عالمی طاقتیں فلسطینیوں اور امت مسلمہ کی آواز کیوں نہیں سنتی؟

 

ریاض فردوسی

عیسائیوں اور یہودیوں کے عقائد میں بہت فرق ہے۔ یہودی توحید پر یقین رکھتے ہیں۔وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ وہ مورتی یا انبیاء کی تصویریں بھی نہیں بناتے۔ دوسری طرف عیسائی اگرچہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مشرک ہیں۔ وہ یسوع مسیح کو خدا سمجھ کر پوجتے ہیں۔ وہ اسے خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور اس طرح وہ اسے الوہیت کے ساتھ متصف کرتے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ یسوع خدا کا اوتار ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں مریم علیہ السلام کو خدا کی ماں مانتے ہیں۔ وہ تثلیث کے عقیدے پر بھی یقین رکھتے ہیں، تیسرا رکن یا تو مریم علیہ السلام ہے یا فرشتہ جبریل علیہ السلام۔ یہودی اس بات کو نہیں مانتے ‌ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا کا رسول ہے۔انجیل میں درج ہے کہ انہیں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا گیا تھا۔یہودیوں نے ان پر یقین کرنے کے بجائے ان‌ کی توہین کی اور کہا کہ وہ ایک غیر شادی شدہ ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے ان‌ پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے، کہ وہ یہودیوں کا بادشاہ ہے اور اس طرح رومی سلطنت کا باغی ہے۔ یہودی اپنی سازش میں یہاں تک چلے گیے کہ ان لوگوں نے رومی گورنر سے ان کے لیے مصلوب کا مطالبہ تک کر دیا۔عیسائی جانتے ہیں کہ یہودیوں کی شرارت اور سازش کی وجہ سے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا۔ دوسری طرف عیسائی مسلمانوں کے متعلق جانتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کی بہت زیادہ احترام کرتے ہیں اور ان‌ کا ایمان ہے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں اور وہ معجزانہ طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور ان کی والدہ مریم ایک متقی، خدا سے ڈرنے والی اور کنواری خاتون تھیں۔ ماضی میں ایک وقت ایسا گزرا ہے جب عیسائی یہودیوں سے شدید نفرت کرتے تھے کہ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہودی انکے نبی عیسیٰ مسیح کو صلیب پر چڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔اسی نفرت کی وجہ سے یورپ کے مختلف ممالک میں عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں پر زبردست ظلم و ستم‌ کیا گیا ۔ یہودیوں پر بدترین ظلم جرمنی کے ہٹلر نے کیا تھا جس نے ساٹھ لاکھ (60 لاکھ)یہودیوں کا قتل کروایا۔یہودیوں کے خلاف اس نفرت کو سامیت دشمنی (Anti semitism) کہا جاتا ہے۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ عیسائیوں میں یہودیوں کے خلاف نفرت میں کمی آتی گئی اور عیسائیوں نے یہودیوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا۔
جدید دنیا قومی ریاست کی دنیا ہے،استعمار کا راج ختم ہو چکا ہے۔کئی ممالک میں بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے جگہ لے لی ہے۔ سامراج کے خاتمے سے کئی نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں ہیں۔ مقدس رومی سلطنت
( Holy Roman Empire) ٹوٹ گیا۔ترکی یورپ کا بیمار شخص (Sick man of Europe) سمجھا جانے لگا اور خلافت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم کے بعد ختم ہوگئی۔ زبان و ثقافت اور نسل پر مبنی بہت سے صوبے متحد ہو کر ایک نئی ریاست بن گئ۔ ان صوبوں نے دستور (Constitution) کو اپنایا اور شاہی احکام کو رد کیا۔پرانی حکومت (Old regime) جاتی رہی۔ پہلی جنگ عظیم کے (World War I) بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔ اس دور کی سپر پاورز برطانیہ، فرانس اور اٹلی تھیں۔ جمعیت اقوام (League of Nations) کا قیام بین الاقوامی تنازعات کے حل اور دنیا کو جنگ سے باز رکھنے اور امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ۔اب برطانیہ عظمیٰ نے مظلوم یہودیوں(ان کی اصطلاح میں) کے لیے الگ سے وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور ان کے لیے فلسطین کی سرزمین کا انتخاب کیا۔
بیسویں صدی کے تیس کی دہائی میں جرمنی نے ورسائی کے معاہدے (Treaty of Versailles) کی خلاف ورزی کی اور اپنی ملک کی سرحدوں کو توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جرمنی نے ناروے، سویڈن، بیلجیم ، فرانس، چیکوسلواکیہ پر حملہ کر کے اور ان سب کو ایک ایک کر کے فتح کر لیا اور آخر کار پولینڈ پر حملہ کر دیا جس سے دوسری جنگ عظیم (World War II) شروع ہو گئی۔ جرمنی جس رفتار سے یکے بعد دیگرے ممالک کو اپنی سرحدوں سے ملا رہا تھا اس سے معلوم ہوتا تھا کہ جرمنی ناقابل تسخیر ہے اور یہ کہ جرمنی دنیا کا اگلا سپر پاور ہوگا۔جرمنی روس کے مغربی حصے میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا،لیکن ایک وقت آیا جب برطانیہ کسی نہ کسی طرح جرمنی کی توسیعی عمل کو روکنے میں کامیاب ہو گیا۔جرمنی کو اتحادی طاقتوں نے شکست دی اور جرمنی کو مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جرمنی کی طرح مشرق بعید (Far East) یا جنوب مشرقی ایشیا (South East Asia) میں جاپان بھی جرمنی کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔جاپان اپنے پڑوسی ممالک کو فتح کرکے اپنے ملک کو وسیع کر رہا تھا۔اس نے ویتنام،کمبوڈیا،منچوریا،فلپائن جیسے جزائر پر حملہ کیا اور ان سب کو فتح کر لیا جاپان بھی سپر پاور بن جاتا لیکن اس نے ایک سنگین غلطی کی جب اس نے امریکی فوجی اڈے (Military base) پرل ہاربر (Pearl Harbour) پر حملہ کیا۔اس کے بعد خود کو عالمی جنگ سے دور رکھنے والا امریکہ اس جگہ میں کود پڑا اور اس نے جاپان کے دو شہروں ایک ہیروشیما (Hiroshima) اور دوسرا ناگاساکی (Nagasaki) پر دو ایٹم بم گرائے اور ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ امریکہ کی طرف سے جاپان پر ایٹم بم حملے نے دنیا کو دنگ اور ششدر کر دیا، جاپان بدلہ لینے تک کا بھی سوچ نہ سکا اور وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔ ان واقعات کے بعد امریکہ دنیا کی نئی سپر پاور بن کر ابھرا۔یہ ایک اہم واقعہ تھا اور‌ دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ اقوام متحدہ کی تنظیم قائم ہوئی جو جمعیت اقوام یعنی لیگ آف نیشنز کی جگہ لی۔
اقوام متحدہ کی تنظیم کے نام سے عالمی طاقتوں کی حکمرانی کا ایک نیا دور شروع ہوا، اس کے فیصلے قبول کیے گئے، جرمنی اور جاپان نے جن علاقوں کو فتح کیا تھا ان مفتوح علاقوں کو جرمنی اور جاپان کو آزاد کرنا‌ پڑا،کسی ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کو ممنوع قرار دیا گیا۔نئے علاقوں کی سرحدوں کے حدود کا تعین اقوام متحدہ کے زریعہ ہوا۔سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کر کے 57 مسلم ممالک کو وجود میں لایا گیا،اقوام متحدہ کے ان فیصلوں کے درمیان ایک اور فیصلہ یہ ہوا کہ اسرائیل یہودیوں کے لیے ایک نئی ریاست ہوگی اور فلسطین عرب فلسطینیوں کے لیے دوسری ریاست ہو گی۔ یہ عالمی طاقتوں کا فیصلہ تھا جس کی نمائندگی اقوام متحدہ کی تنظیم نے کی۔یہودیوں نے اقوام متحدہ کے اس فیصلہ تسلیم کر لیا۔
اسرائیل ایک نیا ریاست بن گئی۔اسرائیل کی نئی ریاست کو دنیا نے تسلیم کر لیا،لیکن اس وقت 57 مسلم ممالک نے اسرائیل کو ایک نئی ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا اور اس طرح اقوام متحدہ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی۔ اقوام متحدہ کے فیصلے کو نا ماننے کا مطلب عالمی طاقتوں جنہوں نے دو عالمی جنگیں جیت چکی تھیں اور جو اب بالواسطہ طور پر دنیا پر حکومت کر رہی ہیں ان کے اجتماعی فیصلے کو نہیں ماننا ہے۔
اس کے بعد عرب ممالک نے اسرائیل کی طاقت کو کمتر سمجھا اور سوچا کہ وہ اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے میں کامیاب ہو جائے گی اور اس لیے عرب ممالک نے اسرائیل پر چار بار حملے کیے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ نوزائیدہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں عرب ممالک کو شکست کھانی بڑی اور اسرائیل ہر جنگ میں فلسطین کا زیادہ سے زیادہ خطہ فتح کرتا چلا گیااور اسرائیل سائز میں بڑھتا چلا گیا۔اقوام متحدہ نے اسرائیل کا ساتھ دیا کیونکہ اقوام متحدہ نے اسرائیل کے وجود کو بخشا تھا اور اس لیے اقوام متحدہ مسلم طاقتوں کی جارحیت سے اسرائیل کی حفاظت کرنا اپنا فرض اور زمےداری سمجھااور آج بھی سمجھتاہے۔حالیہ دنوں میں 7 اکتوبر 2023 ءکے بعد اسرائیل نے لاکھوں مسلمان مرد،خواتین،بچوں حتی کہ ضعیف اور بیماروں کو بھی نہیں بخشا سب کو شہید کیا اور غزہ کو تباہ و برباد کیا، شہر کے شہر ویران ہوگئے،اب تو لوگوں کی جان بھوک اور پیاس سے جا رہی ہے لیکن پھر بھی عالمی طاقتیں اسرائیل کی ظلم اور بربریت اور دوسری طرف فلسطیننیوں کے ابتر حالات پر خاموشی اختیار کیے ہویے ہے۔ہم پکار رہے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو چھوڑ دے اور اپنی سابقہ حدود میں واپس چلا جائے جس کا تعین 1948ء میں اقوام متحدہ نے کیا تھا،لیکن اسرائیل ہماری بات نہیں سن رہا اور نہ ہی اقوام متحدہ اسرائیل کو اپنی سابقہ حدود میں واپس جانے پر مجبور کر رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ عالمی طاقتیں ہماری بات نہیں سنتی کیونکہ ہم نے ان کی بات شروع میں نہیں سنی،ہم نے ان کے فیصلے کو نظر انداز کیا اور مسترد کیا۔ہم نے اقوام متحدہ کے دو ریاستی فارمولے کو قبول نہیں کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ عرب ممالک کے خلاف جنگ میں فتح پانے کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے جن علاقوں پر قبضہ کیا وہ ناجائز قبضہ ہے لیکن ہم اسرائیل کو اس کی سابقہ طے شدہ سرحدوں کے ساتھ بطور ریاست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں کو نہیں مانتا لیکن کیا ہم نے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں؟ ہم یہاں اقوام متحدہ کی وکالت یا حمایت نہیں کر رہے ہیں لیکن جدید دور میں اقوام متحدہ کے فیصلے ہی چلتے ہیں۔عالمی طاقتوں نے یہ طے کر چکا تھا کہ یہودیوں کو ایک خطہ ارض پر بسانا ہے کیونکہ جدید دور بادشاہت کی دور سے نکل کر قومی ریاست کے دور میں داخل ہو چکا تھا اور ہر قوم کے لیے الگ الگ ملک وجود پزیر ہو رہے تھے۔یہ وہ دور تھا جو یہودیوں کے لیے موافق ثابت ہوا ‌اور اسی وجہ سے اسرائیل فلسطین تنازع پیدا ہوا۔ہم‌ یہ نہیں کہتے کہ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ہمارے پاس اقوام متحدہ کے فیصلے نہیں ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ہم‌ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ہم اقوام متحدہ سے اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق فلسطین کے حق میں فیصلے کروا لیں۔اس دنیاوی نظام میں مفتوح قوم فاتح قوم کی بات سنتی ہے۔
حاکم محکوم کی بات نہیں سنتا۔ایک زمانہ تھا جب اقوام ہماری باتیں سنتی تھیں۔اب وہ زمانہ گزر گیا۔
یہ حقیقت عالمی طاقتیں بخوبی جانتی ہیں۔
اسرائیل فلسطین تنازع کے مسئلے کے دو حل ہیں:ایک یا تو اسرائیل کو اس کی سابقہ حدود کے ساتھ ایک ریاست کے طور پر قبول کر لیا جائے یا پھر ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب موجودہ عالمی نظام کی جگہ ایک ایسا نیا عالمی نظام وجود پزیر ہو جائے جس میں کم از کم دو یا تین مسلم سپر طاقتیں موجود ہوں جو اپنی شرائط و ضوابط کے مطابق اسرائیل فلسطین تنازع کا حل دریافت کر سکیں۔
ارضِ فلسطین پر قابض ہونے کے بعد ’’اسرائیل‘‘ نے آگ و خون کا جو سلسلہ شروع کیا، وہ تاحال جاری ہے۔اب تو ان مظلوموں کو کھانے کے بہانے بلا کر ان پر گولیاں برسائ جارہی ہے،ہمارے ملک بھارت میں ایک جلیانوالا باغ کی گونج اب تک باقی ہے،اور بعض کے زخم آج بھی تازہ ہیں،فلسطینیوں کے ساتھ روز ہی جلیانوالا باغ کیا جا رہا،اجتماعی قتل عام جاری ہے،ان بے بس،بیمار،بچے،عورتیں،بزرگ اور کمزور نہتے مسلمانوں کا خون ظالموں کے لیے حلال ہوگیا ہے۔
اب تو ان پرمجرمانہ حملہ اُس وقت کیا جاتا ہے جب غزہ کے محصور اور بھوکے عوام امدادی سامان کے حصول کی امید میں جمع ہوتے ہیں،ان کے بچے اور اپنے بھوک اور پیاس سے تڑپتے ہیں،وہ بیچارے اپنے بچوں،عورتوں،مریضوں اور ضعیفوں کے لیے کھانا لینے آتے ہیں،ان کو اپنوں کا رونا برداشت نہیں ہوتا،لیکن ظالم فوج اندھا دھند فائرنگ کر دیتی ہے،کبھی 60 کبھی 42،کبھی 50 مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور درجنوں کو شدید زخمی کر دیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

عالمی طاقتیں فلسطینیوں اور امت مسلمہ کی آواز کیوں نہیں سنتی؟

 

ریاض فردوسی

عیسائیوں اور یہودیوں کے عقائد میں بہت فرق ہے۔ یہودی توحید پر یقین رکھتے ہیں۔وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور خدا کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔ وہ مورتی یا انبیاء کی تصویریں بھی نہیں بناتے۔ دوسری طرف عیسائی اگرچہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں لیکن درحقیقت وہ مشرک ہیں۔ وہ یسوع مسیح کو خدا سمجھ کر پوجتے ہیں۔ وہ اسے خدا کا بیٹا کہتے ہیں اور اس طرح وہ اسے الوہیت کے ساتھ متصف کرتے ہیں۔ وہ یقین رکھتے ہیں کہ یسوع خدا کا اوتار ہے۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں مریم علیہ السلام کو خدا کی ماں مانتے ہیں۔ وہ تثلیث کے عقیدے پر بھی یقین رکھتے ہیں، تیسرا رکن یا تو مریم علیہ السلام ہے یا فرشتہ جبریل علیہ السلام۔ یہودی اس بات کو نہیں مانتے ‌ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام خدا کا رسول ہے۔انجیل میں درج ہے کہ انہیں اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس بھیجا گیا تھا۔یہودیوں نے ان پر یقین کرنے کے بجائے ان‌ کی توہین کی اور کہا کہ وہ ایک غیر شادی شدہ ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ انہوں نے ان‌ پر یہ الزام لگایا کہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ خدا کا بیٹا ہے، کہ وہ یہودیوں کا بادشاہ ہے اور اس طرح رومی سلطنت کا باغی ہے۔ یہودی اپنی سازش میں یہاں تک چلے گیے کہ ان لوگوں نے رومی گورنر سے ان کے لیے مصلوب کا مطالبہ تک کر دیا۔عیسائی جانتے ہیں کہ یہودیوں کی شرارت اور سازش کی وجہ سے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا۔ دوسری طرف عیسائی مسلمانوں کے متعلق جانتے ہیں کہ وہ یسوع مسیح کی بہت زیادہ احترام کرتے ہیں اور ان‌ کا ایمان ہے کہ وہ اللہ کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں اور وہ معجزانہ طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور ان کی والدہ مریم ایک متقی، خدا سے ڈرنے والی اور کنواری خاتون تھیں۔ ماضی میں ایک وقت ایسا گزرا ہے جب عیسائی یہودیوں سے شدید نفرت کرتے تھے کہ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ یہودی انکے نبی عیسیٰ مسیح کو صلیب پر چڑھانے کے ذمہ دار ہیں۔اسی نفرت کی وجہ سے یورپ کے مختلف ممالک میں عیسائیوں کے ہاتھوں یہودیوں پر زبردست ظلم و ستم‌ کیا گیا ۔ یہودیوں پر بدترین ظلم جرمنی کے ہٹلر نے کیا تھا جس نے ساٹھ لاکھ (60 لاکھ)یہودیوں کا قتل کروایا۔یہودیوں کے خلاف اس نفرت کو سامیت دشمنی (Anti semitism) کہا جاتا ہے۔تاہم وقت گزرنے کے ساتھ عیسائیوں میں یہودیوں کے خلاف نفرت میں کمی آتی گئی اور عیسائیوں نے یہودیوں کے لیے نرم گوشہ پیدا کیا۔
جدید دنیا قومی ریاست کی دنیا ہے،استعمار کا راج ختم ہو چکا ہے۔کئی ممالک میں بادشاہت کی جگہ جمہوریت نے جگہ لے لی ہے۔ سامراج کے خاتمے سے کئی نئی آزاد ریاستیں وجود میں آئیں ہیں۔ مقدس رومی سلطنت
( Holy Roman Empire) ٹوٹ گیا۔ترکی یورپ کا بیمار شخص (Sick man of Europe) سمجھا جانے لگا اور خلافت عثمانیہ پہلی جنگ عظیم کے بعد ختم ہوگئی۔ زبان و ثقافت اور نسل پر مبنی بہت سے صوبے متحد ہو کر ایک نئی ریاست بن گئ۔ ان صوبوں نے دستور (Constitution) کو اپنایا اور شاہی احکام کو رد کیا۔پرانی حکومت (Old regime) جاتی رہی۔ پہلی جنگ عظیم کے (World War I) بعد ایک نیا عالمی نظام وجود میں آیا۔ اس دور کی سپر پاورز برطانیہ، فرانس اور اٹلی تھیں۔ جمعیت اقوام (League of Nations) کا قیام بین الاقوامی تنازعات کے حل اور دنیا کو جنگ سے باز رکھنے اور امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ۔اب برطانیہ عظمیٰ نے مظلوم یہودیوں(ان کی اصطلاح میں) کے لیے الگ سے وطن بنانے کا فیصلہ کیا اور ان کے لیے فلسطین کی سرزمین کا انتخاب کیا۔
بیسویں صدی کے تیس کی دہائی میں جرمنی نے ورسائی کے معاہدے (Treaty of Versailles) کی خلاف ورزی کی اور اپنی ملک کی سرحدوں کو توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جرمنی نے ناروے، سویڈن، بیلجیم ، فرانس، چیکوسلواکیہ پر حملہ کر کے اور ان سب کو ایک ایک کر کے فتح کر لیا اور آخر کار پولینڈ پر حملہ کر دیا جس سے دوسری جنگ عظیم (World War II) شروع ہو گئی۔ جرمنی جس رفتار سے یکے بعد دیگرے ممالک کو اپنی سرحدوں سے ملا رہا تھا اس سے معلوم ہوتا تھا کہ جرمنی ناقابل تسخیر ہے اور یہ کہ جرمنی دنیا کا اگلا سپر پاور ہوگا۔جرمنی روس کے مغربی حصے میں بھی داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا،لیکن ایک وقت آیا جب برطانیہ کسی نہ کسی طرح جرمنی کی توسیعی عمل کو روکنے میں کامیاب ہو گیا۔جرمنی کو اتحادی طاقتوں نے شکست دی اور جرمنی کو مغربی جرمنی اور مشرقی جرمنی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جرمنی کی طرح مشرق بعید (Far East) یا جنوب مشرقی ایشیا (South East Asia) میں جاپان بھی جرمنی کے نقش قدم پر چل رہا تھا۔جاپان اپنے پڑوسی ممالک کو فتح کرکے اپنے ملک کو وسیع کر رہا تھا۔اس نے ویتنام،کمبوڈیا،منچوریا،فلپائن جیسے جزائر پر حملہ کیا اور ان سب کو فتح کر لیا جاپان بھی سپر پاور بن جاتا لیکن اس نے ایک سنگین غلطی کی جب اس نے امریکی فوجی اڈے (Military base) پرل ہاربر (Pearl Harbour) پر حملہ کیا۔اس کے بعد خود کو عالمی جنگ سے دور رکھنے والا امریکہ اس جگہ میں کود پڑا اور اس نے جاپان کے دو شہروں ایک ہیروشیما (Hiroshima) اور دوسرا ناگاساکی (Nagasaki) پر دو ایٹم بم گرائے اور ہزاروں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ امریکہ کی طرف سے جاپان پر ایٹم بم حملے نے دنیا کو دنگ اور ششدر کر دیا، جاپان بدلہ لینے تک کا بھی سوچ نہ سکا اور وہ امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔ ان واقعات کے بعد امریکہ دنیا کی نئی سپر پاور بن کر ابھرا۔یہ ایک اہم واقعہ تھا اور‌ دوسرا اہم واقعہ یہ ہوا کہ اقوام متحدہ کی تنظیم قائم ہوئی جو جمعیت اقوام یعنی لیگ آف نیشنز کی جگہ لی۔
اقوام متحدہ کی تنظیم کے نام سے عالمی طاقتوں کی حکمرانی کا ایک نیا دور شروع ہوا، اس کے فیصلے قبول کیے گئے، جرمنی اور جاپان نے جن علاقوں کو فتح کیا تھا ان مفتوح علاقوں کو جرمنی اور جاپان کو آزاد کرنا‌ پڑا،کسی ملک پر دوسرے ملک کی جارحیت کو ممنوع قرار دیا گیا۔نئے علاقوں کی سرحدوں کے حدود کا تعین اقوام متحدہ کے زریعہ ہوا۔سلطنت عثمانیہ کو تقسیم کر کے 57 مسلم ممالک کو وجود میں لایا گیا،اقوام متحدہ کے ان فیصلوں کے درمیان ایک اور فیصلہ یہ ہوا کہ اسرائیل یہودیوں کے لیے ایک نئی ریاست ہوگی اور فلسطین عرب فلسطینیوں کے لیے دوسری ریاست ہو گی۔ یہ عالمی طاقتوں کا فیصلہ تھا جس کی نمائندگی اقوام متحدہ کی تنظیم نے کی۔یہودیوں نے اقوام متحدہ کے اس فیصلہ تسلیم کر لیا۔
اسرائیل ایک نیا ریاست بن گئی۔اسرائیل کی نئی ریاست کو دنیا نے تسلیم کر لیا،لیکن اس وقت 57 مسلم ممالک نے اسرائیل کو ایک نئی ریاست کے طور پر قبول نہیں کیا اور اس طرح اقوام متحدہ کے فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی۔ اقوام متحدہ کے فیصلے کو نا ماننے کا مطلب عالمی طاقتوں جنہوں نے دو عالمی جنگیں جیت چکی تھیں اور جو اب بالواسطہ طور پر دنیا پر حکومت کر رہی ہیں ان کے اجتماعی فیصلے کو نہیں ماننا ہے۔
اس کے بعد عرب ممالک نے اسرائیل کی طاقت کو کمتر سمجھا اور سوچا کہ وہ اسرائیل کو دنیا کے نقشے سے مٹانے میں کامیاب ہو جائے گی اور اس لیے عرب ممالک نے اسرائیل پر چار بار حملے کیے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ نوزائیدہ اسرائیل کے ساتھ جنگ میں عرب ممالک کو شکست کھانی بڑی اور اسرائیل ہر جنگ میں فلسطین کا زیادہ سے زیادہ خطہ فتح کرتا چلا گیااور اسرائیل سائز میں بڑھتا چلا گیا۔اقوام متحدہ نے اسرائیل کا ساتھ دیا کیونکہ اقوام متحدہ نے اسرائیل کے وجود کو بخشا تھا اور اس لیے اقوام متحدہ مسلم طاقتوں کی جارحیت سے اسرائیل کی حفاظت کرنا اپنا فرض اور زمےداری سمجھااور آج بھی سمجھتاہے۔حالیہ دنوں میں 7 اکتوبر 2023 ءکے بعد اسرائیل نے لاکھوں مسلمان مرد،خواتین،بچوں حتی کہ ضعیف اور بیماروں کو بھی نہیں بخشا سب کو شہید کیا اور غزہ کو تباہ و برباد کیا، شہر کے شہر ویران ہوگئے،اب تو لوگوں کی جان بھوک اور پیاس سے جا رہی ہے لیکن پھر بھی عالمی طاقتیں اسرائیل کی ظلم اور بربریت اور دوسری طرف فلسطیننیوں کے ابتر حالات پر خاموشی اختیار کیے ہویے ہے۔ہم پکار رہے ہیں کہ اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو چھوڑ دے اور اپنی سابقہ حدود میں واپس چلا جائے جس کا تعین 1948ء میں اقوام متحدہ نے کیا تھا،لیکن اسرائیل ہماری بات نہیں سن رہا اور نہ ہی اقوام متحدہ اسرائیل کو اپنی سابقہ حدود میں واپس جانے پر مجبور کر رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ عالمی طاقتیں ہماری بات نہیں سنتی کیونکہ ہم نے ان کی بات شروع میں نہیں سنی،ہم نے ان کے فیصلے کو نظر انداز کیا اور مسترد کیا۔ہم نے اقوام متحدہ کے دو ریاستی فارمولے کو قبول نہیں کیا اور اسے مسترد کر دیا۔ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ عرب ممالک کے خلاف جنگ میں فتح پانے کے بعد اسرائیل نے فلسطین کے جن علاقوں پر قبضہ کیا وہ ناجائز قبضہ ہے لیکن ہم اسرائیل کو اس کی سابقہ طے شدہ سرحدوں کے ساتھ بطور ریاست تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ہم کہتے ہیں کہ اسرائیل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظور کردہ قراردادوں کو نہیں مانتا لیکن کیا ہم نے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے حوالے سے اقوام متحدہ کے فیصلہ کو قبول کرتے ہیں؟ ہم یہاں اقوام متحدہ کی وکالت یا حمایت نہیں کر رہے ہیں لیکن جدید دور میں اقوام متحدہ کے فیصلے ہی چلتے ہیں۔عالمی طاقتوں نے یہ طے کر چکا تھا کہ یہودیوں کو ایک خطہ ارض پر بسانا ہے کیونکہ جدید دور بادشاہت کی دور سے نکل کر قومی ریاست کے دور میں داخل ہو چکا تھا اور ہر قوم کے لیے الگ الگ ملک وجود پزیر ہو رہے تھے۔یہ وہ دور تھا جو یہودیوں کے لیے موافق ثابت ہوا ‌اور اسی وجہ سے اسرائیل فلسطین تنازع پیدا ہوا۔ہم‌ یہ نہیں کہتے کہ اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہے لیکن موجودہ صورتحال میں ہمارے پاس اقوام متحدہ کے فیصلے نہیں ماننے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں ہے۔ہم‌ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ ہم اقوام متحدہ سے اپنی مرضی اور خواہشات کے مطابق فلسطین کے حق میں فیصلے کروا لیں۔اس دنیاوی نظام میں مفتوح قوم فاتح قوم کی بات سنتی ہے۔
حاکم محکوم کی بات نہیں سنتا۔ایک زمانہ تھا جب اقوام ہماری باتیں سنتی تھیں۔اب وہ زمانہ گزر گیا۔
یہ حقیقت عالمی طاقتیں بخوبی جانتی ہیں۔
اسرائیل فلسطین تنازع کے مسئلے کے دو حل ہیں:ایک یا تو اسرائیل کو اس کی سابقہ حدود کے ساتھ ایک ریاست کے طور پر قبول کر لیا جائے یا پھر ہمیں اس وقت کا انتظار کرنا چاہیے جب موجودہ عالمی نظام کی جگہ ایک ایسا نیا عالمی نظام وجود پزیر ہو جائے جس میں کم از کم دو یا تین مسلم سپر طاقتیں موجود ہوں جو اپنی شرائط و ضوابط کے مطابق اسرائیل فلسطین تنازع کا حل دریافت کر سکیں۔
ارضِ فلسطین پر قابض ہونے کے بعد ’’اسرائیل‘‘ نے آگ و خون کا جو سلسلہ شروع کیا، وہ تاحال جاری ہے۔اب تو ان مظلوموں کو کھانے کے بہانے بلا کر ان پر گولیاں برسائ جارہی ہے،ہمارے ملک بھارت میں ایک جلیانوالا باغ کی گونج اب تک باقی ہے،اور بعض کے زخم آج بھی تازہ ہیں،فلسطینیوں کے ساتھ روز ہی جلیانوالا باغ کیا جا رہا،اجتماعی قتل عام جاری ہے،ان بے بس،بیمار،بچے،عورتیں،بزرگ اور کمزور نہتے مسلمانوں کا خون ظالموں کے لیے حلال ہوگیا ہے۔
اب تو ان پرمجرمانہ حملہ اُس وقت کیا جاتا ہے جب غزہ کے محصور اور بھوکے عوام امدادی سامان کے حصول کی امید میں جمع ہوتے ہیں،ان کے بچے اور اپنے بھوک اور پیاس سے تڑپتے ہیں،وہ بیچارے اپنے بچوں،عورتوں،مریضوں اور ضعیفوں کے لیے کھانا لینے آتے ہیں،ان کو اپنوں کا رونا برداشت نہیں ہوتا،لیکن ظالم فوج اندھا دھند فائرنگ کر دیتی ہے،کبھی 60 کبھی 42،کبھی 50 مسلمانوں کو شہید کیا گیا اور درجنوں کو شدید زخمی کر دیا گیا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں