جنگ نیوز ڈیسک
وزیراعظم نریندر مودی نے برکس (BRICS) اجلاس کے دوران امن و سلامتی کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے 22 اپریل کو پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کو بھارت کی روح، شناخت اور وقار پر براہِ راست حملہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ صرف بھارت پر نہیں، بلکہ پوری انسانیت پر حملہ تھا۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوکر مؤثر اور غیر متزلزل موقف اپنائے۔ انہوں نے کہا، "دہشت گردی آج انسانیت کو درپیش سب سے سنگین چیلنج ہے۔”
وزیراعظم نے ان دوست ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، "دہشت گردی کی مذمت کسی ملک، مقام یا مفاد کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اصولی بنیادوں پر ہونی چاہیے۔ اگر ہم اپنے ردِعمل میں دہرا معیار اپنائیں گے تو یہ انسانیت سے غداری کے مترادف ہوگا۔”
مودی نے زور دیا کہ دہشت گردوں پر پابندیاں عائد کرنے میں کوئی جھجک نہیں ہونی چاہیے۔ دہشت گردوں اور ان کے متاثرین کو ایک ہی ترازو میں تولنا، یا سیاسی مفاد کی خاطر خاموشی اختیار کرنا، کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا، "دہشت گردی کے معاملے پر ہمارے قول و فعل میں تضاد نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ہم اس میں ناکام رہیں تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی دہشت گردی سے لڑنے میں سنجیدہ ہیں؟”
عالمی تنازعات اور تشویشناک انسانی بحران پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مغربی ایشیا سے یورپ تک دنیا تنازعات میں گھری ہوئی ہے، اور غزہ کی صورتِ حال گہری انسانی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا، "بھارت، جو بدھ اور گاندھی کی سرزمین ہے، امن اور عدم تشدد پر یقین رکھتا ہے۔ ہم ہر اُس کوشش کی حمایت کرتے ہیں جو دنیا کو تصادم سے نکال کر بات چیت، تعاون اور بھروسے کی طرف لے جائے۔”
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیراعظم مودی نے تمام برکس رکن ممالک کو اگلے سال بھارت میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی، جو بھارت کی صدارت میں منعقد ہوگا۔


