ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
وراثتی کاروبار میں بڑی بھاوج اور اس کے بھائی کی دخل اندازی سے سرفراز کو آٹھویں تک سکول نصیب ہوا اور 13 سال کی عمر سے کارو بار میں گھر کا ہاتھ بٹانے لگا ۔ بھاوج اور اس کے بھائی کا چلن سارے گھر پر چلتا رہا بغاوت کی ہمت نہیں کسی سے اگر سرزر ہوجاتی ۔
پھر اس کی خیر نہیں ۔سرفراز فرصت کے لمحات چوری چھپے محلے کے آموزگار کے پاس گزارتا تاکہ تعلیم جاری رکھے ۔کسی طرح یہ بھنک بھاوج اور اس کے بھائی کے کان پڑی آموزگار کو ڈرا دھمکا کر سرفراز کا دروازہ بند کیا اور اسے کوسوں دور بھگایا۔سرفراز جامعہ میں پناہ گزین ہوا اسکی حالات زار دیکھ کر جامعہ کے سربرآوردہ شخصیات نے اس کے پیچدہ مسائل حل کئے مفت تعلیم پڑھائی پھر کام دلواکر سرفراز کا گھر بسایا ۔بھاوج اور اسکے بھائی نے سرفراز کو عزل قرار دیکر اس کی ساری جایئداد ہڑپ کرلی۔۔
دوسری طرف سسرالی رشتہ کے ایک فرد نے سرفراز کو اپنے آئینے میں اتار کر اپنی جائیداد حاصل کرنے پر آمادہ کیا۔بھاوج اور اسکے بھائی کو لوور کورٹ تک گھسیٹ لایا۔لیکن چائے پانی پینے سے سسرالی ہمدرد بھی شیر سے گیدڑ بنا۔پھر سرفراز کو جامعہ میں رفیق شفیق بہت ملے۔خصوصأ خاص رفیق شفیق "مبشر”آنکھوں سے دور خط و کتابت کے ذریعے تعارف ہوا *مبشر*کافی ملنسار ثابت ہوے۔سرفراز کو جب بھی کوئی مشکل آن پڑتی تو *مبشر* سے رابطہ جوڑتے * وہ* بھی اسکے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھ کر فورأ اس کا ازالہ کرتے۔۔۔۔۔۔۔پھر آہستہ آہستہ لیل و النہار کی گردشیں وقت کولپیٹتی رہیں رفیق شفیق کی تعداد بھی بڑھ گئی ۔ایسے بھی ملے کہ سرفراز اور اس کی شریک حیات کے دکھ کے مداوا بن گئے۔ان کو دیکھ کر۔دونوں میاں بیوی کی حوصلہ افزائی بڑھی دونوں کی زندگی میں ایسی کوئی شام نہیں گزری کہ رفیق شفیق نہ آئےاور دونوں میاں بیوی کو اپنی ہمدردانہ باتوں سے ان کا دل بہلاے۔دونوں میاں بیوی کا اعتماد رفیق شفیق پر اتنا بڑھا کہ خضر نظر آنے لگے۔
کبھی نہ آتے تو دونوں میاں بیوی دیر تک راہ کو تکتے رہتے ۔پھر بیوی اپنے میاں سرفراز سے کہتی۔(غا لبأ آپ نے رفیق شفیق سے عاریتأ بولا ہوگا تبھی رفیق شفیق راستہ بھولا ہوگا ) سرفراز کا ماتھا ٹھنکا اور اعتراف کیا فراموشی کا مادہ انسان میں موجود ہے ۔ایسا ہی کوئی رفیق شفیق یوم النحر پر کنکریاں پھینکنے نہیں ایا بلکہ کسی کو معاوضہ چکایا پھر فراموشی کا شکار ہوا۔ طویل مدت ہوئی رفیق شفیق نہ آئے پھر بھی جب دونوں میاں بیوی کے گھر کے دروازے پر کھٹ کھٹ ہوجاتی دونوں میاں بیوی کا دل بلیوں اچھلنے لگتا پھر دو نوں مایوس ہوکر گم سم ایک دوسرے کو خاموش اور حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے رہتے۔ایسے میں سرفراز کو*مبشر * کی یاد آجاتی خط و کتابت کے ذریعے سرفراز کو تسلی مل جاتی کہ عدالت عظمی میں خود تمہارا مقدمہ لڑوں گا اور وہ سب کچھ تجھے دلاوں گا جو تیرے گمان میں بھی نہیں ہے۔۔*مبشر * کی عدالت عظمی کی یہ۔بشارت سرفراز اور اس کی بیوی کے سارے دکھ درد دور کرتے رہے ۔۔

