
انجینئر محمد عادل فرازؔ
ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی کتاب ’’اردو مرثیے کی جمالیات‘‘ اردو ادب، خصوصاً مرثیہ نگاری کے حوالے سے ایک عظیم علمی و ادبی سرمایہ ہے، جو مرثیے کی جمالیاتی اقدار کو سمجھنے اور اس کے تاریخی، ثقافتی اور فنی ارتقا کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مرثیہ گوئی کی جمالیاتی جہتوں کو تفصیلی طور پر پیش کرتی ہے بلکہ اسے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے تناظر میں ایک آفاقی صنف کے طور پر بھی متعارف کراتی ہے۔
ڈاکٹر عابد حسین حیدری جنہوں نے اس کتاب کومرتب کیا ہے ایک عظیم علمی و ادبی شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی اور کارناموں کا تفصیلی تعارف کتاب میں شامل ہے، جو ان کی مرثیہ نگاری سے گہری وابستگی اور علمی خدمات کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک ادیب اور محقق ہیں بلکہ ایم جی ایم پوسٹ گریجویٹ کالج، سنبھل کے پرنسپل کے طور پر بھی اپنی انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے قومی سمینارز، خصوصاً ’’اردو مرثیے کی جمالیات‘‘ پر سمینار، اس کتاب کی بنیاد بنے۔ ان کی تنقیدی بصیرت اور مرثیے کے تئیں عقیدت نے اس کتاب کو ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔
کتاب چار حصوں پر مشتمل ہے، جو مرثیے کی جمالیات کو مختلف زاویوں سے سمجھنے کے لیے ایک منظم ڈھانچہ فراہم کرتی ہے:
۱۔ابتدائی حصہ
اس حصے میں پیش لفظ( پروفیسر عراق رضا زیدی)، تقریظ، مرتب کے تعارف، قطعاتِ تاریخ طباعت، اور مقدمہ شامل ہیں۔ یہ حصہ کتاب کی اہمیت کو واضح کرتا ہے اور ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی علمی شخصیت اور ان کی مرثیہ نگاری سے وابستگی کو اجاگر کرتا ہے۔
۲۔فنی قدریں
یہ حصہ مرثیے کی جمالیاتی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے، جس میں میر انیس، دبیر، جوش ملیح آبادی، اختر زیدی، پیام اعظمی، قیصر بارہوی، نسیم امروہوی، کیفی سنبھلی،وحید اختر،میر نظیر باقری، اور دیگر اہم مرثیہ نگاروں کے کلام کی جمالیاتی جہتوں کا تجزیہ شامل ہے۔ اس حصے میں جدید مرثیے کی جمالیات اور اسلحوں کی جمالیاتی عکاسی پر بھی توجہ دی گئی ہے۔
۳۔نعتیہ بازگشت
اس حصے میں نعتیہ مرثیوں کی جمالیات کو موضوع بنایا گیا ہے، جو’’ بزم آفندی‘‘ اور’’ روپ کماری‘‘ جیسے شعرا کے مرثیوں کی جمالیاتی اقدار کو اجاگر کرتا ہے۔ یہ حصہ مرثیے کی مذہبی اور روحانی جہتوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کرتا ہے۔
۴۔رثائی بستیاں
اس حصے میں امروہہ، جائس، جلالپور، نوگاواں سادات، اور لکھنو جیسے علاقوں کے مرثیوں کی جمالیاتی خصوصیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ حصہ مرثیے کی علاقائی تنوع اور اس کی ہندوستانی شناخت کو نمایاں کرتا ہے۔
کتاب کی ترتیب اسے ایک جامع دستاویز بناتی ہے، جو مرثیے کی جمالیات کو تاریخی، ثقافتی، اور فنی تناظر میں پیش کرتی ہے۔ ہر مضمون ایک مخصوص زاویے سے مرثیے کی جمالیاتی اقدار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، اور مجموعی طور پر یہ کتاب مرثیہ نگاری کے تنقیدی مطالعے کے لیے ایک معیاری متن کی حیثیت رکھتی ہے۔
موضوعات اور تنقیدی معیار
’’اردو مرثیے کی جمالیات‘‘ مرثیے کی جمالیاتی جہتوں کو نہ صرف روایتی حسن و جمال کے تصورات کے تحت پرکھتی ہے بلکہ اسے ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے وسیع تر تناظر میں دیکھتی ہے۔ کتاب کے اہم موضوعات درج ذیل ہیں:
۱۔مرثیے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت
کتاب مرثیے کے پانچ سو سالہ تاریخی سفر کو اجاگر کرتی ہے، جو عربی و فارسی سے ہوتا ہوا دکن کے اشرف اور قلی قطب شاہ سے لے کر شمالی ہندوستان کے مسدس مرثیوں تک پھیلا ہے۔ ڈاکٹر راشد عزیز اپنے مضمون میں اسے ایک ’’جمالیاتی دستاویز‘‘ قرار دیتے ہیں، جو مرثیے کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔
کتاب میںمرثیہ نگاری کو ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کی نمائندہ صنف کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو مذہبی، سماجی، اور سیاسی حدود سے ماورا ہو کر ہر ہندوستانی کے دل میں جگہ رکھتی ہے۔ پروفیسر حسن عباس اسے ہندوستان کے دیہاتوں اور قصبات کی آواز قرار دیتے ہیں، جو اس کی آفاقی اپیل کو ظاہر کرتا ہے۔
۲۔جمالیاتی عناصر
کتاب مرثیے کی جمالیات کو روایتی حسن و جمال سے ہٹ کر ایک وسیع تر تناظر میں دیکھتی ہے۔ پروفیسر علی احمد فاطمی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مرثیے کی جمالیات صرف جسمانی حسن تک محدود نہیں بلکہ انسانی ذہن کی بالیدگی اور روح کی روئیدگی سے جڑی ہوئی ہے۔ یہ انسانی ہمدردی، دردمندی، اور تہذیب نفس کو فروغ دیتی ہے۔
پروفیسر شارب ردولوی نے مرثیے کی جمالیات کو زبان، اسلوب، تشبیہ، استعارہ، اور تخیل کی بلندی سے جوڑا ہے، جو اسے فنکارانہ طور پر ایک اعلیٰ صنف بناتا ہے۔
۳۔کلاسیکی اور جدید مرثیہ نگاری
کتاب میں میر انیس اورمرزاسلامت علی دبیر جیسے کلاسیکی مرثیہ نگاروں کے ساتھ ساتھ جوش ملیح آبادی، جمیل مظہری، نسیم امروہوی، اور وحید اختر جیسے جدید شعرا کے مرثیوں کی جمالیات کا تجزیہ بھی شامل ہے۔ پروفیسر فاطمہ بیگم پروین اپنے مضمون ’’ آزادی کے بعد اردو مرثیے کی جمالیات ‘‘میں جوش کے مرثیوں کو مزاحمت اور احتجاج کی علامت قرار دیتی ہیں، جو آزادی کے بعد کے مرثیوں کی نئی سمت کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر فرقان سنبھلی اپنے مضمون’’جمالیات،جدید مرثیہ اور نسیم الظفر‘‘ میں جدید مرثیہ نگاروں کے زبان و بیان کے استعمال اور ان کی فنی جدت کو سراہتے ہیں، جو محدود واقعاتی دائرے میں بھی جمالیاتی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔
۴۔نعتیہ مرثیوں کی جمالیات
نعتیہ مرثیوں کی جمالیات پر مضامین، جیسے کہ بزم آفندی اور روپ کماری کے مرثیوں پر بحث، اس صنف کی روحانی اور مذہبی جہتوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہ مضامین نئے محققین کے لیے خاص طور پر پرکشش ہیں، کیونکہ یہ مرثیے کی روایتی حدود سے ہٹ کر اس کی ہمہ گیر فطرت کو پیش کرتے ہیں۔
۵۔علاقائی تنوع
ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی اس کتاب میں ’’رثائی بستیاں‘‘ مرثیے کی علاقائی شناخت کو اجاگر کرتا ہے۔ امروہہ، جائس، جلالپور، نوگاواں سادات، اور لکھنو کے مرثیوں کی جمالیاتی خصوصیات کو مقامی ثقافت اور لفظیاتی انفرادیت کے تناظر میں دیکھا گیا ہے، جو اس صنف کی تنوع اور گہرائی کو واضح کرتا ہے۔
تنقیدی جائزہ
۱۔علمی اہمیت
یہ کتاب مرثیے کی جمالیات پر ایک جامع دستاویز ہے، جو اس صنف کو روایتی عقیدت کے دائرے سے نکال کر فنی اور جمالیاتی کسوٹی پر پرکھتی ہے۔ پروفیسر قاضی جمال حسین اور پروفیسر علی احمد فاطمی جیسے ناقدین کی تحریریں اسے ایک علمی معیار عطا کرتی ہیں۔
کتاب مغربی تنقیدی معیارات سے ہٹ کر مرثیے کی اپنی شعریات اور جمالیات کی وضاحت کرتی ہے، جو اسے ایک منفرد تنقیدی متن بناتی ہے۔ پروفیسر محمد زمان آزردہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ مرثیے کی جمالیات کے لیے اس کے اپنے قواعد و اصول اخذ کیے جانے چاہئیں۔
۲۔ہندوستانی شناخت
یہ کتاب مرثیے کو ہندوستانی تہذیب کی نمائندہ صنف کے طور پر پیش کرتی ہے، جو ہر مذہب و ملت کے شعرا کی شرکت سے اس کی آفاقی نوعیت عطا کرتی ہے۔ پروفیسر عباس رضا نیر اور ڈاکٹر شفیق الرحمن برق کے مضامین اسے گنگا جمنی تہذیب کا عکاس قرار دیتے ہیں۔
۳۔جدیدیت اور تنوع
آزادی کے بعد کے مرثیوں کی جمالیات پر بحث اس کتاب کا ایک اہم پہلو ہے۔ جوش، جمیل مظہری، اور نسیم امروہوی جیسے شعرا کے مرثیوں میں مزاحمت، احتجاج، اور سماجی شعور کی عکاسی اس صنف کی جدیدیت کو ظاہر کرتی ہے۔
نعتیہ مرثیوں اور علاقائی مرثیوں پر مضامین اس صنف کے تنوع کو اجاگر کرتے ہیں، جو اسے ایک محدود مذہبی صنف سے آفاقی فن کے درجے تک لے جاتا ہے۔
الغرض ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی کتاب ’’ اردو مرثیے کی جمالیات‘‘ ایک ایسا علمی و ادبی ستاویز ہے جو مرثیہ نگاری کو نئے تنقیدی اور جمالیاتی زاویوں سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی ادبی بصیرت اور علمی کاوشوں نے اسے اردو ادب کے ذخیرے میں ایک اہم اضافہ بنایا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مرثیے کی جمالیاتی اقدار کو سمجھنے کے لیے رہنما ئی کرتی ہے بلکہ اسے ہندوستانی تہذیب و تمدن کی ایک آفاقی صنف کے طور پر بھی پیش کرتی ہے۔ کتاب میں شامل مضامین مرثیے کی تاریخی، ثقافتی، اور فنی جہتوں کو ایک جامع تناظر میں پیش کرتے ہیں، جو اسے محققین، ناقدین، اور ادب کے شائقین کے لیے یکساں مفید بناتے ہیں۔
یہ کتاب مرثیہ نگاری کے تنقیدی مطالعے میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور آنے والے وقتوں میں اس صنف کی تفہیم کے لیے ایک معیاری حوالہ ثابت ہوگی۔ ڈاکٹر عابد حسین حیدری کی یہ کاوش نہ صرف ان کی ادبی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہے بلکہ اردو ادب کے لیے ایک عظیم تحفہ بھی ہے۔


