کشمیر، جسے "زمین پر جنت” کہا جاتا ہے، ہمیشہ سے ہندوستان کی سیاحتی پہچان رہا ہے۔ مگر 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہوئے دہشت گرد حملے نے اس شناخت کو شدید نقصان پہنچایا، جس میں 26 افراد جان سے گئے اور وادی کی سیاحت پر منفی اثر پڑا۔
اب ایک نئی امید ابھر رہی ہے۔ 7-8 جولائی کو سرینگر میں منعقدہ نیشنل ٹورازم سیکریٹریز کانفرنس میں مرکزی وزیر سیاحت گجیندر سنگھ شیخاوت نے اعلان کیا کہ کشمیر سیاحت کے لیے محفوظ اور تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے تین برسوں میں مشکلات کے باوجود وادی میں سیاحتی سرگرمیاں بتدریج بڑھ رہی ہیں۔
کانفرنس کا مرکزی پیغام تھا: سیاحوں کا اعتماد بحال کیا جائے اس کے علاوہ سیاحتی تجربے کو جدید سہولیات و ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے بہتر بنایا جائے
یہ اقدامات ہزاروں مقامی افراد کے لیے روزگار کی بحالی کا ذریعہ بھی ہیں۔ پہلگام کے ہوٹل مالک آصف برزا نے امید ظاہر کی کہ دھیرے دھیرے سیاحوں کی واپسی وادی میں نئی زندگی لا رہی ہے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق جولائی و اگست کی بکنگ میں واضح بہتری آئی ہے، اور امرناتھ یاترا نے بھی سیاحتی فضا کو جِلا بخشی ہے۔
تاہم سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی تنبیہ بجا ہے کہ صرف سیاحت کو امن کا پیمانہ نہ بنایا جائے۔ پائیدار ترقی، ثقافتی ہم آہنگی، اور جامع حکمتِ عملی ناگزیر ہے۔
وزیر سیاحت کا وژن—جدید انفراسٹرکچر کو ثقافتی ورثے سے جوڑنا—کشمیر کے امیج کو عالمی سطح پر مضبوط کر سکتا ہے۔ سالانہ سیاحتی کیلنڈر، ثقافتی میلوں، اور بالی ووڈ کی واپسی جیسے اقدامات وادی کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ناقدین کے لیے ممکن ہے یہ اقدامات حد سے زیادہ پُرامید لگیں، مگر عوامی گرم جوشی، بازاروں کا دوبارہ کھلنا، اور انتظامیہ کی سنجیدگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ کشمیر ایک بار پھر آگے بڑھنے کو تیار ہے۔ جیسا کہ ایک بزرگ ہاؤس بوٹ مالک نے کہا:”کشمیر ہمیشہ سنبھلتا آیا ہے، اب بھی سنبھلے گا۔”
اگر یہ رفتار قائم رہی تو کشمیر عالمی سیاحت میں پھر سے اپنا مقام حاصل کر سکتا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ سلامتی، شفافیت، اور مقامی شمولیت کو ترجیح دی جائے۔
کشمیر کی سیاحت صرف معیشت نہیں بلکہ اتحاد، امید اور حوصلے کی علامت ہے۔
وزیر سیاحت کا پیغام واضح ہے: "کشمیر تیار ہے، دروازے کھلے ہیں۔”


