بلال بشیر بٹ
ہاری پربت یا کوہِ ماراں کے جنوبی ڈھلوان پر کشمیر کے معروف صوفی بزرگ شیخ حمزہ مخدوم ولد محمد حمزہ رینہ 1573-1504کی آخری آرام گاہ ہے۔ یہ مزار اصل میں مغل شہنشاہ اکبرکے دور میں تعمیر ہوا اور بعد کے مغل گورنروں نے اسے وسعت دی۔ اندرونی حصہ خوبصورت پیپرماشی، نفیس خطاطی اور لکڑی کی جالی کاری سے مزین ہے۔ مخدوم صاحب کے ساتھ ان کے ممتاز شاگرد بابا داوود خاکی (1595-1529) کا مزار بھی موجود ہے جو اپنے استاد کے انتقال کے دو دہائیوں بعد وفات پا گئے۔
شیخ حمزہ مخدوم اور بابا داوود خاکی کے تعلقات صرف استاد و شاگرد یا صرف ایک ہی جگہ دفن ہونے تک محدود نہیں تھے۔ کشمیر میں یہ بات زباں زدِ عام ہے کہ مخدوم صاحب نے مغل بادشاہ اکبر کو کشمیر آنے کی دعوت دی تھی۔ یہ قصہ عام بات چیت اور سیاسی مباحث میں اکثر ابھرتا ہے۔ لیکن تاریخی حقائق کے سامنے یہ دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوتا ہے۔پی این کے بامزئی اپنی کتاب Culture and Political History of Kashmir میں مخدوم صاحب کو ’ غیر معمولی اثر و رسوخ اور روحانی گہرائی کے حامل بزرگ‘کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ مخدوم صاحب 1576 کے آس پاس وفات پا گئے جبکہ اکبر نے کشمیر کا الحاق 1586 میں کیایعنی مخدوم صاحب کے انتقال کے دس سال بعدیہ عمل وقوع پذیر ہوا ہے۔
سادہ الفاظ میںمخدوم صاحب مغل دربار کو دعوت نہیں دے سکتے تھے۔محیب الحسن اپنی کتاب Kashmir Under the Sultans میں لکھتے ہیں کہ ’جب مغل وادی میں داخل ہوئے، روحانی اور سیاسی ثالثی کا دائرہ مخدوم صاحب کے شاگردوں کے حوالے ہو چکا تھا۔‘ بہارستانِ شاہی اور حیدر ملک کی تاریخِ کشمیر بھی یہی تصدیق کرتی ہیں کہ اکبر کو دعوت اصل میں مخدوم صاحب کے شاگرد شیخ یعقوب صرفی اور بابا داوود خاکی نے دی تھی۔ان شاگرد وں نے مغل سلطنت سے کیوں رجوع کیا؟کیا ان کی نیت داخلی انتشار کے حل کے لئے تھی؟ سولہویں صدی کا کشمیر مذہبی اختلافات، اقتصادی بدحالی اور چک حکمرانوں کے سیاسی انتشار سے لرزاں تھا۔ جی ایم ڈی صوفی اپنی کتاب Kashir: A History of Kashmir میں لکھتے ہیں کہ ’اکبر کو بلانے کا مقصد خود مختاری کی قربانی نہیں بلکہ استحکام کی درخواست تھی۔‘
شیخ یعقوب صرفی نے اکبر کے دربار میں کشمیری معززین کی نمائندگی کی جہاں بابا داوود خاکی اور دیگر شاگرد ان کے ہمراہ تھے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ کشمیری مغل اقتدار کو خوش آمدید کہیں گے۔بابا داوود خاکی شہر خاص کے کلاش پور علاقے کے گنائی خاندان میں پیدا ہوئے۔ سلطان علی شاہ کے دربار میں استاد سے چیف جسٹس تک کے عہدے تک پہنچے۔ ان کی تحریریں سیاسی اضطراب اور عدل کی خواہش کو ظاہر کرتی ہیں۔
شیخ یعقوب صرفی شاعر و عالم تھے جنہوں نے اسلامی دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کیا اور نمائندگی میں علمی وزن بڑھایا۔
1586میں اکبر کا الحاق صرف چک حکومت کا خاتمہ نہیںبلکہ کشمیر کی خود مختاری کا بھی خاتمہ تھا۔ سلطنت جو 1339 میں شاہ میر کے ساتھ قائم ہوئی تھی ختم ہو گئی۔ فیصلے اب دہلی یا آگرہ سے لئے جانے لگے نہ کہ سرینگر سے۔
محیب الحسن لکھتے ہیں، ’چک خاندان کے خاتمے نے کشمیر کی آزاد سلطنت کا اختتام کر دیا۔اگرچہ مغل دور نے کشمیری ثقافت کو ترقی دی لیکن اس نے بعد میں آنے والے غیر ملکی حکمرانوں جیسے افغانی، سکھ اور ڈوگرہ کے لئے راہ ہموار کی۔اہم بات یہ ہے کہ اکبر نے خود الحاق کے بعد کشمیر کا دورہ نہیں کیا۔ چراغ بیگ اکبر کے اہم کمانڈروں میں سے ایک نے مغل فوج کو کشمیر میں داخل کیا۔
پوغ مغل نے فتح کے بعد مقامی مزاحمت کو دبانے اور اکبر کی حمایت کرنے پر مجبور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔حکمرانی مغل صوبائی حکام جیسے قاسم خان، یوسف خان، مرزا غیاث بیگ، علی مردان خان، عنایت اللہ خان، حسن بیگ، سیف خان، ابراہیم خان کے سپرد کی گئی جو زیادہ تر ٹیکس وصولی اور فوجی کنٹرول میں دلچسپی رکھتے تھے۔ بامزئی لکھتے ہیں، ’مغل گورنروں نے انتظامی تبدیلیاں متعارف کروائیں لیکن اکبر کے روحانی تجربات کشمیر میں زیادہ اثر نہیں ڈال سکے۔‘
اکبر کی صلحِ کل کی پالیسی نے ہندومسلم تعلقات کو معمولی طور پر بہتر کی لیکن دینِ الٰہی وادی میں رائج نہیں ہوا۔ تاریخ کی سنجیدگی ہمیں افسانے کی اجازت نہیں دیتی۔ مغل فتح کا کریڈٹ مخدوم صاحب پر ڈالنا ان کے شاگردوں کے مشکل فیصلے کو مٹانا ہے جنہوں نے اکبر کی طرف رجوع کیا۔ یہ حقیقت مخدوم صاحب کی روحانی حیثیت کو کم نہیں کرتی بلکہ ان کی میراث کا احترام ہے۔ بامزئی کے الفاظ میں، ’تاریخ کی حرمت، ایمان کی طرح سچائی میں ہے نہ کہ مبالغہ آرائی میں۔‘
حقیقت یہ ہے کہ بہارستانِ شاہی، تاریخِ کشمیر اور ماہرین جیسے محیب الحسن، جی ایم ڈی صوفی، بامزئی اور رفیقی کی تصدیق سے واضح ہے کہ کشمیر کے دروازے مغل سلطنت کے لئے مخدوم صاحب کے شاگردوں نے کھولے۔ ان کے فیصلے نے کشمیری تاریخ کا رخ ہمیشہ کے لئے بدل دیا1586 میں مغل حکمرانی کے ابتدائی ردعمل میں مقامی لوگوں نے ملا جلا رویہ اپنایا۔
کچھ صوفی علماء اور سنّی علما نے مغل سرپرستی کو خیر مقدم کہاجبکہ عام عوام نے آزادی کے خاتمے پر غم و رنج محسوس کیا۔ وقت کے ساتھ ٹیکسوں، وسائل کے استحصال اور مغل حکمرانی کی وجہ سے عام لوگ اس کو غیر ملکی تسلط کے طور پر دیکھنے لگے۔چک سلطنت کے خاتمے کے بعد شعیہ اثرورسوخ بھی کم ہوا اور آہستہ آہستہ انھیں حاشیے پر ڈال دیا گیا۔ جہانگیر کے دور میں سخت سنی علما نے سیاست پر غلبہ حاصل کیا اور شاہ جہاں کے دور میں پابندیاں بڑھ گئیں۔
اورنگزیب کے دور میں شعیہ کمیونٹی پر سب سے زیادہ مشکلات آئیں، کئی خانقاہیں اور امام بارگاہیں تباہ ہوئیںاور علماء کو اذیت دی گئی۔اٹھارویں صدی تک شعیہ برادری نے مشکلات کے باوجود اپنے مذہبی رسومات کو خفیہ طور پر برقرار رکھا۔ مجموعی طور پرکشمیری ابتدائی طور پر مغل حکمرانی کو محتاط امید اور محدود حمایت کے ساتھ قبول کرتے تھے لیکن دہائیوں بعد یہ حضور مغلوب اور خود مختاری کے نقصان کی کہانی بن گئی جو مقامی یاداشت اور تاریخی کتابوں میں محفوظ ہے۔
اس مضمون کو انگریز میں پڑھنے کے لئے دئے گئے لنک پر کلک کریں
https://www.onlykashmir.in/27908/mughal-conquest-comes-not-through-makdoom-sahib/


