کشمیر میں بڑھتا درجہ حرارت: قدرت کی خاموش چیخ

ڈاکٹر شیخ غلام رسول

کشمیر، جو کبھی معتدل آب و ہوا، برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کا استعارہ تھا، آج شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، برفباری میں کمی، جھیلوں کا سکڑنا اور جنگلات کا ناپید ہونا اس بحران کی نمایاں علامتیں ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف قدرتی عوامل کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسانی مداخلت، ریاستی پالیسیوں اور سیاسی تنازعات کا شاخسانہ ہیں۔
وقت سے پہلے برف کا پگھلنا، سردیوں کا مختصر ہونا، اور گرمیوں میں شدید حدت ماحولیاتی تبدیلی کے واضح آثار ہیں۔ ان تبدیلیوں نے زراعت، سیاحت اور پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے۔
سیاحوں کی بے تحاشا آمد، تجاوزات، پلاسٹک کا استعمال اور ہوٹلنگ کے بڑھتے دباؤ نے فطری ایکو سسٹم کو نقصان پہنچایا ہے۔ سڑکوں کی توسیع، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور پہاڑی کٹاؤ سے قدرتی توازن بگڑ رہا ہے، جبکہ درختوں کی کٹائی زمینی کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
مسلسل سرحدی کشیدگی، فوجی مشقیں، بارودی مواد کا استعمال اور جنگلات کی تباہی نے حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچایا ہے۔ ریاستی وسائل کا زیادہ حصہ سکیورٹی پر خرچ ہونے کے سبب ماحول سے متعلق منصوبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔
دھان کے کھیتوں کو سیب کے باغات میں تبدیل کرنے سے زمین کی نمی اور مٹی کی زرخیزی متاثر ہو رہی ہے۔ شہری علاقوں میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بے ترتیب ٹریفک اور صنعتی آلودگی فضا کو زہریلا بنا رہی ہیں۔ ڈل، ولر اور آنچار جیسی جھیلیں آلودگی کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ برفباری میں کمی سے پانی کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ کشمیر کی زمین، پہاڑوں اور ندیوں کی خاموش چیخ ہے۔ اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کیے، تو ہم صرف ماحول نہیں بلکہ اپنی تہذیب اور شناخت بھی کھو دیں گے۔
قابلِ عمل تجاویز
شجر کاری اور جنگلات کی بحالی
پائیدار سیاحت کی حکمتِ عملی
ماحولیاتی تعلیم و آگاہی
جھیلوں اور ندیوں کی بحالی
کشمیر ایک وادی نہیں، ایک زندہ روح ہے—اگر ہم نے اسے نہ بچایا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

کشمیر میں بڑھتا درجہ حرارت: قدرت کی خاموش چیخ

ڈاکٹر شیخ غلام رسول

کشمیر، جو کبھی معتدل آب و ہوا، برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں کا استعارہ تھا، آج شدید ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے۔ درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ، برفباری میں کمی، جھیلوں کا سکڑنا اور جنگلات کا ناپید ہونا اس بحران کی نمایاں علامتیں ہیں۔ یہ تبدیلیاں صرف قدرتی عوامل کا نتیجہ نہیں، بلکہ انسانی مداخلت، ریاستی پالیسیوں اور سیاسی تنازعات کا شاخسانہ ہیں۔
وقت سے پہلے برف کا پگھلنا، سردیوں کا مختصر ہونا، اور گرمیوں میں شدید حدت ماحولیاتی تبدیلی کے واضح آثار ہیں۔ ان تبدیلیوں نے زراعت، سیاحت اور پانی کے ذخائر کو متاثر کیا ہے۔
سیاحوں کی بے تحاشا آمد، تجاوزات، پلاسٹک کا استعمال اور ہوٹلنگ کے بڑھتے دباؤ نے فطری ایکو سسٹم کو نقصان پہنچایا ہے۔ سڑکوں کی توسیع، ہائیڈرو پاور پروجیکٹس اور پہاڑی کٹاؤ سے قدرتی توازن بگڑ رہا ہے، جبکہ درختوں کی کٹائی زمینی کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
مسلسل سرحدی کشیدگی، فوجی مشقیں، بارودی مواد کا استعمال اور جنگلات کی تباہی نے حیاتیاتی تنوع کو نقصان پہنچایا ہے۔ ریاستی وسائل کا زیادہ حصہ سکیورٹی پر خرچ ہونے کے سبب ماحول سے متعلق منصوبے نظر انداز ہو رہے ہیں۔
دھان کے کھیتوں کو سیب کے باغات میں تبدیل کرنے سے زمین کی نمی اور مٹی کی زرخیزی متاثر ہو رہی ہے۔ شہری علاقوں میں دھواں چھوڑتی گاڑیاں، بے ترتیب ٹریفک اور صنعتی آلودگی فضا کو زہریلا بنا رہی ہیں۔ ڈل، ولر اور آنچار جیسی جھیلیں آلودگی کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ برفباری میں کمی سے پانی کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ صرف موسم کی تبدیلی نہیں، بلکہ کشمیر کی زمین، پہاڑوں اور ندیوں کی خاموش چیخ ہے۔ اگر ہم نے فوری اقدامات نہ کیے، تو ہم صرف ماحول نہیں بلکہ اپنی تہذیب اور شناخت بھی کھو دیں گے۔
قابلِ عمل تجاویز
شجر کاری اور جنگلات کی بحالی
پائیدار سیاحت کی حکمتِ عملی
ماحولیاتی تعلیم و آگاہی
جھیلوں اور ندیوں کی بحالی
کشمیر ایک وادی نہیں، ایک زندہ روح ہے—اگر ہم نے اسے نہ بچایا تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں