جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی: انڈیا TVکے مقبول پروگرام” آپ کی عدالت "میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پہلگام حملے کے وقت جائے واردات پر پولیس اور فوج کی عدم موجودگی کی وجوہات بتائیں۔ انہوں نے پروگرام کے میزبان اور انڈیا ٹی وی کے چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف رجات شرما کے سوالات کا کھل کر جواب دیا۔
پروگرام کے دوران منوج سنہا پاکستانی دہشت گردوں کے ہاتھوں پہلگام میں 26 بے گناہ سیاحوں کے قتلِ عام کا ذکر کرتے ہوئے جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے کہا:
"22 اپریل کے بعد مجھے نیند نہیں آئی۔ یہ بھارت کی روح پر حملہ تھا۔ جب تینوں قاتلوں کو مار گرایا گیا، تب ہی سکون کی نیند آئی۔”
جب رجت شرما نے پوچھا کہ بائسارن گھاٹی میں، جہاں سیاح پکنک منا رہے تھے اور پیزا کی دکانیں موجود تھیں، ایک بھی پولیس اہلکار کیوں تعینات نہیں تھا؟ اس پر منوج سنہا نے وضاحت دیتے ہوئے کہا:”بائسرن میں سیاحوں کو زپ لائننگ اور دیگر سہولیات فراہم کرنے والا ایک نجی شخص تھا۔ جموں و کشمیر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے اسے کوئی اجازت نامہ نہیں دیا تھا اور نہ ہی اس نے انتظامیہ یا پولیس کو اپنی سرگرمیوں کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ چار سال سے وادی میں امن تھا اور کئی چھوٹے سیاحتی مقامات وجود میں آ گئے تھے۔”
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان پر کہ لیفٹیننٹ گورنر کی ناکامی نے ملک کو جنگ کے دہانے پر پہنچا دیا، منوج سنہا نے جواب دیا:
"اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو میں اس کا خیرمقدم کرتا ہوں، لیکن انہیں یہ بھی کہنا چاہیے کہ دہائیوں تک پاکستان وادی کے لیے ’اسٹرائیک کیلنڈر‘ جاری کرتا رہا، جس کے باعث اسکول، کالج اور بازار سال میں 132 دن بند رہتے تھے۔ پتھراؤ کے واقعات عام تھے اور سیکورٹی اہلکار شہید ہوتے تھے۔”


