سعید قادری
نبی کے کرنوں کی روشنی سے کسی کا دل جو سجا نہیں ہے
تو ایسے بندے کی زندگی میں، حقیقی لطف و مزہ نہیں ہے
سنا ہے نوشیرواں سخی تھا، ہے سچ مگر اے شہ مدینہ
مری نظر میں تمہارے جیسا ، سخی کوئیی دوسرا نہیں ہے
کہا ہے کہتی رہے گی دنیا ، زبان دل سے حضور کوئیی
بڑا ہو جتنا بھی اس جہاں میں ، وہ ترے آگے بڑا نہیں ہے
چلایا دنیا نے لاکھ پتھر، دعا کے اٹھے ہیں ہاتھ اکثر
بتا دو مجھکو جہان والو! رحیم آقا وہ کیا نہیں ہے
وہاں جو پہنچے نبیِ اکرم ، کہا فرشتوں نے عرش اعظم
یہ آج جتنا سجا ہوا ہے ، کبھی تو اتنا سجا نہیں ہے
تمہارا قد اور تمہاری قامت ، ہر ایک عظمت ہر ایک رفعت
خدائے برتر کے بعد آقا ، کوئیی تمہارے سوا نہیں ہے
بساؤ دل میں نبی کی الفت ، بغیر اس کے پڑھی نہ جائے
یہ حق ہے عشاق کی نظر میں ، نماز ایسی روا نہیں ہے
کہے جو آقا کو اپنے جیسا ، عناد دل میں ہے اس کے کیسا
وہ لاکھ سجدہ کرے خدا کا ، نبی کا وہ با وفا نہیں ہے
پیئونگا میں بھی بروز محشر، نبی کے ہاتھوں سے جام کوثر
غلام ہوں میں سعید ان کا ،مجھے یہ حق کیا ملا نہیں ہے
نعت اقدس-سعید قادری
نعت اقدس-سعید قادری
سعید قادری
نبی کے کرنوں کی روشنی سے کسی کا دل جو سجا نہیں ہے
تو ایسے بندے کی زندگی میں، حقیقی لطف و مزہ نہیں ہے
سنا ہے نوشیرواں سخی تھا، ہے سچ مگر اے شہ مدینہ
مری نظر میں تمہارے جیسا ، سخی کوئیی دوسرا نہیں ہے
کہا ہے کہتی رہے گی دنیا ، زبان دل سے حضور کوئیی
بڑا ہو جتنا بھی اس جہاں میں ، وہ ترے آگے بڑا نہیں ہے
چلایا دنیا نے لاکھ پتھر، دعا کے اٹھے ہیں ہاتھ اکثر
بتا دو مجھکو جہان والو! رحیم آقا وہ کیا نہیں ہے
وہاں جو پہنچے نبیِ اکرم ، کہا فرشتوں نے عرش اعظم
یہ آج جتنا سجا ہوا ہے ، کبھی تو اتنا سجا نہیں ہے
تمہارا قد اور تمہاری قامت ، ہر ایک عظمت ہر ایک رفعت
خدائے برتر کے بعد آقا ، کوئیی تمہارے سوا نہیں ہے
بساؤ دل میں نبی کی الفت ، بغیر اس کے پڑھی نہ جائے
یہ حق ہے عشاق کی نظر میں ، نماز ایسی روا نہیں ہے
کہے جو آقا کو اپنے جیسا ، عناد دل میں ہے اس کے کیسا
وہ لاکھ سجدہ کرے خدا کا ، نبی کا وہ با وفا نہیں ہے
پیئونگا میں بھی بروز محشر، نبی کے ہاتھوں سے جام کوثر
غلام ہوں میں سعید ان کا ،مجھے یہ حق کیا ملا نہیں ہے


