جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/سرینگر کے نرورہ علاقے میں وادیٔ کشمیر کے عظیم صوفی شاعر اور بزرگ عبد الاحد زرگرکے مزار پر سالانہ یوم احد زرگر نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔ اس روحانی اور ادبی اجتماع میں وادی بھر سے زائرین، اہلِ علم، ادیب، فنکار اور اہلِ ذوق بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور اس صوفی بزرگ کی حیات و خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
احد زرگر جو بیسویں صدی کے اوائل میں پیدا ہوئے، اپنے عمیق صوفیانہ کلام، اخلاص اور محبتِ الٰہی کے پیغام کے ذریعے کشمیری ثقافتی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ آپ کے اشعار میں وحدتِ وجود، انسانیت کی برابری اور روحانی تربیت کا گہرا پیغام ملتا ہے جو مذہبی و سماجی سرحدوں سے ماورا ہوکر انسان کے باطن کی اصلاح پر زور دیتا ہے۔
تقریب کا آغاز مختلف علاقوں سے آئے ممتاز لوک فنکاروں کی پُرسوز پیشکش سے ہوا، جنہوں نے احدزرگرؒ کے مشہور نعتیہ اور صوفیانہ کلام کو اپنے مخصوص لوک اسلوب میں پیش کیا، جس سے محفل میں روحانی کیف و سرور کی فضا قائم ہوگئی۔
ممتاز اہلِ قلم، دانشوروں، اساتذہ اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے احد زرگرؒ کی زندگی اور فکر پر اپنے خیالات پیش کیے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ زرگرؒ کا پیغام آج کے معاشرتی اور فکری بحران میں بھی راہنمائی فراہم کرتا ہے، کیونکہ یہ محبت، عاجزی اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔
اس موقع پر احد زرگر میموریل فاؤنڈیشن کی جانب سے دو نامور شخصیات کو سالانہ اعزازات سے نوازا گیا۔ ممتاز ادیب و مترجم مشتاق برق کو کشمیری صوفیانہ شاعری کی تخلیقی اور ترجمہ جاتی خدمات پر ایوارڈ دیا گیا، جبکہ معروف لوک گلوکار گلزار احمد گنائی کو کشمیری لوک موسیقی اور بالخصوص زارگرؒ کے کلام کی دلنشین پیشکش کے ذریعے ان کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا گیا۔
ایوارڈ فاؤنڈیشن کے چیئرمین رفیق راز اور سرپرست خورشید زرگر نے پیش کیے۔ تقریب کا اختتام مزار شریف پر اجتماعی دعا کے ساتھ ہوا، جو وادی کی روحانی، ادبی اور ثقافتی وراثت کے ایک حسین امتزاج کی علامت بن گئی۔


