پرویز شہریار کا شعری مجموعہ "امن کی تلاش میں”

رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ، کشمیر

پرویز شہریار تحقیق، تنقید، افسانہ نگاری اور شاعری کی دنیا کا ایک معروف نام ہیں جن کا ذکر نہ صرف ہندوستان بلکہ برصغیر کے ادبی حلقوں میں بارہا سننے کو ملتا ہے۔ جمشید پور میں پیدا ہونے والے اس ادبی سپوت نے اپنا تخلیقی سفر 1980ء کی دہائی میں شروع کیا۔ وہ درجنوں علمی و ادبی تصانیف کے خالق ہیں، جن میں نظموں اور افسانوں کے کئی مجموعے شامل ہیں۔ بڑے شہر کا خواب، شجرِ ممنوعہ کی چاہ میں، منٹو اور عصمت کے افسانوں میں عورت کا تصور، اور بڑا شہر اور تنہا آدمی ان کی اہم تخلیقات میں شمار ہوتے ہیں۔
حالیہ تصنیف "امن کی تلاش میں”، دہلی کے Creative Star Publications کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ 256 صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں کل 82 نظمیں شامل ہیں۔ مصنف نے یہ کتاب اپنے دو اساتذہ، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور پروفیسر صادق کے نام منسوب کی ہے۔
کتاب کے آغاز میں نجمہ منصور کی پرویز شہریار کے لیے ایک نظم اور سعادت سعید کا 11 صفحات پر مشتمل مضمون "گمشدہ آدمیت کی متلاشی نظمیں” شامل ہے، جس میں شاعر کے اسلوب، زبان اور خیالات پر بصیرت افروز گفتگو کی گئی ہے۔ ان کے مطابق، پرویز شہریار نے صاف، سادہ اور شستہ اردو میں اپنے دل کی باتیں کی ہیں، اور اردو فکشن کو خاص طور پر اپنی تحقیق کا محور بنایا ہے۔
ان کی پہلی تحریر "چمبل کی دسویں رانی”، جب وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے، ہفت روزہ پندار پٹنہ میں شائع ہوئی۔ ان کی اولین نظمیں "آدم اور حوا” اور "انتظار کے دوش پر” اخبار مشرق میں شائع ہوئیں۔
"ہم امن چاہتے ہیں” اس مجموعے کی پہلی نظم ہے، جس میں شاعر قاری کو باور کرانا چاہتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نظم "مشیتِ ایزدی” میں فلسطین کی ناگفتہ بہ صورتِ حال اور مظلوموں کی آہیں بیان کی گئی ہیں۔ "مابعد جدید مسلمان” نظم میں شاعر امتِ مسلمہ کو انحرافِ دین پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے، اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کی تلقین کرتا ہے۔
"احتجاج کی نظم” میں شاعر معاصر دنیا کی ظلم و بربریت کو بےنقاب کرتا ہے جہاں اقوامِ متحدہ جیسا ادارہ بھی خاموش تماشائی ہے، اور مظلوم باہم منتشر ہیں۔ نظم "فوجی” میں بےگناہوں پر ہونے والے ظلم کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ "لاک ڈاؤن اور مزدوروں کا کاروبار” کرونا کے دنوں کی غربت اور بے بسی کو پیش کرتی ہے۔
"بھوک کی حمایت میں” میں بھوک کی شدت کو انسان کی جبلّت سے جوڑتے ہوئے سماجی اقدار کے انہدام پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ "ارتقائے محبت” نظم سورۃ روم کے اس آیت کی تشریح ہے جس میں آدم و حوا کے مابین محبت و سکون کو فطری اصول قرار دیا گیا ہے۔ "ایک نظم تمہارے لیے” رومانوی رنگ لیے ہوئے ہے، جبکہ "عورت پر ایک نظم” اور "دخترِ مشرق” عورت کی قربانی، ہمت اور فنکاری کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔
"محبت کیا ہے” ایک فلسفیانہ نظم ہے، جس میں محبت کو انسانی جوہر اور الوہی تحفہ قرار دیا گیا ہے۔ "اس نے پوچھا” میں شاعر، تخلیق کے لمحے کو وقت اور مقام سے ماورا قرار دیتا ہے۔ "جسم کے رشتے ہیں سچے” نظم میں جسمانی رشتوں کی گہرائی اور سچائی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ "الہامی نظمیں” میں شاعر اعتراف کرتا ہے کہ اس کی بعض تخلیقات وجدانی اور الہامی کیفیت کا نتیجہ ہیں۔
"فراموش کیجئے” ایک اخلاقی نظم ہے جو انسان کو انا، نفسانیت اور دنیاوی فریب سے نکل کر روحانی پاکیزگی کی طرف بلاتی ہے۔ "قدرت کا حسین شہکار” عورت کے وجود کو حسنِ فطرت کا مظہر قرار دیتی ہے۔ نظم "گلیشیر پگھل رہے ہیں” میں شاعر ماحولیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے سے لاحق خطرات کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور بطور ماحولیاتی کارکن اپنی پریشانی کا اظہار بھی کرتا ہے۔
اس کتاب میں شامل تمام نظمیں شاعر کے کرب، احساس، تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہر نظم نہ صرف ایک فکری پیغام دیتی ہے بلکہ قاری کے ذہن و دل پر دیرپا اثر بھی چھوڑتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

تازہ ترین خبریں

تقریبات سے آگے بڑھنے کا وقت

گزشتہ روز دنیا بھر کی طرح کشمیر میں بھی...

بے روزگار

محمد ایوب گنائی ترال،پلوام کمرے کے کونے میں لٹکا ہوا آئینہ...

ادھورے

شبیر احمد میر ایک سال پہلے وہ مرض الموت میں...

15 سالہ لڑکا دریائے توی میں ڈوب کر لقمہ اجل

سری نگر جموں میں ہفتہ کے روز ایک 15 سالہ...

پرویز شہریار کا شعری مجموعہ "امن کی تلاش میں”

رئیس احمد کمار
قاضی گنڈ، کشمیر

پرویز شہریار تحقیق، تنقید، افسانہ نگاری اور شاعری کی دنیا کا ایک معروف نام ہیں جن کا ذکر نہ صرف ہندوستان بلکہ برصغیر کے ادبی حلقوں میں بارہا سننے کو ملتا ہے۔ جمشید پور میں پیدا ہونے والے اس ادبی سپوت نے اپنا تخلیقی سفر 1980ء کی دہائی میں شروع کیا۔ وہ درجنوں علمی و ادبی تصانیف کے خالق ہیں، جن میں نظموں اور افسانوں کے کئی مجموعے شامل ہیں۔ بڑے شہر کا خواب، شجرِ ممنوعہ کی چاہ میں، منٹو اور عصمت کے افسانوں میں عورت کا تصور، اور بڑا شہر اور تنہا آدمی ان کی اہم تخلیقات میں شمار ہوتے ہیں۔
حالیہ تصنیف "امن کی تلاش میں”، دہلی کے Creative Star Publications کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی ہے۔ 256 صفحات پر مشتمل اس مجموعے میں کل 82 نظمیں شامل ہیں۔ مصنف نے یہ کتاب اپنے دو اساتذہ، پروفیسر صدیق الرحمن قدوائی اور پروفیسر صادق کے نام منسوب کی ہے۔
کتاب کے آغاز میں نجمہ منصور کی پرویز شہریار کے لیے ایک نظم اور سعادت سعید کا 11 صفحات پر مشتمل مضمون "گمشدہ آدمیت کی متلاشی نظمیں” شامل ہے، جس میں شاعر کے اسلوب، زبان اور خیالات پر بصیرت افروز گفتگو کی گئی ہے۔ ان کے مطابق، پرویز شہریار نے صاف، سادہ اور شستہ اردو میں اپنے دل کی باتیں کی ہیں، اور اردو فکشن کو خاص طور پر اپنی تحقیق کا محور بنایا ہے۔
ان کی پہلی تحریر "چمبل کی دسویں رانی”، جب وہ دسویں جماعت کے طالب علم تھے، ہفت روزہ پندار پٹنہ میں شائع ہوئی۔ ان کی اولین نظمیں "آدم اور حوا” اور "انتظار کے دوش پر” اخبار مشرق میں شائع ہوئیں۔
"ہم امن چاہتے ہیں” اس مجموعے کی پہلی نظم ہے، جس میں شاعر قاری کو باور کرانا چاہتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ نظم "مشیتِ ایزدی” میں فلسطین کی ناگفتہ بہ صورتِ حال اور مظلوموں کی آہیں بیان کی گئی ہیں۔ "مابعد جدید مسلمان” نظم میں شاعر امتِ مسلمہ کو انحرافِ دین پر تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے، اسلامی تعلیمات کی طرف رجوع کی تلقین کرتا ہے۔
"احتجاج کی نظم” میں شاعر معاصر دنیا کی ظلم و بربریت کو بےنقاب کرتا ہے جہاں اقوامِ متحدہ جیسا ادارہ بھی خاموش تماشائی ہے، اور مظلوم باہم منتشر ہیں۔ نظم "فوجی” میں بےگناہوں پر ہونے والے ظلم کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ "لاک ڈاؤن اور مزدوروں کا کاروبار” کرونا کے دنوں کی غربت اور بے بسی کو پیش کرتی ہے۔
"بھوک کی حمایت میں” میں بھوک کی شدت کو انسان کی جبلّت سے جوڑتے ہوئے سماجی اقدار کے انہدام پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ "ارتقائے محبت” نظم سورۃ روم کے اس آیت کی تشریح ہے جس میں آدم و حوا کے مابین محبت و سکون کو فطری اصول قرار دیا گیا ہے۔ "ایک نظم تمہارے لیے” رومانوی رنگ لیے ہوئے ہے، جبکہ "عورت پر ایک نظم” اور "دخترِ مشرق” عورت کی قربانی، ہمت اور فنکاری کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں۔
"محبت کیا ہے” ایک فلسفیانہ نظم ہے، جس میں محبت کو انسانی جوہر اور الوہی تحفہ قرار دیا گیا ہے۔ "اس نے پوچھا” میں شاعر، تخلیق کے لمحے کو وقت اور مقام سے ماورا قرار دیتا ہے۔ "جسم کے رشتے ہیں سچے” نظم میں جسمانی رشتوں کی گہرائی اور سچائی کو اجاگر کیا گیا ہے۔ "الہامی نظمیں” میں شاعر اعتراف کرتا ہے کہ اس کی بعض تخلیقات وجدانی اور الہامی کیفیت کا نتیجہ ہیں۔
"فراموش کیجئے” ایک اخلاقی نظم ہے جو انسان کو انا، نفسانیت اور دنیاوی فریب سے نکل کر روحانی پاکیزگی کی طرف بلاتی ہے۔ "قدرت کا حسین شہکار” عورت کے وجود کو حسنِ فطرت کا مظہر قرار دیتی ہے۔ نظم "گلیشیر پگھل رہے ہیں” میں شاعر ماحولیاتی تبدیلیوں اور درجہ حرارت میں اضافے سے لاحق خطرات کی طرف توجہ دلاتا ہے، اور بطور ماحولیاتی کارکن اپنی پریشانی کا اظہار بھی کرتا ہے۔
اس کتاب میں شامل تمام نظمیں شاعر کے کرب، احساس، تجربات اور مشاہدات کی عکاسی کرتی ہیں۔ ہر نظم نہ صرف ایک فکری پیغام دیتی ہے بلکہ قاری کے ذہن و دل پر دیرپا اثر بھی چھوڑتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں