عنایت اللہ ننھے
سوشل میڈیا کو آئے ہوئے 21 سال ہو چکے ہیں، یعنی اسے دو دہائیاں قبل شروع کیا گیا تھا، لیکن عام لوگوں میں اس کی مقبولیت 15 سال پہلے، یعنی 30 جون 2010 سے شروع ہوئی اور تیزی سے ترقی کرتے ہوئے پوری دنیا تک پہنچ گئی۔ آج میڈیا کے نام پر سوشل میڈیا سنسنی پھیلانے، افواہیں پھیلانے، فرضی خبریں بنانے یا دکھانے، من گھڑت کہانیوں کو شوٹ کرنے، آدھی ادھوری خبریں پیش کرنے، فحاشی کے آخری کنارے پر کھڑے ہونے، سوشل سائٹس پر کوئی بھی چیز فوری طور پر اپ لوڈ کرنے کا مقابلہ چل رہا ہے۔ سوشل میڈیا سے وابستہ متاثر کن افراد لائکس، شیئرز، کمنٹس، سبسکرائبرز کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لیے کچھ بھی کرنے میں پیچھے نہیں ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ سوشل میڈیا کو میڈیا نہیں مانتی، کیونکہ 21 سال کا طویل سفر مکمل کرنے کے بعد بھی یہ اعتماد پر پورا نہیں اتر سکا ہے۔ اس کی وجہ صرف اس سوشل میڈیا کے انفلوئنسرز کا اپنا چہرہ چمکانا اور اپنے یوٹیوب چینل، ویب سائٹ، ایپس، پورٹل وغیرہ کو منیٹائز کرنا اور کسی بھی طریقے سے پیسہ کمانا ہے۔ یہ اس وقت سوشل میڈیا کی کہانی ہے۔
اس سے پہلے ہم سوشل میڈیا کی تاریخ جانیں گے کہ یہ کیوں اور کب شروع ہوا اور اس کا مقصد کیا تھا۔ دنیا کا پہلا سوشل میڈیا 1997 میں "سکس ڈگریز” (SixDegrees) کے نام سے آیا تھا لیکن اسے صرف 4 سال میں بند کر دیا گیا۔ حالانکہ سوشل میڈیا کی بنیاد یہیں سے رکھی گئی تھی۔ لیکن سوشل میڈیا کا باقاعدہ آغاز 21 سال قبل 24 جنوری 2004 کو "آرکٹ” (Orkut) کے نام سے ہوا، جو ایک دہائی تک چلنے کے بعد 30 ستمبر 2014 کو بند کر دیا گیا۔
یہ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر اور پی سی پر استعمال ہوتا تھا۔ اس کے لیے آج کی طرح سوشل پلیٹ فارم پر اکاؤنٹ بنانا آسان نہیں تھا۔ جس طرح کسی بینک میں اکاؤنٹ کھولنے کے لیے گواہ کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح جب اسOrkut میں پہلے سے اکاؤنٹ رکھنے والے کو منظوری مل جاتی، تو پھر کسی اور کا اکاؤنٹ کھل جاتا تھا۔ تاہم، یہ زیادہ دیر نہیں چل سکا۔ صارفین میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے صرف دو سال بعد کسی گواہ کے بغیرOrkut پر اکاؤنٹس کھولے جانے لگے۔
لیکن اچھی بات یہ تھی کہ آج کے برعکس اسے کسی بھی عمر کے لوگ نہیں کھول سکتے تھے۔ اس کے لیے ایک شخص کی عمر 18 سال سے زیادہ ہونا ضروری تھا۔ اس وقت ایک دوست سے دوسرے دوست کو تصاویر، ویڈیوز، ٹیکسٹ میسجز بھیجے جاتے تھے۔ آج کی زبان میں اسے پوسٹ نہیں بلکہ "اسکریپ” کہا جاتا تھا۔
ان دنوں اسمارٹ فون بہت مہنگے تھے، جو سب کی دسترس سے باہر تھے، جس کی وجہ سے لوگ اس وقت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘آرکٹ’ کے لیے سائبر کیفے کا رخ کرتے تھے۔ ان دنوں کمپیوٹر استعمال کرنے کے لیے 20 روپیہ فی گھنٹہ لگتا تھا۔ یعنی کوئی بھی شخص اسے کم از کم دو چار گھنٹے استعمال کرتا تھا۔ یعنی ایک ماہ کا بجٹ جوڑیں، وہ بھی محدود مدت کے لیے تو دو ہزار سے ڈھائی ہزار روپے خرچ ہوا کرتے تھے۔ جبکہ آج، زیادہ مہنگائی ہونے کے باوجود، اینڈرائیڈ کے دور میں صرف 200 سے 300 روپے خرچ کر کے کوئی بھی لامحدود نیٹ سرفنگ کر سکتا ہے اور بیک وقت ایک نہیں بلکہ درجنوں سوشل پلیٹ فارم استعمال کر سکتا ہے۔
اس وقت، ‘آرکٹ’ ترکی کے ایک سافٹ ویئر انجینئر بیوکٹین آرکٹ (Buyukkten Orkut) نے ایجاد کیا تھا، جو گوگل میں کام کرتا تھا۔ اسی کے نام پر آرکٹ رکھا گیا تھا۔ وہ سوشل میڈیا Orkut جسے گوگل چلاتا تھا، ایک عالمی ملٹی پلیٹ فارم میڈیا اور انٹرٹینمنٹ کمپنی "ماشیبل” (Mashable) نے شروع کیا تھا، جس کا پہلا اسکریپ گوگل میں کام کرنے والے ایک ہندوستانی سافٹ ویئر انجینئر کو بھیجا گیا تھا۔ اس وقت بھارت، برازیل کے بعد اسے استعمال کرنے والا دنیا کا دوسرا ملک تھا۔ آرکٹ نے ہندوستان میں کافی مقبولیت حاصل کی، لیکن اسے اپنے قیام کے صرف ایک دہائی بعد 2014 میں بند کر دیا گیا۔
یہاں یہ بات یاد رکھنے کے قابل ہے کہ ان دنوں گوگل کے علاوہ ورلڈ وائڈ ویب کو استعمال کرنے کے لیے Rediff، Hotmail اور Yahoo جیسی سائٹس موجود تھیں، جن کے ذریعے میسنجر کے ذریعے پیغامات، تصاویر، ویڈیوز وغیرہ بھیجے جاتے تھے، جبکہ آج کے دور میں پوری دنیا میں سوشل میڈیا یا کسی بھی سائٹ پر جانے کا ایک ہی گیٹ وے ہے اور وہ ہے صرف اور صرف گوگل۔
آج سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا سیلاب ہے، جس میں واٹس ایپ، فیس بک، تھریڈز، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹیلیگرام، پوڈ کاسٹ، یوٹیوب، اسنیپ چیٹ، ٹک ٹاک (بھارت میں ممنوع)، شارٹ فارم ویڈیو، رِیل، پنٹیرسٹ، لنکڈ ان، ریڈٹ، ڈیگ، فلپ بورڈ، ورڈ پریس، ٹمبلر، میڈیم، لائیو اسٹریم، پرائیویٹ بُک مارک نیٹ ورک، سوشل بک مارک، روایتی سوشل نیٹ ورک، بلاگ، مائیکرو بلاگنگ، کوورا، بی ای، چیٹ جی پی ٹی، میسنجر، میل، گوگل چیٹ؛ اب درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ہیں۔
اب تو سوشل میڈیا کا بزنس ورژن بھی بڑی تعداد میں آ گیا ہے، جو کاروبار کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن 90 فیصد پلیٹ فارم فراڈ ہیں۔ اس کے ذریعے مائل کر دینے والے پاپولسٹ اشتہارات اور دل جیتنے والی باتیں کر کے سائبر فراڈ بہت تیزی سے لوگوں کو اپنا شکار بنا رہے ہیں۔
اب پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ سائٹس روزگار کی تلاش میں لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور ملازمت کے مواقع کے لیے بھی کام کر رہی ہیں۔ ان میں سب سے اہم "لنکڈ ان” (LinkedIn) ہے۔ لہٰذا، سوشل میڈیا کے صارفین کو صرف سرٹیفائیڈ سائٹس کا دورہ کرنا چاہیے اور حکومت ہند کی طرف سے تسلیم شدہ اور آئی ایس او سے تصدیق شدہ سائٹس، ایپس اور بلاگز کا استعمال کرنا چاہیے۔
آج سوشل میڈیا ہماری زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس نے گلوبل ولیج میں بیٹھ کر ایک دوسرے سے جڑنے اور معلومات کے تبادلے کے میدان میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا کا مقصد بین الاقوامی مواصلات کے میدان میں پوری دنیا کو فروغ دینا اور گلوبل ولیج کے لوگوں کو قریب لانا ہے۔ سوشل میڈیا نہ صرف تفریح کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ایک طاقتور ذریعہ بھی ہے۔
یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت، جو 2014 میں اقتدار میں آئی تھی، وہ سوشل میڈیا کا نتیجہ تھی۔ ترکی میں 2016 میں فوجی بغاوت کا واقعہ اور صدر رجب طیب اردوغان کا سوشل میڈیا پر رات 12 بجے دیا گیا پیغام کہ لوگ سڑکوں پر نکل آئیں کیونکہ فوج نے بغاوت کر دی ہے، وہ تاریخ 15 جولائی سب کو یاد ہوگی، جب عوام نے بغاوت کر کے فوج کے ٹینکوں کے سامنے لیٹ گئے اور آخرکار فوج کو شکست تسلیم کرنی پڑی۔ یہ سوشل میڈیا کی طاقت تھی۔
یہی نہیں، بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے خلاف ملک گیر تحریک سوشل میڈیا کا نتیجہ تھی، جس کی وجہ سے انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ یہی نہیں بلکہ بہت سی مثالیں ہیں جو سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو ظاہر کرتی ہیں۔ آج یہ ہمارے بھولے ہوئے خاندان، دوستوں اور رشتہ داروں کو دوبارہ ملانے اور جوڑنے میں مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
اس کے برعکس، آج کے ماحول میں 90 فیصد سوشل میڈیا منفی پہلو پیش کر رہا ہے۔ جیسے لوگوں کو غلط اور گمراہ کن معلومات دے کر شکار بنانا، جس میں سائبر بدمعاشی اور ہراساں کرنے کے معاملات دیکھے جا رہے ہیں۔ لوگوں کو دھوکہ دے کر اور آن لائن فراڈ کر کے اپنا شکار بنایا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی آڑ میں عام لوگوں کی پرائیویسی کو توڑ کر ذہنی تناؤ بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے، جو کہ درست نہیں، جس کی وجہ سے لوگ ڈپریشن میں جا رہے ہیں اور کچھ خودکشی جیسا قدم اٹھا رہے ہیں۔
ہاں، یہ ضرور ہے کہ آج کے ماحول میں سوشل میڈیا اسٹریم میڈیا سے زیادہ تیز ہے، لیکن یہ بھروسہ کرنے کے قابل نہیں ہے۔ کسی کی نجی زندگی سے متعلق برسوں پرانی خبریں، ویڈیوز، فوٹیج بغیر کسی وجہ اور بغیر کسی حوالے کے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے اس کی اہمیت بڑھانے کے بجائے گھٹانے کا کام کیا جا رہا ہے۔
آج معاشرے میں نشے کی لت، جرائم، عصمت دری، ایذا رسانی، فحاشی کی انتہا اور سماج دشمن عناصر اور بے حیائی کے کاموں میں سب سے بڑا کردار سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کی جا رہی فحاشی اور جرائم کی ننگی کہانی ہے، جو پیسے کی بھوک کے باعث سوشل میڈیا پر کھلے عام پیش کی جا رہی ہے، جس پر تاحال قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کا دور چل رہا ہے، جو سوشل میڈیا کا اب تک کا سب سے خطرناک ورژن ہے، جو کسی کی بھی پرائیویسی کو پامال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ ٹھیک ہے، یہ ڈیجیٹل انقلاب میں ایک بڑی ایجاد ہے لیکن اسے مثبت طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ منفی۔ سماجی اور ڈیجیٹل ماہرین کو گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ اس پر منفی کیسز کو کیسے روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
آج کل لوگ سوشل میڈیا کو ہی اصل میڈیا سمجھتے ہیں۔ یہ فوری خبروں، ویڈیوز، لائیو اور ویب کاسٹنگ کے ذریعے عام لوگوں تک فوری طور پر پہنچنے کے لیے کام کر رہا ہے، وہ بھی بغیر کسی ذریعہ کے، صرف سنسنی پیدا کرنے کے لیے آدھی پکی خبر۔ لیکن پھر بھی سوشل میڈیا پر اعتماد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ ان سوشل میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد لوگ یقینی طور پر اسٹریم میڈیا (حقیقی میڈیا) یعنی اخبارات اور سیٹلائٹ چینلز کا انتظار کرتے نظر آتے ہیں کہ کسی بھی واقعے کی اصل کہانی یا حقیقت کیا ہے؟
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا پر سخت ایکشن لیا جائے اور معاشرے، افراد، سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ کسی کے ذاتی معاملے کو وائرل کرنے والے سوشل میڈیا کے خلاف بھی کارروائی کی جائے، اور قصوروار پائے جانے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پابندی لگانے کے ساتھ ساتھ اس کے چلانے والے انفلوئنسرز اور اس سے وابستہ افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ہاں، یہ ضرور ہے کہ صرف 10 فیصد سوشل میڈیا اپنے مقصد میں درست جا رہے ہیں، جبکہ 90 فیصد اپنی مذموم حرکتوں، فحاشی اور عریانیت کی آخری حد پر کھڑے ہیں اور بہت تیزی سے سماجی ماحول کو زہر آلود کرنے میں مصروف ہیں۔ اس لیے وقت رہتے، حکومت، سماجی تنظیموں اور عام شہریوں کو آگے آ کر سوچنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کے منفی اقدام کو کیسے روکا جائے۔


