کشمیری سیاست کار، ’’مکافاتِ عمل‘‘

رشید پروین
ؔ سوپور، کشمیر

(حریت کانفرنس نے اپنی اہمیت کھو دی ہے کیونکہ ہم عمل نہ کر سکے، بلال غنی لون)
اس مختصر سے جملے میں کیا چھپا ہے یا کن احساسات یا جذبات کی عکاسی کر رہا ہے، شاید بہت کم لوگ اس سے ٹھیک طرح سے سمجھ پائیں گے۔ بظاہر اس جملے کے معنی اور تشریح کو تو کشمیری عوام ٹھوس شکل و صورت میں دیکھ رہے ہیں، اپنے اس منظر اور پھر اپنے پس منظر میں اس سے اگرچہ سمجھنا آسان ہی لگتا ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ، اس جملے سے شیخ عبداللہ کے اس جملے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جو انہوں نے پورے بائیس برس ایک تحریک چلانے کے بعد، اُس تحریک سے دامن جھاڑتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم نے بائیس برس تک صحرانوردی ہی کی ہے‘‘ یعنی بائیس برس کی جدوجہد جس کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کا لہو بہا تھا اور ہزاروں نوجوانوں نے اپنا مستقبل اور اپنے شباب کو جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں کی نذر کیا تھا، ایک لاحاصل، لایعنی اور بِنا مقاصد اور اہداف کے صحراؤں میں بھٹکنے ہی کے مترادف تھا، یہ بات شیخ عبداللہ کو بائیس برس کے بعد سمجھ آئی تھی۔
اور اب بلال غنی لون کے اس جملے پر غور کریں تو وہی پرچھائیاں صاف نظر آ رہی ہیں، ’’حریت نے اپنی اہمیت کھو دی ہے‘‘ یعنی تیس برس پر محیط ایک خونچکاں باب نہ تو کہیں ریلیونٹ رہا ہے اور نہ کہیں اس کی کوئی افادیت رہی ہے اور نہ ہی اس باب کے لیے ہماری تاریخ میں کوئی جگہ رہی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تین دہائیوں کے دوران لاکھوں کشمیری نوجوان اپنی جانوں سے گئے، لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور لاکھوں جوان عورتوں کا سہاگ لٹ گیا، جائیدادوں کا حساب نہیں۔ کیونکہ شہروں اور پورے پورے گاؤں اور قصبوں نے اجتماعی تباہی اور بربادی دیکھی، اجتماعی عصمت دری دیکھی اور اجتماعی قتل عام بھی دیکھے۔
بائیس برس کے بعد شیخ عبداللہ اپنے نقطۂ نگاہ سے اصل بات سمجھے تھے، اور انہوں نے اپنا نیا آغاز اندرا پارٹھاسارتھی سے طویل مذاکرات کے بعد لولی لنگڑی چیف منسٹری قبول کی تھی۔ 1947 تک ریاست جموں و کشمیر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود تھی اور الحاقِ ہند کے بعد کئی برسوں تک یہاں اپنا وزیر اعظم ہوا کرتا تھا، یہاں کا اپنا آئین اور جھنڈا بھی ہوا کرتا تھا، اور شیخ محمد عبداللہ 1947 کے بعد 5 مارچ 1948 تا پھر 31 اکتوبر 1951 تک پہلے وزیر اعظم تھے، پھر 31 اکتوبر تا 9 اگست 1953 اپنی گرفتاری تک بھی وزیر اعظم ہی تھے۔ اس کے بعد بخشی وغیرہ بھی رہے اور 6 جون 1965 میں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ میں بدل گئے۔
شیخ عبداللہ نے 1975 میں جو راز سمجھا اس سے حریت کانفرنس نے سمجھنے میں تیس پینتیس برس لگا دیے۔ اب بلال غنی لون بھی کم و بیش پینتیس برسوں کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سوچ ایک نئے سفر کا آغاز ہی کہا جا سکتا ہے، مکمل راہ کی تبدیلی کا عندیہ ہے، اور ایک نئی سیاسی دکان کے لیے نئے سیاسی مال، نئے بورڈ و بینر کی شروعات ہے۔
بلال کا تعلق حریت کانفرنس سے تھا، اگرچہ یہ صاحب معتدل حریت میں شامل تھے، جسے حریت ’’عین‘‘ کہا جاتا تھا یعنی حریت عمر۔ ان کے مقابل حریت ’’گ‘‘ یعنی حریت گیلانی کو شدت پسند فیکشن کے طور پر لیا جاتا تھا۔ بلال صاحب کے دوسرے بھائی سجاد غنی لون بھی ایک معروف شخصیت ہیں، ان کی اپنی پارٹی ہے جس کا نام پیپلز کانفرنس ہے اور ان کا تعلق مینسٹریم سے جوڑا جاتا ہے، یہ صاحب سرکاری اور مینسٹریم سیاسی پس منظر میں دہلی سے بھی خاصی پہچان رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ لون فیملی دونوں سائیڈ کی ٹیموں میں کھیلتی رہی ہے اور اب ان کے بیان کی اس پس منظر میں اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے کہ حالیہ دنوں سجاد صاحب نے اور دو چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک اتحاد کا اعلان کیا ہے جسے ’’پیپلز الائنس فار چینج‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پہلی پریس کانفرنس میں جہاں یہ اتحاد لانچ ہوا، اس کی وضاحت خود سجاد صاحب نے کی، اور اس کے اہداف و منازل کچھ اس طرح بیان کیے: ’’یہ اتحاد جس کا نام ’پی اے سی‘ ہے عوام کو تبدیلی کی طرف لے جائے گا اور ہم تبدیلی کے لیے ہی یہ پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ لون صاحب کی ساری پریس کانفرنس کا متن یہی تھا۔
یہ بھی اتفاق ہی ہے یا ایک منصوبے کے تحت ہوا ہے کہ بلال لون جو حریت کے ساتھ جڑے رہے ہیں، اب اپنا موقف بھی بدل رہے ہیں اور کافی غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حریت ’ع‘ بھی صحرانوردیاں ہی کرتی رہی تھی یعنی حریت ع یا گ دونوں کے موقف ہی ایسے تھے کہ جنہیں حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا اور نہ اب کبھی آگے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں ملیٹنسی کے دور میں کانگریس حکومت کے ساتھ pre-1953 پوزیشن کے آس پاس معاملات طے ہو سکتے تھے، لیکن اب نہ وہ زمانے رہے، نہ وہ زمین رہی اور نہ وہ دستاویزِ الحاق رہی، نہ 370 ہے نہ 35A۔
پچھلے ستتر (77) برس کے دوران ریاست جموں و کشمیر و لداخ سمٹتے سمٹتے یو ٹی میں ضم ہو چکی ہے، اور نہ اب یہ ریاست ہے نہ اس کا جھنڈا، ڈنڈا ہے اور نہ کہیں اس کا وہ وجود ہے جس کا کچھ سپیشل تھا۔ یہ سب اب عہدِ گم گشتہ ہے، اور کشمیری سیاست دان جس نے ہمیشہ اقتدار تک شارٹ کٹ تلاش کیے ہیں اب، کس چیز کی تلاش میں ہے؟ اور اپنے نئے سفر کا آغاز کس سمت میں کرنا چاہتا ہے؟ یہ ابھی تک یہاں کے تمام سیاست کاروں کی سمجھ سے باہر بھی ہے اور یقینی طور پر عمر سرکار کی بے بسیوں سے انہیں سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اب یہاں تمہارے پیروں سے زمین کھسک چکی ہے۔
عوامی منڈیٹ اور سیٹوں کی اکثریت کے ساتھ چیف منسٹری کے پد پر فائز ہو کر بھی عمر عبداللہ کی حکومت، ہمیں ہی نہیں خود این سی کو ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کے مترادف نظر آ رہی ہے۔ بیوروکریسی کی نظر کہیں اور ہے اور پولیس ظاہر ہے کہ جس کا ہر دور میں دبدبہ رہتا ہے، کے لیے چیف منسٹر اجنبی ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس لیے جو بھی اتحاد نئے بن رہے ہیں، ان کی پوزیشن کیا اس سے زیادہ مختلف ہوگی؟ قطعاً نہیں۔ بلکہ اس موجودہ سرکار سے بھی زیادہ گئی گزری ہی ہوگی۔
اب عمر کہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سٹیٹ ہُڈ واپس کی جائے، وہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی درجے کی بحالی سے اس کے ہاتھ کھل جائیں گے، اور وہ بحیثیت چیف منسٹر سرکار چلائیں گے۔ (دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے)۔ امیت شاہ نے اپنے بیانات میں اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی سٹیٹ ہُڈ کے بارے میں یہی کہا کہ ’’ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔‘‘
اب اس بیان کی کیا تشریح کی جا سکتی ہے؟ کہ وہ مناسب وقت کیا اور کیسا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سرکار ریاستی درجے کی بحالی کا کریڈٹ کسی اور کو کیوں دے گی؟ اور دوسری اہم بات یہ کہ شاید وہ مناسب وقت جب پیدا ہوگا جب، زمین بھی بی جے پی کی ہوگی، سرکار بھی انہی کی ہوگی اور سیاسی ماحول بھی انہی کا ہوگا۔
یہ حالات کہاں سے کہاں تک آ گئے؟ تاریخ کے طالب علم کو معلوم ہے اور اس کے لیے کون سے لوگ ذمہ دار ہیں؟ یہ سب اس درخت کا پھل یا چھاؤں ہے جسے شیخ نے خود اس سرزمین میں بویا ہے، اور پھر یہاں کے گماشتوں نے جس کی نشوونما عوام کے مفادات اور ریاست جموں و کشمیر کو نظر انداز کرکے ایک لمبے عرصے تک اپنی ترجیحات کو سامنے رکھ کر کی ہے۔ عشرت کدوں میں بیٹھ کر شیشے کے محلات تعمیر کیے اور اب یہ سب لوگ مکافاتِ عمل کے دور سے گزر رہے ہیں۔
بلال لون کا یہ کہنا درست ہے کہ حریت ڈلیور نہیں کر سکی، اور یہ قیادت وقت کے تقاضوں کو سمجھنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ، آپسی اختلافات، تضادات اور رسہ کشی نے عوام کی بیش بہا قربانیوں کو کسی طرح کامیاب ہونے نہیں دیا۔ حریت پلیٹ فارم جسے نوجوانوں کے خون کا امین سمجھا گیا تھا، اپنی ترجیحات اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے دو پھاڑ ہوئی، اور اس تحریک کو بھی اندھیروں کے حوالے کیا، جس میں لاکھوں افراد نے اپنا گرم گرم لہو دیا تھا۔
سو آج بقولِ بلال غنی، یہ تحریک ہی غیر منسلک ہو کر اپنا وجود کھو چکی ہے، جس طرح کبھی ماضی میں ’’محاذِ رائے شماری‘‘ کے ساتھ ہوا تھا۔ جماعت اسلامی کے ایک دھڑے نے بھی انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے اور ایک فیکشن نے سجاد کے اتحاد میں شمولیت کی ہے۔ مولوی عمر یعنی حریت ’ع‘ کی ایکشن کمیٹی، مسلم کانفرنس مولوی عباس، پروفیسر عبدالغنی بٹ کی سیاسی جماعت جنہیں معتدل سمجھا جاتا تھا پر پابندیاں برقرار ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان جماعتوں کے سربراہان اور بڑی تعداد میں کارکن یا تو قید ہیں یا ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنے لبوں پر تالا لگا چکے ہیں۔ کیونکہ 5 اگست 2019 کے بعد جو سیاسی تبدیلیاں اس سرزمین پر ہوئیں اور ہو رہی ہیں، ان میں کشمیری سیاست کاروں کے لیے کوئی اسپیس نہیں، وہ منسٹر ہوں یا چیف منسٹر، ان کے ساتھ لوگ ہوں کہ نہیں اور وہ انتخابات میں جیت کر بھی آ چکے ہوں تو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ برصغیر کی سیاست میں جو نئے رجحانات پنپ چکے ہیں اور سیاسی درخت نے جو رنگ و روپ دھارا ہے، یا جمہوری درخت میں جس طرح کے پیوند بآور ہو چکے ہیں ان کے پھل ہند و پاک میں واضح نظر آ رہے ہیں — جموں و کشمیر کی بات ہی نہیں۔
اس لیے نئے آغاز کے لیے ان لٹے پٹے سیاست دانوں کو پہلے اپنے آپ کو بدل دینا ہوگا، یا سیاست سے دست بردار ہو کر نئے چہروں کو نئے اہداف اور منازل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ شاید نہیں! کیونکہ دہائیوں سے ان کی دکانیں چلتی رہی ہیں، یہ میراثی دکانیں ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل تک وراثت میں منتقل ہوتی ہیں۔ نئے لوگ آنا بھی چاہیں تو وہ ان کاروانوں کے گرد و غبار میں ہی پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

کشمیری سیاست کار، ’’مکافاتِ عمل‘‘

رشید پروین
ؔ سوپور، کشمیر

(حریت کانفرنس نے اپنی اہمیت کھو دی ہے کیونکہ ہم عمل نہ کر سکے، بلال غنی لون)
اس مختصر سے جملے میں کیا چھپا ہے یا کن احساسات یا جذبات کی عکاسی کر رہا ہے، شاید بہت کم لوگ اس سے ٹھیک طرح سے سمجھ پائیں گے۔ بظاہر اس جملے کے معنی اور تشریح کو تو کشمیری عوام ٹھوس شکل و صورت میں دیکھ رہے ہیں، اپنے اس منظر اور پھر اپنے پس منظر میں اس سے اگرچہ سمجھنا آسان ہی لگتا ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں۔ کیونکہ، اس جملے سے شیخ عبداللہ کے اس جملے کی یاد تازہ ہوجاتی ہے جو انہوں نے پورے بائیس برس ایک تحریک چلانے کے بعد، اُس تحریک سے دامن جھاڑتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہم نے بائیس برس تک صحرانوردی ہی کی ہے‘‘ یعنی بائیس برس کی جدوجہد جس کے دوران سینکڑوں نوجوانوں کا لہو بہا تھا اور ہزاروں نوجوانوں نے اپنا مستقبل اور اپنے شباب کو جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں کی نذر کیا تھا، ایک لاحاصل، لایعنی اور بِنا مقاصد اور اہداف کے صحراؤں میں بھٹکنے ہی کے مترادف تھا، یہ بات شیخ عبداللہ کو بائیس برس کے بعد سمجھ آئی تھی۔
اور اب بلال غنی لون کے اس جملے پر غور کریں تو وہی پرچھائیاں صاف نظر آ رہی ہیں، ’’حریت نے اپنی اہمیت کھو دی ہے‘‘ یعنی تیس برس پر محیط ایک خونچکاں باب نہ تو کہیں ریلیونٹ رہا ہے اور نہ کہیں اس کی کوئی افادیت رہی ہے اور نہ ہی اس باب کے لیے ہماری تاریخ میں کوئی جگہ رہی ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان تین دہائیوں کے دوران لاکھوں کشمیری نوجوان اپنی جانوں سے گئے، لاکھوں بچے یتیم ہوئے اور لاکھوں جوان عورتوں کا سہاگ لٹ گیا، جائیدادوں کا حساب نہیں۔ کیونکہ شہروں اور پورے پورے گاؤں اور قصبوں نے اجتماعی تباہی اور بربادی دیکھی، اجتماعی عصمت دری دیکھی اور اجتماعی قتل عام بھی دیکھے۔
بائیس برس کے بعد شیخ عبداللہ اپنے نقطۂ نگاہ سے اصل بات سمجھے تھے، اور انہوں نے اپنا نیا آغاز اندرا پارٹھاسارتھی سے طویل مذاکرات کے بعد لولی لنگڑی چیف منسٹری قبول کی تھی۔ 1947 تک ریاست جموں و کشمیر ایک آزاد مملکت کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر موجود تھی اور الحاقِ ہند کے بعد کئی برسوں تک یہاں اپنا وزیر اعظم ہوا کرتا تھا، یہاں کا اپنا آئین اور جھنڈا بھی ہوا کرتا تھا، اور شیخ محمد عبداللہ 1947 کے بعد 5 مارچ 1948 تا پھر 31 اکتوبر 1951 تک پہلے وزیر اعظم تھے، پھر 31 اکتوبر تا 9 اگست 1953 اپنی گرفتاری تک بھی وزیر اعظم ہی تھے۔ اس کے بعد بخشی وغیرہ بھی رہے اور 6 جون 1965 میں آئینی ترمیم کے نتیجے میں وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ میں بدل گئے۔
شیخ عبداللہ نے 1975 میں جو راز سمجھا اس سے حریت کانفرنس نے سمجھنے میں تیس پینتیس برس لگا دیے۔ اب بلال غنی لون بھی کم و بیش پینتیس برسوں کے بعد اسی نتیجے پر پہنچے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سوچ ایک نئے سفر کا آغاز ہی کہا جا سکتا ہے، مکمل راہ کی تبدیلی کا عندیہ ہے، اور ایک نئی سیاسی دکان کے لیے نئے سیاسی مال، نئے بورڈ و بینر کی شروعات ہے۔
بلال کا تعلق حریت کانفرنس سے تھا، اگرچہ یہ صاحب معتدل حریت میں شامل تھے، جسے حریت ’’عین‘‘ کہا جاتا تھا یعنی حریت عمر۔ ان کے مقابل حریت ’’گ‘‘ یعنی حریت گیلانی کو شدت پسند فیکشن کے طور پر لیا جاتا تھا۔ بلال صاحب کے دوسرے بھائی سجاد غنی لون بھی ایک معروف شخصیت ہیں، ان کی اپنی پارٹی ہے جس کا نام پیپلز کانفرنس ہے اور ان کا تعلق مینسٹریم سے جوڑا جاتا ہے، یہ صاحب سرکاری اور مینسٹریم سیاسی پس منظر میں دہلی سے بھی خاصی پہچان رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ لون فیملی دونوں سائیڈ کی ٹیموں میں کھیلتی رہی ہے اور اب ان کے بیان کی اس پس منظر میں اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے کہ حالیہ دنوں سجاد صاحب نے اور دو چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا کر ایک اتحاد کا اعلان کیا ہے جسے ’’پیپلز الائنس فار چینج‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔
پہلی پریس کانفرنس میں جہاں یہ اتحاد لانچ ہوا، اس کی وضاحت خود سجاد صاحب نے کی، اور اس کے اہداف و منازل کچھ اس طرح بیان کیے: ’’یہ اتحاد جس کا نام ’پی اے سی‘ ہے عوام کو تبدیلی کی طرف لے جائے گا اور ہم تبدیلی کے لیے ہی یہ پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں۔‘‘ لون صاحب کی ساری پریس کانفرنس کا متن یہی تھا۔
یہ بھی اتفاق ہی ہے یا ایک منصوبے کے تحت ہوا ہے کہ بلال لون جو حریت کے ساتھ جڑے رہے ہیں، اب اپنا موقف بھی بدل رہے ہیں اور کافی غور و فکر کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ حریت ’ع‘ بھی صحرانوردیاں ہی کرتی رہی تھی یعنی حریت ع یا گ دونوں کے موقف ہی ایسے تھے کہ جنہیں حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا اور نہ اب کبھی آگے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں ملیٹنسی کے دور میں کانگریس حکومت کے ساتھ pre-1953 پوزیشن کے آس پاس معاملات طے ہو سکتے تھے، لیکن اب نہ وہ زمانے رہے، نہ وہ زمین رہی اور نہ وہ دستاویزِ الحاق رہی، نہ 370 ہے نہ 35A۔
پچھلے ستتر (77) برس کے دوران ریاست جموں و کشمیر و لداخ سمٹتے سمٹتے یو ٹی میں ضم ہو چکی ہے، اور نہ اب یہ ریاست ہے نہ اس کا جھنڈا، ڈنڈا ہے اور نہ کہیں اس کا وہ وجود ہے جس کا کچھ سپیشل تھا۔ یہ سب اب عہدِ گم گشتہ ہے، اور کشمیری سیاست دان جس نے ہمیشہ اقتدار تک شارٹ کٹ تلاش کیے ہیں اب، کس چیز کی تلاش میں ہے؟ اور اپنے نئے سفر کا آغاز کس سمت میں کرنا چاہتا ہے؟ یہ ابھی تک یہاں کے تمام سیاست کاروں کی سمجھ سے باہر بھی ہے اور یقینی طور پر عمر سرکار کی بے بسیوں سے انہیں سمجھ لینا چاہئے تھا کہ اب یہاں تمہارے پیروں سے زمین کھسک چکی ہے۔
عوامی منڈیٹ اور سیٹوں کی اکثریت کے ساتھ چیف منسٹری کے پد پر فائز ہو کر بھی عمر عبداللہ کی حکومت، ہمیں ہی نہیں خود این سی کو ’’بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ‘‘ کے مترادف نظر آ رہی ہے۔ بیوروکریسی کی نظر کہیں اور ہے اور پولیس ظاہر ہے کہ جس کا ہر دور میں دبدبہ رہتا ہے، کے لیے چیف منسٹر اجنبی ہو کر رہ گئے ہیں۔ اس لیے جو بھی اتحاد نئے بن رہے ہیں، ان کی پوزیشن کیا اس سے زیادہ مختلف ہوگی؟ قطعاً نہیں۔ بلکہ اس موجودہ سرکار سے بھی زیادہ گئی گزری ہی ہوگی۔
اب عمر کہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ سٹیٹ ہُڈ واپس کی جائے، وہ سمجھتے ہیں کہ ریاستی درجے کی بحالی سے اس کے ہاتھ کھل جائیں گے، اور وہ بحیثیت چیف منسٹر سرکار چلائیں گے۔ (دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے)۔ امیت شاہ نے اپنے بیانات میں اور اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی سٹیٹ ہُڈ کے بارے میں یہی کہا کہ ’’ہم جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ مناسب وقت پر بحال کریں گے لیکن ابھی وہ مناسب وقت نہیں۔‘‘
اب اس بیان کی کیا تشریح کی جا سکتی ہے؟ کہ وہ مناسب وقت کیا اور کیسا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے کہ یہ سرکار ریاستی درجے کی بحالی کا کریڈٹ کسی اور کو کیوں دے گی؟ اور دوسری اہم بات یہ کہ شاید وہ مناسب وقت جب پیدا ہوگا جب، زمین بھی بی جے پی کی ہوگی، سرکار بھی انہی کی ہوگی اور سیاسی ماحول بھی انہی کا ہوگا۔
یہ حالات کہاں سے کہاں تک آ گئے؟ تاریخ کے طالب علم کو معلوم ہے اور اس کے لیے کون سے لوگ ذمہ دار ہیں؟ یہ سب اس درخت کا پھل یا چھاؤں ہے جسے شیخ نے خود اس سرزمین میں بویا ہے، اور پھر یہاں کے گماشتوں نے جس کی نشوونما عوام کے مفادات اور ریاست جموں و کشمیر کو نظر انداز کرکے ایک لمبے عرصے تک اپنی ترجیحات کو سامنے رکھ کر کی ہے۔ عشرت کدوں میں بیٹھ کر شیشے کے محلات تعمیر کیے اور اب یہ سب لوگ مکافاتِ عمل کے دور سے گزر رہے ہیں۔
بلال لون کا یہ کہنا درست ہے کہ حریت ڈلیور نہیں کر سکی، اور یہ قیادت وقت کے تقاضوں کو سمجھنے میں نہ صرف ناکام رہی بلکہ، آپسی اختلافات، تضادات اور رسہ کشی نے عوام کی بیش بہا قربانیوں کو کسی طرح کامیاب ہونے نہیں دیا۔ حریت پلیٹ فارم جسے نوجوانوں کے خون کا امین سمجھا گیا تھا، اپنی ترجیحات اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے دو پھاڑ ہوئی، اور اس تحریک کو بھی اندھیروں کے حوالے کیا، جس میں لاکھوں افراد نے اپنا گرم گرم لہو دیا تھا۔
سو آج بقولِ بلال غنی، یہ تحریک ہی غیر منسلک ہو کر اپنا وجود کھو چکی ہے، جس طرح کبھی ماضی میں ’’محاذِ رائے شماری‘‘ کے ساتھ ہوا تھا۔ جماعت اسلامی کے ایک دھڑے نے بھی انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیا ہے اور ایک فیکشن نے سجاد کے اتحاد میں شمولیت کی ہے۔ مولوی عمر یعنی حریت ’ع‘ کی ایکشن کمیٹی، مسلم کانفرنس مولوی عباس، پروفیسر عبدالغنی بٹ کی سیاسی جماعت جنہیں معتدل سمجھا جاتا تھا پر پابندیاں برقرار ہیں۔
ظاہر ہے کہ ان جماعتوں کے سربراہان اور بڑی تعداد میں کارکن یا تو قید ہیں یا ڈر اور خوف کی وجہ سے اپنے لبوں پر تالا لگا چکے ہیں۔ کیونکہ 5 اگست 2019 کے بعد جو سیاسی تبدیلیاں اس سرزمین پر ہوئیں اور ہو رہی ہیں، ان میں کشمیری سیاست کاروں کے لیے کوئی اسپیس نہیں، وہ منسٹر ہوں یا چیف منسٹر، ان کے ساتھ لوگ ہوں کہ نہیں اور وہ انتخابات میں جیت کر بھی آ چکے ہوں تو ان باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ برصغیر کی سیاست میں جو نئے رجحانات پنپ چکے ہیں اور سیاسی درخت نے جو رنگ و روپ دھارا ہے، یا جمہوری درخت میں جس طرح کے پیوند بآور ہو چکے ہیں ان کے پھل ہند و پاک میں واضح نظر آ رہے ہیں — جموں و کشمیر کی بات ہی نہیں۔
اس لیے نئے آغاز کے لیے ان لٹے پٹے سیاست دانوں کو پہلے اپنے آپ کو بدل دینا ہوگا، یا سیاست سے دست بردار ہو کر نئے چہروں کو نئے اہداف اور منازل کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ شاید نہیں! کیونکہ دہائیوں سے ان کی دکانیں چلتی رہی ہیں، یہ میراثی دکانیں ہیں جو ایک نسل سے دوسری نسل تک وراثت میں منتقل ہوتی ہیں۔ نئے لوگ آنا بھی چاہیں تو وہ ان کاروانوں کے گرد و غبار میں ہی پیچھے رہ جاتے ہیں۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں