یومِ متاثرینِ عالمی ماحولیاتی بحران

یورپی یونین نے 15 جولائی کو "یومِ متاثرینِ عالمی ماحولیاتی بحران” کے طور پر منانے کا فیصلہ کرکے ایک علامتی مگر اہم قدم اٹھایا ہے۔ یہ ان کروڑوں انسانوں کے لئے اعتراف ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں زندگی، روزگار، گھر، یا شناخت سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن منانا اس عالمگیر بحران کا مداوا ہے؟ کیا یاد کر لینے سے وہ زخم مندمل ہو جائیں گے جو ماحولیاتی ناانصافی نے دنیا کے کمزور طبقات کو دیے ہیں؟
ماحولیاتی بحران کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ جو ممالک سب سے کم آلودگی کے ذمے دار ہیں، وہی اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں۔ افریقی دہقان، بنگلہ دیشی ماہی گیر، جنوبی امریکہ کے قبائلی، یا بحرالکاہل کے ڈوبتے جزائر — یہ سب اس جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں جو انہوں نے کبھی چھیڑی ہی نہیں۔ دوسری طرف، ترقی یافتہ دنیا آج بھی صنعتی مفادات اور کارپوریٹ معاہدوں میں الجھی ہوئی ہے، گویا عالمی ماحول صرف تقریروں اور اجلاسوں کے لئے ایک موضوع بن کر رہ گیا ہو۔
یقیناً، یورپی یونین کا یہ اقدام بیداری کی ایک علامت ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ تلخ سچ بھی جُڑا ہے کہ ماضی میں انہی طاقتور ریاستوں نے زمین کا توازن بگاڑا، اور اب محض ایک دن مناکر اپنے ضمیر کو تسلی دینا چاہتی ہیں۔ متاثرین کو یاد کرنا اہم ہے، مگر اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ عالمی نظام متاثرین کو بااختیار بنائے، ان کے لئے انصاف پر مبنی پالیسیاں تشکیل دے، اور ماحولیاتی انصاف کو محض ترقی یافتہ ریاستوں کی ترجیحات میں نہیں، بلکہ عالمی ترجیح میں تبدیل کرے۔
یہ دن ہمیں صرف ماضی کی تباہیوں کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ آنے والے مستقبل کا نقشہ بھی کھینچتا ہے۔ اگر آج عالمی طاقتیں بیدار نہ ہوئیں تو کل کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ ماحولیاتی تباہی کی کوئی سرحد نہیں، کوئی قوم پرستی نہیں، اور کوئی امارت یا غربت نہیں۔ یہ وہ بحران ہے جس میں انسانیت ایک کشتی میں سوار ہے۔ اور جب ایک سرا ڈوبتا ہے، تو پوری کشتی خطرے میں آتی ہے۔
یاد کا دن منانا آغاز ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ دن عمل میں نہ بدلے تو یہ اعتراف، نری ریاکاری بن جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

تازہ ترین خبریں

محبوبہ کانگریس کی ترجمان بن چکی ہے /انعام النبی

جنگ نیوز سری نگر/عوامی اتحاد پارٹی (AIP) کے چیف ترجمان...

ریلوے میں اسٹیشن ماسٹر کی 1265 اسامیاں مشتہر

جنگ نیوز بھارتی ریلوے نے مختلف ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈز اور...

لیفٹیننٹ گورنر کادہشت گردی کیخلاف فول پروف حکمت عملی پر زور

نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے آج لوک...

دفعہ 370 اور 35A کی بحالی کی جدوجہد جاری رہے گی/ڈاکٹر فاروق عبداللہ

  جنگ نیوز ڈیسک سرینگر/ نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق...

تاریخ کے آئینے میں شہنشاہ اکبر اور بڈشاہ زین العابدین

  رشید پروینؔ سوپور، کشمیر کئی مورخین نے اکبر اور زین العابدین...

یومِ متاثرینِ عالمی ماحولیاتی بحران

یورپی یونین نے 15 جولائی کو "یومِ متاثرینِ عالمی ماحولیاتی بحران” کے طور پر منانے کا فیصلہ کرکے ایک علامتی مگر اہم قدم اٹھایا ہے۔ یہ ان کروڑوں انسانوں کے لئے اعتراف ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں زندگی، روزگار، گھر، یا شناخت سے محروم ہو چکے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک دن منانا اس عالمگیر بحران کا مداوا ہے؟ کیا یاد کر لینے سے وہ زخم مندمل ہو جائیں گے جو ماحولیاتی ناانصافی نے دنیا کے کمزور طبقات کو دیے ہیں؟
ماحولیاتی بحران کی سب سے تلخ حقیقت یہی ہے کہ جو ممالک سب سے کم آلودگی کے ذمے دار ہیں، وہی اس کے نتائج بھگتنے پر مجبور ہیں۔ افریقی دہقان، بنگلہ دیشی ماہی گیر، جنوبی امریکہ کے قبائلی، یا بحرالکاہل کے ڈوبتے جزائر — یہ سب اس جنگ کا ایندھن بنے ہوئے ہیں جو انہوں نے کبھی چھیڑی ہی نہیں۔ دوسری طرف، ترقی یافتہ دنیا آج بھی صنعتی مفادات اور کارپوریٹ معاہدوں میں الجھی ہوئی ہے، گویا عالمی ماحول صرف تقریروں اور اجلاسوں کے لئے ایک موضوع بن کر رہ گیا ہو۔
یقیناً، یورپی یونین کا یہ اقدام بیداری کی ایک علامت ہے۔ مگر اس کے ساتھ یہ تلخ سچ بھی جُڑا ہے کہ ماضی میں انہی طاقتور ریاستوں نے زمین کا توازن بگاڑا، اور اب محض ایک دن مناکر اپنے ضمیر کو تسلی دینا چاہتی ہیں۔ متاثرین کو یاد کرنا اہم ہے، مگر اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ عالمی نظام متاثرین کو بااختیار بنائے، ان کے لئے انصاف پر مبنی پالیسیاں تشکیل دے، اور ماحولیاتی انصاف کو محض ترقی یافتہ ریاستوں کی ترجیحات میں نہیں، بلکہ عالمی ترجیح میں تبدیل کرے۔
یہ دن ہمیں صرف ماضی کی تباہیوں کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ آنے والے مستقبل کا نقشہ بھی کھینچتا ہے۔ اگر آج عالمی طاقتیں بیدار نہ ہوئیں تو کل کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔ ماحولیاتی تباہی کی کوئی سرحد نہیں، کوئی قوم پرستی نہیں، اور کوئی امارت یا غربت نہیں۔ یہ وہ بحران ہے جس میں انسانیت ایک کشتی میں سوار ہے۔ اور جب ایک سرا ڈوبتا ہے، تو پوری کشتی خطرے میں آتی ہے۔
یاد کا دن منانا آغاز ہو سکتا ہے، لیکن اگر یہ دن عمل میں نہ بدلے تو یہ اعتراف، نری ریاکاری بن جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں