری نگر کے لیے یہ صرف ایک ادبی نشست نہیں تھی، بلکہ ایک طرح کا گھر واپسی کا لمحہ تھا۔ایک فنکارہ کا اپنی جڑوں سے نیا رشتہ، اور ایک کہانی کے ذریعے خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کو یہ دعوت کہ وہ بھی اپنی زندگی کی "سپر ہیرو” بننے کا خواب دیکھیں۔


