ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو امن پسند اور امریکہ کی ’’لامتناہی جنگوں‘‘ کا مخالف ظاہر کیا، مگر اقتدار میں آتے ہی ان کا اصل چہرہ سامنے آ گیا۔ 13 جون 2025 کو اسرائیل نے ایران پر حملے شروع کیے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ ابتدا میں ٹرمپ اور ان کے وزیر خارجہ نے امریکہ کی شمولیت سے انکار کیا۔ ایران نے صرف اسرائیل کو جواب دیا، لیکن جب اسرائیل ایرانی میزائلوں کا دفاع نہ کر سکا، تو امریکی B-2 بمبار طیاروں نے فردو میں ایران کی سب سے محفوظ نیوکلیئر تنصیب کو نشانہ بنایا، اور امریکی آبدوزوں نے نطنز و اصفہان پر حملے کیے۔ اس کے ساتھ ہی جنگ براہِ راست امریکی جنگ بن گئی۔
ٹرمپ نے اقتدار میں آکر امن کا وعدہ کیا، مگر صرف چھ ماہ میں وہ ایک جنگ پسند عالمی طاقت کے نمائندہ بن چکے ہیں۔ امریکہ کی جنگی پالیسی میں سبق سیکھنے کا رجحان کبھی نہیں رہا۔ افغانستان پر حملہ، عراق میں جھوٹ پر مبنی تباہی، اور لیبیا میں مداخلت یہ سب مثالیں ہیں کہ امریکہ کیسے مسلسل مداخلتوں سے دنیا کو غیر مستحکم کرتا رہا ہے۔
ایران کا معاملہ مختلف نہیں۔ امریکی انٹیلی جنس نے مارچ میں تسلیم کیا کہ ایران کے پاس کوئی فعال نیوکلیئر ہتھیار سازی پروگرام موجود نہیں۔ ایران نے ماضی میں عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدہ کیا، جسے خود ٹرمپ نے ختم کر دیا۔ حالیہ مذاکرات کو بھی اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے سبوتاژ کیا، جن کی جنگی حکمتِ عملی دراصل داخلی سیاسی فائدے کا حربہ ہے۔
یہ جنگ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی نظام کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ بڑی طاقتیں امریکہ کی سفارتی پیشکشوں پر اب اعتماد نہیں کریں گی، جبکہ کمزور ریاستیں ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل ہوں گی۔ شمالی کوریا کبھی اپنے جوہری اثاثے ترک نہیں کرے گا، اور اگر ایران اس بحران سے بچ گیا تو وہ نیوکلیئر پروگرام کی بحالی کی جانب جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے اسرائیل کی جنگ کو امریکہ کی جنگ بنا کر حالات کو خطرناک حد تک بگاڑ دیا ہے۔ نیتن یاہو کی عسکری جارحیت اور ٹرمپ کی بین الاقوامی مہم جوئی نے خطے کو بدترین غیر یقینی میں دھکیل دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ ایک نئے اور شاید طویل بحران کے دہانے پر کھڑا ہے اور دنیا ایک اور اندھیری گلی میں داخل ہو رہی ہے۔


