روبرو ہے ادیب: انیس فاطمہ

ذوالفقار علی بخاری

خاموشی بھی کبھی کبھی گونج سے بڑھ کر ہوتی ہے
خواتین کی تحریریں نئی سوچ کو جنم دیتی ہیں

6 نومبر کو جنم لینے والی انیس فاطمہ کوبچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ والد نے نوعمری میں خیالات کو لڑی میں پرونے میں بھرپور رہنمائی کی۔ قدرت نے ایسی ذہانت بخشی کہ انیس فاطمہ نے بچپن میں ہی اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنا سیکھ لیا۔ آپ نے قرآن پاک کی تفسیر جامعہ عائشہ اللبنات میں پڑھی۔انیس فاطمہ نے نہ صرف دینی علوم حاصل کیے بلکہ دنیاوی تعلیم میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ 2018 میں بیچلر کے بعد ادب سے باضابطہ وابستگی ہوئی۔ انگریزی ادب میں آپ نے رابرٹ فروسٹ جیسے عظیم شاعر کو دل سے پڑھا اور قدرت کے حسین مناظر کو اپنے الفاظ میں بیان کیا۔
انیس فاطمہ کی اولین کتابThe Impact of Silence کی اشاعت سے قبل ہی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اِن کی والدہ کی خواہش تھی کہ بیٹی ادب کی دنیا میں چمکے۔والدہ کی خواہش کو انیس فاطمہ ایک مشن کی صورت میں پورا کر رہی ہیں۔آپ نے کئی ادبی مقابلوں میں حصہ لیاہے اور ہمیشہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایوارڈ یافتہ رائٹر ہیں،انڈیا اور پاکستان سے شائع ہونے والی کئی کتب میں اِن کی تحریریں شامل ہیں۔ مختلف ادبی گروہوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔پاکستان لٹریری سوسائٹی سے وابستگی محترمہ عینی ملک جیسے روشن ستارے کی بدولت ممکن ہوئی۔ انیس فاطمہ نے اِس ادارے کو ایک مشن سمجھ کر اپنایا اور اس کے پلیٹ فارم سے اپنی ادبی خدمات میں وسعت پیدا کی۔انیس فاطمہ پسماندہ علاقوں میں ادب کو فروغ دینے، نوجوانوں کو مطالعہ کی طرف راغب کرنے، اور خواتین کی آواز کو ادب کے ذریعے بلند کرنے کے مشن پر کام کر رہی ہیں۔آپ فرماتی ہیں:
میں قلم سے اندھیروں میں چراغ رکھوں گی،ہر دل کو لفظوں کی روشنی بخشوں گی۔
انیس فاطمہ کی دو نئی کتب جلد منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔ اِن کی تحریریں خواتین کے جذبات، فکری مسائل، روحانی تجربات اور قدرتی مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔آپ کا انداز بیان نرم، پراثر اور قاری کے دل میں اتر جانے والا ہے۔آپ کی تحریر کی بڑی طاقت سادگی میں گہرائی ہے۔ انیس فاطمہ کے ہر جملے، ہر مصرعے میں ایک ایسی سچائی اور تجربہ جھلکتا ہے جو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ جیا گیا ہے۔انیس فاطمہ کا تخلیقی سفر ایک روحانی، سماجی، اور فکری تجربہ ہے۔ اِنھوں نے ادب کو خدمت، رہنمائی اور روحانی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ آپ قاری کو محض متاثر نہیں بلکہ اُسے خود کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ آپ کی زندگی کا پیغام ہے:’’اگر دل میں سچائی ہو، قلم میں خلوص ہو،اور سوچ میں وسعت ہو تو خاموشی بھی گونجے گی،اور درد بھی دعا بن جائے گا۔”
بقول انیس فاطمہ
قلم میری امانت ہے، قاری میری طاقت
آپ کا ساتھ میرے سفر کا، سب سے روشن چراغ ہے
انیس فاطمہ سے ہونی والی گفتگو کی روداد ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
آپ کی ادب میں دل چسپ کب اورکیسے ہوئی؟
انیس فاطمہ:جب جذبات کو لفظ ملے اور خاموشی کو زبان, تب ادب نے مجھے اپنے دامن میں لے لیا.
یہ عشقِ حرف ہے ورنہ
لفظوں میں جان کہاں
آپ نے رابرٹ فروسٹ جیسے عظیم شاعر کو پڑھا،اْن کی شاعری میں ایسا کیا دکھائی دیا کہ آپ اْن کی گرویدا ہوگئیں۔
انیس فاطمہ:رابرٹ فروسٹ کی شاعری میں فطرت کے مناظر کی سادگی, تنہائی کی گہرائی اور انتخاب کا فلسفہ دل کو چھو لیتا ہے۔
“Two roads diverged in the wood and i took the one less travelled by”
یہ مصرع میرے ادبی سفر کی سمت طے کرتا رہا۔فطرت کی زبان میں رابرٹ فروسٹ نے دل کی کہانی لکھی جس نے میرے اندر کا موسم بدل دیا۔
خزاں کی شاخ سے پھوٹا ہے اک پیامِ بہار
فروسٹ کی نظموں میں ہے خامشی کی پکار
آپ نے بیک وقت دنیائوی اوردینی علوم کو حاصل کیا ہے۔ آپ کی نظرمیںاِن دونوں کی اہمیت کیا ہے؟
انیس فاطمہ: دین سے اخلاق بنتا ہے جبکہ دنیا سے عمل، دونوں مل کر ایک مکمل انسان تراشتے ہیں۔
علمِ دنیا ہو یا دینِ ہدیٰ
دونوں ہی چراغِ رہِ وفا
والدہ کی کن خوبیوں کو اپنے اندردیکھتی ہیں۔ کیا اولین مجموعے کا انتساب اْن کے نام کریں گی؟
انیس فاطمہ:ماں کے صبر، دعا اور نرمی کا عکس میری ذات میں بسا ہوا ہے۔ میرا پہلا انتساب اس عظیم ہستی کے نام ہو گا،’ماں کی دعا ہر کامیابی کا پہلا قدم ہے۔‘
پاکستان میں ادبی تنظیموں کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔
انیس فاطمہ:چند تنظیمیں ادب کی خدمت اخلاص سے کر رہی ہیں لیکن مجموعی طور پر تسلسل اور معیار کی کمی نمایاں ہے۔
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ادب اورادیبوں کی بھرپورسرپرستی کی جا رہی ہے؟
انیس فاطمہ:ادب کی سرپرستی موجود ہے مگر خلوص کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔
جنہیں چاہیے تھا علم کا چراغ
وہ ہاتھوں میں لے کر بیٹھے ہیں تسبیحیں
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
انیس فاطمہ:میری زندگی کا مقصد لفظوں سے روشنی پھیلانا، سوچ کو بیدار کرنا اور ادب کو نسلوں سے جوڑنا ہے۔
میں خواب لکھتی ہوں، جاگتی آنکھوں سے
کہ تعبیر بنے، فقط میرے قلم کی جنبش سے
کیا خواتین کے حقوق اورمسائل پربات کرنا پسند کرتی ہیں؟
انیس فاطمہ:جی بالکل یہ ضروری ہے۔ ایک خاتون کی تحریر میں صدیوں کی خاموشی کی آواز ہوتی ہے۔
قلم اْٹھایا ہے ہم نے صدائے حق کے لیے
کہ حرف حرف میں چھپی ہے صداقت کی آگ
کیا آج کی افسانہ نگار خواتین عورتوں کے حقیقی مسائل کو اجاگرکرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں؟
انیس فاطمہ: کچھ خاموش آبشاروں کی مانند ہیں جو گہرائی سے بہتی ہیں،اور کچھ فقط سطحی لہریں، سنجیدگی وہی ہے جو حق سے جْڑی ہو.
اب تک ادبی میدان میں کتنی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اِس کے پیچھے کن شخصیات کا اہم کردار رہا ہے؟
انیس فاطمہ:الحمدللہ 30 سے زائد مقابلہ جات میں اول درجہ پر فائز رہی ہوں۔ چراغ ادب ایوارڈ، کتاب نروان ایوارڈاور رنر اپ ایوارڈ حاصل کر چکی ہوں۔ یہ سب میرے والدین، لیفٹیننٹ کمانڈر سلیم گنجیال کی موٹیوشنز نے میرے الفاظ کو تقویت بخشی جس کی بدولت آج میں اس مقام پر ہوں۔ ادبی ساتھی عینی ملک نے ہرقدم پر بہت ساتھ دیاہے۔
اپنی کتاب ‘‘پیارے ابا جان‘‘ کے حوالے سے کچھ بتائیے کہ اِسے منظرعام پر لانے کا مقصد کیا ہے؟
انیس فاطمہ:”پیارے ابا جان” میری روح کی وہ آواز ہے جو ایک باپ کی بے آواز قربانیوں اور چھاؤں جیسی محبت کے اعتراف میں بلند ہوئی۔ یہ کتاب صرف ایک ذاتی جذباتی نذرانہ نہیں بلکہ ہر اْس بیٹی کا پیغام ہے جس نے باپ کے مضبوط ہاتھ تھام کر جینا سیکھا۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اْس محبت کو لفظوں میں سمیٹ سکوں جو اکثر خاموش رہ کر سب کچھ دے جاتی ہے.
وہ جو خود ٹوٹ کر خواب سجاتا رہا
میری نیندوں کے لیے جاگتا رہا ،وہ میرا بابا جان تھا
آپ کی شخصیت بے حد ملنسار اورنرم خوئی کی حامل ہے، کیا اِس کی وجہ سے کبھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
انیس فاطمہ:ہاں جی۔ دنیا اکثر نرمی کو کمزوری سمجھتی ہے مگر میں نے سیکھا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی گونج سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
زندگی کے سردو گرم حالات نے کس قدرشخصیت پراثرات مرتب کیے ہیں؟
انیس فاطمہ:ان تجربات نے میری تحریر کو نکھارا
دھوپ نے سکھایا صبر, چھاؤں نے دیا سکون
وقت کہ ہر پل نے کچھ نہ کچھ سکھا دیا
دھوپ میں جل کہ سیکھا ہے
سایہ کہاں آسانی سے ملتا ہے
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بے جا آزادی سے عورت کے احترام میں کمی ہو رہی ہے؟
انیس فاطمہ:آزادی تب خوبصورت لگتی ہے جب عزت کا لباس پہنے،خوداری کی چادر میں لپٹی ہو اگر عورت،تو ہر نظریہ اس کے قدموں میں ہو۔
سوشل میڈیا اسٹارز نے معاشرے میں کس قدربگاڑ پیدا کیا ہے؟
انیس فاطمہ:تشہیر کی دوڑ نے معیار کو مات دے دی ہے۔ ادب اب الگ تھلگ ہو گیا ہے کیونکہ حقیقت کو دیکھنا کم لوگ چاہتے ہیں۔
رنگ و روشنی کے شور میں
فکر کا چراغ بجھنے لگا ہے.
کیا ادبی دنیا میں خواتین بھرپورپذیرائی بغیرسفارش کے حاصل کررہی ہیں؟
انیس فاطمہ:بہت کم،مگر جو دل سے لکھتی ہیں وہ دیر سے ہی سہی مگر سراہی ضرور جاتی ہیں۔
جو درد سے نکلا ہو لفظ, وہ کبھی نہیں مرتا،سفارشیں کمزور کرتی ہیں،قلم اگر سچا ہو،تو پہچانا جاتا ہے
لڑکیوں کو ہنرمند اورتعلیم یافتہ کیوں ہونا چاہیے؟
انیس فاطمہ:علم و ہنر عورت کا اصل وقار ہیں۔بیٹیاں ہوں تعلیم یافتہ تو گھر نہیں، معاشرے سنورتے ہیں۔
پاکستانی شعرا اور ادیبوں کو بین الاقوامی سطح پر بھرپورشناخت کیوں حاصل نہیں ہو سکی ہے؟
انیس فاطمہ:نمائندگی اور عالمی رسائی کی کمی ہے وگرنہ ہمارے پاس خیالات کی دولت ہے۔
زندگی کے کن واقعات نے باطنی طور پر تبدیل کیا ہے؟
انیس فاطمہ:رشتوں کی حقیقت، لوگوں کی فطرت اور تنہائی نے مجھے اندر سے نیا انسان بنایا۔
رومانویت سے لبریر ادب معاشرے کو تبدیل کرنے یا لوگوں کی سوچ بدلنے میں کامیاب ہوا ہے؟
انیس فاطمہ:ہاں۔۔۔ اگر وہ خواب سے زیادہ سچائی سے جْڑا ہو۔’محبت جب فکر میں ڈھلے، تو انقلاب لاتی ہے۔‘
معاشرے کو تبدیل کرنے میں خواتین قلم کار کتنا کردار ادا کر سکتی ہیں؟
انیس فاطمہ:خواتین کی تحریریں نئی سوچ کو جنم دیتی ہیں بشرطیکہ وہ درد سے لکھی گئی ہوں۔
قلم جب عورت کے ہاتھ ہو
تو وہ صرف تحریر نہیں، تقدیر لکھتی ہے.
ایوارڈز اورقارئین کی پذیرائی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
انیس فاطمہ:ایوارڈ محض سند یا ٹرافی نہیں ہوتے، یہ اس جذبے، محنت اور خلوص کی پہچان ہوتے ہیں جو قلم سے نکل کر دلوں میں اْترتا ہے۔ الحمدللہ میری شاعری اور تخلیقی کاوشوں کو مختلف قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔
محبت ملی جو قاری کی نظر سے
وہی ایوارڈ ہے دل کی سحر سے
مسقبل کے لیے کیا کچھ سوچ رکھا ہے؟
انیس فاطمہ:بچوں اور خواتین کے لیے ادب تخلیق کرنا تاکہ نئی نسل قلم کی طاقت سے جْڑ سکے۔
قارئین سرینگر جنگ کے نام کیا پیغام دیں گی۔
انیس فاطمہ:آپ میرے لفظوں کاوقار اور میری تحریر کی پہچان ہیں۔ ادب ایک خاموش انقلاب ہے اور قاری اس انقلاب کا پہلا چراغ۔مطالعہ انسان کے اندر کی آنکھ کھول دیتا ہے۔ میں آپ سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ الفاظ سے دوستی کیجیے،احساسات کو سمجھنے کی عادت ڈالیے اور محبت کے ساتھ سچ کہنے کا ہنرسیکھیں۔
لفظ وہی جو دل میں اْتر جائے
بات وہی جو روح کو چھوجائے
قلم کی نوک پہ لکھے ہوئے خیالوں میں
جہان چھپتے ہیں، خواب بولتے ہیں.
مطالعہ روح کی غذا ہے، ادب چراغِ راہ
قاری وہ ہے جو حرف سے محبت کرے بے پناہ
جو قاری ہے وہ خواب دیکھتا ہے
جو خواب دیکھتا ہے وہ دنیا بدلتا ہے
لفظ جب نیت سے نکلیں ، دل میں راستہ پاتے ہیں
اور قاری جب دل سے پڑھے , تو زمانہ جگاتے ہیں
۔ختم شد۔
٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

روبرو ہے ادیب: انیس فاطمہ

ذوالفقار علی بخاری

خاموشی بھی کبھی کبھی گونج سے بڑھ کر ہوتی ہے
خواتین کی تحریریں نئی سوچ کو جنم دیتی ہیں

6 نومبر کو جنم لینے والی انیس فاطمہ کوبچپن ہی سے لکھنے کا شوق تھا۔ والد نے نوعمری میں خیالات کو لڑی میں پرونے میں بھرپور رہنمائی کی۔ قدرت نے ایسی ذہانت بخشی کہ انیس فاطمہ نے بچپن میں ہی اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنا سیکھ لیا۔ آپ نے قرآن پاک کی تفسیر جامعہ عائشہ اللبنات میں پڑھی۔انیس فاطمہ نے نہ صرف دینی علوم حاصل کیے بلکہ دنیاوی تعلیم میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی ہے۔ 2018 میں بیچلر کے بعد ادب سے باضابطہ وابستگی ہوئی۔ انگریزی ادب میں آپ نے رابرٹ فروسٹ جیسے عظیم شاعر کو دل سے پڑھا اور قدرت کے حسین مناظر کو اپنے الفاظ میں بیان کیا۔
انیس فاطمہ کی اولین کتابThe Impact of Silence کی اشاعت سے قبل ہی والدہ کا انتقال ہو گیا۔ اِن کی والدہ کی خواہش تھی کہ بیٹی ادب کی دنیا میں چمکے۔والدہ کی خواہش کو انیس فاطمہ ایک مشن کی صورت میں پورا کر رہی ہیں۔آپ نے کئی ادبی مقابلوں میں حصہ لیاہے اور ہمیشہ اعلیٰ پوزیشن حاصل کی ہے۔ ایوارڈ یافتہ رائٹر ہیں،انڈیا اور پاکستان سے شائع ہونے والی کئی کتب میں اِن کی تحریریں شامل ہیں۔ مختلف ادبی گروہوں میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔پاکستان لٹریری سوسائٹی سے وابستگی محترمہ عینی ملک جیسے روشن ستارے کی بدولت ممکن ہوئی۔ انیس فاطمہ نے اِس ادارے کو ایک مشن سمجھ کر اپنایا اور اس کے پلیٹ فارم سے اپنی ادبی خدمات میں وسعت پیدا کی۔انیس فاطمہ پسماندہ علاقوں میں ادب کو فروغ دینے، نوجوانوں کو مطالعہ کی طرف راغب کرنے، اور خواتین کی آواز کو ادب کے ذریعے بلند کرنے کے مشن پر کام کر رہی ہیں۔آپ فرماتی ہیں:
میں قلم سے اندھیروں میں چراغ رکھوں گی،ہر دل کو لفظوں کی روشنی بخشوں گی۔
انیس فاطمہ کی دو نئی کتب جلد منظرِ عام پر آنے والی ہیں۔ اِن کی تحریریں خواتین کے جذبات، فکری مسائل، روحانی تجربات اور قدرتی مناظر کو شاعرانہ انداز میں پیش کرتی ہیں۔آپ کا انداز بیان نرم، پراثر اور قاری کے دل میں اتر جانے والا ہے۔آپ کی تحریر کی بڑی طاقت سادگی میں گہرائی ہے۔ انیس فاطمہ کے ہر جملے، ہر مصرعے میں ایک ایسی سچائی اور تجربہ جھلکتا ہے جو محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ جیا گیا ہے۔انیس فاطمہ کا تخلیقی سفر ایک روحانی، سماجی، اور فکری تجربہ ہے۔ اِنھوں نے ادب کو خدمت، رہنمائی اور روحانی تعمیر کا ذریعہ بنایا۔ آپ قاری کو محض متاثر نہیں بلکہ اُسے خود کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ آپ کی زندگی کا پیغام ہے:’’اگر دل میں سچائی ہو، قلم میں خلوص ہو،اور سوچ میں وسعت ہو تو خاموشی بھی گونجے گی،اور درد بھی دعا بن جائے گا۔”
بقول انیس فاطمہ
قلم میری امانت ہے، قاری میری طاقت
آپ کا ساتھ میرے سفر کا، سب سے روشن چراغ ہے
انیس فاطمہ سے ہونی والی گفتگو کی روداد ذیل میں پیش کی جا رہی ہے۔
آپ کی ادب میں دل چسپ کب اورکیسے ہوئی؟
انیس فاطمہ:جب جذبات کو لفظ ملے اور خاموشی کو زبان, تب ادب نے مجھے اپنے دامن میں لے لیا.
یہ عشقِ حرف ہے ورنہ
لفظوں میں جان کہاں
آپ نے رابرٹ فروسٹ جیسے عظیم شاعر کو پڑھا،اْن کی شاعری میں ایسا کیا دکھائی دیا کہ آپ اْن کی گرویدا ہوگئیں۔
انیس فاطمہ:رابرٹ فروسٹ کی شاعری میں فطرت کے مناظر کی سادگی, تنہائی کی گہرائی اور انتخاب کا فلسفہ دل کو چھو لیتا ہے۔
“Two roads diverged in the wood and i took the one less travelled by”
یہ مصرع میرے ادبی سفر کی سمت طے کرتا رہا۔فطرت کی زبان میں رابرٹ فروسٹ نے دل کی کہانی لکھی جس نے میرے اندر کا موسم بدل دیا۔
خزاں کی شاخ سے پھوٹا ہے اک پیامِ بہار
فروسٹ کی نظموں میں ہے خامشی کی پکار
آپ نے بیک وقت دنیائوی اوردینی علوم کو حاصل کیا ہے۔ آپ کی نظرمیںاِن دونوں کی اہمیت کیا ہے؟
انیس فاطمہ: دین سے اخلاق بنتا ہے جبکہ دنیا سے عمل، دونوں مل کر ایک مکمل انسان تراشتے ہیں۔
علمِ دنیا ہو یا دینِ ہدیٰ
دونوں ہی چراغِ رہِ وفا
والدہ کی کن خوبیوں کو اپنے اندردیکھتی ہیں۔ کیا اولین مجموعے کا انتساب اْن کے نام کریں گی؟
انیس فاطمہ:ماں کے صبر، دعا اور نرمی کا عکس میری ذات میں بسا ہوا ہے۔ میرا پہلا انتساب اس عظیم ہستی کے نام ہو گا،’ماں کی دعا ہر کامیابی کا پہلا قدم ہے۔‘
پاکستان میں ادبی تنظیموں کی کارکردگی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔
انیس فاطمہ:چند تنظیمیں ادب کی خدمت اخلاص سے کر رہی ہیں لیکن مجموعی طور پر تسلسل اور معیار کی کمی نمایاں ہے۔
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ادب اورادیبوں کی بھرپورسرپرستی کی جا رہی ہے؟
انیس فاطمہ:ادب کی سرپرستی موجود ہے مگر خلوص کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔
جنہیں چاہیے تھا علم کا چراغ
وہ ہاتھوں میں لے کر بیٹھے ہیں تسبیحیں
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟
انیس فاطمہ:میری زندگی کا مقصد لفظوں سے روشنی پھیلانا، سوچ کو بیدار کرنا اور ادب کو نسلوں سے جوڑنا ہے۔
میں خواب لکھتی ہوں، جاگتی آنکھوں سے
کہ تعبیر بنے، فقط میرے قلم کی جنبش سے
کیا خواتین کے حقوق اورمسائل پربات کرنا پسند کرتی ہیں؟
انیس فاطمہ:جی بالکل یہ ضروری ہے۔ ایک خاتون کی تحریر میں صدیوں کی خاموشی کی آواز ہوتی ہے۔
قلم اْٹھایا ہے ہم نے صدائے حق کے لیے
کہ حرف حرف میں چھپی ہے صداقت کی آگ
کیا آج کی افسانہ نگار خواتین عورتوں کے حقیقی مسائل کو اجاگرکرنے میں سنجیدہ دکھائی دیتی ہیں؟
انیس فاطمہ: کچھ خاموش آبشاروں کی مانند ہیں جو گہرائی سے بہتی ہیں،اور کچھ فقط سطحی لہریں، سنجیدگی وہی ہے جو حق سے جْڑی ہو.
اب تک ادبی میدان میں کتنی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ اِس کے پیچھے کن شخصیات کا اہم کردار رہا ہے؟
انیس فاطمہ:الحمدللہ 30 سے زائد مقابلہ جات میں اول درجہ پر فائز رہی ہوں۔ چراغ ادب ایوارڈ، کتاب نروان ایوارڈاور رنر اپ ایوارڈ حاصل کر چکی ہوں۔ یہ سب میرے والدین، لیفٹیننٹ کمانڈر سلیم گنجیال کی موٹیوشنز نے میرے الفاظ کو تقویت بخشی جس کی بدولت آج میں اس مقام پر ہوں۔ ادبی ساتھی عینی ملک نے ہرقدم پر بہت ساتھ دیاہے۔
اپنی کتاب ‘‘پیارے ابا جان‘‘ کے حوالے سے کچھ بتائیے کہ اِسے منظرعام پر لانے کا مقصد کیا ہے؟
انیس فاطمہ:”پیارے ابا جان” میری روح کی وہ آواز ہے جو ایک باپ کی بے آواز قربانیوں اور چھاؤں جیسی محبت کے اعتراف میں بلند ہوئی۔ یہ کتاب صرف ایک ذاتی جذباتی نذرانہ نہیں بلکہ ہر اْس بیٹی کا پیغام ہے جس نے باپ کے مضبوط ہاتھ تھام کر جینا سیکھا۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اْس محبت کو لفظوں میں سمیٹ سکوں جو اکثر خاموش رہ کر سب کچھ دے جاتی ہے.
وہ جو خود ٹوٹ کر خواب سجاتا رہا
میری نیندوں کے لیے جاگتا رہا ،وہ میرا بابا جان تھا
آپ کی شخصیت بے حد ملنسار اورنرم خوئی کی حامل ہے، کیا اِس کی وجہ سے کبھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے؟
انیس فاطمہ:ہاں جی۔ دنیا اکثر نرمی کو کمزوری سمجھتی ہے مگر میں نے سیکھا ہے کہ خاموشی بھی کبھی کبھی گونج سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
زندگی کے سردو گرم حالات نے کس قدرشخصیت پراثرات مرتب کیے ہیں؟
انیس فاطمہ:ان تجربات نے میری تحریر کو نکھارا
دھوپ نے سکھایا صبر, چھاؤں نے دیا سکون
وقت کہ ہر پل نے کچھ نہ کچھ سکھا دیا
دھوپ میں جل کہ سیکھا ہے
سایہ کہاں آسانی سے ملتا ہے
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بے جا آزادی سے عورت کے احترام میں کمی ہو رہی ہے؟
انیس فاطمہ:آزادی تب خوبصورت لگتی ہے جب عزت کا لباس پہنے،خوداری کی چادر میں لپٹی ہو اگر عورت،تو ہر نظریہ اس کے قدموں میں ہو۔
سوشل میڈیا اسٹارز نے معاشرے میں کس قدربگاڑ پیدا کیا ہے؟
انیس فاطمہ:تشہیر کی دوڑ نے معیار کو مات دے دی ہے۔ ادب اب الگ تھلگ ہو گیا ہے کیونکہ حقیقت کو دیکھنا کم لوگ چاہتے ہیں۔
رنگ و روشنی کے شور میں
فکر کا چراغ بجھنے لگا ہے.
کیا ادبی دنیا میں خواتین بھرپورپذیرائی بغیرسفارش کے حاصل کررہی ہیں؟
انیس فاطمہ:بہت کم،مگر جو دل سے لکھتی ہیں وہ دیر سے ہی سہی مگر سراہی ضرور جاتی ہیں۔
جو درد سے نکلا ہو لفظ, وہ کبھی نہیں مرتا،سفارشیں کمزور کرتی ہیں،قلم اگر سچا ہو،تو پہچانا جاتا ہے
لڑکیوں کو ہنرمند اورتعلیم یافتہ کیوں ہونا چاہیے؟
انیس فاطمہ:علم و ہنر عورت کا اصل وقار ہیں۔بیٹیاں ہوں تعلیم یافتہ تو گھر نہیں، معاشرے سنورتے ہیں۔
پاکستانی شعرا اور ادیبوں کو بین الاقوامی سطح پر بھرپورشناخت کیوں حاصل نہیں ہو سکی ہے؟
انیس فاطمہ:نمائندگی اور عالمی رسائی کی کمی ہے وگرنہ ہمارے پاس خیالات کی دولت ہے۔
زندگی کے کن واقعات نے باطنی طور پر تبدیل کیا ہے؟
انیس فاطمہ:رشتوں کی حقیقت، لوگوں کی فطرت اور تنہائی نے مجھے اندر سے نیا انسان بنایا۔
رومانویت سے لبریر ادب معاشرے کو تبدیل کرنے یا لوگوں کی سوچ بدلنے میں کامیاب ہوا ہے؟
انیس فاطمہ:ہاں۔۔۔ اگر وہ خواب سے زیادہ سچائی سے جْڑا ہو۔’محبت جب فکر میں ڈھلے، تو انقلاب لاتی ہے۔‘
معاشرے کو تبدیل کرنے میں خواتین قلم کار کتنا کردار ادا کر سکتی ہیں؟
انیس فاطمہ:خواتین کی تحریریں نئی سوچ کو جنم دیتی ہیں بشرطیکہ وہ درد سے لکھی گئی ہوں۔
قلم جب عورت کے ہاتھ ہو
تو وہ صرف تحریر نہیں، تقدیر لکھتی ہے.
ایوارڈز اورقارئین کی پذیرائی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؟
انیس فاطمہ:ایوارڈ محض سند یا ٹرافی نہیں ہوتے، یہ اس جذبے، محنت اور خلوص کی پہچان ہوتے ہیں جو قلم سے نکل کر دلوں میں اْترتا ہے۔ الحمدللہ میری شاعری اور تخلیقی کاوشوں کو مختلف قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔
محبت ملی جو قاری کی نظر سے
وہی ایوارڈ ہے دل کی سحر سے
مسقبل کے لیے کیا کچھ سوچ رکھا ہے؟
انیس فاطمہ:بچوں اور خواتین کے لیے ادب تخلیق کرنا تاکہ نئی نسل قلم کی طاقت سے جْڑ سکے۔
قارئین سرینگر جنگ کے نام کیا پیغام دیں گی۔
انیس فاطمہ:آپ میرے لفظوں کاوقار اور میری تحریر کی پہچان ہیں۔ ادب ایک خاموش انقلاب ہے اور قاری اس انقلاب کا پہلا چراغ۔مطالعہ انسان کے اندر کی آنکھ کھول دیتا ہے۔ میں آپ سے یہ کہنا چاہتی ہوں کہ الفاظ سے دوستی کیجیے،احساسات کو سمجھنے کی عادت ڈالیے اور محبت کے ساتھ سچ کہنے کا ہنرسیکھیں۔
لفظ وہی جو دل میں اْتر جائے
بات وہی جو روح کو چھوجائے
قلم کی نوک پہ لکھے ہوئے خیالوں میں
جہان چھپتے ہیں، خواب بولتے ہیں.
مطالعہ روح کی غذا ہے، ادب چراغِ راہ
قاری وہ ہے جو حرف سے محبت کرے بے پناہ
جو قاری ہے وہ خواب دیکھتا ہے
جو خواب دیکھتا ہے وہ دنیا بدلتا ہے
لفظ جب نیت سے نکلیں ، دل میں راستہ پاتے ہیں
اور قاری جب دل سے پڑھے , تو زمانہ جگاتے ہیں
۔ختم شد۔
٭٭٭٭٭

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں