پیپلز الائنس فار چینج: ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟

رشید پروینؔ
سوپور کشمیر

کشمیر نشین سیاست دانوں نے عمر عبداللہ کی حکومت کے صرف آٹھ مہینے بعد ایک اور اتحاد تشکیل دیا ہے، جسے "پیپلز الائنس فار چینج” کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے اتحاد کے مختصر تجزیے سے پہلے ہم آپ کی یادداشت تازہ کرنے کے لیے چند اہم نکات پیش کریں گے تاکہ آپ کشمیری سیاست کے پرندوں کی پرواز اور ان کے آسمانوں سے واقف رہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ برصغیر کی آزادی اور پاکستان کے قیام کے بعد بھی ریاست جموں و کشمیر کچھ وقت تک ایک آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود رہی۔ الحاقِ ہند کے بعد کئی برسوں تک یہاں کا اپنا وزیراعظم ہوتا تھا، اپنا آئین اور جھنڈا بھی۔ شیخ محمد عبداللہ 5 مارچ 1948 سے 31 اکتوبر 1951 تک پہلے وزیراعظم رہے، پھر 31 اکتوبر سے 9 اگست 1953 تک اپنی گرفتاری تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں بخشی غلام محمد جیسے لیڈر آئے، اور بالآخر 6 جون 1965 کو آئینی ترمیم کے بعد وزیراعظم کا عہدہ وزیراعلیٰ میں بدل دیا گیا۔ اس طرح مرحوم جی ایم صادق 29 فروری 1964 سے 30 مارچ 1965 تک آخری وزیراعظم اور بعد ازاں وزیراعلیٰ رہے۔
یہ تمام وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کشمیری عوام سے زیادہ دہلی کی مرکزی حکومت کے مرہون منت رہے۔ مرکز نے جب اور جسے چاہا، اقتدار میں لایا اور جب چاہا، ہٹا دیا۔ یہاں کے انتخابات کے بارے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے:
"جو چاہیں سو آپ کریں، ہم کو عبث بدنام کیا”۔
فاروق عبداللہ کو ایک معمولی سبق سکھانے کے لیے ان کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود وزارتِ اعلیٰ سے ہٹا کر غلام محمد شاہ کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ یہ سب کچھ یہاں کے سیاسی قائدین کی حیثیت اور اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی تھا۔
5 اگست 2019 کے بعد "گپکار الائنس” کے نام سے بھی ایک اتحاد تشکیل دیا گیا تھا، جس میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس اور چند دیگر چھوٹی جماعتیں شامل تھیں۔ اس اتحاد سے عوام کو کوئی خاص امیدیں نہ تھیں کیونکہ یہ تمام آزمودہ چہرے صرف اقتدار کی سیاست سے آگے سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ سیاسی کلچر دراصل این سی ہی کی دین ہے۔ اسی لیے یہ اتحاد بھی انجام کار ٹوٹنے کے لیے ہی بنا تھا۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ آٹھ ماہ قبل کے انتخابات میں عمر عبداللہ کی حکومت اس لیے بنی کہ عوام نے بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف ردِعمل کے طور پر این سی کو ووٹ دیا۔ یہ خالصاً ضد میں لیا گیا فیصلہ تھا۔ لیکن ان آٹھ مہینوں میں خود عمر عبداللہ بھی اتنے مایوس، مجبور اور بے اختیار ہو چکے ہیں کہ بار بار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ:
"ہماری حیثیت چپراسیوں سے زیادہ کی نہیں، جو فائلیں بغل میں دبائے ایل جی کے دفتر کے باہر منتظر رہتے ہیں”۔
درحقیقت، یہ ان کا بیان الیکشن سے قبل کا ہے۔ انہوں نے الیکشن اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے لڑا تھا، کیونکہ انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ ایسے قوانین لاگو ہو چکے ہیں جن کے بعد وزیراعلیٰ کے عہدے کی حیثیت برائے نام رہ گئی ہے۔
ایسے ماحول میں کشمیر کے سیاست دانوں کو پھر ایک بار فسانے میں رہنے کے لیے نیا اتحاد یاد آیا، اور اس کہانی میں اپنا تذکرہ ڈالنے کے لیے "پیپلز الائنس فار چینج” لانچ کیا گیا۔ اس کے نمایاں رہنما سجاد غنی لون (پیپلز کانفرنس)، حکیم یاسین (پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ)، اور شمیم احمد ٹھوکر (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ) ہیں۔
بظاہر اس اتحاد کے روحِ رواں سجاد غنی لون ہی ہیں، جن کے پاس ایک پرانی جماعت اور ووٹ بینک موجود ہے۔ حکیم یاسین کا نام کبھی کبھار سننے کو ملتا ہے، جبکہ شمیم احمد ٹھوکر کی جماعت یا کارکردگی کا کوئی خاص علم عوام کو نہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہاں کئی ایسی سیاسی و سماجی تنظیمیں ہیں جنہیں تخلیق کرنے والوں کے سوا کوئی نہ جانتا ہے اور نہ پہچانتا ہے۔
اپنی پہلی پریس کانفرنس میں سجاد لون نے اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
"یہ اتحاد جس کا نام PAC ہے، عوام کو تبدیلی کی طرف لے جائے گا، اور ہم اسی تبدیلی کے لیے یہ پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں”۔
یہی پیغام باقی دو رہنماؤں نے بھی دہرایا۔ PAC خود کو سابقہ سیاسی جماعتوں کا متبادل بتا رہی ہے، جو 77 سالہ سیاسی تنزلی کے بعد نیا طرزِ سیاست متعارف کروانے کا دعویٰ کرتی ہے۔
لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر اب صرف یو ٹی ہے، نہ ریاست باقی ہے، نہ جھنڈا۔ جو کچھ خاص تھا، اب محض ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ عمر عبداللہ کی بے بسی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب مزید پستی کا کوئی خانہ باقی نہیں بچا۔ یہ سب اس درخت کا پھل ہے جو شیخ عبداللہ نے خود بویا تھا۔ عوام تو بہت پہلے ہی اپنے شعور سے رخصت ہو چکے ہیں، جب انہوں نے اپنی تقدیر "بَب” کو سونپ دی تھی۔
سابقہ تمام جماعتیں دفعہ 370 اور 35-A کا تذکرہ تو کرتی ہیں، لیکن اب ان کی حیثیت صرف "زیبِ داستان” ہے۔ ان دفعات کا خاتمہ پارلیمنٹ نے کیا، سپریم کورٹ نے اس پر مہر لگا دی۔ اب ہندوستان کی کوئی بھی عدالت یا پارلیمنٹ اسے واپس نہیں لا سکتی۔ اگرچہ یہ مشن بی جے پی نے مکمل کیا، لیکن اس کے لیے راہ ہموار کرنے والوں میں نہرو اور عبداللہ بھی برابر کے شریک تھے۔
لہٰذا، لون صاحب کو کوئی نیا منجن بیچنے کی ضرورت ہے۔ یہ سب پرانے چورن اپنی ایکسپائری کراس کر چکے ہیں، اور اب وہ دکانیں بھی بند ہو چکی ہیں جو یہ بیچا کرتی تھیں۔
آج کی سرکار، جو بھاری اکثریت سے آئی ہے، عملاً فالج زدہ ہے۔ اگر عمر عبداللہ ہٹا دیے جائیں یا خود ہٹ جائیں تو اس کرسی پر کسی اور کے آنے سے بھی کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ اس لیے اگر واقعی تبدیلی کی بات ہے تو وہ صرف عوامی نعرہ نہیں بلکہ سیاسی قائدین کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہیں اپنی سوچ، مقاصد، طریقہ کار اور سیاسی روایات کو بدلنا ہوگا تاکہ قوم کو متبادل دیا جا سکے۔
PAC نے اگرچہ متبادل کی بات کی ہے، لیکن اس کا روڈ میپ اب تک سامنے نہیں آیا۔ اگر یہ اتحاد بھی صرف اقتدار کی تبدیلی تک محدود رہا، تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلے اتحادوں کا ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی مفاد اور اجتماعی شعور کو ترجیح دی جائے، اور ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو محض اقتدار کا ذریعہ نہ ہو، بلکہ ایک فکری و عملی تحریک ہو۔
ورنہ سوال یہ ہے:
"ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟”
(ختم)
نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات اور آرا صرف مصنف کے ذاتی ہیں، جن کا سرینگر جنگ کے مؤقف یا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ ادارہ ان خیالات کی صحت، مکمل ہونے یا درستگی کا ذمہ دار نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

پیپلز الائنس فار چینج: ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟

رشید پروینؔ
سوپور کشمیر

کشمیر نشین سیاست دانوں نے عمر عبداللہ کی حکومت کے صرف آٹھ مہینے بعد ایک اور اتحاد تشکیل دیا ہے، جسے "پیپلز الائنس فار چینج” کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے اتحاد کے مختصر تجزیے سے پہلے ہم آپ کی یادداشت تازہ کرنے کے لیے چند اہم نکات پیش کریں گے تاکہ آپ کشمیری سیاست کے پرندوں کی پرواز اور ان کے آسمانوں سے واقف رہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ برصغیر کی آزادی اور پاکستان کے قیام کے بعد بھی ریاست جموں و کشمیر کچھ وقت تک ایک آزاد مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر موجود رہی۔ الحاقِ ہند کے بعد کئی برسوں تک یہاں کا اپنا وزیراعظم ہوتا تھا، اپنا آئین اور جھنڈا بھی۔ شیخ محمد عبداللہ 5 مارچ 1948 سے 31 اکتوبر 1951 تک پہلے وزیراعظم رہے، پھر 31 اکتوبر سے 9 اگست 1953 تک اپنی گرفتاری تک وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں بخشی غلام محمد جیسے لیڈر آئے، اور بالآخر 6 جون 1965 کو آئینی ترمیم کے بعد وزیراعظم کا عہدہ وزیراعلیٰ میں بدل دیا گیا۔ اس طرح مرحوم جی ایم صادق 29 فروری 1964 سے 30 مارچ 1965 تک آخری وزیراعظم اور بعد ازاں وزیراعلیٰ رہے۔
یہ تمام وزرائے اعلیٰ اور وزرائے اعظم کشمیری عوام سے زیادہ دہلی کی مرکزی حکومت کے مرہون منت رہے۔ مرکز نے جب اور جسے چاہا، اقتدار میں لایا اور جب چاہا، ہٹا دیا۔ یہاں کے انتخابات کے بارے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے:
"جو چاہیں سو آپ کریں، ہم کو عبث بدنام کیا”۔
فاروق عبداللہ کو ایک معمولی سبق سکھانے کے لیے ان کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود وزارتِ اعلیٰ سے ہٹا کر غلام محمد شاہ کو اقتدار سونپ دیا گیا۔ یہ سب کچھ یہاں کے سیاسی قائدین کی حیثیت اور اہمیت کو واضح کرنے کے لیے کافی تھا۔
5 اگست 2019 کے بعد "گپکار الائنس” کے نام سے بھی ایک اتحاد تشکیل دیا گیا تھا، جس میں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، پیپلز کانفرنس اور چند دیگر چھوٹی جماعتیں شامل تھیں۔ اس اتحاد سے عوام کو کوئی خاص امیدیں نہ تھیں کیونکہ یہ تمام آزمودہ چہرے صرف اقتدار کی سیاست سے آگے سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ یہ سیاسی کلچر دراصل این سی ہی کی دین ہے۔ اسی لیے یہ اتحاد بھی انجام کار ٹوٹنے کے لیے ہی بنا تھا۔
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف۔ آٹھ ماہ قبل کے انتخابات میں عمر عبداللہ کی حکومت اس لیے بنی کہ عوام نے بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف ردِعمل کے طور پر این سی کو ووٹ دیا۔ یہ خالصاً ضد میں لیا گیا فیصلہ تھا۔ لیکن ان آٹھ مہینوں میں خود عمر عبداللہ بھی اتنے مایوس، مجبور اور بے اختیار ہو چکے ہیں کہ بار بار اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ:
"ہماری حیثیت چپراسیوں سے زیادہ کی نہیں، جو فائلیں بغل میں دبائے ایل جی کے دفتر کے باہر منتظر رہتے ہیں”۔
درحقیقت، یہ ان کا بیان الیکشن سے قبل کا ہے۔ انہوں نے الیکشن اپنی نوکری پکی کرنے کے لیے لڑا تھا، کیونکہ انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ ایسے قوانین لاگو ہو چکے ہیں جن کے بعد وزیراعلیٰ کے عہدے کی حیثیت برائے نام رہ گئی ہے۔
ایسے ماحول میں کشمیر کے سیاست دانوں کو پھر ایک بار فسانے میں رہنے کے لیے نیا اتحاد یاد آیا، اور اس کہانی میں اپنا تذکرہ ڈالنے کے لیے "پیپلز الائنس فار چینج” لانچ کیا گیا۔ اس کے نمایاں رہنما سجاد غنی لون (پیپلز کانفرنس)، حکیم یاسین (پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ)، اور شمیم احمد ٹھوکر (جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ فرنٹ) ہیں۔
بظاہر اس اتحاد کے روحِ رواں سجاد غنی لون ہی ہیں، جن کے پاس ایک پرانی جماعت اور ووٹ بینک موجود ہے۔ حکیم یاسین کا نام کبھی کبھار سننے کو ملتا ہے، جبکہ شمیم احمد ٹھوکر کی جماعت یا کارکردگی کا کوئی خاص علم عوام کو نہیں۔ یہ بھی واضح ہے کہ یہاں کئی ایسی سیاسی و سماجی تنظیمیں ہیں جنہیں تخلیق کرنے والوں کے سوا کوئی نہ جانتا ہے اور نہ پہچانتا ہے۔
اپنی پہلی پریس کانفرنس میں سجاد لون نے اتحاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:
"یہ اتحاد جس کا نام PAC ہے، عوام کو تبدیلی کی طرف لے جائے گا، اور ہم اسی تبدیلی کے لیے یہ پلیٹ فارم فراہم کر رہے ہیں”۔
یہی پیغام باقی دو رہنماؤں نے بھی دہرایا۔ PAC خود کو سابقہ سیاسی جماعتوں کا متبادل بتا رہی ہے، جو 77 سالہ سیاسی تنزلی کے بعد نیا طرزِ سیاست متعارف کروانے کا دعویٰ کرتی ہے۔
لیکن یہ بات سب جانتے ہیں کہ ریاست جموں و کشمیر اب صرف یو ٹی ہے، نہ ریاست باقی ہے، نہ جھنڈا۔ جو کچھ خاص تھا، اب محض ایک قصۂ پارینہ بن چکا ہے۔ عمر عبداللہ کی بے بسی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اب مزید پستی کا کوئی خانہ باقی نہیں بچا۔ یہ سب اس درخت کا پھل ہے جو شیخ عبداللہ نے خود بویا تھا۔ عوام تو بہت پہلے ہی اپنے شعور سے رخصت ہو چکے ہیں، جب انہوں نے اپنی تقدیر "بَب” کو سونپ دی تھی۔
سابقہ تمام جماعتیں دفعہ 370 اور 35-A کا تذکرہ تو کرتی ہیں، لیکن اب ان کی حیثیت صرف "زیبِ داستان” ہے۔ ان دفعات کا خاتمہ پارلیمنٹ نے کیا، سپریم کورٹ نے اس پر مہر لگا دی۔ اب ہندوستان کی کوئی بھی عدالت یا پارلیمنٹ اسے واپس نہیں لا سکتی۔ اگرچہ یہ مشن بی جے پی نے مکمل کیا، لیکن اس کے لیے راہ ہموار کرنے والوں میں نہرو اور عبداللہ بھی برابر کے شریک تھے۔
لہٰذا، لون صاحب کو کوئی نیا منجن بیچنے کی ضرورت ہے۔ یہ سب پرانے چورن اپنی ایکسپائری کراس کر چکے ہیں، اور اب وہ دکانیں بھی بند ہو چکی ہیں جو یہ بیچا کرتی تھیں۔
آج کی سرکار، جو بھاری اکثریت سے آئی ہے، عملاً فالج زدہ ہے۔ اگر عمر عبداللہ ہٹا دیے جائیں یا خود ہٹ جائیں تو اس کرسی پر کسی اور کے آنے سے بھی کچھ حاصل ہونے والا نہیں۔ اس لیے اگر واقعی تبدیلی کی بات ہے تو وہ صرف عوامی نعرہ نہیں بلکہ سیاسی قائدین کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہیں اپنی سوچ، مقاصد، طریقہ کار اور سیاسی روایات کو بدلنا ہوگا تاکہ قوم کو متبادل دیا جا سکے۔
PAC نے اگرچہ متبادل کی بات کی ہے، لیکن اس کا روڈ میپ اب تک سامنے نہیں آیا۔ اگر یہ اتحاد بھی صرف اقتدار کی تبدیلی تک محدود رہا، تو اس کا انجام بھی وہی ہوگا جو پہلے اتحادوں کا ہوا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ قومی مفاد اور اجتماعی شعور کو ترجیح دی جائے، اور ایسا اتحاد تشکیل دیا جائے جو محض اقتدار کا ذریعہ نہ ہو، بلکہ ایک فکری و عملی تحریک ہو۔
ورنہ سوال یہ ہے:
"ننگی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا؟”
(ختم)
نوٹ: اس مضمون میں پیش کیے گئے خیالات اور آرا صرف مصنف کے ذاتی ہیں، جن کا سرینگر جنگ کے مؤقف یا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں۔ ادارہ ان خیالات کی صحت، مکمل ہونے یا درستگی کا ذمہ دار نہیں ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں