
قیصر محمود عراقی
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مسلمانوں نے دین کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی، وہ ذلت و رسوائی اور اللہ کے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ جو دنیا کے پیچھے دوڑتا ہے، وہ دنیا بھی کھو بیٹھتا ہے؛ اور جو آخرت کو چاہتا ہے، اسے دنیا بھی مل جاتی ہے۔ جن شخصیات نے اللہ کی رضا کے لیے دنیا کو ترک کیا، ان کے تذکرے آج بھی زندہ ہیں، اور انسانیت ان سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔
کربلا میں حضرت امام حسینؓ نے دین کی بقا و سربلندی کے لیے جس شجاعت اور استقامت کا مظاہرہ کیا، وہ رہتی دنیا تک ایک مشعل راہ ہے۔ آپؓ کی شہادت نے حق کو سربلند اور باطل کو رسوا کیا۔ حسینؓ صرف ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک عالمگیر پیغام، ایک تحریک، ایک نظریہ، اور ایک طرز عمل کا نام ہے، جو ہر دور کے یزید کے خلاف مزاحمت کا جذبہ عطا کرتا ہے۔
ہم پر لازم ہے کہ ہم کربلا کے پیغام کو صرف رسمی یادگار نہ سمجھیں بلکہ اس کے فلسفے کو اپنائیں۔ امام حسینؓ کی قربانی دین اسلام کی حقیقی روح ہے۔ آج کے دور میں جب انسان دین سے دور ہوتا جا رہا ہے، پیغامِ حسینی کی اشاعت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔
وقت آگیا ہے کہ حسینؓ کو تفریق کے بجائے وحدت کا استعارہ بنایا جائے، اور کربلا کے پیغام کو ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں استعمال کیا جائے۔ ظلم کے خلاف صدائے حق بلند کرنا عوام کا کام ہے، کیونکہ اقتدار کے ایوانوں میں سچائی کی امید بےکار ہے۔ اصول فروش اور اصول پرست ہمیشہ آمنے سامنے ہوتے رہے ہیں اور رہیں گے۔
آج بھی کربلائیں سجی ہوئی ہیں۔ آج بھی شام کے بازار، دمشق کے دربار، اور یزیدی سازشیں قائم ہیں۔ آج بھی فرات لبالب بھرا ہے اور حسینی پیاسے ہیں، آج بھی مظلوم حسار میں ہیں، اصول کتابوں میں دفن ہیں اور زر و زور قانون کا معیار بن چکا ہے۔
آج بھی بے گناہ قتل ہوتے ہیں، عبادت گاہیں ویران ہوتی ہیں، درسگاہیں جلائی جاتی ہیں، اور سرمایہ دار اپنے مفادات کی حفاظت میں غریبوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ علماء، مشائخ، سجادہ نشین اور طاقتور افراد عموماً درباروں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں تاکہ اپنے ناجائز مفادات کا تحفظ کر سکیں۔
محرم پھر آ چکا ہے اور آتا رہے گا، مگر اب وقت کا تقاضہ ہے کہ ہم امام حسینؓ کے اسوہ کو اپنا کر دنیا کے مظلوموں کی ترجمانی کریں۔ امام حسینؓ کا احسان ہے کہ آج اسلام اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ ہمیں کربلا سے سبق لیتے ہوئے گروہی مفادات کو چھوڑ کر اسلام کے حقیقی پیغام کو اپنانا ہوگا۔
یزید ایک فرد نہیں، ایک سوچ ہے، اور حسینؓ بھی ایک نظریہ ہے۔ حسینیت ایک مسلسل عمل، ایک سیرت، اور ایک راہِ عمل ہے۔ جس دین کی بنیاد حضرت اسماعیلؑ کی قربانی اور امام حسینؓ کی شہادت پر ہو، اس کی بقا کا وعدہ خود اللہ نے کر رکھا ہے۔ کربلا کے شہداء نے اسلام کو جرأت و کردار کے ساتھ دوام بخشا۔ امام حسینؓ کی قربانی کسی ایک فرقے یا قوم کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کی بھلائی کے لیے تھی۔ ان کا عقیدہ تھا کہ صرف وہی باقی رہے گا جو حق پر کھڑا ہوگا، چاہے وہ قربان ہی کیوں نہ ہو جائے۔
ززز

