جب نکاح بوجھ بن جائے ،سوچئے، معاشرہ کہاں جا رہا ہے؟

ہمراز: شیبا علی

طلبِ جہیز نے چھین لیں ان کی تمام شوخیاں
دیکھو! اُداس بیٹھی ہیں ہوا کی بیٹیاں

جہیز اس لفظ سے بخوبی سارے لوگ واقف ہیں۔ دیکھا جائے تو جہیز پرانے زمانے سے چلا آرہا ہے، لیکن جہیز کی موجودہ شکل ایک تباہ کن رسم بن کر رہ گئی ہے۔ اس رسم کی وجہ سے ایک غریب اور نادار والدین زندہ درگور ہو جاتے ہیں، اور جہیز نہ ہونے کی وجہ سے کتنے ہی گھر برباد ہو چکے ہیں۔
باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا، کتنی نامراد ہے یہ رسمِ جہیز بھی۔ لڑکی کی پیدائش، جو بلا شبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے، ہم نے اپنے ہاتھوں اسے بدبختی میں بدل دیا ہے۔
جہیز کی لت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب ماں باپ بیٹی کے پیدا ہونے پر ناخوش ہوتے ہیں، کیونکہ بیٹی کی پیدائش کے بعد ہی کچھ عرصے بعد والدین جہیز جمع کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ ساری جوانی جہیز جمع کرتے کرتے ان کا سکون اور ان کی اپنی جوانی تباہ ہو جاتی ہے۔ خود ایک لڑکی بھی اس فکر میں آ کر اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر جہیز جمع کرنے میں لگ جاتی ہے، اور جہیز جمع کرتے کرتے اس کی عمر بھی ڈھل جاتی ہے۔ وہ ذہنی مریض بن جاتی ہے۔
ہمارے اسلام اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ نکاح کو آسان کرو، لیکن ہم نے اسلام کی بات کو ترک کر کے نکاح کو بہت مشکل بنا دیا اور بدکاری کو فروغ دیا۔ جس کی وجہ سے سارے معاشرے میں بے شرمی عام ہو گئی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنے کندھوں پر بلاوجہ اور خواہ مخواہ ایسا بوجھ ڈال لیا جو ہم اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔
ایک انسان کو نکاح کے بندھن میں آنے کے لئے پہلے اپنی جوانی جہیز جمع کرنے میں گزارنی پڑتی ہے، اور پھر جا کر بڑی مشکل سے 40 یا 45 سال کی عمر میں نکاح ہو پاتا ہے۔ اور تقریباً 35 فیصد لوگ ابھی بھی بغیر نکاح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انسان کی لالچ، حرص و ہوس نے اس سے اس کی انسانیت چھین لی، اسے اندھا کر دیا۔ اب ہم نکاح کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے نکاح کو تجارت بنا دیا ہے۔
جہیز ایک آگ کی طرح پھیل گئی ہے، اور اگر ہم مل کر اس آگ کو نہیں بجھائیں گے تو یہ آگ بڑھتے بڑھتے ہر ایک گھر کو راکھ کر دے گی۔ ہماری نوجوان نسل، ہماری بیٹیاں سب بدکاری کا شکار ہو جائیں گی۔
جہیز نے ایک انسان کی انسانیت کو ختم کر دیا ہے۔ جہیز نے ہر غریب والدین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں، معاشرے سے جہیز کی ڈیمانڈ کا خوف ختم کریں، تاکہ والدین بیٹی کی پیدائش سے ہی سامانِ جہیز جمع کرنے کے بجائے وہ رقم اپنی بیٹی کی بہترین پرورش، تعلیم و تربیت پر خرچ کریں۔ اور پھر یہی باشعور، تعلیم یافتہ اور صحت مند لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال کو صحت مند اولاد، بچوں کی اعلیٰ تربیت، اور گھریلو چین و سکون جیسے تحائف دے کر اس خاندان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
اس مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ہر انسان، تعلیم یافتہ نوجوان نسل، بیٹیاں، بیٹے آگے آئیں، اس آواز کو ایک کریں اور اس بدعت کو ختم کریں۔ ساتھ ہی ہمارے مسجدوں کے علما و خطبا سے گزارش ہے کہ وہ مسجدوں میں ان واقعات سے لوگوں کو باخبر کریں تاکہ کوئی بھی والدین اس درگور میں شامل نہ ہوں، اور ساتھ ہی جہیز نہ ہونے کی صورت میں ہماری نوجوان نسل غلطیوں کا شکار نہ ہو جائے۔ ایسے بے حیائی کے کاموں سے انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے اور معاشرے میں منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
جہیز کے کئی نقصانات ہیں جن میں خواتین پر ظلم، مالی مشکلات اور معاشرتی عدم استحکام شامل ہیں۔ جہیز کے مطالبے اور لین دین سے خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات ان کی جان بھی لے لی جاتی ہے۔ جہیز کی وجہ سے معاشرے میں عدم مساوات پیدا ہوتی ہے۔ ہر وہ خاندان جو حلال روزی کمانے والا محنت کش ہے، جہیز نہیں دے پاتا، اور ان کی لڑکیاں شادی سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس سے معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
جہیز کا مطالبہ کرنا یا دینا دونوں ہی اخلاقی طور پر غلط ہیں۔ اس سے معاشرے میں رشوت اور بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ الغرض، ایک انسان نے خود اس بدعت کو اپنے کندھوں کا بوجھ بنا لیا، جس بوجھ کو ہم اٹھانے کے قابل نہ تھے۔ نہ یہ کوئی فرض رسم ہے، نہ ہی اس رسم کو پورا کیے بغیر نکاح ادھورا رہتا ہے۔
نکاح سنتِ نبوی ہے، اور اس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب ملتا ہے۔ نکاح سے خاندان اور معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے، جو سماجی استحکام اور خوشحالی کا باعث بنتی ہے۔
آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو”۔ یعنی جس میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے، کوئی جانب مقروض نہ ہو جائے، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو — وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے۔
لیکن آج ہم نے حرام رسموں، بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی، بلکہ بے شمار گھروں کے لئے باعثِ بربادی بنا دیا ہے۔ ان تمام نقصانات کے باوجود، جہیز کا لین دین ہمارے سماج میں ایک عام روایت بن چکا ہے۔ اس بدعت کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور معاشرے میں شعور اجاگر کیا جائے۔
نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے۔ رفاقت، شفقت، معرفت کے لئے نکاح کیا جاتا ہے، لیکن لوگوں کی لالچ، حرص و ہوس نے انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیا، اور ہم نے اس پاکیزہ رشتے کو تجارت بنا دیا، لین دین کا ذریعہ بنا دیا۔
قوموں کی زندگی میں اچھا بُرا وقت آتا رہتا ہے۔ ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر ہمیں اس تباہی سے نکلنا ہے تو پوری قوم کو چاہیے کہ اس رسمِ بدعت کے خلاف آواز بلند کرے۔
اگر ہم جہیز دینے کے قابل بھی ہوں، لیکن دوسروں کی فکر نہ کریں تو یاد رکھیں:
"اگر تم صرف اپنے لئے زندہ ہو تو تم قوم کے لئے ایک زندہ لاش ہو”۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

جب نکاح بوجھ بن جائے ،سوچئے، معاشرہ کہاں جا رہا ہے؟

ہمراز: شیبا علی

طلبِ جہیز نے چھین لیں ان کی تمام شوخیاں
دیکھو! اُداس بیٹھی ہیں ہوا کی بیٹیاں

جہیز اس لفظ سے بخوبی سارے لوگ واقف ہیں۔ دیکھا جائے تو جہیز پرانے زمانے سے چلا آرہا ہے، لیکن جہیز کی موجودہ شکل ایک تباہ کن رسم بن کر رہ گئی ہے۔ اس رسم کی وجہ سے ایک غریب اور نادار والدین زندہ درگور ہو جاتے ہیں، اور جہیز نہ ہونے کی وجہ سے کتنے ہی گھر برباد ہو چکے ہیں۔
باپ کا گھر بکا تو بیٹی کا گھر بسا، کتنی نامراد ہے یہ رسمِ جہیز بھی۔ لڑکی کی پیدائش، جو بلا شبہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے، ہم نے اپنے ہاتھوں اسے بدبختی میں بدل دیا ہے۔
جہیز کی لت اتنی بڑھ چکی ہے کہ اب ماں باپ بیٹی کے پیدا ہونے پر ناخوش ہوتے ہیں، کیونکہ بیٹی کی پیدائش کے بعد ہی کچھ عرصے بعد والدین جہیز جمع کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں۔ ساری جوانی جہیز جمع کرتے کرتے ان کا سکون اور ان کی اپنی جوانی تباہ ہو جاتی ہے۔ خود ایک لڑکی بھی اس فکر میں آ کر اپنی پڑھائی ادھوری چھوڑ کر جہیز جمع کرنے میں لگ جاتی ہے، اور جہیز جمع کرتے کرتے اس کی عمر بھی ڈھل جاتی ہے۔ وہ ذہنی مریض بن جاتی ہے۔
ہمارے اسلام اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سبق دیا تھا کہ نکاح کو آسان کرو، لیکن ہم نے اسلام کی بات کو ترک کر کے نکاح کو بہت مشکل بنا دیا اور بدکاری کو فروغ دیا۔ جس کی وجہ سے سارے معاشرے میں بے شرمی عام ہو گئی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے اپنے کندھوں پر بلاوجہ اور خواہ مخواہ ایسا بوجھ ڈال لیا جو ہم اٹھانے کے قابل نہیں تھے۔
ایک انسان کو نکاح کے بندھن میں آنے کے لئے پہلے اپنی جوانی جہیز جمع کرنے میں گزارنی پڑتی ہے، اور پھر جا کر بڑی مشکل سے 40 یا 45 سال کی عمر میں نکاح ہو پاتا ہے۔ اور تقریباً 35 فیصد لوگ ابھی بھی بغیر نکاح کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انسان کی لالچ، حرص و ہوس نے اس سے اس کی انسانیت چھین لی، اسے اندھا کر دیا۔ اب ہم نکاح کی اہمیت سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ہم نے نکاح کو تجارت بنا دیا ہے۔
جہیز ایک آگ کی طرح پھیل گئی ہے، اور اگر ہم مل کر اس آگ کو نہیں بجھائیں گے تو یہ آگ بڑھتے بڑھتے ہر ایک گھر کو راکھ کر دے گی۔ ہماری نوجوان نسل، ہماری بیٹیاں سب بدکاری کا شکار ہو جائیں گی۔
جہیز نے ایک انسان کی انسانیت کو ختم کر دیا ہے۔ جہیز نے ہر غریب والدین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں، معاشرے سے جہیز کی ڈیمانڈ کا خوف ختم کریں، تاکہ والدین بیٹی کی پیدائش سے ہی سامانِ جہیز جمع کرنے کے بجائے وہ رقم اپنی بیٹی کی بہترین پرورش، تعلیم و تربیت پر خرچ کریں۔ اور پھر یہی باشعور، تعلیم یافتہ اور صحت مند لڑکی شادی کے بعد اپنے سسرال کو صحت مند اولاد، بچوں کی اعلیٰ تربیت، اور گھریلو چین و سکون جیسے تحائف دے کر اس خاندان کی زندگی بدل سکتی ہے۔
اس مشن کو کامیاب بنانے کے لئے ہر انسان، تعلیم یافتہ نوجوان نسل، بیٹیاں، بیٹے آگے آئیں، اس آواز کو ایک کریں اور اس بدعت کو ختم کریں۔ ساتھ ہی ہمارے مسجدوں کے علما و خطبا سے گزارش ہے کہ وہ مسجدوں میں ان واقعات سے لوگوں کو باخبر کریں تاکہ کوئی بھی والدین اس درگور میں شامل نہ ہوں، اور ساتھ ہی جہیز نہ ہونے کی صورت میں ہماری نوجوان نسل غلطیوں کا شکار نہ ہو جائے۔ ایسے بے حیائی کے کاموں سے انسانیت شرمسار ہو جاتی ہے اور معاشرے میں منفی اثرات پیدا ہوتے ہیں۔
جہیز کے کئی نقصانات ہیں جن میں خواتین پر ظلم، مالی مشکلات اور معاشرتی عدم استحکام شامل ہیں۔ جہیز کے مطالبے اور لین دین سے خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہے، اور بعض اوقات ان کی جان بھی لے لی جاتی ہے۔ جہیز کی وجہ سے معاشرے میں عدم مساوات پیدا ہوتی ہے۔ ہر وہ خاندان جو حلال روزی کمانے والا محنت کش ہے، جہیز نہیں دے پاتا، اور ان کی لڑکیاں شادی سے محروم رہ جاتی ہیں۔ اس سے معاشرے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔
جہیز کا مطالبہ کرنا یا دینا دونوں ہی اخلاقی طور پر غلط ہیں۔ اس سے معاشرے میں رشوت اور بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ الغرض، ایک انسان نے خود اس بدعت کو اپنے کندھوں کا بوجھ بنا لیا، جس بوجھ کو ہم اٹھانے کے قابل نہ تھے۔ نہ یہ کوئی فرض رسم ہے، نہ ہی اس رسم کو پورا کیے بغیر نکاح ادھورا رہتا ہے۔
نکاح سنتِ نبوی ہے، اور اس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر و ثواب ملتا ہے۔ نکاح سے خاندان اور معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے، جو سماجی استحکام اور خوشحالی کا باعث بنتی ہے۔
آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو”۔ یعنی جس میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے، کوئی جانب مقروض نہ ہو جائے، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو — وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے۔
لیکن آج ہم نے حرام رسموں، بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی، بلکہ بے شمار گھروں کے لئے باعثِ بربادی بنا دیا ہے۔ ان تمام نقصانات کے باوجود، جہیز کا لین دین ہمارے سماج میں ایک عام روایت بن چکا ہے۔ اس بدعت کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس کے نقصانات کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے اور معاشرے میں شعور اجاگر کیا جائے۔
نکاح ایک پاکیزہ رشتے کا نام ہے۔ رفاقت، شفقت، معرفت کے لئے نکاح کیا جاتا ہے، لیکن لوگوں کی لالچ، حرص و ہوس نے انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیا، اور ہم نے اس پاکیزہ رشتے کو تجارت بنا دیا، لین دین کا ذریعہ بنا دیا۔
قوموں کی زندگی میں اچھا بُرا وقت آتا رہتا ہے۔ ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ اگر ہمیں اس تباہی سے نکلنا ہے تو پوری قوم کو چاہیے کہ اس رسمِ بدعت کے خلاف آواز بلند کرے۔
اگر ہم جہیز دینے کے قابل بھی ہوں، لیکن دوسروں کی فکر نہ کریں تو یاد رکھیں:
"اگر تم صرف اپنے لئے زندہ ہو تو تم قوم کے لئے ایک زندہ لاش ہو”۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں