چنار کتاب میلہ: سرینگر میں آج سے ادب، تہذیب اور لسانی ہم آہنگی کا9 روزہ جشن

بلال بشیر بٹ

سرینگر/جنگ نیوز ڈیسک /کشمیر کی ادبی فضاؤں میں ایک بار پھر وہی مانوس خوشبو مہکنے کو ہے، جو کتاب کی سطور سے اٹھتی ہے اور دل و دماغ کو روشنی سے منور کرتی ہے۔ سرینگر آج یعنی 2 اگست کو ایک غیر معمولی ادبی و ثقافتی واقعے کا گواہ بننے جا رہا ہے کیونکہ سالانہ چنار کتاب میلہ، جو ہفتہ کے روز اپنے شاندار دوسرے ایڈیشن کے ساتھ لوٹ رہا ہے۔

گزشتہ برس، جب چنار کتاب میلہ پہلی بار اپنے جلوؤں کے ساتھ منعقد ہوا، تو ہزاروں قارئین، مصنفین، طلبہ اور ادب نواز افراد نے اسے خلوصِ دل سے خوش آمدید کہا۔ اس عوامی پذیرائی نے نہ صرف ایک فکری روایت کو جنم دیا بلکہ اس سال کے میلے کی وسعت، گہرائی اور ہمہ گیری کے لیے سنگِ بنیاد بھی فراہم کیا۔
امسال میلے میں ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے 130 سے زائد نامور اشاعتی ادارے اور کتاب فروش شرکت کر رہے ہیں، جو انگریزی، ہندی، اردو، کشمیری، گوجری، ڈوگری اور دیگر زبانوں میں علم و تخیل کے نادر خزانے لے کر آ رہے ہیں۔ بچوں کی دو لسانی کتب سے لے کر سنجیدہ علمی مباحث، مقامی افسانہ نگاری، اور عصری ڈیجیٹل ادب تک، ہر ذوق کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہوگا۔
تاہم یہ میلہ محض کتابوں کا بازار نہیں، بلکہ ایک فکری و تہذیبی کاروان ہے، جو ادب کو ایک زندہ مظہر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس میلے میں شامل "راج ترنگنی سَمواد” جیسی علمی نشستیں کشمیر کی کلاسیکی تاریخ و ادب پر روشنی ڈالیں گی، جہاں ماہرین اور محققین روایت اور تنقید کے درمیان مکالمے کا ایک زندہ پل قائم کریں گے۔
میلے کی ایک اور نمایاں جہت شاردہ رسم الخط پر ہونے والی قومی نمائش ہے، جو اس قدیم علمی ورثے کو نئی نسل کے شعور سے ہم آہنگ کرے گی۔ اسی تسلسل میں پہلی بار گوجری ترجمہ ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جس میں متنوع زبانوں میں بامعنی تراجم کی بنیاد پر لسانی پل تعمیر ہوں گے۔
ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے نظریے کو فروغ دینے کے لیے تمل-کشمیری سَمواد جیسی فکری نشست میلے کی روحانی گہرائیوں میں ایک تہذیبی ربط پیدا کرے گی — ایک ایسا ربط جو صرف زبان یا ادب کا نہیں بلکہ قلب و روح کا تعلق ہے۔
راشٹریہ ای-پستکالیہ کے تحت ہزاروں ڈیجیٹل کتابوں تک بلامعاوضہ رسائی بھی میسر ہوگی، جو مختلف زبانوں اور اصناف پر محیط ہوں گی۔
نوجوان نسل کو کتاب اور مطالعے کی طرف مائل کرنے کی کوششوں کے تحت، عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی تحریر کردہ مشہور کتاب "ایگزام وارئیرز” اُن طلبہ میں مفت تقسیم کی جائے گی جو بچوں کے گوشے میں شریک ہوں گے۔
ہر شام میلہ ایک نئی تہذیبی رُت کے ساتھ جگمگائے گا۔ کشمیری موسیقی، مشاعرے، لوک رقص، چھکری، بھنڈ پاتھر اور دیگر تھیٹر پروگراموں کے ذریعے اہلِ کشمیر کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کی سنہری کاوش کی جائے گی۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پریس کانفرنس میں اس میلے کو ایک "فکری تحریک” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا:
"یہ محض کتب کی نمائش نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو زبان، تخلیق اور روایت کے ذریعے معاشرے کو جوڑتی ہے۔”
نیشنل بُک ٹرسٹ آف انڈیا کے ڈائریکٹر جناب یووراج ملک نے کہا:
"ہم نے اس سال کے میلے کو خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے ہمہ جہت بنایا ہے تاکہ مطالعہ کو ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔”
محکمہ اطلاعات جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جناب نتیش راجورہ نے اس ادبی اجتماع کو وادی کے فکری منظرنامے کے لیے دور رس اہمیت کا حامل قرار دیا اور مقامی میڈیا سے اس کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے کی اپیل کی۔
کتاب میلے کے چیف کنوینر ڈاکٹر امت وانچو نے اعتماد اور امید کے لہجے میں کہا:
"ہم چاہتے ہیں کہ چنار کتاب میلہ صرف ایک سالانہ تقریب نہ ہو بلکہ ایک فکری روایت بن جائے، جو آنے والے برسوں تک اہلِ کشمیر کی تہذیبی شناخت کا استعارہ رہے۔”
ادب کے پروانوں کے لیے یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، اور لگتا ہے کہ کشمیر ایک بار پھر ایک نئے فکری موسم کے استقبال کے لیے بانہیں پھیلائے کھڑا ہے ، جہاں ہر لفظ، ہر صفحہ، ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

تازہ ترین خبریں

حکومت نے سپریم کورٹ میں TET پر نظرثانی کی درخواست دائر کی، 

سرینگر  06 جون: جموں و کشمیر کی وزیر تعلیم سکینہ...

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

چنار کتاب میلہ: سرینگر میں آج سے ادب، تہذیب اور لسانی ہم آہنگی کا9 روزہ جشن

بلال بشیر بٹ

سرینگر/جنگ نیوز ڈیسک /کشمیر کی ادبی فضاؤں میں ایک بار پھر وہی مانوس خوشبو مہکنے کو ہے، جو کتاب کی سطور سے اٹھتی ہے اور دل و دماغ کو روشنی سے منور کرتی ہے۔ سرینگر آج یعنی 2 اگست کو ایک غیر معمولی ادبی و ثقافتی واقعے کا گواہ بننے جا رہا ہے کیونکہ سالانہ چنار کتاب میلہ، جو ہفتہ کے روز اپنے شاندار دوسرے ایڈیشن کے ساتھ لوٹ رہا ہے۔

گزشتہ برس، جب چنار کتاب میلہ پہلی بار اپنے جلوؤں کے ساتھ منعقد ہوا، تو ہزاروں قارئین، مصنفین، طلبہ اور ادب نواز افراد نے اسے خلوصِ دل سے خوش آمدید کہا۔ اس عوامی پذیرائی نے نہ صرف ایک فکری روایت کو جنم دیا بلکہ اس سال کے میلے کی وسعت، گہرائی اور ہمہ گیری کے لیے سنگِ بنیاد بھی فراہم کیا۔
امسال میلے میں ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے 130 سے زائد نامور اشاعتی ادارے اور کتاب فروش شرکت کر رہے ہیں، جو انگریزی، ہندی، اردو، کشمیری، گوجری، ڈوگری اور دیگر زبانوں میں علم و تخیل کے نادر خزانے لے کر آ رہے ہیں۔ بچوں کی دو لسانی کتب سے لے کر سنجیدہ علمی مباحث، مقامی افسانہ نگاری، اور عصری ڈیجیٹل ادب تک، ہر ذوق کے لیے کچھ نہ کچھ موجود ہوگا۔
تاہم یہ میلہ محض کتابوں کا بازار نہیں، بلکہ ایک فکری و تہذیبی کاروان ہے، جو ادب کو ایک زندہ مظہر کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس میلے میں شامل "راج ترنگنی سَمواد” جیسی علمی نشستیں کشمیر کی کلاسیکی تاریخ و ادب پر روشنی ڈالیں گی، جہاں ماہرین اور محققین روایت اور تنقید کے درمیان مکالمے کا ایک زندہ پل قائم کریں گے۔
میلے کی ایک اور نمایاں جہت شاردہ رسم الخط پر ہونے والی قومی نمائش ہے، جو اس قدیم علمی ورثے کو نئی نسل کے شعور سے ہم آہنگ کرے گی۔ اسی تسلسل میں پہلی بار گوجری ترجمہ ورکشاپ کا انعقاد بھی کیا جا رہا ہے، جس میں متنوع زبانوں میں بامعنی تراجم کی بنیاد پر لسانی پل تعمیر ہوں گے۔
ایک بھارت، شریشٹھ بھارت کے نظریے کو فروغ دینے کے لیے تمل-کشمیری سَمواد جیسی فکری نشست میلے کی روحانی گہرائیوں میں ایک تہذیبی ربط پیدا کرے گی — ایک ایسا ربط جو صرف زبان یا ادب کا نہیں بلکہ قلب و روح کا تعلق ہے۔
راشٹریہ ای-پستکالیہ کے تحت ہزاروں ڈیجیٹل کتابوں تک بلامعاوضہ رسائی بھی میسر ہوگی، جو مختلف زبانوں اور اصناف پر محیط ہوں گی۔
نوجوان نسل کو کتاب اور مطالعے کی طرف مائل کرنے کی کوششوں کے تحت، عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی تحریر کردہ مشہور کتاب "ایگزام وارئیرز” اُن طلبہ میں مفت تقسیم کی جائے گی جو بچوں کے گوشے میں شریک ہوں گے۔
ہر شام میلہ ایک نئی تہذیبی رُت کے ساتھ جگمگائے گا۔ کشمیری موسیقی، مشاعرے، لوک رقص، چھکری، بھنڈ پاتھر اور دیگر تھیٹر پروگراموں کے ذریعے اہلِ کشمیر کو اپنی جڑوں سے جوڑنے کی سنہری کاوش کی جائے گی۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے پریس کانفرنس میں اس میلے کو ایک "فکری تحریک” سے تعبیر کرتے ہوئے کہا:
"یہ محض کتب کی نمائش نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک ہے جو زبان، تخلیق اور روایت کے ذریعے معاشرے کو جوڑتی ہے۔”
نیشنل بُک ٹرسٹ آف انڈیا کے ڈائریکٹر جناب یووراج ملک نے کہا:
"ہم نے اس سال کے میلے کو خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے ہمہ جہت بنایا ہے تاکہ مطالعہ کو ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جا سکے۔”
محکمہ اطلاعات جموں و کشمیر کے ڈائریکٹر جناب نتیش راجورہ نے اس ادبی اجتماع کو وادی کے فکری منظرنامے کے لیے دور رس اہمیت کا حامل قرار دیا اور مقامی میڈیا سے اس کے مثبت تاثر کو اجاگر کرنے کی اپیل کی۔
کتاب میلے کے چیف کنوینر ڈاکٹر امت وانچو نے اعتماد اور امید کے لہجے میں کہا:
"ہم چاہتے ہیں کہ چنار کتاب میلہ صرف ایک سالانہ تقریب نہ ہو بلکہ ایک فکری روایت بن جائے، جو آنے والے برسوں تک اہلِ کشمیر کی تہذیبی شناخت کا استعارہ رہے۔”
ادب کے پروانوں کے لیے یہ ایک خواب کی تعبیر ہے، اور لگتا ہے کہ کشمیر ایک بار پھر ایک نئے فکری موسم کے استقبال کے لیے بانہیں پھیلائے کھڑا ہے ، جہاں ہر لفظ، ہر صفحہ، ایک نئے عہد کا آغاز ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں