گزشتہ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے سڑے ہوئے گوشت کے اسکینڈل نے عوام کے دلوں میں خوف اور بےچینی پیدا کر رکھی ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت پر سے اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ہماری خوراک کس حد تک محفوظ ہے؟ابتدائی دنوں میں حکام نے میڈیا کے ذریعے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کی ’’مکمل اور سخت تحقیقات‘‘ کی جا رہی ہیں، مگر افسوس کہ ان دعوؤں کے بعد عملی طور پر کچھ واضح سامنے نہیں آیا۔ عوام آج بھی بنیادی سوالوں کے جواب کے منتظر ہیں: اس گھناؤنے دھندے کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ یہ مکروہ کاروبار کب سے چل رہا تھا؟ کیا کوئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ آئندہ اس طرح کے سانحات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟یہ خاموشی عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کر رہی ہے۔ صحت اور جان سے جڑے معاملات میں پردہ پوشی سب سے خطرناک رویہ ہے۔ عوام کا جاننا ان کا حق ہے، کیونکہ جواب دہی اندھیرے میں ممکن نہیں۔ ہر گزرتا دن شکوک کو بڑھاتا اور خوف کو گہرا کرتا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ محض سڑے گوشت کا نہیں، بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا ہے۔ فوڈ سیفٹی کے نظام بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ محض بیان بازی کے بجائے اصلاحات کی جائیں۔ اصل مجرم خواہ تاجر ہوں، سپلائر ہوں یا وہ اہلکار جنہوں نے آنکھیں بند کیں، انہیں فوری اور مثالی سزا ملنی چاہیے۔ اس سے کم کوئی اقدام دراصل سماج کے ساتھ جرم کو جواز بخشنے کے مترادف ہوگا۔یاد رکھنا ہوگا کہ یہاں داؤ پر صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ عوام کا اعتماد، حکومتی اداروں کی ساکھ اور پورے معاشرتی نظام پر بھروسہ لگا ہوا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ سچائی کو بلاکم و کاست سامنے لایا جائے۔ تاخیر اور خاموشی اس بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔
جرم سے زیادہ خوفناک خاموشی
جرم سے زیادہ خوفناک خاموشی
گزشتہ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے سڑے ہوئے گوشت کے اسکینڈل نے عوام کے دلوں میں خوف اور بےچینی پیدا کر رکھی ہے۔ یہ انکشاف نہ صرف روزمرہ زندگی کی بنیادی ضرورت پر سے اعتماد کو متزلزل کرتا ہے بلکہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ہماری خوراک کس حد تک محفوظ ہے؟ابتدائی دنوں میں حکام نے میڈیا کے ذریعے یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کی ’’مکمل اور سخت تحقیقات‘‘ کی جا رہی ہیں، مگر افسوس کہ ان دعوؤں کے بعد عملی طور پر کچھ واضح سامنے نہیں آیا۔ عوام آج بھی بنیادی سوالوں کے جواب کے منتظر ہیں: اس گھناؤنے دھندے کے پیچھے کون لوگ ہیں؟ یہ مکروہ کاروبار کب سے چل رہا تھا؟ کیا کوئی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ آئندہ اس طرح کے سانحات کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟یہ خاموشی عوام کے اعتماد کو مزید مجروح کر رہی ہے۔ صحت اور جان سے جڑے معاملات میں پردہ پوشی سب سے خطرناک رویہ ہے۔ عوام کا جاننا ان کا حق ہے، کیونکہ جواب دہی اندھیرے میں ممکن نہیں۔ ہر گزرتا دن شکوک کو بڑھاتا اور خوف کو گہرا کرتا جا رہا ہے۔
یہ معاملہ محض سڑے گوشت کا نہیں، بلکہ ایک پورے نظام کی ناکامی کا ہے۔ فوڈ سیفٹی کے نظام بری طرح بے نقاب ہو چکے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ محض بیان بازی کے بجائے اصلاحات کی جائیں۔ اصل مجرم خواہ تاجر ہوں، سپلائر ہوں یا وہ اہلکار جنہوں نے آنکھیں بند کیں، انہیں فوری اور مثالی سزا ملنی چاہیے۔ اس سے کم کوئی اقدام دراصل سماج کے ساتھ جرم کو جواز بخشنے کے مترادف ہوگا۔یاد رکھنا ہوگا کہ یہاں داؤ پر صرف کھانے پینے کی چیزیں نہیں بلکہ عوام کا اعتماد، حکومتی اداروں کی ساکھ اور پورے معاشرتی نظام پر بھروسہ لگا ہوا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ سچائی کو بلاکم و کاست سامنے لایا جائے۔ تاخیر اور خاموشی اس بحران کو مزید سنگین بنا دے گی۔


