ڈبکی- افسانہ

فاضل شفیع بٹ

ہر ہر مہادیو ۔۔۔ہر ہر مہادیو ۔۔۔۔
یہ الفاظ چُگ صاحب اپنے لبوں پر گنگنا رہے تھے ۔چُگ صاحب اور میری ملاقات پہلگام میں ہوئی ۔میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے پنجترنی جا رہا تھا اور چُگ صاحب بھی اسی طرف جا رہے تھے ۔چُگ صاحب کے مطابق وہ پچھلے چھیالیس برس سے پنجترنی میں یاتروں کے لیے مفت لنگر چلانے کا کام انجام دے رہے تھے ۔چنانچہ نہایت قلیل وقت میں میری چُگ صاحب سے دوستی ہو گئی اور ہم آپس میں گھل مل گئے ۔۔۔میں نے چُگ صاحب سے یاترا کی اہمیت کے بارے میں چند سوالات کیے :
"چُگ صاحب !مجھے اس شیو جی کی پوترا یاترا کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتائیں ”
چُگ صاحب نے ایک گہرا سانس لیا۔اس کی آنکھوں میں ہمالیہ کے برفانی پہاڑوں جیسی تیز چمک تھی ۔اس نے نہایت خوش اسلوبی سے میرے سوال کا جواب دیا :
"بٹ صاحب ۔۔۔۔۔یہ محض یاترا ہی نہیں بلکہ ہمارے دھرم ،ہمارے کرم، ہمارے جسم کو پاک و صاف رکھنے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو گویا شیو جی نے اپنےبھکتوں پر کرپا کی ہے ۔
بٹ صاحب آپ کو معلوم ہوگا پہلگام کا پرانا نام "بیل گاؤں "تھا کیونکہ شیو جی نے یاترا کے شروع ہوتے ہی اپنے ساتھی بیل کو یہیں خیر آباد کہا تھا۔وہ پاروتی دیوی کو امر کتھا سنانا چاہتے تھے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں۔امر کتھا سنانے کے لیے شیو جی نے اپنے سفر کا آغاز پہلگام سے ہی کیا تھا ۔
بٹ صاحب آپ کو بخوبی معلوم ہوگا کہ چندن واری میں شیو جی نے اپنے ماتھے سے چندن کو ہٹا دیا تھا اور آگے بڑھ کر شیو جی نے اپنے گلے سے ناگ کو ہٹا کر شیش ناگ کے آغوش میں دان کر دیا تھا ۔حالانکہ شیو جی کے ساتھ گنیش بھی تھے،انہوں نے گنیش کو مہا گنیش ٹاپ پر الوادع کہہ کر پاروتی دیوی کے ہمراہ اپنے سفر کو جاری رکھا ”
اسی اثنا ہم چندن واری تک پہنچ چکے تھے اور میں نے آگے کا سفر جاری رکھنے کے لیے گھوڑے بان سے بات کرنی چاہی کہ چُگ صاحب نے میری پیٹھ تھپتھپائی اور کہا :
"ارے بٹ صاحب۔۔ آپ تو جوان ہیں۔۔کیوں ایک بے زبان کی جان کے پیچھے پڑے ہو ؟ ۔آپ کو معلوم بھی ہے کہ پہاڑوں پر چڑھتے سمے ان گھوڑوں کی کیا ہی بری حالت ہو جاتی ہے ۔
بٹ صاحب۔۔۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ان کے پاس زبان ہوتی تو ان کی روداد کہانیوں، افسانوں، اور ناولوں میں وقت کے ادیبوں نے قلم بند کی ہوتی۔خود غرض انسان زیادہ سے زیادہ پیسے کمانےکے چکر میں ان بے زبان گھوڑوں پر جھلستی گرمی میں ڈھیر سارا بوجھ لادتے ہیں۔مجھے تو ان بے زبانوں پر ترس آتا ہے،اس لیے میرا دستور رہا ہے کہ جب بھی یاترا کے لیے آتا ہوں تو کبھی بھی گھوڑے وغیرہ کا استعمال نہیں کرتا بلکہ اپنے پیروں پر چل کر شیوجی کے دربار میں حاضری دیتا ہوں۔۔۔بٹ صاحب آئیے ہم ایک ساتھ چل کر اپنے سفر کو جاری رکھتے ہیں ”
"ٹھیک ہے چُگ صاحب "۔۔۔میں نے نحیف آواز میں جواب دیا
"تو بٹ صاحب ۔۔میں کہاں پر تھا ….ہاں ہاں یاد آیا ۔۔۔۔امر کتھا ۔۔۔شیوجی پاروتی دیوی کو امر کرنا چاہتا تھا اور یہ تبھی ممکن تھا جب پاروتی دیوی وہ امر کتھا ہمہ تن گوش کسی پر سکون جگہ پر اپنے کانوں میں ڈالتی”
چُگ صاحب کی بات جا رہی تھی کہ میں نے بیچ میں بولا :
"چُگ صاحب یہ کون سی جگہ ہے ”
"جناب یہ پوش پتھری ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 13000 فٹ کی اونچائی پر واقع ایک نہایت خوبصورت جگہ ہے۔”
واقعی پوش پتھری کی جگہ دل کو بھا گئی ۔قدرت نے پوش پتھری کو چاروں طرف سے برفیلی پہاڑوں سے ڈھکا تھا ۔تند ہوا گویا ہڑیوں کو پل بھر کے لیے بے جان کر دیتی۔میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اتنی اونچائی پر راجو سیٹھی صاحب نے یاتروں کے لیے ایک نہایت عمدہ قسم کے لنگر کا اہتمام کیا تھا ۔ایسا لنگر جو کہ ایک شہر کے عمدہ ترین ریستوراں سے کم نہ تھا ۔راجو سیٹھی صاحب پچھلی چار دہائیوں سے اس لنگر کا اہتمام کر رہے تھے ۔یہاں یاتریوں کے لیے تازہ پھل،سبزی، دال ،روٹی اور قسم وار مٹھائیاں دستیاب تھیں۔چندن واری سے پوش پتھری تک کا سفر نہایت اذیت ناک تھا اور جسم کے سارے اعضاء جواب دے چکے تھے اس لیے ہم راجو سیٹھی صاحب کے لنگر میں لذیز کھانے سے شکم سیر ہوئے ۔تھوڑی دیر تک راجو سیٹھی صاحب سے بات چیت کا دور چلا جس میں راجو سیٹھی صاحب نے بولا کہ وہ یہ لنگر محض یاتروں کی خدمت کے لیے چلا رہے ہیں اور وہ کسی بھی یاتری سے کوئی پیسے وغیرہ نہیں لیتا اور اور ساتھ میں گھوڑوں کے لیے چارہ اور گھوڑے بانوں کے لیے الگ سے کھانے کا بھی اہتمام ہوتا ہے ۔میں کافی متاثر ہوا ۔ہم نے راجو سیٹھی صاحب کو الوداع کہا اور اپنا سفر جاری رکھا ۔
چُگ صاحب نے اپنا کلام جاری رکھا :
"بٹ صاحب یہ کتنی پوترا یاترا ہے ۔۔۔۔۔ میں تو سال بھر بس اسی کے انتظار میں رہتا ہوں ۔اور ہاں آپ کو بتاتاچلوں کہ جب شیو جی اور پاروتی دیوی پنجترنی کی وادی میں پہنچ گئے تو شیو جی نے زندگی کے پانچ عناصر ( آگ ،پانی ،ہوا، زمین اور آسمان ) اسی وادی میں تیاگ کیے۔
شیو جی نے دنیا سے پرے،شور شرابہ سے کوسوں دور ،ان بلند و بالا برفیلے پہاڑوں کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ امرکتھا کوئی اور نہ سن سکے ”
پنجترنی واقعی جنت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ثابت ہوا ۔یہ وادی چاروں طرف سے قد آور پہاڑوں کے گھیراو میں ہے۔ یہاں کے آبشار واقعی قدرت کے حسن کی جابجا تصویریں ہیں ،برفیلے پہاڑوں سے سفید پانی کے دھارے ہر سو بہتے نظر آتے ہیں اور ان یخ بستہ ندیوں کے بیچ ایک گرم پانی کا چشمہ بھی ہے ۔یہاں کی خوبصورتی آنکھوں کو مسحور کر دیتی ہے۔پنجترنی یاتریوں کا ایک بہت بڑا پڑاؤ بھی مانا جاتا ہے۔یہاں سے پوترا گھپا کی دوری محض چھ میل ہے ۔یہاں بھی یاتریوں کے لیے مفت لنگر دستیاب رہتے ہیں۔چُگ صاحب یہاں پچھلے 46 سال سے لنگر چلانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ پنجترنی وادی میں بہتی بیچوں بیچ کی ندی اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہے۔
ہم چلتے چلتے جوں ہی گھپا کے قریب پہنچے تو چُگ صاحب نے ہر ہر مہادیو کا نعرہ بلند کیا۔اس کی آنکھیں نمناک تھیں۔گھپا کو دیکھ کر چُگ صاحب کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوئے۔وہ بھیگی آنکھوں سے مجھ سے مخاطب تھا:
"بٹ صاحب یہ دیکھیے شیو جی مہاراج کی پوترا گھپا جہاں انہوں نے پاروتی دیوی کو امر کتھا سنائی تھی ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پاروتی دیوی پر امر کتھا سنتے سنتے نیند غالب پڑی اور وہ سو گئی ۔شیو جی امر کتھا سناتے رہے لیکن نیند میں ہونے کے سبب پاروتی دیوی پوری امر کتھا سننے سے قاصر رہی۔بس اسی وجہ سے پاروتی دیوی امر نہ ہو سکی لیکن انوکھی بات یہ ہے کہ کبوتر کا جوڑا جو گھپا میں موجود تھا پوری امر کتھا سنتا رہا اور وہ امر ہو گیا ۔یہی وجہ ہے کہ درشن کے وقت وہ کبوتر آج بھی یہاں نمودار ہوتے ہیں۔
بٹ صاحب آپ کو اس بات کا علم تو ضرور ہوگا کہ کشمیری چرواہے بوٹا ملک صاحب نے اس پوترا گھپا میں شیو جی مہاراج کے درشن کیے تھے۔ یہ تو اسی کشمیری بھائی صاحب کی ذرہ نوازی ہے جنہون نے اس پوترا گھپا کی جانکاری سرکار کو فراہم کی تھی گویا بوٹا ملک صاحب نے شیو جی کے بھکتوں پر احسان کیا ہے اور آپسی بھائی چارے کی ایک لافانی مثال قائم کی ہے”
میں نے گھپا کا باریکی معائنہ کیا۔واقعی گھپا بھی قدرت کی جیتی جاگتی تصویر ثابت ہوئی۔معلوم نہیں مجھے اس بات کا احساس کیوں ہوا کہ جو بھی لوگ اپنی ٹوٹی پھوٹی امیدوں کے ساتھ یہاں درشن کے لیے آتے ہوں گے ،مہا دیو ان کو نراش نہیں کرتے ہوں گے۔
درشن کے بعد ہم واپس پنجترنی روانہ ہوئے ۔چُگ صاحب کے لنگر پر میں نے چائےنوش فرمائی۔چُگ صاحب نے مزید کہا :
"بٹ صاحب آپ کو معلوم ہے۔۔جو یہ ندی بیچ میں بہتی ہے نا …اس کی بھی اپنی کہانی ہے …میرا ایک دوست بڑی مصیبت میں تھا ۔۔۔بیچارہ… بے یار و مددگار …جب اس نے اپنی ستم ظریفی کا ذکر مجھ سے کیا تو میں نے اس کو اس ندی میں علی الصبح ڈُبکی لگانے کا مشورہ دیا ۔۔۔بٹ صاحب آپ کو یقین تو نہیں ہوگا۔۔۔بندے نے اگلے دن صبح سویرے یخ بستہ پانی میں ڈُبکی لگائی اور شام تک اس کی پریشانی ایک دم سے مان لو اوجھل ہو گئی۔۔ہم مانتے ہیں کہ اس ندی میں ڈُبکی لگانے سے من کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں۔
اسی طرح میری ایک دور کی رشتہ دار تھی ۔شادی کے بعد کئی سال تک بے اولاد رہی ۔اس بیچ ڈاکٹروں سے کافی علاج کروایا ۔۔مان لو وہ اپنی زندگی سے اکتا چکی تھیں۔۔۔میں نے اس کو بھی ڈُبکی لگانے کا مشورہ دیا ۔۔۔پہلے پہل تو اس نے صاف صاف انکار کیا لیکن بالآخر اس نے میری بات مان لی ۔۔۔یاترا کے دوران اس نے بھی صبح سویرے ندی کے ٹھنڈے پانی میں ڈُبکی لگائی ۔۔۔
بٹ صاحب ایک سال میں اس کی گود میں ننھا سا پھول تھا ”
میں نے غور سے دیکھا چُگ صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔وہ زور زور سے رونا چاہتا تھا شاید میری وجہ سے اس نے آنسوؤں کو آنکھوں میں روک کے رکھا۔واقعی چُگ صاحب ایک اعلی قسم کے انسان تھے ۔تھوڑی سی مدت میں ہمارے مراسم کافی گہرے ہوئے۔اب میں روزانہ ان کے لنگر پر چائے پینے کے لیے چلا جاتا تھا ۔
ایک دن میں کافی تھک ہار چکا تھا ۔سر میں بہت تیز درد ہو رہا تھا ۔چُگ صاحب نے چائے کے لیے مدعو کیا۔ہم چائے پی رہے تھے اور میرا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا ۔میں نے چُگ صاحب سے سر درد کی شکایت کی۔انہوں نے جیب سے دوائی نکالی ۔میں نے دوائی لینے سے صاف صاف انکار کیا کیونکہ میں دوائی کھا چکا تھا ۔میں نے چُگ صاحب سے کہا :
"چُگ صاحب دوائی بے سود ثابت ہو رہی ہے۔مجھے لگتا ہے اس ندی میں ڈبکی لگانی چاہیے ”
چُگ صاحب نے محبت آمیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا :
"بٹ صاحب آپ کل صبح سویرے ڈبکی لگائیے ۔۔اگر سر درد ختم نہ ہوا تو میرا نام بدل دیجیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

ڈبکی- افسانہ

فاضل شفیع بٹ

ہر ہر مہادیو ۔۔۔ہر ہر مہادیو ۔۔۔۔
یہ الفاظ چُگ صاحب اپنے لبوں پر گنگنا رہے تھے ۔چُگ صاحب اور میری ملاقات پہلگام میں ہوئی ۔میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے پنجترنی جا رہا تھا اور چُگ صاحب بھی اسی طرف جا رہے تھے ۔چُگ صاحب کے مطابق وہ پچھلے چھیالیس برس سے پنجترنی میں یاتروں کے لیے مفت لنگر چلانے کا کام انجام دے رہے تھے ۔چنانچہ نہایت قلیل وقت میں میری چُگ صاحب سے دوستی ہو گئی اور ہم آپس میں گھل مل گئے ۔۔۔میں نے چُگ صاحب سے یاترا کی اہمیت کے بارے میں چند سوالات کیے :
"چُگ صاحب !مجھے اس شیو جی کی پوترا یاترا کے بارے میں ذرا تفصیل سے بتائیں ”
چُگ صاحب نے ایک گہرا سانس لیا۔اس کی آنکھوں میں ہمالیہ کے برفانی پہاڑوں جیسی تیز چمک تھی ۔اس نے نہایت خوش اسلوبی سے میرے سوال کا جواب دیا :
"بٹ صاحب ۔۔۔۔۔یہ محض یاترا ہی نہیں بلکہ ہمارے دھرم ،ہمارے کرم، ہمارے جسم کو پاک و صاف رکھنے کا ایک ایسا ذریعہ ہے جو گویا شیو جی نے اپنےبھکتوں پر کرپا کی ہے ۔
بٹ صاحب آپ کو معلوم ہوگا پہلگام کا پرانا نام "بیل گاؤں "تھا کیونکہ شیو جی نے یاترا کے شروع ہوتے ہی اپنے ساتھی بیل کو یہیں خیر آباد کہا تھا۔وہ پاروتی دیوی کو امر کتھا سنانا چاہتے تھے تاکہ وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جائیں۔امر کتھا سنانے کے لیے شیو جی نے اپنے سفر کا آغاز پہلگام سے ہی کیا تھا ۔
بٹ صاحب آپ کو بخوبی معلوم ہوگا کہ چندن واری میں شیو جی نے اپنے ماتھے سے چندن کو ہٹا دیا تھا اور آگے بڑھ کر شیو جی نے اپنے گلے سے ناگ کو ہٹا کر شیش ناگ کے آغوش میں دان کر دیا تھا ۔حالانکہ شیو جی کے ساتھ گنیش بھی تھے،انہوں نے گنیش کو مہا گنیش ٹاپ پر الوادع کہہ کر پاروتی دیوی کے ہمراہ اپنے سفر کو جاری رکھا ”
اسی اثنا ہم چندن واری تک پہنچ چکے تھے اور میں نے آگے کا سفر جاری رکھنے کے لیے گھوڑے بان سے بات کرنی چاہی کہ چُگ صاحب نے میری پیٹھ تھپتھپائی اور کہا :
"ارے بٹ صاحب۔۔ آپ تو جوان ہیں۔۔کیوں ایک بے زبان کی جان کے پیچھے پڑے ہو ؟ ۔آپ کو معلوم بھی ہے کہ پہاڑوں پر چڑھتے سمے ان گھوڑوں کی کیا ہی بری حالت ہو جاتی ہے ۔
بٹ صاحب۔۔۔ میرا ماننا ہے کہ اگر ان کے پاس زبان ہوتی تو ان کی روداد کہانیوں، افسانوں، اور ناولوں میں وقت کے ادیبوں نے قلم بند کی ہوتی۔خود غرض انسان زیادہ سے زیادہ پیسے کمانےکے چکر میں ان بے زبان گھوڑوں پر جھلستی گرمی میں ڈھیر سارا بوجھ لادتے ہیں۔مجھے تو ان بے زبانوں پر ترس آتا ہے،اس لیے میرا دستور رہا ہے کہ جب بھی یاترا کے لیے آتا ہوں تو کبھی بھی گھوڑے وغیرہ کا استعمال نہیں کرتا بلکہ اپنے پیروں پر چل کر شیوجی کے دربار میں حاضری دیتا ہوں۔۔۔بٹ صاحب آئیے ہم ایک ساتھ چل کر اپنے سفر کو جاری رکھتے ہیں ”
"ٹھیک ہے چُگ صاحب "۔۔۔میں نے نحیف آواز میں جواب دیا
"تو بٹ صاحب ۔۔میں کہاں پر تھا ….ہاں ہاں یاد آیا ۔۔۔۔امر کتھا ۔۔۔شیوجی پاروتی دیوی کو امر کرنا چاہتا تھا اور یہ تبھی ممکن تھا جب پاروتی دیوی وہ امر کتھا ہمہ تن گوش کسی پر سکون جگہ پر اپنے کانوں میں ڈالتی”
چُگ صاحب کی بات جا رہی تھی کہ میں نے بیچ میں بولا :
"چُگ صاحب یہ کون سی جگہ ہے ”
"جناب یہ پوش پتھری ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 13000 فٹ کی اونچائی پر واقع ایک نہایت خوبصورت جگہ ہے۔”
واقعی پوش پتھری کی جگہ دل کو بھا گئی ۔قدرت نے پوش پتھری کو چاروں طرف سے برفیلی پہاڑوں سے ڈھکا تھا ۔تند ہوا گویا ہڑیوں کو پل بھر کے لیے بے جان کر دیتی۔میں یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اتنی اونچائی پر راجو سیٹھی صاحب نے یاتروں کے لیے ایک نہایت عمدہ قسم کے لنگر کا اہتمام کیا تھا ۔ایسا لنگر جو کہ ایک شہر کے عمدہ ترین ریستوراں سے کم نہ تھا ۔راجو سیٹھی صاحب پچھلی چار دہائیوں سے اس لنگر کا اہتمام کر رہے تھے ۔یہاں یاتریوں کے لیے تازہ پھل،سبزی، دال ،روٹی اور قسم وار مٹھائیاں دستیاب تھیں۔چندن واری سے پوش پتھری تک کا سفر نہایت اذیت ناک تھا اور جسم کے سارے اعضاء جواب دے چکے تھے اس لیے ہم راجو سیٹھی صاحب کے لنگر میں لذیز کھانے سے شکم سیر ہوئے ۔تھوڑی دیر تک راجو سیٹھی صاحب سے بات چیت کا دور چلا جس میں راجو سیٹھی صاحب نے بولا کہ وہ یہ لنگر محض یاتروں کی خدمت کے لیے چلا رہے ہیں اور وہ کسی بھی یاتری سے کوئی پیسے وغیرہ نہیں لیتا اور اور ساتھ میں گھوڑوں کے لیے چارہ اور گھوڑے بانوں کے لیے الگ سے کھانے کا بھی اہتمام ہوتا ہے ۔میں کافی متاثر ہوا ۔ہم نے راجو سیٹھی صاحب کو الوداع کہا اور اپنا سفر جاری رکھا ۔
چُگ صاحب نے اپنا کلام جاری رکھا :
"بٹ صاحب یہ کتنی پوترا یاترا ہے ۔۔۔۔۔ میں تو سال بھر بس اسی کے انتظار میں رہتا ہوں ۔اور ہاں آپ کو بتاتاچلوں کہ جب شیو جی اور پاروتی دیوی پنجترنی کی وادی میں پہنچ گئے تو شیو جی نے زندگی کے پانچ عناصر ( آگ ،پانی ،ہوا، زمین اور آسمان ) اسی وادی میں تیاگ کیے۔
شیو جی نے دنیا سے پرے،شور شرابہ سے کوسوں دور ،ان بلند و بالا برفیلے پہاڑوں کا انتخاب اس لیے کیا تاکہ امرکتھا کوئی اور نہ سن سکے ”
پنجترنی واقعی جنت کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ثابت ہوا ۔یہ وادی چاروں طرف سے قد آور پہاڑوں کے گھیراو میں ہے۔ یہاں کے آبشار واقعی قدرت کے حسن کی جابجا تصویریں ہیں ،برفیلے پہاڑوں سے سفید پانی کے دھارے ہر سو بہتے نظر آتے ہیں اور ان یخ بستہ ندیوں کے بیچ ایک گرم پانی کا چشمہ بھی ہے ۔یہاں کی خوبصورتی آنکھوں کو مسحور کر دیتی ہے۔پنجترنی یاتریوں کا ایک بہت بڑا پڑاؤ بھی مانا جاتا ہے۔یہاں سے پوترا گھپا کی دوری محض چھ میل ہے ۔یہاں بھی یاتریوں کے لیے مفت لنگر دستیاب رہتے ہیں۔چُگ صاحب یہاں پچھلے 46 سال سے لنگر چلانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ پنجترنی وادی میں بہتی بیچوں بیچ کی ندی اس کی خوبصورتی میں اضافہ ہے۔
ہم چلتے چلتے جوں ہی گھپا کے قریب پہنچے تو چُگ صاحب نے ہر ہر مہادیو کا نعرہ بلند کیا۔اس کی آنکھیں نمناک تھیں۔گھپا کو دیکھ کر چُگ صاحب کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوئے۔وہ بھیگی آنکھوں سے مجھ سے مخاطب تھا:
"بٹ صاحب یہ دیکھیے شیو جی مہاراج کی پوترا گھپا جہاں انہوں نے پاروتی دیوی کو امر کتھا سنائی تھی ۔افسوس کی بات یہ ہے کہ پاروتی دیوی پر امر کتھا سنتے سنتے نیند غالب پڑی اور وہ سو گئی ۔شیو جی امر کتھا سناتے رہے لیکن نیند میں ہونے کے سبب پاروتی دیوی پوری امر کتھا سننے سے قاصر رہی۔بس اسی وجہ سے پاروتی دیوی امر نہ ہو سکی لیکن انوکھی بات یہ ہے کہ کبوتر کا جوڑا جو گھپا میں موجود تھا پوری امر کتھا سنتا رہا اور وہ امر ہو گیا ۔یہی وجہ ہے کہ درشن کے وقت وہ کبوتر آج بھی یہاں نمودار ہوتے ہیں۔
بٹ صاحب آپ کو اس بات کا علم تو ضرور ہوگا کہ کشمیری چرواہے بوٹا ملک صاحب نے اس پوترا گھپا میں شیو جی مہاراج کے درشن کیے تھے۔ یہ تو اسی کشمیری بھائی صاحب کی ذرہ نوازی ہے جنہون نے اس پوترا گھپا کی جانکاری سرکار کو فراہم کی تھی گویا بوٹا ملک صاحب نے شیو جی کے بھکتوں پر احسان کیا ہے اور آپسی بھائی چارے کی ایک لافانی مثال قائم کی ہے”
میں نے گھپا کا باریکی معائنہ کیا۔واقعی گھپا بھی قدرت کی جیتی جاگتی تصویر ثابت ہوئی۔معلوم نہیں مجھے اس بات کا احساس کیوں ہوا کہ جو بھی لوگ اپنی ٹوٹی پھوٹی امیدوں کے ساتھ یہاں درشن کے لیے آتے ہوں گے ،مہا دیو ان کو نراش نہیں کرتے ہوں گے۔
درشن کے بعد ہم واپس پنجترنی روانہ ہوئے ۔چُگ صاحب کے لنگر پر میں نے چائےنوش فرمائی۔چُگ صاحب نے مزید کہا :
"بٹ صاحب آپ کو معلوم ہے۔۔جو یہ ندی بیچ میں بہتی ہے نا …اس کی بھی اپنی کہانی ہے …میرا ایک دوست بڑی مصیبت میں تھا ۔۔۔بیچارہ… بے یار و مددگار …جب اس نے اپنی ستم ظریفی کا ذکر مجھ سے کیا تو میں نے اس کو اس ندی میں علی الصبح ڈُبکی لگانے کا مشورہ دیا ۔۔۔بٹ صاحب آپ کو یقین تو نہیں ہوگا۔۔۔بندے نے اگلے دن صبح سویرے یخ بستہ پانی میں ڈُبکی لگائی اور شام تک اس کی پریشانی ایک دم سے مان لو اوجھل ہو گئی۔۔ہم مانتے ہیں کہ اس ندی میں ڈُبکی لگانے سے من کی مرادیں پوری ہو جاتی ہیں۔
اسی طرح میری ایک دور کی رشتہ دار تھی ۔شادی کے بعد کئی سال تک بے اولاد رہی ۔اس بیچ ڈاکٹروں سے کافی علاج کروایا ۔۔مان لو وہ اپنی زندگی سے اکتا چکی تھیں۔۔۔میں نے اس کو بھی ڈُبکی لگانے کا مشورہ دیا ۔۔۔پہلے پہل تو اس نے صاف صاف انکار کیا لیکن بالآخر اس نے میری بات مان لی ۔۔۔یاترا کے دوران اس نے بھی صبح سویرے ندی کے ٹھنڈے پانی میں ڈُبکی لگائی ۔۔۔
بٹ صاحب ایک سال میں اس کی گود میں ننھا سا پھول تھا ”
میں نے غور سے دیکھا چُگ صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔وہ زور زور سے رونا چاہتا تھا شاید میری وجہ سے اس نے آنسوؤں کو آنکھوں میں روک کے رکھا۔واقعی چُگ صاحب ایک اعلی قسم کے انسان تھے ۔تھوڑی سی مدت میں ہمارے مراسم کافی گہرے ہوئے۔اب میں روزانہ ان کے لنگر پر چائے پینے کے لیے چلا جاتا تھا ۔
ایک دن میں کافی تھک ہار چکا تھا ۔سر میں بہت تیز درد ہو رہا تھا ۔چُگ صاحب نے چائے کے لیے مدعو کیا۔ہم چائے پی رہے تھے اور میرا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا ۔میں نے چُگ صاحب سے سر درد کی شکایت کی۔انہوں نے جیب سے دوائی نکالی ۔میں نے دوائی لینے سے صاف صاف انکار کیا کیونکہ میں دوائی کھا چکا تھا ۔میں نے چُگ صاحب سے کہا :
"چُگ صاحب دوائی بے سود ثابت ہو رہی ہے۔مجھے لگتا ہے اس ندی میں ڈبکی لگانی چاہیے ”
چُگ صاحب نے محبت آمیز نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہا :
"بٹ صاحب آپ کل صبح سویرے ڈبکی لگائیے ۔۔اگر سر درد ختم نہ ہوا تو میرا نام بدل دیجیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں