جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/ اگرچہ ہندوستان-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدے (CETA) میں کشمیر کا براہِ راست ذکر نہیں، لیکن وادی کے روایتی دستکاری شعبے سے جڑے ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات لا سکتا ہے، خاص طور پر جب ہندوستانی برآمدات کے 99 فیصد حصے جن میں ٹیکسٹائل، چمڑا، جوتے اور دستکاری جیسے محنت طلب شعبے شامل ہیں کو زیرو ڈیوٹی رسائی دی جا رہی ہے۔
یہ معاہدہ وزیر اعظم نریندر مودی اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر کی موجودگی میں دستخط ہوا۔ اس معاہدے کو اقتصادی انضمام کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تجارت و صنعت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل نے، کے این او کے مطابق، اس معاہدے کو ہنرمندوں، خواتین کی قیادت والے کاروباروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے اداروں (MSMEs) کو بااختیار بنانے کا ذریعہ قرار دیا، جو ہندوستانی برآمداتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اس کا مثبت اثر کشمیر کے روایتی شعبوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ عالمی سطح پر مشہور کشمیری مصنوعات جیسے کہ پشمینہ شالیں، سوزنی کڑھائی، پیپر ماشی، اخروٹ کی لکڑی کی نقش و نگاری اور کانی بُنائی کو اب برطانیہ کی منڈی تک زیادہ آسان رسائی، کم برآمدی لاگت اور بڑھتی ہوئی مانگ کا فائدہ مل سکتا ہے۔
مقامی کاروباری حضرات اور برآمدکنندگان اس پیش رفت کو ایک خوش آئند قدم قرار دے رہے ہیں۔
سرینگر کے ایک قالین برآمد کنندہ عبدالرشید وانی نے کہا کہ اگر اس معاہدے کو صحیح طریقے سے نافذ کیا گیا تو یہ کشمیری ہنرمند برادری کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: "برطانیہ میں کشمیری دستکاری کی ہمیشہ سے مانگ رہی ہے۔ اب چونکہ ڈیوٹی ختم ہو گئی ہے، ہماری قیمتیں مقابلہ بازی کے قابل ہو جائیں گی۔”
حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ کشمیری خواتین کاروباریوں اور نوجوانوں کی قیادت والے اسٹارٹ اپس کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا، جن میں سے کئی فیشن، ڈیزائن اور دستکاری سے جُڑے ہیں۔ وزارتِ تجارت کے مطابق، اس نئے فریم ورک کے تحت علاقائی صنعتوں کو عالمی ویلیو چینز سے جوڑنے کی کوششیں کی جائیں گی۔
تاجروں اور برآمد کنندگان کا ماننا ہے کہ یہ معاہدہ کشمیری برآمدی شعبے میں جاری سست روی کو بھی کسی حد تک دور کر سکتا ہے، خاص طور پر جب کہ مشینی مصنوعات، روایتی ہنڈ میڈ اشیاء کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ کشمیر کی ہنرمند معیشت پہلے ہی ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے، اس لیے متعلقہ حلقوں کو امید ہے کہ CETA نہ صرف اقتصادی فوائد لے کر آئے گا بلکہ روایتی فنون کی بقا اور عالمی منڈی میں ان کی پائیداری میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔


