ایلون مسک کی سیاسی ضد

امریکی سیاست ایک بار پھر تماشائیوں کو حیرت اور تجزیہ کاروں کو مصروف کر چکی ہے۔ تعلقات کے خاتمے کے بعد ’’گلو اَپ‘‘ کی روایت اب صرف سوشل میڈیا یا فیشن تک محدود نہیں رہی—یہ وائٹ ہاؤس کی سیاست میں بھی جھلک دکھا رہی ہے۔ جہاں عام لوگ دل بہلانے کو سرخ گاڑیاں خریدتے ہیں، وہاں ایلون مسک نے ایک نئی سیاسی جماعت ’’امریکہ پارٹی‘‘ بنا کر پرانے اتحادی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے۔
یہ تصادم غیر متوقع نہیں تھا۔ جب دو طاقتور انا پرست شخصیات قومی منظرنامے میں جگہ کے لیے کوشاں ہوں، تو ٹکراؤ ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اتنی بڑی ایگوز کا بیک وقت گزر شاید ممکن ہی نہیں۔ مسک کے اعلان کے پیچھے ایک پول تھا، وہی ذریعہ جس سے وہ پہلے ٹوئٹر خرید چکے اور ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کر چکے تھے۔
لیکن سیاسی جماعت بنانا سوشل میڈیا کا ہیش ٹیگ نہیں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں حکمتِ عملی، ادارہ جاتی ساخت اور زمینی حمایت درکار ہوتی ہے—صرف فالوورز کافی نہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چند ہی ماہ پہلے مسک نے سیاست کو ’’تکلیف دہ‘‘ کہہ کر رد کر دیا تھا، اور اعتراف کیا تھا کہ ان کی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیسلا، نے ان کی سیاسی مشغولیت کا نقصان اٹھایا ہے۔
یہی نقصان اب پھر سر اٹھا رہا ہے۔ پارٹی کے اعلان کے بعد ٹیسلا کے شیئرز میں بھاری گراوٹ آئی ہے، اور اندازہ ہے کہ کمپنی کی قدر میں 70 ارب ڈالر تک کی کمی ہو سکتی ہے۔ صدر بائیڈن نے نئی پارٹی کو "مضحکہ خیز” قرار دے دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک سنجیدہ سیاسی کوشش ہے یا صرف انا پر مبنی ردعمل؟ سیاست کیا اب صرف ارب پتیوں کا کھیل بن گئی ہے؟
مسک کی نئی پارٹی، بظاہر ایک انقلابی اقدام، دراصل ایک بگڑے ہوئے دوست کا ردعمل محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو زیادہ تر ہائی اسکول کے صحن میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ قومی سیاست میں۔ سوال اب یہ نہیں کہ مسک کامیاب ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سیاست کا معیار اب صرف جلد بازی، غصے اور ذاتی برتری کے اظہار تک محدود ہو گیا ہے؟ اگر ہاں، تو پھر جمہوریت کا مستقبل صرف ایک اور شو بن کر رہ جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

ایلون مسک کی سیاسی ضد

امریکی سیاست ایک بار پھر تماشائیوں کو حیرت اور تجزیہ کاروں کو مصروف کر چکی ہے۔ تعلقات کے خاتمے کے بعد ’’گلو اَپ‘‘ کی روایت اب صرف سوشل میڈیا یا فیشن تک محدود نہیں رہی—یہ وائٹ ہاؤس کی سیاست میں بھی جھلک دکھا رہی ہے۔ جہاں عام لوگ دل بہلانے کو سرخ گاڑیاں خریدتے ہیں، وہاں ایلون مسک نے ایک نئی سیاسی جماعت ’’امریکہ پارٹی‘‘ بنا کر پرانے اتحادی ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر دیا ہے۔
یہ تصادم غیر متوقع نہیں تھا۔ جب دو طاقتور انا پرست شخصیات قومی منظرنامے میں جگہ کے لیے کوشاں ہوں، تو ٹکراؤ ناگزیر ہے۔ وائٹ ہاؤس میں اتنی بڑی ایگوز کا بیک وقت گزر شاید ممکن ہی نہیں۔ مسک کے اعلان کے پیچھے ایک پول تھا، وہی ذریعہ جس سے وہ پہلے ٹوئٹر خرید چکے اور ٹرمپ کا اکاؤنٹ بحال کر چکے تھے۔
لیکن سیاسی جماعت بنانا سوشل میڈیا کا ہیش ٹیگ نہیں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں حکمتِ عملی، ادارہ جاتی ساخت اور زمینی حمایت درکار ہوتی ہے—صرف فالوورز کافی نہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ چند ہی ماہ پہلے مسک نے سیاست کو ’’تکلیف دہ‘‘ کہہ کر رد کر دیا تھا، اور اعتراف کیا تھا کہ ان کی کمپنیوں، خاص طور پر ٹیسلا، نے ان کی سیاسی مشغولیت کا نقصان اٹھایا ہے۔
یہی نقصان اب پھر سر اٹھا رہا ہے۔ پارٹی کے اعلان کے بعد ٹیسلا کے شیئرز میں بھاری گراوٹ آئی ہے، اور اندازہ ہے کہ کمپنی کی قدر میں 70 ارب ڈالر تک کی کمی ہو سکتی ہے۔ صدر بائیڈن نے نئی پارٹی کو "مضحکہ خیز” قرار دے دیا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک سنجیدہ سیاسی کوشش ہے یا صرف انا پر مبنی ردعمل؟ سیاست کیا اب صرف ارب پتیوں کا کھیل بن گئی ہے؟
مسک کی نئی پارٹی، بظاہر ایک انقلابی اقدام، دراصل ایک بگڑے ہوئے دوست کا ردعمل محسوس ہوتی ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو زیادہ تر ہائی اسکول کے صحن میں دیکھا جاتا ہے، نہ کہ قومی سیاست میں۔ سوال اب یہ نہیں کہ مسک کامیاب ہوں گے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا سیاست کا معیار اب صرف جلد بازی، غصے اور ذاتی برتری کے اظہار تک محدود ہو گیا ہے؟ اگر ہاں، تو پھر جمہوریت کا مستقبل صرف ایک اور شو بن کر رہ جائے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں