جنگ وئب ڈیسک
ماسکو/کابل، 4 جولائی: روس نے افغانستان میں طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے، اور ایک نئے افغان سفیر کی اسناد قبول کر کے طالبان کو بین الاقوامی سطح پر پہلی بار سرکاری حیثیت دی ہے۔
روسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا:
"ہم سمجھتے ہیں کہ اسلامی امارت افغانستان کی حکومت کو تسلیم کرنا دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعمیری تعاون کو فروغ دے گا۔”
اس اقدام پر افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"یہ بہادرانہ قدم دوسروں کے لیے مثال بنے گا۔ روس سب سے آگے رہا۔”
امریکہ کی جانب سے اربوں ڈالر کے افغان اثاثے منجمد ہونے اور طالبان قیادت پر پابندیوں کے بعد افغانستان عالمی مالیاتی نظام سے کافی حد تک کٹ چکا ہے۔ ایسے میں روس کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر بڑی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
طالبان نے اگست 2021 میں اس وقت اقتدار سنبھالا جب امریکی افواج افغانستان سے نکل گئیں۔ روس نے امریکی انخلاء کو "ناکامی” قرار دیا اور طالبان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی جانب قدم بڑھایا۔ 2022 اور 2024 میں طالبان وفود نے روس کے اقتصادی فورم میں شرکت کی، جبکہ اکتوبر 2023 میں طالبان کے اعلیٰ سفارت کار نے ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جولائی 2024 میں طالبان کو "دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحادی” قرار دیا تھا، خاص طور پر داعش خراسان (ISKP) کے خلاف، جس نے افغانستان اور روس میں مہلک حملے کیے ہیں۔
روس کے اس فیصلے کو عالمی سطح پر ایک سنگ میل سمجھا جا رہا ہے، جو طالبان حکومت کی ممکنہ عالمی تسلیم شدگی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔


