شاہ است حسینؑ

نعمان اشرف ڈار
وم پورہ بڈگام

کائینات میں حق و صداقت کی علمبرداروں کو مصائب و آلام کی دشوار وادیوں سے گزرنا پڑا ہے اور جب تک دنیا قائم رہے گا۔ حق وصداقت ،ظلم وستم کی کشمکش بھی جاری رہے گی۔اور شہداءکربلا کا تذ کرہ ضرورہوتا رہے گا۔ نواسہ سردار ابنیائِ ﷺسیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باے میں لکھنا یا بیان کرنا ایسا ہے جیسے زمین پر بٹیھ کر عرش اعلیٰ کے بارے میں گفتگو کرنے کے برابر ہے۔حالانکہ واقعات کربلا کو صدیاں گز رگئیں اور اس طویل عرصے میں امت مسلمہ کے عظیم ترین محققین ، فقہاءو محدثین اور علماءکرام نے واقعات کربلا پر بے شمار کتابیں لکھیں ۔لیکن آج کے دور میں بھی جب واقعہ کربلا کا تذکرہ ہورہا ہیں۔ تو انسان خون کے آنسو ابل پڑتے ہیں۔ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت سے براہ راست دل متاثر ہوتا ہے اور سنُے والے کو بدل دیتا ہے اور ایک ایسا اثر ڈالتا ہے، جس سے سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت اور بڑ ھ جاتی ہے اور ان ظالم لوگوں کی نفرت دل میں پیدا ہوجاتی ہے جن لوگوں نے نواسہ سردار ابنیائِ ﷺسیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ظلم وستم ڈھایے ہیں۔ آج بھی دنیا میں ہر طرف قتل انسان عام ہے اور ہر طرف انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔اسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی کی جارہی ہے اور حق پرستوں پر ظالم وجبر لوگ حادی نظر آرہے ہیں۔کیونکہ اس کی وجہ ہے کہ جو لوگ اسلام دشمن ہیں انکے ہم ہی آلہ کار بن جاتے ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بد بختی کسی قوم کا مقدر بن جاتی ہے تو ان کے آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں اور دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں پھر اُنہیںحق کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ورنہ کوفہ والوں کو معلوم تھاکہ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون ہے۔حضرت سیدنا حسین ؓخود کوفی لشکر کے سامنے تنہا گئے اور بلند آواز میں ایک تقریر کی ۔” تم میں سے ہر ایک شخص جو مجھ سے واقف ہے اور ہر ایک وہ شخص بھی جو مجھ کو نہیں جا نتا، اچھی طرح آگاہ ہوجائے کہ میںرسول اللہ ﷺ کا نواسہ اورحضرت علی ؓ کا بیٹا ہوں ،حضرت فاطمتہ الزرہرا رضی اللہ تعالٰ عنہا میری ماں اور حضرت جعفر طیارؓ میرے چچا تھے۔ اس فخرنسبتی کے علاوہ مجھکو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھکو اور میرے بھائی حسن ؓ کو نو جوانان جنت کا سردار بتایاہے۔ اگرتمکو میری بات کا یقین نہ ہو تو ابھی بھی رسول اللہ ﷺ کے بہت سے صحابیؓ زندہ ہیں ۔تم ان سے میری اس بات کی تصدیق کرسکتے ہو۔ مگربد بختی ان ظالموں کی مقدر بن چکی تھی جنہوں نے شہادت حسینؓ میں حصہ لیا ۔ میدان کربلا میںسیدنا امام حسین ؓ کے لئے تمام مصیبتوں سے بڑھکر مصیبت یہ تھی کہ آپؓ نے اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اورجانثار ساتھیوں کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
واقعہ کربلا نے حق وصداقت اور باطل کے درمیان کبھی نہ مٹنے والی وہ تاریخ رقم کی جس کی مثال تاریخ عالم میں کہی نہیں ملتی ہے، جو صدیوں تک دیکھتی آنکھیوں اور سنتے کانوں کےلئے حق و باطل اور اندھیرے اور اجالے میں فرق کرتی رہے گی۔ اور یزید کا کرتذہ ہمیشہ ایک ظالم اور جابرکی طرح ہوتی رہے گی۔ دوسری طرف اسی میدان کربلاحق و صداقت کے علم بردار نواسہ رسول ِ ﷺ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عمل سے ایک ایسا شمع روشن کیا جس کی روشنی سے قیامت تک حق پرستوں کے قافے آگے بڑھتے رہیں گئے ۔کیونکہ نا م حسینؓ عظمتوں،رحمتوں اور برکتوں کا امین ہے ۔شام کربلا آل رسول ﷺ کی حقانیت ،ایمان ،اسلام ،حق وصداقت جرات و شجاعت اور عزت واستقامت کا باقی رہنے والا عنوان ہے۔میدان کربلا میں نواسہ رسول رحمت ِ ﷺسیدنا حسین ابن علیؓ نے عزیمت واستقامت کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک ایک بامقدس ، زند ہ یادگا ر اور آنے والی نسلوں کےلئے قابل تقلیدہے سیدنا امام حسین ؓ دیگرشداءکربلانے اپنے مقدس خون سے گلشن السلام کی آبیاری کی اور اسلام کی حق وصداقت کی گواہی دیکر دین کی اسکی اصل پر باقی رکھا۔سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہمیں کئی پیغام دیتی ہے اول یہ کہ ایمان والا اپنے خون کے آخری قطرہ تک حق پر صداقت پر جما رہے باطل کی قوت سے مرعوب نہ ہو۔یہ بھی پیغام ملا کہ ظاہری قوت کے آگے بسا اوقات نیک لوگ ظاہری طور پر کمزارہو جاتے ہیں، مگر جو حق ہے وہ سچائی ہے وہ کبھی ماند نہیں پڑتی اور وہ ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔ یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے، کہ اسلام کا سرمایہ حیات یزیدیت نہیں بلکہ حسینیت ہے ۔سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہادت کئی پہلو سے عملی نمونہ ہے، جس پر انسان عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو اسلامی طرز پر قائم رکھنے کیلئے صداقت، حقانیت اور جہد مسلسل میں حسینیؓ کردار اور حسینی ؓ جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہو۔ اقتدار کی طاقت جان تو لے سکتی ہے ایمان نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سیدنا اما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے حقیقی فلسفہ و حقیقت اور مقصد کو سمجھا جائے۔ محرم الحرام کا مہینہ بہت ہی اہمیت اور فضا ئل کا حامل ہے۔ سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد یہ مہینہ آپ ؓ کی ذات اقدس کے ساتھ معروف و مشہور ہوگیا۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ہم مسلمانوں نے سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے مقصد اور اس عظیم قربانی کو فراموش کردیا۔جس کے لیے آپؓ نے اپنی پورے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے عزیمت واستقامت کی وہ مثال قائم کی،اور دوسری طاقت کے نشے میں دھت یزیدآپؓ کو اپنی بیعت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہو سکتا تھا، جو خاندان رسول کی جان و مال کے لیے امن و امان کا ضامن بن سکتا تھا، لیکن کیا سیدنا امام حسین ؓ جیسی مقدس ہستی یزیدکے ہاتھ پر بعیت کرسکتی تھی۔کیا نواسہ رسول ﷺ کو گوارہ ہوتا،انہوں نے ظلم و ستم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔
” ذکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ عموم سنت الہٰیہ میں شامل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ ذکر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں ضروری ہے؟ اگر ذکر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضروری نہیں اور شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ اور ذکر اہل بیت ضروری نہیں تو پھر آقا علیہ السلام کی امت میں کسی کا ذکر بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ ذکر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حقیقت میں خود ذکر مصطفی ﷺ ہے۔ شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حقیقت میں سیرت محمدی ﷺ کا ایک باب ہے۔ یہ واحد ایک ایسی شہادت ہے جس کا تفصیلی ذکر خود سردار ابنیائِ ﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے فرمایا۔”ماخوذ
حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعرات کی شام کو میں بیٹھا ہوا تھا اور میری پھوپھی سیدہ زنیبؓ میری تمارداری میں مصراف تھیں اس وقت میرے والدماجد کے پاس (حضرت ابوذرغفاریؓ) کے آزاد کردہ غلام حوُمی بیٹھے ہوئے تلوار درست کررہے تھے اور آپؓ یہ اشعار پڑھ رہے تھے ۔ ترجمعہ ۔اے زمانہ ناپائیدار تجھ پر اُفسوس ہے کہ تونے کسی دوست سے کبھی وفا نہ کی صبح وشام تو نے۔ کیسے کیسے صاحبان ادلوالعزم کو قتل کیا اور یہ زمانہ ناہنجار عوض پر قناعت نہیں کرتا۔اور سب ہی کی باز گشت خدائے جلیل ہی کی طرف ہے اور ہر زندہ کو یہی راہ درپیش ہے۔میرا وعدہ رحلت کس قدر قریب آپہنچا ہے۔لہذا میں اپنے پروردگار کی تسبیح کرتا ہوں جس کا کوئی مثل نہیں۔آپ ؓ نے بار بار ان اشعار کو پڑھا۔میں نے آپؓ کے عزم اور ارادے کو سمجھ گیا اور جان گیا کہ مصیبت ٹوٹ پڑی۔ بے اختیار میرے آنسو آگئے تاہم میں نے صبر وضبط سے کام لیا ۔مگر میری پھوپھی نے بھی یہ اشعار سُن لیے تھے اور انکی حالات سے بھی اندازہ ہوگیاکہ تلواریں صاف کی جارہی ہیں ۔وہ ضبط نہ کرسکیں اور آپ کے پاس پہنچ کر چیخ چیخ کر رونے لگیں۔”شام کربلا“ حدیث میں آیا ہے۔ ام المومنین حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جبریل امین نے خبردی کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد زمین لف میں قتل کردیا جائے گا اور جبریل میرے پاس” اس زمین کی“ یہ مٹی لائے ہیں اور انہوں نے مجھے خبردی ہے کہ وہی ان کے لیٹنے ”مدفون ہونے“ کی جگہ ہے۔
عاشورایعنی محرم کا دسواںدن ہے ۔اہل علم فرماتے ہیں کہ اس دن کو عاشورا اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے دس نبیوں پر دس کرامتوں کا انعام فرمایا ہے
اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی ۔حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر رُکی ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون غرق ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اسی دن وہ آسمان پراٹھائے گئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے خلاصی ملی اور اسی دن ان کی اُمت کا قصور معاف ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں سے نکلا لے گئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کوبیماری سے صحت حاصل ہوئی۔ حضرت ادریس علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اسی دن ان پر آگ گلزار ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک عطاہوا۔
۵ شعبان المعظم ۴ہجری میں مدنیہ منور میں ولادت باسعادت ہوئی اور دس محرمرالحرام ۱۶ ہجری بمطابق ۸۲ اکتوبر ۱۸۶ءمیں حق وصداقت کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کےلئے میدان کربلا میںجانثار ساتھیوں سمیت شہید ہوئے ۔یہ ایسے دن ہے جو اسلام ہی کی نہیں، انسانیت کی تاریخ میں بھی رہتی دنیا تک وہ شام کہلائے گی جو ظلم وجفا اور صبر ورضا کی دونوں مثالوں کے یاد دلائی رہے گی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ سیدنا امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ کا سہ صدمہ کسی نے نہیں اٹھایا ہے۔ یہ انہیں کا صبرواستقلال تھا جو خاص عطا ئے الہیٰ تھا کسی باہمت کا ذکر ہی کیا اس واقعہ جاں کا اور صدمہ جاں فرساکے پوری طرح بیان کی زبان وقلم میں بھی تاب نہیں ۔
حضرت خواجہ اجمیری رحمتہ اللہ علیہ ان اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔
شاہ است حسین ؓ بادشاہ است حسینؓ۔ دیں است حسینؓ دیں پناہ است حسینؓ۔ سر داد نہ داد دست در دست یزید ۔حقّا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؓ۔
اللہ ہمیں شہادتِ امام حسین ؓ سے سبق لینے اور حق پر چلنے کی توفیق نخشے۔ آمین
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

شاہ است حسینؑ

نعمان اشرف ڈار
وم پورہ بڈگام

کائینات میں حق و صداقت کی علمبرداروں کو مصائب و آلام کی دشوار وادیوں سے گزرنا پڑا ہے اور جب تک دنیا قائم رہے گا۔ حق وصداقت ،ظلم وستم کی کشمکش بھی جاری رہے گی۔اور شہداءکربلا کا تذ کرہ ضرورہوتا رہے گا۔ نواسہ سردار ابنیائِ ﷺسیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باے میں لکھنا یا بیان کرنا ایسا ہے جیسے زمین پر بٹیھ کر عرش اعلیٰ کے بارے میں گفتگو کرنے کے برابر ہے۔حالانکہ واقعات کربلا کو صدیاں گز رگئیں اور اس طویل عرصے میں امت مسلمہ کے عظیم ترین محققین ، فقہاءو محدثین اور علماءکرام نے واقعات کربلا پر بے شمار کتابیں لکھیں ۔لیکن آج کے دور میں بھی جب واقعہ کربلا کا تذکرہ ہورہا ہیں۔ تو انسان خون کے آنسو ابل پڑتے ہیں۔ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت سے براہ راست دل متاثر ہوتا ہے اور سنُے والے کو بدل دیتا ہے اور ایک ایسا اثر ڈالتا ہے، جس سے سیدنا حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی محبت اور بڑ ھ جاتی ہے اور ان ظالم لوگوں کی نفرت دل میں پیدا ہوجاتی ہے جن لوگوں نے نواسہ سردار ابنیائِ ﷺسیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ظلم وستم ڈھایے ہیں۔ آج بھی دنیا میں ہر طرف قتل انسان عام ہے اور ہر طرف انسانیت کا قتل ہورہا ہے ۔اسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی کی جارہی ہے اور حق پرستوں پر ظالم وجبر لوگ حادی نظر آرہے ہیں۔کیونکہ اس کی وجہ ہے کہ جو لوگ اسلام دشمن ہیں انکے ہم ہی آلہ کار بن جاتے ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب بد بختی کسی قوم کا مقدر بن جاتی ہے تو ان کے آنکھوں پر پردے پڑجاتے ہیں اور دلوں پر مہریں لگ جاتی ہیں پھر اُنہیںحق کو دیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ورنہ کوفہ والوں کو معلوم تھاکہ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کون ہے۔حضرت سیدنا حسین ؓخود کوفی لشکر کے سامنے تنہا گئے اور بلند آواز میں ایک تقریر کی ۔” تم میں سے ہر ایک شخص جو مجھ سے واقف ہے اور ہر ایک وہ شخص بھی جو مجھ کو نہیں جا نتا، اچھی طرح آگاہ ہوجائے کہ میںرسول اللہ ﷺ کا نواسہ اورحضرت علی ؓ کا بیٹا ہوں ،حضرت فاطمتہ الزرہرا رضی اللہ تعالٰ عنہا میری ماں اور حضرت جعفر طیارؓ میرے چچا تھے۔ اس فخرنسبتی کے علاوہ مجھکو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھکو اور میرے بھائی حسن ؓ کو نو جوانان جنت کا سردار بتایاہے۔ اگرتمکو میری بات کا یقین نہ ہو تو ابھی بھی رسول اللہ ﷺ کے بہت سے صحابیؓ زندہ ہیں ۔تم ان سے میری اس بات کی تصدیق کرسکتے ہو۔ مگربد بختی ان ظالموں کی مقدر بن چکی تھی جنہوں نے شہادت حسینؓ میں حصہ لیا ۔ میدان کربلا میںسیدنا امام حسین ؓ کے لئے تمام مصیبتوں سے بڑھکر مصیبت یہ تھی کہ آپؓ نے اپنی آنکھوں سے اپنے بھائیوں ، بیٹوں اورجانثار ساتھیوں کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔
واقعہ کربلا نے حق وصداقت اور باطل کے درمیان کبھی نہ مٹنے والی وہ تاریخ رقم کی جس کی مثال تاریخ عالم میں کہی نہیں ملتی ہے، جو صدیوں تک دیکھتی آنکھیوں اور سنتے کانوں کےلئے حق و باطل اور اندھیرے اور اجالے میں فرق کرتی رہے گی۔ اور یزید کا کرتذہ ہمیشہ ایک ظالم اور جابرکی طرح ہوتی رہے گی۔ دوسری طرف اسی میدان کربلاحق و صداقت کے علم بردار نواسہ رسول ِ ﷺ سیدنا امام حسین ابن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے عمل سے ایک ایسا شمع روشن کیا جس کی روشنی سے قیامت تک حق پرستوں کے قافے آگے بڑھتے رہیں گئے ۔کیونکہ نا م حسینؓ عظمتوں،رحمتوں اور برکتوں کا امین ہے ۔شام کربلا آل رسول ﷺ کی حقانیت ،ایمان ،اسلام ،حق وصداقت جرات و شجاعت اور عزت واستقامت کا باقی رہنے والا عنوان ہے۔میدان کربلا میں نواسہ رسول رحمت ِ ﷺسیدنا حسین ابن علیؓ نے عزیمت واستقامت کی وہ مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک ایک بامقدس ، زند ہ یادگا ر اور آنے والی نسلوں کےلئے قابل تقلیدہے سیدنا امام حسین ؓ دیگرشداءکربلانے اپنے مقدس خون سے گلشن السلام کی آبیاری کی اور اسلام کی حق وصداقت کی گواہی دیکر دین کی اسکی اصل پر باقی رکھا۔سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت ہمیں کئی پیغام دیتی ہے اول یہ کہ ایمان والا اپنے خون کے آخری قطرہ تک حق پر صداقت پر جما رہے باطل کی قوت سے مرعوب نہ ہو۔یہ بھی پیغام ملا کہ ظاہری قوت کے آگے بسا اوقات نیک لوگ ظاہری طور پر کمزارہو جاتے ہیں، مگر جو حق ہے وہ سچائی ہے وہ کبھی ماند نہیں پڑتی اور وہ ایک نہ ایک دن ضرور رنگ لاتی ہے۔ یہی اس بات کا واضح ثبوت ہے، کہ اسلام کا سرمایہ حیات یزیدیت نہیں بلکہ حسینیت ہے ۔سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ شہادت کئی پہلو سے عملی نمونہ ہے، جس پر انسان عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی کو اسلامی طرز پر قائم رکھنے کیلئے صداقت، حقانیت اور جہد مسلسل میں حسینیؓ کردار اور حسینی ؓ جذبہ ایثار و قربانی سے سرشار ہو۔ اقتدار کی طاقت جان تو لے سکتی ہے ایمان نہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سیدنا اما م حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے حقیقی فلسفہ و حقیقت اور مقصد کو سمجھا جائے۔ محرم الحرام کا مہینہ بہت ہی اہمیت اور فضا ئل کا حامل ہے۔ سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد یہ مہینہ آپ ؓ کی ذات اقدس کے ساتھ معروف و مشہور ہوگیا۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ہم مسلمانوں نے سیدناامام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے مقصد اور اس عظیم قربانی کو فراموش کردیا۔جس کے لیے آپؓ نے اپنی پورے خاندان کی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے عزیمت واستقامت کی وہ مثال قائم کی،اور دوسری طاقت کے نشے میں دھت یزیدآپؓ کو اپنی بیعت کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ ایک ایسا معاہدہ ہو سکتا تھا، جو خاندان رسول کی جان و مال کے لیے امن و امان کا ضامن بن سکتا تھا، لیکن کیا سیدنا امام حسین ؓ جیسی مقدس ہستی یزیدکے ہاتھ پر بعیت کرسکتی تھی۔کیا نواسہ رسول ﷺ کو گوارہ ہوتا،انہوں نے ظلم و ستم کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سر کٹانے کو ترجیح دی۔
” ذکرحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ عموم سنت الہٰیہ میں شامل ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس بات کو سمجھا جائے کہ ذکر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیوں ضروری ہے؟ اگر ذکر امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضروری نہیں اور شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تذکرہ اور ذکر اہل بیت ضروری نہیں تو پھر آقا علیہ السلام کی امت میں کسی کا ذکر بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ ذکر حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حقیقت میں خود ذکر مصطفی ﷺ ہے۔ شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حقیقت میں سیرت محمدی ﷺ کا ایک باب ہے۔ یہ واحد ایک ایسی شہادت ہے جس کا تفصیلی ذکر خود سردار ابنیائِ ﷺنے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے فرمایا۔”ماخوذ
حضرت زین العابدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جمعرات کی شام کو میں بیٹھا ہوا تھا اور میری پھوپھی سیدہ زنیبؓ میری تمارداری میں مصراف تھیں اس وقت میرے والدماجد کے پاس (حضرت ابوذرغفاریؓ) کے آزاد کردہ غلام حوُمی بیٹھے ہوئے تلوار درست کررہے تھے اور آپؓ یہ اشعار پڑھ رہے تھے ۔ ترجمعہ ۔اے زمانہ ناپائیدار تجھ پر اُفسوس ہے کہ تونے کسی دوست سے کبھی وفا نہ کی صبح وشام تو نے۔ کیسے کیسے صاحبان ادلوالعزم کو قتل کیا اور یہ زمانہ ناہنجار عوض پر قناعت نہیں کرتا۔اور سب ہی کی باز گشت خدائے جلیل ہی کی طرف ہے اور ہر زندہ کو یہی راہ درپیش ہے۔میرا وعدہ رحلت کس قدر قریب آپہنچا ہے۔لہذا میں اپنے پروردگار کی تسبیح کرتا ہوں جس کا کوئی مثل نہیں۔آپ ؓ نے بار بار ان اشعار کو پڑھا۔میں نے آپؓ کے عزم اور ارادے کو سمجھ گیا اور جان گیا کہ مصیبت ٹوٹ پڑی۔ بے اختیار میرے آنسو آگئے تاہم میں نے صبر وضبط سے کام لیا ۔مگر میری پھوپھی نے بھی یہ اشعار سُن لیے تھے اور انکی حالات سے بھی اندازہ ہوگیاکہ تلواریں صاف کی جارہی ہیں ۔وہ ضبط نہ کرسکیں اور آپ کے پاس پہنچ کر چیخ چیخ کر رونے لگیں۔”شام کربلا“ حدیث میں آیا ہے۔ ام المومنین حضرت عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیںکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جبریل امین نے خبردی کہ میرا بیٹا حسین میرے بعد زمین لف میں قتل کردیا جائے گا اور جبریل میرے پاس” اس زمین کی“ یہ مٹی لائے ہیں اور انہوں نے مجھے خبردی ہے کہ وہی ان کے لیٹنے ”مدفون ہونے“ کی جگہ ہے۔
عاشورایعنی محرم کا دسواںدن ہے ۔اہل علم فرماتے ہیں کہ اس دن کو عاشورا اس لئے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے دس نبیوں پر دس کرامتوں کا انعام فرمایا ہے
اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی ۔حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی کوہِ جودی پر رُکی ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون سے نجات ملی اور فرعون غرق ہوا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اسی دن وہ آسمان پراٹھائے گئے۔ حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے خلاصی ملی اور اسی دن ان کی اُمت کا قصور معاف ہوا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں سے نکلا لے گئے۔ حضرت ایوب علیہ السلام کوبیماری سے صحت حاصل ہوئی۔ حضرت ادریس علیہ السلام آسمان پر اٹھائے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت ہوئی اور اسی دن ان پر آگ گلزار ہوئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملک عطاہوا۔
۵ شعبان المعظم ۴ہجری میں مدنیہ منور میں ولادت باسعادت ہوئی اور دس محرمرالحرام ۱۶ ہجری بمطابق ۸۲ اکتوبر ۱۸۶ءمیں حق وصداقت کی حفاظت اور اسلام کی سربلندی کےلئے میدان کربلا میںجانثار ساتھیوں سمیت شہید ہوئے ۔یہ ایسے دن ہے جو اسلام ہی کی نہیں، انسانیت کی تاریخ میں بھی رہتی دنیا تک وہ شام کہلائے گی جو ظلم وجفا اور صبر ورضا کی دونوں مثالوں کے یاد دلائی رہے گی۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ سیدنا امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ کا سہ صدمہ کسی نے نہیں اٹھایا ہے۔ یہ انہیں کا صبرواستقلال تھا جو خاص عطا ئے الہیٰ تھا کسی باہمت کا ذکر ہی کیا اس واقعہ جاں کا اور صدمہ جاں فرساکے پوری طرح بیان کی زبان وقلم میں بھی تاب نہیں ۔
حضرت خواجہ اجمیری رحمتہ اللہ علیہ ان اشعار پر اختتام کرتا ہوں۔
شاہ است حسین ؓ بادشاہ است حسینؓ۔ دیں است حسینؓ دیں پناہ است حسینؓ۔ سر داد نہ داد دست در دست یزید ۔حقّا کہ بنائے لا الٰہ است حسینؓ۔
اللہ ہمیں شہادتِ امام حسین ؓ سے سبق لینے اور حق پر چلنے کی توفیق نخشے۔ آمین
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں