ایٹمی بحران کی دہلیز پر دنیا

چوبیس جون 2025 کو ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ شدید جنگ کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا، لیکن یہ خاموشی وقتی اور دھوکہ دہ بھی ہو سکتی ہے۔ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کو "پیشگی دفاع” کا نام دیا، مگر یہ جنگ امریکا کی شمولیت کے ساتھ ایک مکمل بین الاقوامی تصادم میں بدل گئی، جس نے مغربی ایشیا کو ایٹمی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
ایران، جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (NPT) کا باقاعدہ رکن ہے اور جس نے اپنے جوہری پروگرام کو عالمی نگرانی کے لیے کھولا تھا، اب ممکنہ طور پر اسی معاہدے سے دستبرداری کی راہ پر ہے۔ اس کی پارلیمان میں NPT سے علیحدگی کے بل پر غور ہو رہا ہے، جو اسے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی جانب ایک قدم اور قریب لے آئے گا بطور دفاع اور باز deterrent۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اسرائیل اور امریکا دوبارہ جارحیت کے جواز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، اسرائیل خود NPT کا غیر رکن ہے، اور اس کے جوہری ہتھیار کسی بین الاقوامی نگرانی میں نہیں آتے۔ اس کا یہ رویہ نہ صرف دوغلا پن ظاہر کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ امریکی سرپرستی اسرائیل کو مزید بے باک کرتی ہے چاہے وہ غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی ہو یا ایران پر حملے۔
اس تمام صورتحال میں روس کا یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کے ساتھ روایتی جنگ کو روکنے کا بیانیہ، اور چین کی چپ، عالمی ایٹمی استحکام کو مزید غیر یقینی بنا رہے ہیں۔ اب طاقتور ریاستیں ایٹمی ہتھیاروں کو صرف دفاع نہیں بلکہ جارحیت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
نتیجتاً، جو ممالک اب تک جوہری ہتھیاروں سے دور تھے، وہ بھی یہ سوچنے لگے ہیں کہ کیا ان کی بقا کے لیے ایٹمی ہتھیار ناگزیر ہو چکے ہیں؟ نان پرولیفریشن کا عالمی تصور زوال کا شکار ہے، اور تخفیفِ اسلحہ کا خواب چکناچور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگر عالمی برادری نے فوری طور پر NPT کی تجدید، ایٹمی طاقتوں کی شفاف نگرانی، اور مکمل تخفیفِ اسلحہ کی مہم کو سنجیدگی سے نہ اپنایا، تو دنیا ایک ایسے ایٹمی تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے جس کے نتائج سرد جنگ سے بھی زیادہ ہولناک ہوں گے۔
یہ جنگ بندی اگرچہ وقتی سکون دے سکتی ہے، مگر اصل ضرورت ایک نئے عالمی ایٹمی ضمیر کی بیداری اور طاقتوروں کو قانون کا پابند بنانے کی ہے۔ بصورتِ دیگر، اگلی جنگ کی آگ صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں، دنیا کے ہر خطے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

تازہ ترین خبریں

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

شاعری

جاوید قسیم شعر گوئی کی ہی پہچان سے سب جانتے...

دہلیز

راشیدہ یاسمین سارہ جب ہنستی تھی تو یوں محسوس ہوتا...

لال چوک میں ماحول دوست باغ قائم

جنگ  نیوز محکمہ فلوریکلچر کشمیر نے سوچھ بھارت مشن کے...

ایٹمی بحران کی دہلیز پر دنیا

چوبیس جون 2025 کو ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ شدید جنگ کے بعد جنگ بندی کا اعلان ہوا، لیکن یہ خاموشی وقتی اور دھوکہ دہ بھی ہو سکتی ہے۔ اسرائیل نے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے کو "پیشگی دفاع” کا نام دیا، مگر یہ جنگ امریکا کی شمولیت کے ساتھ ایک مکمل بین الاقوامی تصادم میں بدل گئی، جس نے مغربی ایشیا کو ایٹمی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا۔
ایران، جو نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی (NPT) کا باقاعدہ رکن ہے اور جس نے اپنے جوہری پروگرام کو عالمی نگرانی کے لیے کھولا تھا، اب ممکنہ طور پر اسی معاہدے سے دستبرداری کی راہ پر ہے۔ اس کی پارلیمان میں NPT سے علیحدگی کے بل پر غور ہو رہا ہے، جو اسے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی جانب ایک قدم اور قریب لے آئے گا بطور دفاع اور باز deterrent۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے اسرائیل اور امریکا دوبارہ جارحیت کے جواز کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف، اسرائیل خود NPT کا غیر رکن ہے، اور اس کے جوہری ہتھیار کسی بین الاقوامی نگرانی میں نہیں آتے۔ اس کا یہ رویہ نہ صرف دوغلا پن ظاہر کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ امریکی سرپرستی اسرائیل کو مزید بے باک کرتی ہے چاہے وہ غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی ہو یا ایران پر حملے۔
اس تمام صورتحال میں روس کا یوکرین میں جوہری ہتھیاروں کی دھمکی کے ساتھ روایتی جنگ کو روکنے کا بیانیہ، اور چین کی چپ، عالمی ایٹمی استحکام کو مزید غیر یقینی بنا رہے ہیں۔ اب طاقتور ریاستیں ایٹمی ہتھیاروں کو صرف دفاع نہیں بلکہ جارحیت کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں۔
نتیجتاً، جو ممالک اب تک جوہری ہتھیاروں سے دور تھے، وہ بھی یہ سوچنے لگے ہیں کہ کیا ان کی بقا کے لیے ایٹمی ہتھیار ناگزیر ہو چکے ہیں؟ نان پرولیفریشن کا عالمی تصور زوال کا شکار ہے، اور تخفیفِ اسلحہ کا خواب چکناچور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
اگر عالمی برادری نے فوری طور پر NPT کی تجدید، ایٹمی طاقتوں کی شفاف نگرانی، اور مکمل تخفیفِ اسلحہ کی مہم کو سنجیدگی سے نہ اپنایا، تو دنیا ایک ایسے ایٹمی تصادم کی طرف بڑھ سکتی ہے جس کے نتائج سرد جنگ سے بھی زیادہ ہولناک ہوں گے۔
یہ جنگ بندی اگرچہ وقتی سکون دے سکتی ہے، مگر اصل ضرورت ایک نئے عالمی ایٹمی ضمیر کی بیداری اور طاقتوروں کو قانون کا پابند بنانے کی ہے۔ بصورتِ دیگر، اگلی جنگ کی آگ صرف مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں، دنیا کے ہر خطے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں