کتاب سے دوستی وقت کی اہم ترین ضرورت

توقیر غالب

آج کے اس ماحول میں انسان کی ترقی، کامیابی اور عزت کا رازعلم ہے لیکن ایسا علم جو خود کو اور دوسروں کو بھی فائدہ دے اور وہ علم نہیں، جو نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کے لئے فائدہ مند ہو۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرکلپس کو پن، شامل یا حذف کرنے کے لئے ترمیم کا آئيکن استعمال کریں۔مایا: ”جو ہدایت اور علم اللہ تعالیٰ نے مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بارش کی ہے وہ جو زمین پر نازل ہوئی، اس کا ایک ٹکڑا زرخیز تھا اس نے پانی کو قبول کیا، اس نے گھاس اور بہت سا سبزہ پیدا کیا، اس ایک ٹکڑا بنجر تھا اس نے پانی کو روک لیا، اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچایا، لوگوں نے اس پانی پیا، جانوروں کو پلایا، کھیتی کو سیراب کیا اور اس کے ایک اور پر بارش ہوئی، وہ بس چٹیل میدان تھا، نہ وہ پانی روکتا ہے اور نہ گھاس اگاتا ہے۔ یہ (جس زمین نے پانی کو قبول کیا اور دیگر چیزیں اگائی) ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ تعالی نے جو کچھ مجھے دیے کر بھیجا ہے اس نے اس کو فائدہ پہنچایا، اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ان لوگوں کی تمثیل، جنہوں نے اس کی طرف (علم و ہدایت کر طرف) سر اٹھا کر نہیں دیکھا اور جو ہدایت دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہیں کیا۔” (اور جس زمین نے صرف پانی کو اکٹھا کیا وہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے صرف علم سیکھا اس سے خود تو فائدہ نہ اٹھایا لیکن دوسروں کو فائدہ پہنچایا)۔ ( مسلم شریف حدیث: 5953)
علم یہ ہر دور، ہر قوم اور ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس انسان کے پاس علم ہے، وہ جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھتا ہے۔ اور علم حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ کتاب ہے۔
کتاب اکیلے پن کا ایک بہترین ساتھی، مخلص دوست اور خاموش استاد ہے، جو نہ تھکتی، نہ شکایت کرتی، نہ دل دکھاتی ہے، بلکہ انسان کی ہر موڑ پر رہنمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
کتابوں کا مطالعہ انسان کی سوچ، ذہن، دور اندیشی اور کردار کو بلند کرتا ہے۔ مطالعہ انسان کو منفی سوچ، عقل کا زوال، فکری پستی، زبان بیان کی کمزوری، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی، ضیاء وقت، سستی و کاہلی، تنہائی میں بے چینی، دل کی سختی، حق و باطل میں علم کا فقدان اور خود اعتمادی میں کمی جیسی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ موجودہ دور میں موبائل اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو کتب بینی سے بہت دور کر دیا ہے۔ لوگوں کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ان کا کتنا وقت بے مقصد چیزوں میں گزر گیا۔ اخر لوگ نیند سے کب بیدار ہوں گے کب دیکھیں گے کہ زوال و پستی کی بنیاد ہمارا کتب بینی سے دوری ہے۔
اگر ہم ماضی پر غور کریں تو بہت سی باتیں نکل کر باہر آتی ہیں کہ کس طرح علماء، مفکرین اور دانشور کتابوں کی دلدادہ تھے کہ کسی بھی کتاب کے لئے دور دور تک کا سفر کرتے تھے۔ بہت سے علماء کا کتابوں سے ایسا تعلق تھا کہ بعض کے متعلق آتا ہے کہ ان کا انتقال بھی کتابوں کے درمیان ہوا۔ کتابوں کے بہت سے میلے لگتے تھے لیکن ہم کتاب کی جگہ ڈرامہ اور بہت سے غلط چیزوں نے جگہ لے لی ہے۔
آج کے اس تیز رفتار، شور شرابے اور سوشل میڈیا کے دور میں جہاں موبائل اور انٹرنیٹ نے نوجوانوں کو اپنا اسیر بنا لیا ہے، وہیں کتاب سے دوستی کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے، جو ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ علم و فکر، تہذیب و شرافت اور دین و اخلاق کی روشنی پھیلانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
ہمیں اپنی زندگی میں کم از کم روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعے کا معمول بنانا چاہیے، چاہے 10 منٹ ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ یہی دس منٹ مستقبل میں ایک گھنٹے کے مانند ہوگا اور اس مطالعے میں قرآن و حدیث، سیرت، اسلامی تاریخ اور دینی کتب کو ضرور شامل کریں، تاکہ علم کے ساتھ ایمان اور کردار بھی سنورے۔
اللہ تعالیٰ سے ہے کہ وہ ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔ اور کتب بینی کی خواہش ہمارے دلوں کے اندر رچ بس جائے۔ آمین۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

کتاب سے دوستی وقت کی اہم ترین ضرورت

توقیر غالب

آج کے اس ماحول میں انسان کی ترقی، کامیابی اور عزت کا رازعلم ہے لیکن ایسا علم جو خود کو اور دوسروں کو بھی فائدہ دے اور وہ علم نہیں، جو نہ اپنے لئے اور نہ دوسروں کے لئے فائدہ مند ہو۔
نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرکلپس کو پن، شامل یا حذف کرنے کے لئے ترمیم کا آئيکن استعمال کریں۔مایا: ”جو ہدایت اور علم اللہ تعالیٰ نے مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بارش کی ہے وہ جو زمین پر نازل ہوئی، اس کا ایک ٹکڑا زرخیز تھا اس نے پانی کو قبول کیا، اس نے گھاس اور بہت سا سبزہ پیدا کیا، اس ایک ٹکڑا بنجر تھا اس نے پانی کو روک لیا، اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچایا، لوگوں نے اس پانی پیا، جانوروں کو پلایا، کھیتی کو سیراب کیا اور اس کے ایک اور پر بارش ہوئی، وہ بس چٹیل میدان تھا، نہ وہ پانی روکتا ہے اور نہ گھاس اگاتا ہے۔ یہ (جس زمین نے پانی کو قبول کیا اور دیگر چیزیں اگائی) ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے اللہ کے دین کو سمجھا اور اللہ تعالی نے جو کچھ مجھے دیے کر بھیجا ہے اس نے اس کو فائدہ پہنچایا، اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور ان لوگوں کی تمثیل، جنہوں نے اس کی طرف (علم و ہدایت کر طرف) سر اٹھا کر نہیں دیکھا اور جو ہدایت دے کر مجھے بھیجا گیا ہے اسے قبول نہیں کیا۔” (اور جس زمین نے صرف پانی کو اکٹھا کیا وہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے صرف علم سیکھا اس سے خود تو فائدہ نہ اٹھایا لیکن دوسروں کو فائدہ پہنچایا)۔ ( مسلم شریف حدیث: 5953)
علم یہ ہر دور، ہر قوم اور ہر شخص کی بنیادی ضرورت ہے۔ جس انسان کے پاس علم ہے، وہ جہالت کی تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف بڑھتا ہے۔ اور علم حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ کتاب ہے۔
کتاب اکیلے پن کا ایک بہترین ساتھی، مخلص دوست اور خاموش استاد ہے، جو نہ تھکتی، نہ شکایت کرتی، نہ دل دکھاتی ہے، بلکہ انسان کی ہر موڑ پر رہنمائی کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
کتابوں کا مطالعہ انسان کی سوچ، ذہن، دور اندیشی اور کردار کو بلند کرتا ہے۔ مطالعہ انسان کو منفی سوچ، عقل کا زوال، فکری پستی، زبان بیان کی کمزوری، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی، ضیاء وقت، سستی و کاہلی، تنہائی میں بے چینی، دل کی سختی، حق و باطل میں علم کا فقدان اور خود اعتمادی میں کمی جیسی بیماریوں سے بچاتا ہے۔ موجودہ دور میں موبائل اور سوشل میڈیا نے لوگوں کو کتب بینی سے بہت دور کر دیا ہے۔ لوگوں کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ ان کا کتنا وقت بے مقصد چیزوں میں گزر گیا۔ اخر لوگ نیند سے کب بیدار ہوں گے کب دیکھیں گے کہ زوال و پستی کی بنیاد ہمارا کتب بینی سے دوری ہے۔
اگر ہم ماضی پر غور کریں تو بہت سی باتیں نکل کر باہر آتی ہیں کہ کس طرح علماء، مفکرین اور دانشور کتابوں کی دلدادہ تھے کہ کسی بھی کتاب کے لئے دور دور تک کا سفر کرتے تھے۔ بہت سے علماء کا کتابوں سے ایسا تعلق تھا کہ بعض کے متعلق آتا ہے کہ ان کا انتقال بھی کتابوں کے درمیان ہوا۔ کتابوں کے بہت سے میلے لگتے تھے لیکن ہم کتاب کی جگہ ڈرامہ اور بہت سے غلط چیزوں نے جگہ لے لی ہے۔
آج کے اس تیز رفتار، شور شرابے اور سوشل میڈیا کے دور میں جہاں موبائل اور انٹرنیٹ نے نوجوانوں کو اپنا اسیر بنا لیا ہے، وہیں کتاب سے دوستی کا رواج کم ہوتا جا رہا ہے، جو ایک افسوسناک حقیقت ہے۔ علم و فکر، تہذیب و شرافت اور دین و اخلاق کی روشنی پھیلانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کتاب سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اس کو زندگی کا لازمی حصہ بنائیں۔
ہمیں اپنی زندگی میں کم از کم روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعے کا معمول بنانا چاہیے، چاہے 10 منٹ ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ یہی دس منٹ مستقبل میں ایک گھنٹے کے مانند ہوگا اور اس مطالعے میں قرآن و حدیث، سیرت، اسلامی تاریخ اور دینی کتب کو ضرور شامل کریں، تاکہ علم کے ساتھ ایمان اور کردار بھی سنورے۔
اللہ تعالیٰ سے ہے کہ وہ ہمیں علم نافع عطا فرمائے۔ اور کتب بینی کی خواہش ہمارے دلوں کے اندر رچ بس جائے۔ آمین۔
زززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں