خورشید ریشی
افلاک رو رہے ہیں زمین بھی اداس ہے
آنسو بہا رہی ہے فضا تیری موت پر
دوستی ایک ایسا تحفہ ہے جو انسان کی زندگی بدل دیتا ہے اور اپنے دوست کے ساتھ انسان اپنی ہر خوشی اور اپنے ہر غم کا اظہار بغیر کسی جھجک کے کرتا ہے اور اپنے دوست کے ساتھ اپنا دکھ درد بانٹنے سے انسان کو راحت کی سانس نصیب ہوتی ہے۔
دوستی کیا ہے اسے سب پہ عیاں کرتے ہیں
آو کچھ خوبیاں یاروں کی بیاں کرتے ہیں
دوستی ایک حسیں جذبہ انسانی ہے
دوستی میں تو محبت کی فراوانی ہے
دوست وہ ہیں جو جذبات سمجھ لیتے ہیں
دل کے اندر کی بھی ہر بات سمجھ لیتے ہیں
ساتھ رہتے ہیں تو کچھ ایسی دوا دیتے ہیں
سارے دکھ درد کو پل بھر میں بھلا دیتے ہیں
جو کہ لازم نہ ہو وہ حق بھی ادا کرتے ہیں
دوست کچھ بھائی سے بڑھ کر بھی ہوا کرتے ہیں
خوش قسمتی سے ارشاد احمد لون ساکنہ باکی آکر کی صورت میں مجھے بھی اس عظیم تحفے سے اللہ تعالٰی نے نوازا تھا جس کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے کم و بیش بایئس سال گزارے سال 2003 میں کشمیر یونیورسٹی میں ہماری ملاقات ہوئی کیونکہ اسی سال ہم دونوں کا داخلہ شعبہ اردو میں ہوا اور یہاں سے ہماری دوستی کا سفر شروع ہوا اور روز بروز ہمارے تعلقات بڑھتے گئے اور حبک نسیم باغ میں ہم دونوں ایک ہی کمرے میں رہنے لگے اس دوران ایک ساتھ یونیورسٹی کے لئے نکلتے اور شام کو واپس اپنے ڈھیرے پر آتے ایک ساتھ اٹھنا بیٹھنا،کھانا پینا اور ایک دوسرے سے روٹھنے اور منانے کے خوبصورت پل شروع ہوتے گئے اس کے بعد تعلقات اتنے گہرے ہوتے گئے کہ ہم دونوں نے ایک دوسرے کے گھر آنا جانا شروع کیا اور ہماری دوستی سے ہمارے والدین جو ہم سے پہلے ایک دوسرے کو جانتے تھے اور نزدیک آتےگئے اور اس طرح ہمارے گھر والے ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے لگے۔ارشاد احمد لون ان دنوں بھی جب انکی جوانی شباب پر تھی صوم الصلاۃ کے پابند تھے،نرم مزاج،باکردار اور برداشت کرنے کی صلاحیت ان میں بدرجہ اتم موجود تھی۔سال 2003 کے آخر میں ارشاد احمد لون زون راجوار کے دور داراز علاقے میں رہبر تعلیم اسکیم کے تحت بحیثیت استاد تعینات ہوئے اور بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں مشغول ہوگئے۔اپنی سروس کے ابتدائی سالوں میں ہی ارشاد احمد لون محکمہ تعلیم میں اپنی محنت اور قابلیت سے چھا گئے اور ہر ایک کے دل میں گھر کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ارشاد احمد لون کے والد محترم علی محمد لون علاقہ راجوار کے ایک بااثر شخصیت ہیں اگر ارشاد احمد لون چاہتے تو اپنے والد محترم کے اثر و رسوخ کا استعمال کرکے اپنا تبادلہ عارضی بنیادوں پر ہی صحیح مگر میدانی علاقے میں کرا سکتے تھے مگر انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا وہ ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے کہ اگر میرا تبادلہ یہاں سے ہوا تو میں کل آخرت میں ان بچوں کو کیا جواب دونگا اور اس طرح انہوں نے اپنی زندگی کے اکیس قیمتی سال راجوار کے دور افتادہ علاقے میں علم کی شمع کو روشن کرنے میں گزارے اور وہاں سے راہ فرار اختیار نہیں کی کل صبح اسی فرض شناس،خود دار،بااخلاق با حیا اور اپنے پیشے سے انصاف کرنے والے اپنے ہمدرد دوست کی حادثے میں موت کی خبر سن کر مجھ پر قیامت ٹوٹ پڑی اور میں ایک عظیم دوست اور ہمدم کی رفاقت اور صحبت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم ہو گیا ۔میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے کیونکہ ایسے دوست کی جدائی کو برداشت کرنا میرے لیے مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔
بچھڑا اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا
ارشاد احمد لون کی موت کی خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی اور ہر ایک انسان کی آنکھ نم ہوگئ اس دوران وادی کشمیر کے اساتذہ کرام پر بالعموم اور کپواڑہ کے اساتذہ پر بالخصوص قیامت ٹوٹ پڑی اور ہر ایک نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے اپنے تعزیتی پیغام کے ذریعے اس فرض شناس استاد کو خراج عقیدت پیش کیا کیونکہ اپنی موت سے ارشاد احمد لون نے ایک بار پھر اپنی اساتذہ برادری کا سر فخر سے اونچا کیا کیونکہ وہ اپنے گھر سے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرکے اپنے اسکول کے طلبہ و طالبات سے صرف ایک یا دو کلو میٹر ہی دور تھے اور اپنے فرض منصبی کو ادا کرنے کے لیے اپنے تعلیمی ادارے کی طرف رواں دواں تھا جہاں پر طلبہ و طالبات اپنے رفیق اور شفیق استاد کا انتظار کر رہے تھے لیکن ان معصوم بچوں کو کیا معلوم کہ اب یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوگا کیونکہ اب ان راستوں سے ہمارے استاد کا آنا جانا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔آخر پر اللہ تعالٰی سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالٰی مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے اور تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ ارشاد احمد لون کے حق میں دعائے مغفرت کریں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔


