ایران نے امریکہ کا خوف نکال دیا!

عارف شجر
  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اپنی دادا گری او ررعب سے مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں پر جو بھی وہ کاروائی کرنا چاہیں گے، وہ بلا خوف و خطرکریں گے اور مسلم ممالک خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہے گی، اور ایسا ہی ہوا بھی جب اسرائیل کی جانب سے سیکنڑوںبے قصور فلسطینیوں کی نسل کشی کی جار ہی تھی ، معصوم بچوں پرظلم ڈھائے جا رہے تھے ، بھوک سے تڑپتے بچوں پر گولیاں برسائی جا رہی تھی اس وقت صرف ایران کو چھوڑ کر سبھی مسلم ملک خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے کسی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لب کشائی تک نہیں کی  اپنے آپ کو مسلم کہنے والے ممالک کے سربراہان نے سختی کے ساتھ یہ کہنے میں بھی ہمت نہیں کی کہ آخر فلسطین کے معصوم بچوں اور ضعیفوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ان کے خون کے پیاسے کیوں ہو گئے ہو ان پر ظلم کرنا بند کرو لیکن افسوس کہ کسی نے بھی  اپنے سخت تیور نہیں دکھائے اور نہ ہی سختی اپنائی۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹوئٹ کے ذریعہ سے بھی نہیں کہہ پائے کہ اب بہت ہو چکا ظلم کرنا  بند کرو یہی وجہ تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن کا حوصلہ بڑھتا گیا اور یہ حوصلہ اتنا بڑھ گیا کہ اس نے امریکہ کے بھروسے ایران کو بھی فلسطین سمجھنے کی بھول کر دی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن نے یہ سمجھ لیا کہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے اسے بھی اپنے گھٹنوں پر لا کر گھڑا کر دیں گے اگر ایران نے آواز اٹھائی تو اسے نست و نابود کر دیں گے جس طرح فلسطین کے معاملے میں پورا مسلم ملک خاموش رہا اسی طرح اس پر بھی حملہ کر نے پر مسلم ممالک  چوں تک نہیں کرے گی اور یہی ہوا بھی ایران پر اسرائیلی حملہ میں مسلم ممالک شہر خاموشاں کی طرح خاموش رہی اور ایران تھا کہ حق و باطل کی لڑائی تنہا لڑتا رہا اور باطلوں کو سبق سکھانے میں اہم کر دار ادا کیا اور اب بھی تنہا ہی لڑ رہا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ جیسا طاقتورملک کھڑا ہے جس نے براہ راست ایران کے جوہری تصنیبات پر حملہ کیا اور ایران کو کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ دونوں ملک نے مل کر ایران پر تابڑ توڑ حملہ کرکے انکے کئی جانبازوں  اور پیاروںکو شہید کر دیا کئی اہم مقامات کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کر دیا گیا۔ پھر بھی ایران نے باطلوں کے آگے سر کو نہیں جھکایا۔ ایران کے سپریم لیڈر آتیہ اللہ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں امریکہ اور اسرائیل کو یہ واضح کر دیا کہ یہ سر اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکے گا ہم حق پر ہیں اور حق میں اپنی قربانی بھی دے سکتے ہیں مگر جھکیں گے نہیں ہمیں اسرائیل اور امریکہ جیسے قاتل ملک یہ نہ سمجھے کہ ہم کوئی اور ملک ہیں ایران حق کی لڑائی لڑ رہا ہے، ہم نے لڑائی نہیں چھیڑی ، تم نے لڑائی چھیڑ دی ہے تو اسکا انجام بھگتنے کے لئے تیار ہو جائو۔
12 دن کی اس جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس وقت ایران کے سامنے کمزور اور بے بس نظر آئے جب انکے فوجی بیس تباہ ہونے لگے اور آناً فاناً میں سیز فائر کا اعلان کر دیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایران نے قطر میں مقیم امریکی ائیر بیس پر تابڑ توڑ میزائل سے حملہ کرنے کے بعد جس طرح سے عالمی دنیا میں کھلبلی مچی اور دہشت پھیلی اس سے ڈونالڈ ٹرمپ پوری طرح گھبرا گئے  اور انہوں نے آناً فاناً میںسیز فائر کا اعلان کر دیا لیکن ایران نے امریکا کی اس دوغلی پالیسی بخوبی سمجھتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے سیز فائر والے اعلان کو انگوٹھا دکھا دیا اور ایک گھنٹے بعد اسرائیل پر دوبار تابڑ توڑ حملہ کر دیا جس سے پوری دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ ایران جیسا وہ واحد ملک ہے جو ڈونالڈ ٹرمپ کوگھٹنے پر لا کر کھڑا کر دیا ۔کہاں تو اسرائیل اور امریکہ دونوں مل کر ایران کا سر جھکانے کی سوچ رہے تھے لیکن وہ خود ایران کو لوہا مانتے ہوئے انکے آگے جھکنے پر مجبور ہوگئے اور سیز فائر کی دوہائی دیتے ہوئے نظر آئے۔ اس بات کو قطئی نہیں بھولنا چاہئے کہ جب امریکہ نے ایران کے خلاف بم برسائے تو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ آنے سے راحت کی سانس لی تھی ۔ یاہو نے کہا تھا کہ طاقت کے ذریعہ ہی امن قائم ہوتا ہے۔ یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ پہلے طاقت آتی ہے، پھر امن قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کی خوب تعریف بھی کی تھی۔اب دونوں ملکوں کو یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ ایران سے لڑنا اور انہیں تباہ کرنا ممکن نہیں۔اب ایران نے ڈونالڈ ٹرمپ کی سیز فائر والے بیان کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو سخت سے مسترد کردیا ہے جس میں ڈونالڈ ٹرمپ نے دوعویٰ کیا تھا کہ ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہہ دیا کہ نہ تو کسی قسم کی جنگ بندی ہوئی ہے اور نہ ہی ایران کی جانب سے کسی طرح جوابی کارروائی کا سلسلہ مکمل طور پر رکا ہے۔ ایرانی خارجہ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ جیسا کہ ایران بار بار واضح کر چکا ہے، یہ جنگ ایران نے نہیں بلکہ اسرائیل نے شروع کی ہے۔ ابھی تک کسی قسم کے سیز فائر یا فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق نہیں ہوا۔ اب تک اسرائیل نے جنگ بندی سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اسرائیل اپنے آقا ڈونالڈ ٹرمپ کی ہری جھنڈی کا انتظار کر رہا ہے جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ پہلے جنگ بند کرے لیکن ایران نے کہہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی ہے تب تک بات چیت یا جنگ بندی پر غور ممکن نہیں۔
بہر حال! مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ اصل میں ڈونالڈ ٹرمپ نوبل ایوارڈ کا تمغہ چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ کوئی بھی جھوٹ فریب کی چال چل کر اپنے آپ کو امن کا پیامبر بننا چاہتے ہیں اور اسکے لیئے وہ ہر حد کو پار کردینا چاہتے ہیں۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ  ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرنے کا ڈھونگ رچا ہے یہی وجہ ہے کہ ایران نے ڈونالڈ ٹرمپ کی اس دورخی سیاست کو سمجھتے ہوئے  اسکی گندی پالیسی کو پیروں تلے روندتے ہوئے جنگ بندی والے بیان کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ اسی طرح بھارت اور پاکستان کے بیچ چل رہے آپریشن سیندور پر بھی روک لگاتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں یہ کہہ دیا کہ دونوں کے درمیان سیز فائر ہو گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان  مثبت بات چیت سے ممکن ہو پائی ہے اور یہ بات انہوں نے اپنے بیان میں 14 بار کہہ چکے ہیں تاکہ انہیں امن کا  نوبل ایوارڈ مل سکے اور اس پر پاکستان نے بھی مہر لگاتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے نوبل ایوارڈ کی مانگ کر دی ہے حالانکہ پاکستان کے کچھ قائدین  اور اہم شخصیات نے حکومت سے کہا ہے کہ  وہ ایران میں تین جوہری مراکز پر امریکی حملے کے بعد 2026 کے نوبل امن ایوارڈ کے لئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام کی سفارش کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس لئے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت پاکستان نوبل پرائز کمیٹی سے اپنی سفارش واپس لیتی ہے یا نہیں ؟ تاہم نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دستخطوں والا سفارشی خط ناروے میں امن کی نوبل پرائز کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے ایران کے فردو، اصفہان اور نتنز کے جوہری مراکز پر حملے کے بعد اس فیصلے پر پاکستانی شہریوں، اداروں اور میڈیا کی جانب سے اعتراضات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پی ایم مودی ڈونالڈ ٹرپ کے جنگ بندی والے بیان پر فی الحال کچھ نہیں کہہ پائے ہیں لیکن ایران نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرپ کے سیز فائر والے بیان کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اسرائیل کے خلاف ہماری کارروائی جاری رہے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ دونالڈ ٹرمپ کے سیز فائر والے بیان کو انگوٹھا دیکھاتے ہوئے چند گھنٹے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دئے جسکی اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف) نے اس کی تصدیق کی ۔ تاہم ایران کے حالیہ بیان سے واضح ہے کہ کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے اور صورتحال اب بھی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
rr

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

تازہ ترین خبریں

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

ایران نے امریکہ کا خوف نکال دیا!

عارف شجر
  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اپنی دادا گری او ررعب سے مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں پر جو بھی وہ کاروائی کرنا چاہیں گے، وہ بلا خوف و خطرکریں گے اور مسلم ممالک خاموش تماشائی بن کر دیکھتی رہے گی، اور ایسا ہی ہوا بھی جب اسرائیل کی جانب سے سیکنڑوںبے قصور فلسطینیوں کی نسل کشی کی جار ہی تھی ، معصوم بچوں پرظلم ڈھائے جا رہے تھے ، بھوک سے تڑپتے بچوں پر گولیاں برسائی جا رہی تھی اس وقت صرف ایران کو چھوڑ کر سبھی مسلم ملک خاموش تماشائی بنے بیٹھے تھے کسی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے خلاف لب کشائی تک نہیں کی  اپنے آپ کو مسلم کہنے والے ممالک کے سربراہان نے سختی کے ساتھ یہ کہنے میں بھی ہمت نہیں کی کہ آخر فلسطین کے معصوم بچوں اور ضعیفوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ان کے خون کے پیاسے کیوں ہو گئے ہو ان پر ظلم کرنا بند کرو لیکن افسوس کہ کسی نے بھی  اپنے سخت تیور نہیں دکھائے اور نہ ہی سختی اپنائی۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم سے ٹوئٹ کے ذریعہ سے بھی نہیں کہہ پائے کہ اب بہت ہو چکا ظلم کرنا  بند کرو یہی وجہ تھی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن کا حوصلہ بڑھتا گیا اور یہ حوصلہ اتنا بڑھ گیا کہ اس نے امریکہ کے بھروسے ایران کو بھی فلسطین سمجھنے کی بھول کر دی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن نے یہ سمجھ لیا کہ ایران کے جوہری تنصیبات پر حملہ کرکے اسے بھی اپنے گھٹنوں پر لا کر گھڑا کر دیں گے اگر ایران نے آواز اٹھائی تو اسے نست و نابود کر دیں گے جس طرح فلسطین کے معاملے میں پورا مسلم ملک خاموش رہا اسی طرح اس پر بھی حملہ کر نے پر مسلم ممالک  چوں تک نہیں کرے گی اور یہی ہوا بھی ایران پر اسرائیلی حملہ میں مسلم ممالک شہر خاموشاں کی طرح خاموش رہی اور ایران تھا کہ حق و باطل کی لڑائی تنہا لڑتا رہا اور باطلوں کو سبق سکھانے میں اہم کر دار ادا کیا اور اب بھی تنہا ہی لڑ رہا ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ امریکہ جیسا طاقتورملک کھڑا ہے جس نے براہ راست ایران کے جوہری تصنیبات پر حملہ کیا اور ایران کو کمزور کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ دونوں ملک نے مل کر ایران پر تابڑ توڑ حملہ کرکے انکے کئی جانبازوں  اور پیاروںکو شہید کر دیا کئی اہم مقامات کو نشانہ بنا کر انہیں تباہ کر دیا گیا۔ پھر بھی ایران نے باطلوں کے آگے سر کو نہیں جھکایا۔ ایران کے سپریم لیڈر آتیہ اللہ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں امریکہ اور اسرائیل کو یہ واضح کر دیا کہ یہ سر اللہ کے سوا کسی کے آگے نہیں جھکے گا ہم حق پر ہیں اور حق میں اپنی قربانی بھی دے سکتے ہیں مگر جھکیں گے نہیں ہمیں اسرائیل اور امریکہ جیسے قاتل ملک یہ نہ سمجھے کہ ہم کوئی اور ملک ہیں ایران حق کی لڑائی لڑ رہا ہے، ہم نے لڑائی نہیں چھیڑی ، تم نے لڑائی چھیڑ دی ہے تو اسکا انجام بھگتنے کے لئے تیار ہو جائو۔
12 دن کی اس جنگ کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اس وقت ایران کے سامنے کمزور اور بے بس نظر آئے جب انکے فوجی بیس تباہ ہونے لگے اور آناً فاناً میں سیز فائر کا اعلان کر دیا۔ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ایران نے قطر میں مقیم امریکی ائیر بیس پر تابڑ توڑ میزائل سے حملہ کرنے کے بعد جس طرح سے عالمی دنیا میں کھلبلی مچی اور دہشت پھیلی اس سے ڈونالڈ ٹرمپ پوری طرح گھبرا گئے  اور انہوں نے آناً فاناً میںسیز فائر کا اعلان کر دیا لیکن ایران نے امریکا کی اس دوغلی پالیسی بخوبی سمجھتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے سیز فائر والے اعلان کو انگوٹھا دکھا دیا اور ایک گھنٹے بعد اسرائیل پر دوبار تابڑ توڑ حملہ کر دیا جس سے پوری دنیا یہ کہنے پر مجبور ہو گئی کہ ایران جیسا وہ واحد ملک ہے جو ڈونالڈ ٹرمپ کوگھٹنے پر لا کر کھڑا کر دیا ۔کہاں تو اسرائیل اور امریکہ دونوں مل کر ایران کا سر جھکانے کی سوچ رہے تھے لیکن وہ خود ایران کو لوہا مانتے ہوئے انکے آگے جھکنے پر مجبور ہوگئے اور سیز فائر کی دوہائی دیتے ہوئے نظر آئے۔ اس بات کو قطئی نہیں بھولنا چاہئے کہ جب امریکہ نے ایران کے خلاف بم برسائے تو اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے امریکہ کے ساتھ آنے سے راحت کی سانس لی تھی ۔ یاہو نے کہا تھا کہ طاقت کے ذریعہ ہی امن قائم ہوتا ہے۔ یاہو نے یہ بھی کہا تھا کہ پہلے طاقت آتی ہے، پھر امن قائم ہوتا ہے۔ انہوں نے ایران پر امریکی حملوں کے تعلق سے ڈونالڈ ٹرمپ کی خوب تعریف بھی کی تھی۔اب دونوں ملکوں کو یہ سمجھ میں آگیا ہے کہ ایران سے لڑنا اور انہیں تباہ کرنا ممکن نہیں۔اب ایران نے ڈونالڈ ٹرمپ کی سیز فائر والے بیان کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔ ایران نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیان کو سخت سے مسترد کردیا ہے جس میں ڈونالڈ ٹرمپ نے دوعویٰ کیا تھا کہ ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے ۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے صاف کہہ دیا کہ نہ تو کسی قسم کی جنگ بندی ہوئی ہے اور نہ ہی ایران کی جانب سے کسی طرح جوابی کارروائی کا سلسلہ مکمل طور پر رکا ہے۔ ایرانی خارجہ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ جیسا کہ ایران بار بار واضح کر چکا ہے، یہ جنگ ایران نے نہیں بلکہ اسرائیل نے شروع کی ہے۔ ابھی تک کسی قسم کے سیز فائر یا فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق نہیں ہوا۔ اب تک اسرائیل نے جنگ بندی سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ اسرائیل اپنے آقا ڈونالڈ ٹرمپ کی ہری جھنڈی کا انتظار کر رہا ہے جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ ایران پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ وہ پہلے جنگ بند کرے لیکن ایران نے کہہ دیا ہے کہ جب تک اسرائیلی جارحیت بند نہیں ہوتی ہے تب تک بات چیت یا جنگ بندی پر غور ممکن نہیں۔
بہر حال! مجھے یہ بات کہہ لینے دیجئے کہ اصل میں ڈونالڈ ٹرمپ نوبل ایوارڈ کا تمغہ چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہ کوئی بھی جھوٹ فریب کی چال چل کر اپنے آپ کو امن کا پیامبر بننا چاہتے ہیں اور اسکے لیئے وہ ہر حد کو پار کردینا چاہتے ہیں۔ اس سچائی سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ  ڈونالڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کرنے کا ڈھونگ رچا ہے یہی وجہ ہے کہ ایران نے ڈونالڈ ٹرمپ کی اس دورخی سیاست کو سمجھتے ہوئے  اسکی گندی پالیسی کو پیروں تلے روندتے ہوئے جنگ بندی والے بیان کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا۔ ڈونالڈ ٹرمپ اسی طرح بھارت اور پاکستان کے بیچ چل رہے آپریشن سیندور پر بھی روک لگاتے ہوئے اپنے ٹوئٹ میں یہ کہہ دیا کہ دونوں کے درمیان سیز فائر ہو گیا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان  مثبت بات چیت سے ممکن ہو پائی ہے اور یہ بات انہوں نے اپنے بیان میں 14 بار کہہ چکے ہیں تاکہ انہیں امن کا  نوبل ایوارڈ مل سکے اور اس پر پاکستان نے بھی مہر لگاتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ کے لئے نوبل ایوارڈ کی مانگ کر دی ہے حالانکہ پاکستان کے کچھ قائدین  اور اہم شخصیات نے حکومت سے کہا ہے کہ  وہ ایران میں تین جوہری مراکز پر امریکی حملے کے بعد 2026 کے نوبل امن ایوارڈ کے لئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نام کی سفارش کرنے کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس لئے اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت پاکستان نوبل پرائز کمیٹی سے اپنی سفارش واپس لیتی ہے یا نہیں ؟ تاہم نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے دستخطوں والا سفارشی خط ناروے میں امن کی نوبل پرائز کمیٹی کو بھیج دیا گیا ہے لیکن امریکہ کی جانب سے ایران کے فردو، اصفہان اور نتنز کے جوہری مراکز پر حملے کے بعد اس فیصلے پر پاکستانی شہریوں، اداروں اور میڈیا کی جانب سے اعتراضات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ پی ایم مودی ڈونالڈ ٹرپ کے جنگ بندی والے بیان پر فی الحال کچھ نہیں کہہ پائے ہیں لیکن ایران نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ ڈونالڈ ٹرپ کے سیز فائر والے بیان کا کوئی مطلب ہی نہیں ہے اسرائیل کے خلاف ہماری کارروائی جاری رہے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ دونالڈ ٹرمپ کے سیز فائر والے بیان کو انگوٹھا دیکھاتے ہوئے چند گھنٹے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل داغ دئے جسکی اسرائیلی فوج ( آئی ڈی ایف) نے اس کی تصدیق کی ۔ تاہم ایران کے حالیہ بیان سے واضح ہے کہ کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی ہے اور صورتحال اب بھی نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
rr

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں