ڈاکٹروں کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بدسلوکی پر پریس کلب برہم

جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں ڈاکٹروں کے احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، پر جونیئر ڈاکٹروں کے مبینہ حملے نے کشمیری صحافتی برادری میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ اسپتال کے احاطے میں اس وقت پیش آیا جب جونیئر ڈاکٹرز گزشتہ شب ایمرجنسی وارڈ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران جب متعدد بے چین تیماردار احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں سے بات چیت کی کوشش کر رہے تھے، تو وہاں موجود صحافی، جو صورتحال کی رپورٹنگ میں مصروف تھے، ڈاکٹروں کے غصے کا نشانہ بنے۔ بعض رپورٹس کے مطابق صحافیوں کو زدوکوب کیا گیا، دھکے دیے گئے، اور انہیں کھینچ کر باہر نکالا گیا۔
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی اور کشمیر پریس کلب کے صدر محمد سلیم پنڈت نے اس حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا:
"یہ صرف انفرادی صحافیوں پر حملہ نہیں تھا بلکہ کشمیر میں میڈیا کے ادارے پر حملہ تھا۔”
سلیم پنڈت، جو کشمیری صحافت میں ایک معتبر نام مانے جاتے ہیں، نے کہا کہ صحافی صرف اپنا پیشہ ورانہ فریضہ ادا کر رہے تھے جب اُن پر احتجاجی ڈاکٹروں نے حملہ کیا۔ انہوں نے اس رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سرکاری ادارے میں پیش آیا، جہاں عوامی احتساب سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
"افسوسناک بات یہ ہے کہ خواتین صحافیوں کو بھی نہیں بخشا گیا،” انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
سلیم پنڈت نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کی جائیں، اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے پرنسپل کو فوری طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا:
"میڈیکل برادری کو یاد رکھنا چاہیے کہ احتساب یک طرفہ نہیں ہوتا۔ جب میڈیا اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہو تو اسے تحفظ اور احترام دیا جانا چاہیے۔”
پریس کلب کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور صحافیوں و ڈاکٹروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو پریس کلب اسے لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور مرکزی وزارتِ اطلاعات و نشریات تک لے جانے پر مجبور ہو گا۔
اس موقع پر پریس کلب کے جنرل سیکریٹری ذوالفقار مجید نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسپتالوں جیسے حساس مقامات پر کام کرنے والے میڈیا اہلکاروں کی عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
کشمیر پریس کلب نے مظلوم صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا جو احتجاج یا بدنظمی کی آڑ میں آزادیٔ صحافت کو کچلنے کے مترادف ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

سردیوں میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کی روک تھام

  فیضان پنجابی درجہ حرارت گرتے ہی گھروں میں حرارت حاصل...

تازہ ترین خبریں

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

سردیوں میں آگ لگنے کے واقعات میں اضافے کی روک تھام

  فیضان پنجابی درجہ حرارت گرتے ہی گھروں میں حرارت حاصل...

ڈاکٹروں کی جانب سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ساتھ بدسلوکی پر پریس کلب برہم

جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں ڈاکٹروں کے احتجاج کی کوریج کے دوران صحافیوں، جن میں خواتین بھی شامل تھیں، پر جونیئر ڈاکٹروں کے مبینہ حملے نے کشمیری صحافتی برادری میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے کو اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے فوری تحقیقات اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، یہ واقعہ اسپتال کے احاطے میں اس وقت پیش آیا جب جونیئر ڈاکٹرز گزشتہ شب ایمرجنسی وارڈ میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران جب متعدد بے چین تیماردار احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں سے بات چیت کی کوشش کر رہے تھے، تو وہاں موجود صحافی، جو صورتحال کی رپورٹنگ میں مصروف تھے، ڈاکٹروں کے غصے کا نشانہ بنے۔ بعض رپورٹس کے مطابق صحافیوں کو زدوکوب کیا گیا، دھکے دیے گئے، اور انہیں کھینچ کر باہر نکالا گیا۔
جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی اور کشمیر پریس کلب کے صدر محمد سلیم پنڈت نے اس حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا:
"یہ صرف انفرادی صحافیوں پر حملہ نہیں تھا بلکہ کشمیر میں میڈیا کے ادارے پر حملہ تھا۔”
سلیم پنڈت، جو کشمیری صحافت میں ایک معتبر نام مانے جاتے ہیں، نے کہا کہ صحافی صرف اپنا پیشہ ورانہ فریضہ ادا کر رہے تھے جب اُن پر احتجاجی ڈاکٹروں نے حملہ کیا۔ انہوں نے اس رویے کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سرکاری ادارے میں پیش آیا، جہاں عوامی احتساب سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔
"افسوسناک بات یہ ہے کہ خواتین صحافیوں کو بھی نہیں بخشا گیا،” انہوں نے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
سلیم پنڈت نے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی شفاف اور وقت مقررہ کے اندر تحقیقات کی جائیں، اور گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے پرنسپل کو فوری طور پر ذمہ دار افراد کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا:
"میڈیکل برادری کو یاد رکھنا چاہیے کہ احتساب یک طرفہ نہیں ہوتا۔ جب میڈیا اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہو تو اسے تحفظ اور احترام دیا جانا چاہیے۔”
پریس کلب کے صدر نے خبردار کیا کہ اگر اس معاملے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور صحافیوں و ڈاکٹروں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا تو پریس کلب اسے لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ اور مرکزی وزارتِ اطلاعات و نشریات تک لے جانے پر مجبور ہو گا۔
اس موقع پر پریس کلب کے جنرل سیکریٹری ذوالفقار مجید نے بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور اسپتالوں جیسے حساس مقامات پر کام کرنے والے میڈیا اہلکاروں کی عزت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
کشمیر پریس کلب نے مظلوم صحافیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی بھی ایسی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا جو احتجاج یا بدنظمی کی آڑ میں آزادیٔ صحافت کو کچلنے کے مترادف ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں