آج بھارت اپنی آزادی کا 79واں یومِ جشن منا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں اُن بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جن کی بدولت غلامی کی طویل زنجیریں ٹوٹیں اور قوم کو سانس لینے کا آزاد ماحول نصیب ہوا۔ ہزاروں جانبازوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، تب جا کے یہ وطن آزاد ہوا۔
آزادی کا اصل مفہوم صرف بیرونی حکمران سے نجات نہیں بلکہ اندرونی بیماریوں سے بھی چھٹکارا ہے۔ جب تک ملک میں طرف داری، اقربا پروری، ذات پات کی تفریق، خاندانی حکمرانی اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر فیصلے جاری رہیں گےتب تک یہ آزادی ادھوری رہے گی۔
حقیقی آزادی تب ہوگی جب ہر شہری کو مذہبی آزادی حاصل ہو، جب کسی کو اس کے مذہب، عقیدے یا زبان کی بنیاد پر کمتر نہ سمجھا جائے، جب انصاف کا ترازو سب کے لئے برابر ہو۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے بعد سے اب تک جو ترقی ہوئی ہے وہ قابلِ فخر ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ناانصافی، بدعنوانی اور نفرت کی سیاست نے اس روشنی میں اندھیرے کی لکیریں بھی کھینچی ہیں۔ اگر ہم نے ان رجحانات کا سدباب نہ کیا تو ہماری آنے والی نسلیں ایک ایسے معاشرے کی وارث ہوں گی جہاں آزادی محض ایک رسمی دن کی تقریب رہ جائے گی۔
آزادی کے اس دن ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اس ورثے کو کس طرح محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نہ صرف اپنے حقوق کا تحفظ کریں گے بلکہ اپنے فرائض بھی دیانت داری سے ادا کریں گے۔ یہی قربانی کے ان سپوتوں سے حقیقی وفا ہوگی جنہوں نے ایک آزاد ہندوستان کا خواب دیکھا تھا۔


