امریکہ میں جہیز نہیں ہوتا؟

 

ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا
حیدرآباد

کئی سال بعد ایک بار پھر امریکہ رہنے کا اتفاق ہوا۔ کئی شہروں بشمول سیلیکان ویلی بھی جانے کا اتفاق ہوا جہاں ICNA کی جانب سے دو روزہ کنوینشن کا انعقاد کیا گیاتھا، آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے اس دورے کا مقصد کیا رہا ہوگا۔ جی ہاں۔۔ ہم وہاں نکاح کومکمل سنّت کے مطابق کروانے یاپھر مکمل بائیکاٹ کروانے کی مہم لے کر گئے تھے۔ جانے کے بعد چند انتہائی سادہ لوح دوستوں سے پتہ چلا کہ امریکہ میں نہ جہیز ہوتا ہے اور نہ جہیز کا ڈیماند۔ ہمیں بے انتہا خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔ خوشی اس لئے ہوئی کہ جہاں نہ جہیز ہوتا ہے نہ ڈیمانڈ، نہ بارات ہوتی ہے نہ بینڈ، وہاںسنّت کا بول بالا ہوتا ہوگا، نہ کوئی طلاق ہوتے ہوں گے نہ خلع، نہ تو ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف سے کسی باپ کا گھر بِکتا ہوگا نہ بھائیوں کو کنگال ہونا پڑتا ہوگا اور نہ مجبور بیٹیوں کو گھروں سے بھاگنا پڑتا ہوگا۔ لیکن دکھ اس بات کا ہوا کہ 90% شادیاں تو وہی رامچندرجی یا مہارانی جودھابائی کی قوم کیہی رسم ورواج پر ہوتی ہیں، بس فرق یہ ہے کہ امریکہ میں کسی کو قرض لینا نہیں پڑتا۔ دونوں کے پاس ڈالر وںکی کمائی اتنی زیادہ ہے کہ ان میں کوئی بھی ایک دوسرے پر بوجھ نہیں بنتا۔ وہاں بھی لوگوں نے یہ فتویٰ حاصل کرلیا ہے کہ اگر استطاعت ہو اور اپنی خوشی سے خرچ کررہے ہوں تو جائز ہے۔ یہ غنیمت ہے کہ اکثریت کے پاس استطاعت رکھنے کے باوجود شراب، جوّا یا زِنا اب بھی حرام ہے۔ ورنہ شادیوں کے اسراف کو جائز کرلینے والے اگر شراب وغیرہ کو بھی جائز کرلیتے تو ہم اُن کا کیا بگاڑلیتے َ؟
جب سادہ لوح دوستوں کے مطابق اگر انڈیا پاکستان میں شادیوں کی جتنی خرافات ہیں، امریکہ کینیڈا ان سے پاک ہے توپھر شادیوں کے نتائج پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک سنّت یعنی سنّت نکاح کی حقیقی روح کو پامال کرنے کے نتیجے میں انڈیا پاکستان میں جتنی اخلاقی بربادیاں پیدا ہو چکی ہیں، امریکہ کینڈا وغیرہ میں تو یہ بربادیاں کئی گنا زیادہ ہیں۔ وہاں کے معاشرہ کو دیکھ کر کئی سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں، جیسے:٭۔30 تا 40 سال کے بیچ کی کنواریوں اور مطلقاوں کی اتنی بڑی تعداد کیوں ہے؟ ا
٭۔علیحدگی کے نتیجے میں ماں یاباپ سے الگ ہوجانے والے بچوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے انڈیا پاکستان سے بھی زیادہ کیوں ہے؟
٭۔دیسی امریکنوں بالخصوص لڑکیوں میں شادی نہ کرنے کا رجحان اتنا زیادہ کیوں ہے؟
٭۔ویمنس رائٹس کی وہاں خوب تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں عورتوں کے حقوق کی حفاظت ہے یا بربادی؟ لبڑٹی آف ویمن کہہ کر عورتوں کے دماغ میں جو کچھ بٹھادیا گیاہے، وہ صرف یہ ہے کہ اُنہیں ایک ہی مرد یعنی شوہر کوہی نہیں بلکہ ہر مرد کو خوش رکھنے کی لبرٹی۔ کم سے کم لباس پہننے کی لبرٹی،بلا ضرورت بھی نوکری کرنے کی لبرٹی، نوکری کے نتیجے میں بچوں کی تربیت تباہ کرنے کی لبرٹی، طلاق لے کر بچوں کو باپ سے چھیننے اور گھر اجاڑنے کی لبرٹی۔ عورت بے چاری معصوم ہوتی ہے، اسے لبرٹی کے نام پر اس دھوکے اور بربادی کے نالے میں بہہ جانے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی عمر کی بازی ہار چکی ہوتی ہے۔
٭۔اچھا کمانے والی لڑکیوں کو F1، یا H1Bلڑکا نہیں چاہئے، بلکہ اپنے زیادہ سے زیادہ کمانے والا سیٹیزن لڑکا چاہئے۔ کیوں؟
٭۔اچھا کمانے والے سیٹیزن لڑکے وہاں لڑکیوں کو کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، بغیر ٹیسٹ ڈرائیو کے کار خریدنا نہیں چاہتے، خریدیں بھی تو دو تین سال میں بدلنا بھی چاہتے ہیں۔
٭۔اِس پورے منظرنامے میں ماں باپ مکمل بے بس ہیں۔ ایسا کیوں؟
ان تمام سوالات پر اگر غور کیا جائے تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ایک اٹوٹ محبت اور حفاظت کی ضمانت صرف اسلامی نکاح میں پوشیدہ ہے۔ لیکن نکاح کا ڈپارٹمنٹ ہی اتنا کرپٹ ہوچکا ہے کہ نکاح سے برکت نہیں مصیبت اور اخلاقی تباہی ہی تباہی وجود میں آرہی ہے۔ایک طرف ہندوستان پاکستان میں غربت و افلاس، عیاشی اور فحاشی کی شکل میں تو امریکہ وغیرہ میں ان گمراہیوں کی شکل میں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔اور عربوں میں شادیوں کی غیرشرعی رسومات کی وجہ سے جو بربادی ہے مسیار اس کی ایک مثال ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نکاح کے وہ کیا سنہری اصول تھے جو شریعت نے ہمیں دیئے تھے، جن سے غفلت کی وجہ سے پوری امت آج بدترین معاشرتی تباہی کا سامنا کررہی ہے۔
نکاح کے سنہری اصول
۱۔ سب سے بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے آسان اور کم خرچ ہو (حدیث)۔ یعنی سب سے بدترین نکاح وہ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ خرچ ہو۔(زیادہ خرچ کی وجہ۔۔ لوگ کیا کہیں گے، شان، Status quo، عورتوں کی ضد)۔
۲۔ بالغ ہونے کے بعد پہلے نکاح فرمانِ رسول تھا۔۔۔۔ ایجوکیشن، کیرئیر، بچے یہ تمام نکاح کے بعد پلان کئے جاسکتے ہیں، لیکن اِس حکم کو مکمل الٹ دیا گیا ہے، نتیجہ سامنے ہے۔
۳۔ مہر واجب ہے اس کے بغیر نکاح باطل ہے۔ مہر اسی وقت مہر کہلائیگا جب مرد مال ادا کرے، اور لڑکی کے ماں باپ کو ایک روپیہ بھی خرچ کرنا نہ پڑے۔ اگرلڑکی والوں پرمنگنی، جوڑے یا ہُنڈے کی رقم، بارات کے کھانے، خوشی سے جہیز، سلامی، اور پہلی زچگی کے خرچ کا بوجھ ڈال دیا گیا تو مہر ِ واجب کی اہمیت دفن ہوگئی۔۔ اب نکاح نہیں ایک کاروبارہے
۴۔ لڑکا یا لڑکی کے انتخاب میں خاندان، خوبصورتی، یا دولت نہیں پہلے کردار دیکھو۔ (حدیث) اگر اِس ایک حدیث پر سختی سے عمل ہو تو آج بھی طلاق یا خلع یا جھگڑے بند ہوسکتے ہیں۔لوگ زیادہ سے زیادہ ایجوکیشن اور کمائی کے لئے نہیں دوڑیں گے بلکہ اپنی کردار سازی کی فکر کریں گے ورنہ کوئی رشتہ نہیں آئے گا۔
۵۔ جس طرح ویلنٹائن ڈے، نیو ایئر پارٹی وغیرہ کو اس لئے حرام قرار دیا گیا کہ وہ یہودونصٰرٰی کی نقل ہیں، اسی طرح ہندو شادیوں کی ہر رسم جو مسلمانوں نے اپنائی ہے وہ بھی حرام ہے اور ایسی شادیوں میں شرکت ان حرامکاریوں کو اور مضبوط کرتی ہے۔
ذمہ دار کون؟
ہماری مذہبی قیادت کی یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے فقہی اور مسلکی عقائدکو نافذ کرنے مسجدیں الگ کرلی جاتی ہیں وہیں نکاح کے احکام میں منشائے شریعت کیا ہے، اس کو بھی نافذ کیا جاسکتا تھا۔ نہ صرف ایسی رسموں کی بلکہ ان میں شرکت کی شرعی حیثیت پر حکم لگایا جاسکتا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ تینوں مسلکوں کی علما کی اکثریت اور دوسری طرف مشائخین نے ایک طرف تو ان رسموں کی خوب مذمّت کی لیکن دوسری طرف یہ کہہ کر چور دروازے سے سب کچھ جائز کردیا کہ اگر لڑکی والوں کی طرف سے خوشی سے جہیز یا کھانا دیا جارہا ہے تو یہ جائز ہے۔ کسی نے اس کو مباح کہہ کر جائز کیا کسی نے عرف یا روایت کہہ کر۔ حالانکہ دونوں جواز غلط ہیں۔ یہ سراسر بدعت کی تعریف میں آتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
حل یہ ہے کہ سوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا کی طرح سوشیوریفارمس سوسائٹی آف امریکہ اینڈ کینیڈا قائم کی جائے جو ایک سماجی اور اخلاقی انقلاب کے بیج بو سکے۔ امریکہ وغیرہ میں آرگنائزیشنس تو بہت ہیں جو لاکھوں ڈالر جمع کرکے مسجدیں اور مدرسے بنارہی ہیں، یا پھر انڈیاپاکستان کوپیسہ بھیج کر غریبوں کی مدد کررہی ہیں۔ انہیں اس بات کا اندازہ بالکل نہیں ہے کہ اس طرح کی مدد سے غریبی کم تو نہیں ہوگی لیکن بھکاریوں کی تعداد کئی گنا بڑھتی جائیگی۔ جس قسم کی ٹکنیکل ایجوکیشن میں مدد کی جارہی ہے، ان سے سارے میکانک، پیرامیڈیکل، ٹیچر جیسے لوگ پیدا ہورہے ہیں جو قوم کو کھڑا کرنے کے کام کے نہیں بلکہ صرف اپنے پیٹ بھرنے اور پھر شادیوںمیں پیسہ لٹانے والے ہی لوگ نکل سکتے ہیں۔ مدرسوں سے جو حافظ نکل رہے ہیں وہ تراویح کے لئے تو بہت خوب ہیں لیکن جب یہ خود نہ قرآن سمجھتے ہیں نہ عربی تو قرآن ان کے لبوں پر تو ہے لیکن حلق سے نیچے نہیں اتر سکا۔
علما جس قسم کا نصاب پڑھ کر عالم بنتے ہیں اس نصاب کے ذریعے یہ بہترین حنفی، شافعی، دیوبندی، بریلوی یا اہلِ حدیث تو بن سکتے ہیں لیکن اچھے مسلمان بن کر دین کو سیاسی، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی طور پر نافذ کرنے کے لئے ایک طاقتور اجتماعیت نہیں بن سکتے۔ قوم کو ایک طاقتور اخلاقی فوج بنانے کا کام دور دور تک کہیں نہیں ہے۔ ہاں انفرادی طور پر کچھ لوگ کررہے ہیں، لیکن یہ جب تک ایک اجتماعی طاقت نہیں بنیں گے کوئی خاطرخواہ نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔یہ لاکھوں ڈالر کے چندے اور زکوٰہ کا ثواب اپنی جگہ ہے، لیکن قوم کی تعمیر کے لئے کسی کام کا نہیں ہے۔
آج کا ہر دانشور اور ہر Social activist امیروں سے پیسہ لے کر غریبوں کی فلاح کے کاموں میں لگا ہوا ہے، اور ہمارا دشمن ہمارے دین، ہمارے کلچر، ہماری تاریخ بلکہ ہمارے پورے وجود کو بلڈوز کرتا چلاجارہا ہے۔ اِس کا مقابلہ کرنے کے ڈائرکشن میں کوئی ٹھوس کام نہ ہورہا ہے اور نہ کوئی اس بارے میں سوچنے کی ہمت کررہا ہے۔ کہیں مودی کا ڈر ہے تو کہیں ٹرمپ کا، کہیں خروج کا خوف ہے تو کہیں اپنے بیٹوں اور دامادوں کے مستقبل کا۔
اِس کام کے آغاز کا پہلا قدم یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے خاندانوں اور اپنی آنے والی نسلوں میں رسول اللہﷺ کے نکاح کا صحیح نظام نافذ کریں، جس میں نہ صرف مکمل ویمنس رائٹس کی گارنٹی ہے بلکہ پورے معاشرے کی غربت، افلاس، اور گمراہی کا علاج ہے۔ ہم یہ کام سوشیوریفارمس سوسائٹی آف امریکہ اینڈ کینیڈا کو قائم کرکے کرسکتے ہیں۔ اگر امریکہ اور کینیڈا کے صرف 2% لوگ بھی ہمارا ساتھ دیں تو ہم ایک انتہائی پرامن پیغام رسانی کے ذریعے ایک طرف ہندوستان کے 85 کروڑ غیرمسلم بھائیوں کو دوسری طرف شادی سے کترانے والے لاکھوں امریکنوں اور یورپین بھائیوں کو اسلام کے قریب لاسکتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا اور تیسرا قدم کیا ہوگا، یہ انشااللہ بعد میں بتائیں گے۔
میرے دوستو، ایک بات کہنے کی اجازت دیجئے۔ انگریز جب 17th سنچری میں مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں صرف تجارت کرنے کی غرض سے داخل ہوئے تھے وہ سو سے زیادہ نہیں تھے۔ ان میں صرف Traders, workers and sailors تھے۔ پھر وہ ترقی کرتے کرتے دو سو سال میں پورے ہندوستان پر حکومت کرکے دیش کو مکمل لوٹ کر چلے گئے۔ آپ لوگ بھی جب غربت و افلاس سے بھرے انڈیا پاکستان سے نکل کر یہاں پہنچے تھے، آپ نے بہت محنت کی اور قدم جمائے۔ کسی نے ٹیکسی چلائی، کسی نے پٹرول پمپ پر کام کیا۔ لیکن یہ کیا کہ آپ نے ترقی کرکے ڈالروں کے نشے میں بجائے اپنے دین، اپنے کلچر اور اپنی ہسٹری کو زندہ کرتے، آپ انہی کے کلچر میں ضم ہوگئے۔ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے امریکہ ہی کے ایک دورے کے موقع پر شائد اسی لئے کہا تھا کہ ’’لوگوں نے یہاں آکر معاشی طور پر تو خوب ترقی کی لیکن اخلاقی طور پر خودکشی کرلی‘‘۔ اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آج آپ کی نسلیں آپ کے دین اور تاریخ کو روند کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ اُن کے نزدیک آپ کا دین، آپ کلچر، زبان، تاریخ سب کچھ ایک Ancient History کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ بڑھاپے میں آکر سوائے تبصروں اور افسوس کے کچھ نہیں کرسکتے۔ اب بھی وقت ہے۔ ہمارا ساتھ دیجئے۔ میں پھر ایک بار دوہرا رہا ہوں کہ صرف 2% لوگ اپنے وقت، پیسے اور توانائیوں کے ساتھ ہمارا ساتھ دیں گے تو ہم نہ صرف ہماری نسلوں کو بچالیں گے بلکہ دوسری قوموں کو بھی اسلام کا صحیح راستہ دکھا سکیں گے۔ ورنہ یہ نسلیں تو غلام بن کر رہیں گی ہی، لیکن آپ پر ہمیشہ ایک Terrorist, foreigner and invader ہی کا لیبل لگا رہے گا۔ آج ایک انقلاب کے بیج بونے میں مدد کیجئے، کل آپ ہی کی نسلیں اس کی فصل کاٹیں گے، ورنہ آج سے پچیس پچاسسال بعد آپ کے نسلوں کے دماغ سے اسلام اسی طرح غائب ہوجائیگا جس طرح مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسپین، چین اورروس کے مسلمانوں کی زندگی سے نکل گیا۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاو گے ائے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اگر آپ اِس درد کو محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں تو واٹس اپ پر رابطہ فرمائیں۔ 91 9642571721

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

امریکہ میں جہیز نہیں ہوتا؟

 

ڈاکٹر علیم خان فلکی
صدر سوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا
حیدرآباد

کئی سال بعد ایک بار پھر امریکہ رہنے کا اتفاق ہوا۔ کئی شہروں بشمول سیلیکان ویلی بھی جانے کا اتفاق ہوا جہاں ICNA کی جانب سے دو روزہ کنوینشن کا انعقاد کیا گیاتھا، آپ کو اندازہ ہوگا کہ ہمارے اس دورے کا مقصد کیا رہا ہوگا۔ جی ہاں۔۔ ہم وہاں نکاح کومکمل سنّت کے مطابق کروانے یاپھر مکمل بائیکاٹ کروانے کی مہم لے کر گئے تھے۔ جانے کے بعد چند انتہائی سادہ لوح دوستوں سے پتہ چلا کہ امریکہ میں نہ جہیز ہوتا ہے اور نہ جہیز کا ڈیماند۔ ہمیں بے انتہا خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔ خوشی اس لئے ہوئی کہ جہاں نہ جہیز ہوتا ہے نہ ڈیمانڈ، نہ بارات ہوتی ہے نہ بینڈ، وہاںسنّت کا بول بالا ہوتا ہوگا، نہ کوئی طلاق ہوتے ہوں گے نہ خلع، نہ تو ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ کے خوف سے کسی باپ کا گھر بِکتا ہوگا نہ بھائیوں کو کنگال ہونا پڑتا ہوگا اور نہ مجبور بیٹیوں کو گھروں سے بھاگنا پڑتا ہوگا۔ لیکن دکھ اس بات کا ہوا کہ 90% شادیاں تو وہی رامچندرجی یا مہارانی جودھابائی کی قوم کیہی رسم ورواج پر ہوتی ہیں، بس فرق یہ ہے کہ امریکہ میں کسی کو قرض لینا نہیں پڑتا۔ دونوں کے پاس ڈالر وںکی کمائی اتنی زیادہ ہے کہ ان میں کوئی بھی ایک دوسرے پر بوجھ نہیں بنتا۔ وہاں بھی لوگوں نے یہ فتویٰ حاصل کرلیا ہے کہ اگر استطاعت ہو اور اپنی خوشی سے خرچ کررہے ہوں تو جائز ہے۔ یہ غنیمت ہے کہ اکثریت کے پاس استطاعت رکھنے کے باوجود شراب، جوّا یا زِنا اب بھی حرام ہے۔ ورنہ شادیوں کے اسراف کو جائز کرلینے والے اگر شراب وغیرہ کو بھی جائز کرلیتے تو ہم اُن کا کیا بگاڑلیتے َ؟
جب سادہ لوح دوستوں کے مطابق اگر انڈیا پاکستان میں شادیوں کی جتنی خرافات ہیں، امریکہ کینیڈا ان سے پاک ہے توپھر شادیوں کے نتائج پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک سنّت یعنی سنّت نکاح کی حقیقی روح کو پامال کرنے کے نتیجے میں انڈیا پاکستان میں جتنی اخلاقی بربادیاں پیدا ہو چکی ہیں، امریکہ کینڈا وغیرہ میں تو یہ بربادیاں کئی گنا زیادہ ہیں۔ وہاں کے معاشرہ کو دیکھ کر کئی سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں، جیسے:٭۔30 تا 40 سال کے بیچ کی کنواریوں اور مطلقاوں کی اتنی بڑی تعداد کیوں ہے؟ ا
٭۔علیحدگی کے نتیجے میں ماں یاباپ سے الگ ہوجانے والے بچوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے انڈیا پاکستان سے بھی زیادہ کیوں ہے؟
٭۔دیسی امریکنوں بالخصوص لڑکیوں میں شادی نہ کرنے کا رجحان اتنا زیادہ کیوں ہے؟
٭۔ویمنس رائٹس کی وہاں خوب تعریف کی جاتی ہے۔ لیکن حقیقت میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں عورتوں کے حقوق کی حفاظت ہے یا بربادی؟ لبڑٹی آف ویمن کہہ کر عورتوں کے دماغ میں جو کچھ بٹھادیا گیاہے، وہ صرف یہ ہے کہ اُنہیں ایک ہی مرد یعنی شوہر کوہی نہیں بلکہ ہر مرد کو خوش رکھنے کی لبرٹی۔ کم سے کم لباس پہننے کی لبرٹی،بلا ضرورت بھی نوکری کرنے کی لبرٹی، نوکری کے نتیجے میں بچوں کی تربیت تباہ کرنے کی لبرٹی، طلاق لے کر بچوں کو باپ سے چھیننے اور گھر اجاڑنے کی لبرٹی۔ عورت بے چاری معصوم ہوتی ہے، اسے لبرٹی کے نام پر اس دھوکے اور بربادی کے نالے میں بہہ جانے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی عمر کی بازی ہار چکی ہوتی ہے۔
٭۔اچھا کمانے والی لڑکیوں کو F1، یا H1Bلڑکا نہیں چاہئے، بلکہ اپنے زیادہ سے زیادہ کمانے والا سیٹیزن لڑکا چاہئے۔ کیوں؟
٭۔اچھا کمانے والے سیٹیزن لڑکے وہاں لڑکیوں کو کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، بغیر ٹیسٹ ڈرائیو کے کار خریدنا نہیں چاہتے، خریدیں بھی تو دو تین سال میں بدلنا بھی چاہتے ہیں۔
٭۔اِس پورے منظرنامے میں ماں باپ مکمل بے بس ہیں۔ ایسا کیوں؟
ان تمام سوالات پر اگر غور کیا جائے تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان ایک اٹوٹ محبت اور حفاظت کی ضمانت صرف اسلامی نکاح میں پوشیدہ ہے۔ لیکن نکاح کا ڈپارٹمنٹ ہی اتنا کرپٹ ہوچکا ہے کہ نکاح سے برکت نہیں مصیبت اور اخلاقی تباہی ہی تباہی وجود میں آرہی ہے۔ایک طرف ہندوستان پاکستان میں غربت و افلاس، عیاشی اور فحاشی کی شکل میں تو امریکہ وغیرہ میں ان گمراہیوں کی شکل میں جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔اور عربوں میں شادیوں کی غیرشرعی رسومات کی وجہ سے جو بربادی ہے مسیار اس کی ایک مثال ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نکاح کے وہ کیا سنہری اصول تھے جو شریعت نے ہمیں دیئے تھے، جن سے غفلت کی وجہ سے پوری امت آج بدترین معاشرتی تباہی کا سامنا کررہی ہے۔
نکاح کے سنہری اصول
۱۔ سب سے بہترین نکاح وہ ہے جو سب سے آسان اور کم خرچ ہو (حدیث)۔ یعنی سب سے بدترین نکاح وہ ہے جس میں زیادہ سے زیادہ خرچ ہو۔(زیادہ خرچ کی وجہ۔۔ لوگ کیا کہیں گے، شان، Status quo، عورتوں کی ضد)۔
۲۔ بالغ ہونے کے بعد پہلے نکاح فرمانِ رسول تھا۔۔۔۔ ایجوکیشن، کیرئیر، بچے یہ تمام نکاح کے بعد پلان کئے جاسکتے ہیں، لیکن اِس حکم کو مکمل الٹ دیا گیا ہے، نتیجہ سامنے ہے۔
۳۔ مہر واجب ہے اس کے بغیر نکاح باطل ہے۔ مہر اسی وقت مہر کہلائیگا جب مرد مال ادا کرے، اور لڑکی کے ماں باپ کو ایک روپیہ بھی خرچ کرنا نہ پڑے۔ اگرلڑکی والوں پرمنگنی، جوڑے یا ہُنڈے کی رقم، بارات کے کھانے، خوشی سے جہیز، سلامی، اور پہلی زچگی کے خرچ کا بوجھ ڈال دیا گیا تو مہر ِ واجب کی اہمیت دفن ہوگئی۔۔ اب نکاح نہیں ایک کاروبارہے
۴۔ لڑکا یا لڑکی کے انتخاب میں خاندان، خوبصورتی، یا دولت نہیں پہلے کردار دیکھو۔ (حدیث) اگر اِس ایک حدیث پر سختی سے عمل ہو تو آج بھی طلاق یا خلع یا جھگڑے بند ہوسکتے ہیں۔لوگ زیادہ سے زیادہ ایجوکیشن اور کمائی کے لئے نہیں دوڑیں گے بلکہ اپنی کردار سازی کی فکر کریں گے ورنہ کوئی رشتہ نہیں آئے گا۔
۵۔ جس طرح ویلنٹائن ڈے، نیو ایئر پارٹی وغیرہ کو اس لئے حرام قرار دیا گیا کہ وہ یہودونصٰرٰی کی نقل ہیں، اسی طرح ہندو شادیوں کی ہر رسم جو مسلمانوں نے اپنائی ہے وہ بھی حرام ہے اور ایسی شادیوں میں شرکت ان حرامکاریوں کو اور مضبوط کرتی ہے۔
ذمہ دار کون؟
ہماری مذہبی قیادت کی یہ مجرمانہ غفلت ہے۔ جہاں چھوٹے چھوٹے فقہی اور مسلکی عقائدکو نافذ کرنے مسجدیں الگ کرلی جاتی ہیں وہیں نکاح کے احکام میں منشائے شریعت کیا ہے، اس کو بھی نافذ کیا جاسکتا تھا۔ نہ صرف ایسی رسموں کی بلکہ ان میں شرکت کی شرعی حیثیت پر حکم لگایا جاسکتا تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ تینوں مسلکوں کی علما کی اکثریت اور دوسری طرف مشائخین نے ایک طرف تو ان رسموں کی خوب مذمّت کی لیکن دوسری طرف یہ کہہ کر چور دروازے سے سب کچھ جائز کردیا کہ اگر لڑکی والوں کی طرف سے خوشی سے جہیز یا کھانا دیا جارہا ہے تو یہ جائز ہے۔ کسی نے اس کو مباح کہہ کر جائز کیا کسی نے عرف یا روایت کہہ کر۔ حالانکہ دونوں جواز غلط ہیں۔ یہ سراسر بدعت کی تعریف میں آتے ہیں۔
حل کیا ہے؟
حل یہ ہے کہ سوشیوریفارمس سوسائٹی آف انڈیا کی طرح سوشیوریفارمس سوسائٹی آف امریکہ اینڈ کینیڈا قائم کی جائے جو ایک سماجی اور اخلاقی انقلاب کے بیج بو سکے۔ امریکہ وغیرہ میں آرگنائزیشنس تو بہت ہیں جو لاکھوں ڈالر جمع کرکے مسجدیں اور مدرسے بنارہی ہیں، یا پھر انڈیاپاکستان کوپیسہ بھیج کر غریبوں کی مدد کررہی ہیں۔ انہیں اس بات کا اندازہ بالکل نہیں ہے کہ اس طرح کی مدد سے غریبی کم تو نہیں ہوگی لیکن بھکاریوں کی تعداد کئی گنا بڑھتی جائیگی۔ جس قسم کی ٹکنیکل ایجوکیشن میں مدد کی جارہی ہے، ان سے سارے میکانک، پیرامیڈیکل، ٹیچر جیسے لوگ پیدا ہورہے ہیں جو قوم کو کھڑا کرنے کے کام کے نہیں بلکہ صرف اپنے پیٹ بھرنے اور پھر شادیوںمیں پیسہ لٹانے والے ہی لوگ نکل سکتے ہیں۔ مدرسوں سے جو حافظ نکل رہے ہیں وہ تراویح کے لئے تو بہت خوب ہیں لیکن جب یہ خود نہ قرآن سمجھتے ہیں نہ عربی تو قرآن ان کے لبوں پر تو ہے لیکن حلق سے نیچے نہیں اتر سکا۔
علما جس قسم کا نصاب پڑھ کر عالم بنتے ہیں اس نصاب کے ذریعے یہ بہترین حنفی، شافعی، دیوبندی، بریلوی یا اہلِ حدیث تو بن سکتے ہیں لیکن اچھے مسلمان بن کر دین کو سیاسی، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی طور پر نافذ کرنے کے لئے ایک طاقتور اجتماعیت نہیں بن سکتے۔ قوم کو ایک طاقتور اخلاقی فوج بنانے کا کام دور دور تک کہیں نہیں ہے۔ ہاں انفرادی طور پر کچھ لوگ کررہے ہیں، لیکن یہ جب تک ایک اجتماعی طاقت نہیں بنیں گے کوئی خاطرخواہ نتیجہ نکلنے والا نہیں ہے۔یہ لاکھوں ڈالر کے چندے اور زکوٰہ کا ثواب اپنی جگہ ہے، لیکن قوم کی تعمیر کے لئے کسی کام کا نہیں ہے۔
آج کا ہر دانشور اور ہر Social activist امیروں سے پیسہ لے کر غریبوں کی فلاح کے کاموں میں لگا ہوا ہے، اور ہمارا دشمن ہمارے دین، ہمارے کلچر، ہماری تاریخ بلکہ ہمارے پورے وجود کو بلڈوز کرتا چلاجارہا ہے۔ اِس کا مقابلہ کرنے کے ڈائرکشن میں کوئی ٹھوس کام نہ ہورہا ہے اور نہ کوئی اس بارے میں سوچنے کی ہمت کررہا ہے۔ کہیں مودی کا ڈر ہے تو کہیں ٹرمپ کا، کہیں خروج کا خوف ہے تو کہیں اپنے بیٹوں اور دامادوں کے مستقبل کا۔
اِس کام کے آغاز کا پہلا قدم یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنے خاندانوں اور اپنی آنے والی نسلوں میں رسول اللہﷺ کے نکاح کا صحیح نظام نافذ کریں، جس میں نہ صرف مکمل ویمنس رائٹس کی گارنٹی ہے بلکہ پورے معاشرے کی غربت، افلاس، اور گمراہی کا علاج ہے۔ ہم یہ کام سوشیوریفارمس سوسائٹی آف امریکہ اینڈ کینیڈا کو قائم کرکے کرسکتے ہیں۔ اگر امریکہ اور کینیڈا کے صرف 2% لوگ بھی ہمارا ساتھ دیں تو ہم ایک انتہائی پرامن پیغام رسانی کے ذریعے ایک طرف ہندوستان کے 85 کروڑ غیرمسلم بھائیوں کو دوسری طرف شادی سے کترانے والے لاکھوں امریکنوں اور یورپین بھائیوں کو اسلام کے قریب لاسکتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا اور تیسرا قدم کیا ہوگا، یہ انشااللہ بعد میں بتائیں گے۔
میرے دوستو، ایک بات کہنے کی اجازت دیجئے۔ انگریز جب 17th سنچری میں مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں صرف تجارت کرنے کی غرض سے داخل ہوئے تھے وہ سو سے زیادہ نہیں تھے۔ ان میں صرف Traders, workers and sailors تھے۔ پھر وہ ترقی کرتے کرتے دو سو سال میں پورے ہندوستان پر حکومت کرکے دیش کو مکمل لوٹ کر چلے گئے۔ آپ لوگ بھی جب غربت و افلاس سے بھرے انڈیا پاکستان سے نکل کر یہاں پہنچے تھے، آپ نے بہت محنت کی اور قدم جمائے۔ کسی نے ٹیکسی چلائی، کسی نے پٹرول پمپ پر کام کیا۔ لیکن یہ کیا کہ آپ نے ترقی کرکے ڈالروں کے نشے میں بجائے اپنے دین، اپنے کلچر اور اپنی ہسٹری کو زندہ کرتے، آپ انہی کے کلچر میں ضم ہوگئے۔ڈاکٹر اسرار احمدؒ نے امریکہ ہی کے ایک دورے کے موقع پر شائد اسی لئے کہا تھا کہ ’’لوگوں نے یہاں آکر معاشی طور پر تو خوب ترقی کی لیکن اخلاقی طور پر خودکشی کرلی‘‘۔ اس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ آج آپ کی نسلیں آپ کے دین اور تاریخ کو روند کر آگے بڑھ رہی ہیں۔ اُن کے نزدیک آپ کا دین، آپ کلچر، زبان، تاریخ سب کچھ ایک Ancient History کے علاوہ کچھ نہیں۔ آپ بڑھاپے میں آکر سوائے تبصروں اور افسوس کے کچھ نہیں کرسکتے۔ اب بھی وقت ہے۔ ہمارا ساتھ دیجئے۔ میں پھر ایک بار دوہرا رہا ہوں کہ صرف 2% لوگ اپنے وقت، پیسے اور توانائیوں کے ساتھ ہمارا ساتھ دیں گے تو ہم نہ صرف ہماری نسلوں کو بچالیں گے بلکہ دوسری قوموں کو بھی اسلام کا صحیح راستہ دکھا سکیں گے۔ ورنہ یہ نسلیں تو غلام بن کر رہیں گی ہی، لیکن آپ پر ہمیشہ ایک Terrorist, foreigner and invader ہی کا لیبل لگا رہے گا۔ آج ایک انقلاب کے بیج بونے میں مدد کیجئے، کل آپ ہی کی نسلیں اس کی فصل کاٹیں گے، ورنہ آج سے پچیس پچاسسال بعد آپ کے نسلوں کے دماغ سے اسلام اسی طرح غائب ہوجائیگا جس طرح مسلمانوں کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسپین، چین اورروس کے مسلمانوں کی زندگی سے نکل گیا۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاو گے ائے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
اگر آپ اِس درد کو محسوس کرتے ہیں اور ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں تو واٹس اپ پر رابطہ فرمائیں۔ 91 9642571721

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں